Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
126 - 1581
مسئلہ ۲۴۱: از ضلع بہڑائچ محلہ ناظرہ پورہ بمکان سید منصب علی صاحب عرضی نویس مرسلہ سید نصیر الدین صاحب ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ

زید،مذہب اہل سنت والجماعت نے ایک عورت شیعہ کے مطابق مذہب شیعہ صیغہ پڑھایا اور نکاح بطریق اہلسنت نہیں کیا اور مدۃ العمر دونوں اپنے اپنے مذہب پر قائم رہے،ایسی حالت میں جو اولاد ہوئی وہ جائز یا ناجائز؟ بینو ا تو جروا
الجواب: آج کل تبرائی رافضی علی العموم مرتدین ہیں اور مرتدخواہ مرد خواہ عورت سے دنیابھر میں کسی کا نکاح نہیں ہوسکتا۔ جو کچھ اولاد ہوگی ولد الحلال نہیں ہوسکتی،
عالمگیر ی میں فتاوٰی ظہیریہ سے ہے:
یجب اکفار الروافض فی قولھم برجعۃ الاموات الی الدنیا ان قال واحکامھم احکام المرتدین ۳؎۔
رافضیوں کے اس قول پر کہ ''فوت شدہ لوگ دنیا میں پھر واپس آئیں گے'' ان کی تکفیر واجب ہے اور یہاں تک کہ انھوں نے فرمایا کہ ان کے احکام مرتدین والے ہیں۔ (ت)
 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ     باب فی احکام المرتدین    نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/۲۶۴)
اسی میں مبسوط سے ہے:
لایجوز للمرتدان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلک لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد۱؎۔
مرتد کو کسی مرتدہ عورت یا مسلمان یا اصلی کافرعورت سے نکاح کرنا جائزنہیں اور یوں ہی مرتدہ عورت کابھی کسی ایک سے نکاح جائزنہیں۔ (ت)
 ( ۱؎ فتاوٰی خیریہ    فصل فی المحرمات بالشرک    نورانی کتب پشاور    ۱/۲۸۲)
اس کے بعد صیغہ ونکاح کی بحث کی کچھ حاجت نہیں، سنیوں کے طورپر نکاح ہوتا تو کب ہوسکتا۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۴۲: از میران پورکٹرہ تحصیل تلہر ضلع شاہجہان پور متصل چوکی مرسلہ قاضی تفضل حسین صاحب نائب ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ

حاملہ عورت کا نکاح جائزہے یا نہیں؟ نیزیہ بھی تحریر فرمائیے کہ بورے آدمیوں کے نکاحوں کا کیا حال ہے؟
الجواب: عورت جسے حلال سے حمل ہو دوسرے شخص سے اس کا نکاح باطل محض ہے جب تک بچہ پیدا نہ ہولے۔ اور اگر بے شوہر عورت اورحمل زنا کا ہے تو اس سے نکاح ہوسکتا ہے، پھر اگر وہ ہی نکاح کرے جس کایہ حمل ہے تو وہ پاس بھی جاسکتاہے اور اگر یہ دوسرا شخص نکاح کرے تو جب تک بچہ پیدا نہ ہولے ہاتھ نہیں لگا سکتا، کما فی الدرالمختار وغیرہ (جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ ت) بَورہ نابالغ کے حکم میں ہے اس کا نکاح ولی کی اجازت سے ہوگا، واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۲۴۳: زید نہایت بد چلن تھا اب وہ مفقود الخبر ہے اور زید کی عورت کو گزر اوقات کرنادشوار ہے اور زید کے باپ نے اس عورت کو نظر بدسے دیکھا اور زنا کیا اس صورت میں وہ عورت اپنا نکاح کرنا چاہتی ہے تاکہ اپنی گزر اوقات کرے اور اس حرام سے بچے، اس صورت میں شرع شریف کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب: معاذاللہ اگر یہ زنا ثابت ہو اور اس کاثابت ہونا بہت دشوار ہے تو عورت اپنے شوہر پر ضرور ہمیشہ ہمیشہ حرام ہوگئی مگر نکاح سے نہ نکلی جب تک شوہر اپنی زبان سے اسے چھوڑنے کا کوئی لفظ نہ کہے۔
درمختار میں ہے:
بحرمۃ المصاھرۃ لایرتفع النکاح حتی لایحل لھا التزوج الابعد المتارکۃ وانقضاء العدۃ والوطء بھا لایکون زنا ۲؎۔
حرمت مصاہرۃ سے نکاح ختم نہیں ہوتا اور عورت دوسرے کوا س وقت تک حلال نہ ہوگی جب تک متارکہ اور اس کی عدت پوری نہ ہوجائے،ا س دوران وطی کو زنا نہیں قرار دیا جائے گا۔ (ت)
 (۲؎ درمختار    باب فی المحرمات    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۸۸)
اسی میں ہے:
تجب العدۃ بعد الوطء لاالخلوۃ للطلاق لاللموت من وقت التفریق اومتارکۃ الزوج وان لم تعلم المرأۃ بالمتارکۃ فی الاصح ۱؎ اھ
نکاح فاسد میں وقت تفریق یا متارکہ سے عورت پر وطی سے طلاق والی عدت ہوگی محض خلوت سے یہ عدت واجب نہ ہوگی اور نہ ہی خاوند کی موت سے موت کی عدت ہوگی، عورت کو متارکہ کا علم نہ بھی ہو تب بھی خاوند کے متارکہ سے عدت لازم ہوگی اھ
 (۱؎ درمختار    باب فی المہر    مجتبائی دہلی            ۱/۳۰۱)
قال الشامی خص الشارح المتارکۃ بالزوج کمافعل الزیلعی لان ظاھر کلامھم انھا لاتکون من المرأۃ اصلامع ان فسخ ھذا النکاح یصح من کل منھما بمحضر الاخر اتفاقا والفرق بین المتارکۃ والفسخ بعید کذا فی البحر وفرق فی النھر بان المتارکۃ فی معنی الطلاق فیختص بہ الزوج اما الفسخ فرفع العقد فلایختص بہ وان کان فی معنی المتارکۃ ورد الخیر الرملی بان الطلاق لایتحقق فی الفاسد فکیف یقال ان المتارکۃ فی معنی الطلاق فالحق عدم الفرق ولذاجزم بہ المقدسی فی شرح نظم الکنز الخ وتمامہ فیما علقناہ علی البحر ۲؎ اھ
شامی نے کہا کہ شارح نے متارکہ کو خاوند کے ساتھ مختص کیا جیسا کہ امام زیلعی نے کیا ہے کیونکہ ظاہر کلام سے یہی معلوم ہوتاہے کہ متارکہ کا حق عورت کونہیں ہے حالانکہ اس نکاح کا فسخ مرد اور عورت دونوں کو ایک دوسرے کی موجودگی میں بالاتفاق جائز ہے اور متارکہ اور فسخ میں فرق بعید ہے، بحر میں یوں ہی ہے جبکہ نہرمیں فرق بتایا گیا کہ متارکہ طلاق کی طرح ہے اس لیے طلاق کی طرح خاوند ہی متارکہ کرسکتا ہے، اور فسخ نکاح کو کالعدم قرار دینے کا نام ہے اس لیے یہ خاوند سے مختص نہ ہوگا۔ اگرچہ متارکہ کا معنی پایا جاتاہے، اس کو خیر الدین رملی نے رد کردیا اور کہا کہ فاسد نکاح میں طلاق کی ضرورت نہیں ہوتی تو وہاں متارکہ، طلاق کے معنی میں کیسے کہا جاسکتا ہے، لہذا حق یہی ہے کہ متارکہ اور فسخ  میں  کوئی فرق نہیں، اس لیے مقدسی نے نظم الکنزکی شرح میں اس پر جزم کااظہار کیا ہے، اور یہ تمام بحث بحر پر ہمارے حاشیہ میں ہے اھ
(۲؎ردالمحتار   باب فی المہر  داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۵۲)
ذکر فیہ استناد الرملی بمالیس لہ بل علیہ کمابینہ فی منحۃ الخالق وبالجملۃ فلایثبت من کلامھم الا اختصاص الزوج بالمتارکۃ ثم لایشم خلافہ اصلا، اقول وقول النھران المتارکۃ فی معنی الطلاق معناہ ان المتارکۃ فی الفاسد فی معنی الطلاق فی الصحیح فلایمسہ ماذکر الرملی وایدہ الشامی واما الاستشکال بقولھم کما فی الدر یثبت لکل واحد منھا فسخہ ولوبغیر محضر من صاحبہ دخل بھا اولافی الاصح خروجا عن المعصیۃ فلاینافی وجوبہ بل یجب علی القاضی التفریق بینھما ۱؎ اھ
وہاں شامی نے خیرالدین رملی کی جو دلیل ذکر کی وہ ان کے حق میں نہیں بلکہ ان کے خلاف ہے، جیسا کہ انھوں نے منحۃ الخالق میں اس کو ذکر کیا ہے، حاصل کلام یہ ہے کہ فقہاء کرام کے کلام سے متارکہ کاخاوند کے ساتھ خاص ہونا ہی ثابت ہوتاہے، اوراس کے خلاف کی بو تک محسوس نہیں ہوتی۔ اقول نہر کے قول میں کہ متارکہ، طلاق کے معنی میں ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ فاسد نکاح میں متارکہ طلاق کے قائم مقام ہے صحیح قول میں، لہذا رملی کا اعتراض بے جا ہے اس کی تائید علامہ شامی نے کی ہے، باقی رہاوہ اشکال جو فقہاء کی اس عبارت سے پیدا ہوتاہے جس کو در میں اختیارکیا ہے کہ مرد اور عورت دونوں کو فسخ کا اختیار ہے اگرچہ ایک دوسرے کی غیر حاضری میں ہو، دخول ہو ا یا نہ، تاکہ گناہ سے اجتناب ہوسکے، اوریہ آپس کا متارکہ قاضی پر تفریق کے وجوب کے منافی نہیں ہے بلکہ قاضی دونوں پر تفریق کا حکم دے گا اھ
(۱؎ درمختار    باب فی المہر        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۲۰۱)
فاقول یترا أی لی واﷲ تعالٰی اعلم ان ھذا فبما اذاوقع فاسدا کما اذا انکحھا بلاشھود اوبعد مامس امھا وذلک لانہ لم یثبت لہ الید الشرعیہ علیھا اصلاوکان لکل منھما فسخہ ازالۃ للمعصیۃ وماذکروا ھھنا من تخصیص المتارکۃ بالزوج فھوفیما اذاطرأ الفساد فح لاتتفرد بالفسخ لانہ لیس دفعابل رفع لید شرعیۃ ثبتت للزوج فلا بد من متارکتہ والحکمۃ فیہ ان لوجوزنا تفردھافیہ بالفسخ لشاعت الفتن فکل امرأۃ ترید ان تفارق زوجھا تقبل ابنہ مثلاً بشھوۃ فیفسد النکاح فتفسخہ مبتدءۃ وتنکح من شاءت وھذا باب یجب سدہ۔
فاقول واللہ تعالٰی اعلم مجھے جو معلوم ہوتاہے وہ یہ کہ مرد اور عورت دونوں کو بہر صورت فسخ کا اختیار اس صورت میں ہے جبکہ نکاح ابتداءً ہی فاسد منعقد ہوا ہو جیسے بغیر گواہوں کے نکاح یا منکوحہ کی ماں کو پہلے شہوت سے چھوچکا ہو، کیونکہ اس صورت میں خاوند کا بیوی پر شرعی حق ثابت ہی نہیں ہوتا اس لیے دونوں کو ایک دوسرے سے متارکہ کا حق ہے تاکہ گناہ کا ازالہ ہوجائے اور فقہاء کرام نے جو یہ کہا کہ  متارکہ خاوند کا ہی حق ہے وہ اس صورت میں ہے جبکہ ابتداءً نکاح صحیح ہوا ہو اور بعد میں فساد اس پر طاری ہواہو، تو اس صورت میں اکیلی عورت کو فسخ کا حق نہیں کیونکہ یہ گناہ کادفاع نہیں بلکہ ثابت شدہ شرعی حق کا خاتمہ ہے اس لیے خاوند کی طرف سے متارکہ ضروری ہے اور اس کی حکمت یہ ہے کہ اگر اس صورت میں عورت کو مستقل طورپر فسخ کا حق دیا جائے تو فتنہ برپا ہوگا کہ جب بھی عورت اپنے خاوند سے علیحدگی چاہے تو وہ مثلا خاوند کے بیٹے کا شہوت سے بوسہ لے لے اور خود نکاح کو فاسد کرکے جہاں چاہے نکاح کرتی پھرے تو اس فتنہ کا سد باب ضروری ہے۔ (ت)
یہاں شوہر مفقود ہے اور حرمت موجود ہے ، عورت پر لازم کہ حا کم شرع کے حضور مرافعہ کرے اور وہ ثبوت لے، اگر وہ گواہان عادل سے پدر زید کا زوجہ زید کے ساتھ فعل بدکا ارتکاب ثابت ہو
لان ھذا ھو نصاب ثبوت حرمۃ المصاہرۃ وان لم یثبت بہ الزنافی حق الحد
 (کیونکہ یہ حرمت مصاہرہ کے ثبوت کے لیے نصاب ہے اگرچہ اس سے حد کے معیار پر زنا ثابت نہیں ہوتا۔ ت) تو ان دونوں مرد وزن میں تفریق کردے، روز تفریق  سےعورت تین حیض کی عدت کرے اور اس کے بعد نکاح ثانی جائز ہوسکتاہے، واللہ تعالٰی اعلم،
Flag Counter