Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
125 - 1581
مسئلہ ۲۳۸: از متن پوری محلہ زیر قلعہ راجہ مرسلہ سعد اللہ صاحب معمار ۲۱ ربیع الآخر ۱۳۳۲ھ

ہندہ بیوہ نے زید سے تعلق ناجائز پیدا کیا، اور سناہے کہ چند حمل بھی ساقط ہوئے اور ہندہ نے اپنی دختر کا کہ وہ بھی صغر سنی میں بیوہ ہوگئی تھی زید کے ساتھ جس سے خود تعلق ناجائز رکھتی تھی بلارضامندی دختر خود بجبر عقد کرلیا تو یہ نکاح درست ہوایا نہیں؟ اور اب اس لڑکی کا نکاح دوسری جگہ بلاطلاق ہوسکتاہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب:اگر صورت واقعہ یہ ہے یہ نکاح حرام محض ہے۔ زیدپر فرض ہے کہ وہ اسے چھوڑ دے، زید کے چھوڑنے کے بعد عدت کے دن پورے کرکے جس سے چاہے نکاح کرلے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۹: از جے پور راجپوتانہ چاندپول بازار متصل دکان گوبند رام فوٹو گرافر مرسلہ حافظ رحیم بخش صاحب خرادی ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ

حرمت مصاہرت کے لیے عورت کا مشتہاۃ ہونا ضروری ہے،
ھذا اذاکانت حیۃ مشتھاۃ اما غیرھا یعنی المیتۃ وصغیرۃ لم تشتہ (فلا) تثبت الحرمۃ بھا اصلا، درمختار ۱؎۔
حرمت مصاہرت تب ہوگی جب عورت زندہ اورشہوت والی ہو، لیکن اگر مردہ ہو یا صغیرہ غیر شہوت والی ہو تو حرمت مصاہرت ہر گز ثابت نہ ہوگی۔ درمختار۔ (ت)
 (۱؎. درمختار            باب فی المحرمات    مطبع مجتبائین دہلی    ۱/۱۸۸)
اور مشتہاۃ کم سے کم نوسال کی لڑکی  ہوسکتی ہے تو عبارت ذیل بھی:
اویزداد انتشاراً ای ان تکون منتشرۃ قبلہ حتی قیل من انتشرت اٰلتہ وطلب امرأتہ لو طیھا فاولجھا بین فخذی بنتھا لاتحرم علیہا امھا مالم یزداد انتشارا، و وجود الشہوۃ من احدھما یکفی ۲؎۔
یا اتنشار زیادہ ہوجائے یعنی آلہ تناسل پہلے منتشر تھا اس پر یہاں تک کہا گیا کہ اگر اس نے آلہ تناسل کے انتشار کے بعد بیوی کو طلب کیا ہو۔ یا طلب کرتے ہوئے غلطی سے بیوی کی بیٹی کی ران پر مل دیا تو اس لڑکی کی ماں حرام نہ ہوگی جب تک لڑکی کو چھوتے ہوئے انتشار زیادہ نہ ہوا ہو، اور چھوتے وقت مردیا عورت میں سے ایک کا شہوت میں ہونا حرمت کے لیے کافی ہے۔ (ت)
(۲؎ ذخیرۃ العقبٰی حاشیۃشرح وقایہ    کتاب النکاح    منشی نولکشور لکھنؤ    ۲/۱۷۹)
جو شرح چلپی کے صفحہ ۹۳ کے متعلقہ حاشیہ پر درج ہے نوسال یااس سے زائد کی لڑکی کے واسطے معلوم ہوتی ہے بآنکہ دہ(۱۰) سال کی لڑکی پر بھی یہ مسئلہ عائدہوسکتا ہے، یعنی حرمت مصاہرت ثابت ہوجائے گی یا کیا؟
الجواب: ثبوت حرمت مصاہرت کے لیے مشتہاۃہونا ضروری ہے جیساکہ درمختار وغیرہ عامہ کتب میں تصریح ہے اور
وجود الشہوۃ من احدھما یکفی ۳؎
(دونوں میں سے ایک کا شہوت سے ہونا کافی ہے۔ ت) کے یہ معنی نہیں کہ صرف یہ مشتہی اوردختر غیر مشتہاۃ یا عورت مشتہاۃ ہو اور لڑکا غیر مشتہی تو حرمت ثابت ہوجائے یہ کسی کا بھی قول نہیں بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ یہ مشتہی ہو اور وہ مشتہاۃ اور بالفعل شہوت ایک کی طرف سے ہو مثلا اس کے سوتے میں مس بشہوۃ کیا کہ اسے اطلاع بھی نہ ہوئی تو حرمت ہوگئی کہ وجود من احدھما کافی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم
(۳؎ ذخیرۃ العقبٰی حاشیۃشرح وقایہ    کتاب النکاح    منشی نولکشور لکھنؤ    ۲/۱۷۹)
مسئلہ ۲۴۰: از ماہم ڈاک خانہ نمبر ۱۶ بمبئی مرسلہ حاجی محمد سلیمان ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۳۰ھ

زید کا نکاح زید کی بھتیجی کی دختر سے حلال ہے یا حرام یعنی زید وبکر حقیقی دونوں بھائی ایک باپ مادر کی پشت سے ہیں، اب زید کا نکاح بکر کی نواسی سے حلال ہے یا نہیں؟ جیسا خدا ورسول کا حکم ہو قرآن مجیدحدیث فقہ سے حکم صادر فرمائیں، بھتیجی کی لڑکی سے اور بھانجی کی لڑکی سے اور بھتیجے کی بیٹی سے اور بھانجے کی لڑکی سے نکاح درست ہے اور بھتیجی وبھانجی سے تو حرام ہے مگر ان کی اولادآل سے جائز ہے یا حرام؟
الجواب: حرام قطعی ہے، یہ سب اس کی بیٹیاں ہیں،جیسے بھتیجی بھانجی ویسے ہی ان کی اور بھتیجوں اور بھانجوں کی اولاد، اور اولاد اولاد کتنے ہی دور سلسلہ جائے سب حرام ہیں، بنات پوتیوں نواسیوں دور تک کے سلسلے سب کوشامل ہے۔ جس طرح فرمایاگیا۔
حرمت علیکم امھٰتکم وبنتکم ۱؎
تم پر حرام کی گئیں تمھاری مائیں اور تمھاری بیٹیاں، اور ماؤں میں دادی، نانی، پردادی، پرنانی جتنی اوپرہوں سب داخل ہیں، اوربیٹیوں میں پوتی، نواسی، پرپوتی، پرنواسی جتنی ہوں نیچے سب داخل ہیں، یوں فرمایا:
وبنٰت الاخ وبنت الاخت ۲؎
تم پر حرام کی گئیں بھائی کی بیٹیاں اور بہن کی بیٹیاں۔ ان میں بھی بھائی بہن کی پوتی، نواسی، پرپوتی، پر نواسی جتنی دورہوں سب داخل ہیں واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ القرآن الکریم       ۴/۲۳)

(۲؎ القرآن الکریم      ۴/۲۳)
Flag Counter