Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
124 - 1581
مسئلہ ۲۳۷: از فرید آباد ڈاک خانہ غوث پور ریاست بہاولپور مرسلہ مولوی نور احمد صاحب فریدی دواز دہم محرم الحرام ۱۳۳۷ھ

شرعا قبل متارکہ وتفریق بین المحارم غیر مدخولہ سے کسی دوسرے کا نکاح درست ہے یا نہیں؟ اور قاضی شرعا کون ہے؟ بوقت ضرورت فسخ وتفریق اس ملک ریاست بہاولپور اسلامیہ میں جو تحت قبضہ نصارٰی ہے کون حق فسخ وتفریق بالا رکھتا ہے؟ علما کا ہے یا گرد آور قاضیان سرکار کا یا محض حکام کا؟ اورحکام بعض صاحب اسلام ہیں بعض اہل ہنود، ان میں کوئی امتیاز ہے یا سب اس کا حق رکھتے ہیں اس ریاست اسلامی میں دو عورات ایک شخص سے یکے بعد دیگرے نکاح کرچکی ہیں اور بحکم شرعی وان تزوجھما علی التعاقب صح الاول وبطل الثانی (آپس میں دو محرم عورتوں سے اگریکے بعد دیگرے نکاح کیا تو پہلا صیح ہوا دوسرا باطل ہے۔ ت) متارکہ یا تفریق ثانیہ کی ضرور ہے لیکن ناکح متارکہ نہیں کرتا۔ تفریق لازمی ہے۔ دریافت طلب یہ ہے کہ اب کیا کیا جائے؟ بینوا تو جروا
الجواب:اسلامی ریاست میں مسلمان حاکم کہ وہابی، رافضی، قادیانی، نیچری وامثالہم سے نہ ہو، نائب شرعی ہے، مگر یہاں نہ قاضی کی حاجت نہ متارکہ شوہر کی ضرورت کہ نکاح راساً فاسد واقع ہوا، عورت تنہا اس کے فسخ کا اختیار رکھتی ہے، شوہر سے کہہ دے میں نے اس حرام کو چھوڑا، پھر اگر مجامعت نہ ہوئی تو ابھی، ورنہ بعد عدت جس سے چاہے نکاح کرلے۔
تنویر الابصار ودرمختار میں ہے:
یثبت لکل واحد منھما فسخہ ولوبغیر محضر من صاحبہ  دخل بھا اولافی الاصح خروجا عن المعصیۃ فلاینافی وجوبہ بل یجب علی القاضی التفریق بینھما ۱؎۔
مرد وعورت دونوں کو فسخ کا حق ہے اگرچہ دونوں میں ایک غیر حاضر ہو۔ دخول ہوچکا ہو یا نہیں، اصح قول یہی ہے، تاکہ گناہ سے علیحدگی ہوجائے تو یہ متارکہ قاضی کی تفریق کے وجوب کے منافی نہیں ہے۔ بلکہ قاضی پر الگ کرنا ان دونوں کو واجب ہے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار    باب المہر    مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۲۰۱)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ فی الاصح وقیل بعد الدخول لیس لاحدھما فسخہ الابحضرۃ الاٰخر، قولہ یجب علی القاضی ای ان لم یتفرقا ۲؎۔
ا س کا قول ''فی الاصح'' او ربعض نے کہا کہ دخول کے بعد ایک کی تفریق دوسرے کی موجودگی کے بغیر جائز نہیں،ا ور اس کا قول کہ قاضی پر واجب ہے یعنی ا س وقت جب دونوں نے آپس میں تفریق نہ کی ہو۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار         باب المہر    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۵۱)
اسی میں ہے:
فسخ ھذہ النکاح من کل منھما بمحضر الاٰخر اتفاقا والفرق بین المتارکۃ والفسخ بعید کذافی البحر ۱؎۔

ا س نکاح کافسخ دونوں ایک دوسرے کی موجودگی میں کریں۔ یہ متفقہ مسئلہ ہے اور یہاں متارکہ اورفسخ کا فرق بعید ہے،بحرمیں ایسے ہی ہےـ۔ (ت)
(۱؂ردالمحتار    باب المہر    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۵۲)
اسی میں خیریہ سے ہے:
الحق عدم الفرق ولذا جزم بہ المقدسی فی شرح نظم الکنز ۲؎۔
حق یہی ہے کہ دونوں میں فرق نہیں ہے، اسی لیے مقدسی نے اس پر نظم الکنز کی شرح میں جزم کیا ہے۔ (ت)
 (  ۲؎ ردالمحتار    باب المہر    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۵۲)
بحرالرائق میں ہے:
رجحنا (فی باب المھر) الثانی انھا تکون من المرأۃ ایضا ولذا ذکر مسکین من صورھا ان تقول لہ ترکتک ۳؎۔
ہم نے باب المہرمیں ثانی کو ترجیح دی ہے یہ کہ عورت کو بھی حق ہے۔ اسی لیے مسکین نے اس کی صورت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ عورت کہہ سکتی ہے کہ میں نے تجھ سے علیحدگی کرلی ہے۔ (ت)
 (۳؎ بحرالرائق        باب العدۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۴/۱۴۶)
اسی مسئلہ کی تمام تحقیق ہمارے فتاوی میں ہے اور یہاں اس کی حاجت نہیں کہ عورت کے فسخ کو متارکہ کہیں یا نہیں، اسے فسخ کا اختیار بلاشبہہ بالاتفاق ہے دفعاً للمعصیۃ (گناہ کوختم کرنے کے لیے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم
Flag Counter