مسئلہ ۲۳۵: ازشہر مسئولہ مولوی حافظ امیر اللہ صاحب ۱۴ ذی القعدہ ۱۳۲۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص عدت میں نکاح پڑھوادیتاہے اور "یتربصن" کو صرف جما ع سے بچنے پر حمل کرتا ہے، صحیح ہے یا غلط؟ اوراس شخص کا کیا حکم ہے؟ بینو تو جروا۔
الجواب : عدت میں نکاح حرام قطعی ہے بلکہ نکاح تو بڑی چیز ہے۔ قرآن عظیم نے عدت میں نکاح کے صریح پیام کو بھی حرام فرمایا۔ نکاح بعد عدت کرلینے کے وعدہ کو بھی حرام فرمایا صرف ا س کی اجازت دی ہے کہ دل میں خیال رکھو یا کوئی پہلو داربات ایسی کہو جس سے بعد عدت ارادہ نکاح کا اشارہ نکلتا ہو۔ صاف صاف یہ ذکرنہ ہو کہ میں بعد عدت تجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں، یہاں تک کہنا بھی حرام ہے، تو خود نکاح کرلینا کیونکر حلال ہوگا، پھر پہلو دار بات بھی عدت وفات والی سے کہنا جائزہے، عدت طلاق والی سے باجماع امت وہ بھی جائزنہیں، قال اﷲ عزوجل (اللہ عزوجل نے فرمایا۔ ت):
والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھر وعشرا فاذا بلغن اجلھن فلاجناح علیکم فی مافعلن فی انفسھن بالمعروف واﷲ بما تعملون خبیر ولاجناح علیکم فیما عرضتم بہ من خطبۃ النساء اواکننتم فی انفسکم علم اﷲ انکم ستذکرو نھن ولکن لاتواعدوھن سرا الاان تقولوا قولامعروفا o ولاتعزموا عقدۃ النکاح حتی یبلغ الکتب اجلہ واعلموا ان اﷲ یعلم مافی انفسکم فاحذروہ واعلموا ان اﷲ غفور حلیم o۱؎
یعنی تم میں جولوگ مریں اور عورتیں چھوڑیں وہ عورتیں چارمہینے دس دن اپنی جانوں کو روکے رہیں۔ جب عدت پوری ہوجائے پھر جو کچھ اپنے معاملہ میں موافق شرع کریں اس کا تم پر الزام نہیں۔ اور خدا جانتا ہے کہ تمھیں ان سے نکاح کاخیال گزرے گا مگر باہم نکاح کاوعدہ خفیہ بھی نہ کر رکھو۔ ہاں اس طریقہ معلوم پر کنایۃً کچھ کہہ سکتے ہو اور جب تک عدت پوری نہ ہو نکاح کا قصد بھی نہ کرو۔ اور جان لو کہ اللہ تمھارے دلوں کی بات جانتاہے تو اس سے ڈرو۔ اورجان لو کہ اللہ بخشنے والاحلم والاہے یعنی عذاب نہ آنے پر مغرورنہ ہو کہ وہ حلیم ہے۔
خاص وفات کی عدت والی عورت سے کنایہ کے طورپر پیام نکاح میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ طلاق کی عدت والی سے بالاجماع کنایہ بھی جائز نہیں (ت)
(۲؎ فتح القدیر باب فی العدۃ المکتبۃ النوریہ رضویہ سکھر ۴/۱۶۵)
اگر کوئی شخص عدت میں نکاح پڑھادیا کرتا اورا سے حرام وزنا جانتا تو اتنا ہوتا کہ وہ سخت مرتکب کبائر اورزانی و زانیہ کا دلال ہوتا مگر وہ جواسے جائز بتاتا ہے اورقرآن عظیم میں تحریف کرکے "یتربصن" کو فقط منع جماع پر حمل کرتا ہے وہ ضرور منکر قرآن مجید ہے اورا س پر یقینا کفرلازم۔ اس پر فرض ہے کہ توبہ کرے اور اپنے اس قول ناپاک کو جھٹلائے اور نئے سرے سے اسلام لائے۔ اس کے بعد اپنی عورت سے نکاح کرے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۶: از سلون شریف ضلع رائے پور بریلی احاطہ شاہ صاحب مرسلہ مولوی محمد عمر صاحب مدرسہ اسلامیہ ۲۲ محرم الحرام ۱۳۲۸ھ
جناب مولانا صاحب مجدد مائۃ حاضرہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، زن فاحشہ رنڈی سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو بعد توبہ یا بغیر توبہ بھی؟ اگر بعد توبہ بھی جائز ہے تو توبہ کی قید کیوں ہے؟ کتابیہ سے تو بلاکراہت جائز ہو اوراس سے بلاتوبہ جائز نہ ہو۔ عقل سلیم خلاف حکم کرتی ہے۔ اوراگر ناجائزہے تو کیوں؟ والسلام ! بینوا تو جروا
الجواب :وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، زن فاحشہ سے نکاح جائز ہے اگرچہ تائب نہ ہوئی ہو، ہاں اگر اپنے افعال خبیثہ پر قائم رہے، اور یہ تاقدر قدرت انسداد نہ کرے تو دیوث ہے اورسخت کبیرہ کا مرتکب، مگر یہ حکم اس کی اس بے غیرتی پرہے، نفس نکاح پر اس سے اثر نہیں،
حق سبحانہ وتعالٰی نے محرمات گناکر فرمایا:
واحل لکم ماوراء ذلکم ۱؎
(اور تمھارے لیے محرمات کے ماسوا حلال کی گئیں ہے۔ ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴/۲۴)
رہی آیہ کریمہ:
والزانیۃ لاینکحھا الازان اومشرک وحرم ذلک علی المومنین ۲؎۔
زانیہ سے صرف زانی مردیا مشرک نکاح کرے اور یہ مومنین کے لیے حرام ہے۔(ت)
(۲؎القرآن الکریم ۲۴/۳)
اس میں چار تاویلیں ماثور ہیں۔ ان میں سے اول کی دو فقیر کے نزدیک اصح واحسن ہیں۔
تاویل اول: نکاح سے عقد ہی مراد ہے۔ پہلے زانیہ سے نکاح حرام تھا یہ حکم منسوخ ہوگیا، یہ قول سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ تعالٰی عنہما کاہے اور بغوی نے اسے ایک جماعت کی طرف منسوب کیا۔
امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کی تصحیح کی، کتاب الام میں فرماتے ہیں:
اختلف اھل التفسیر فی ھذہ الاٰیۃ اختلافامتبائنا فقیل ھی عامۃ ولکن نسخت بقولہ تعالٰی وانکحوا الایامٰی الخ وقدرویناہ عن سعید بن المسیب وھو کما قال وعلیہ دلائل من الکتاب والسنۃ فلاعبرۃ بما خالفہ اھ بمحصولہ۔ نقلہ فی عنایۃ القاضی۱؎۔
اہل تفسیر نے اس آیہ کریمہ میں واضح اختلاف کیا ہےبعض نے کہا کہ یہ عام ہے لیکن اللہ تعالٰی کے قول وانکحوا الایامٰی الخ کے نازل ہونے پر منسوخ ہوگئی ہے، اور اس قول کو ہم نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے اور وہ ان کے قول کے مطابق درست ہے اور اس پر قرآن وحدیث سے دلائل ہیں۔ تو اس کے مخالف قول کا اعتبار نہ ہوگا۔ اس کا خلاصہ ختم ہوا، جس کو عنایۃ القاضی میں نقل کیا ہے۔ (ت)
اقول الذی رأیت من لفظ الفقیہ فی بستانہ قال سعید بن جبیر والضحاک معناہا الزانی لایزنی الابزانیۃ مثلہ وھکذا روی عن عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنھما وقد قیل ان الآیۃ منسوخۃ لان رجلاسأل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال ان امرأتی لاترد یَد لامسٍ، فقال طلقھا، فقال انی احبھا، قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فامسکھا ۳؎ اھ فقولہ معنا ھا الزانی لاینکح صوابہ لایزنی وجزمہ بان الفقیہ جزم بالنسخ غیرظاھر من کلام الفقیہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اقول (میں کہتا ہوں۔ ت) میں نے جو کچھ فقیہ مذکور کی کتاب ''بستان'' دیکھی ہے وہ یہ ہے کہ سعید بن جبیر اور ضحاک نے فرمایا کہ اس آیت کا معنٰی یہ ہے کہ زانی صرف اپنے جیسی زانیہ سے زناکرتا ہے، اور ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے اسی طرح مروی ہے۔ اوربعض نے کہا کہ آیہ کریمہ منسوخ ہے کیونکہ ایک شخص نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ذکر کیا کہ میری بیوی کسی چھونے والے کے ہاتھ کو رد نہیں کرتی، تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: اس کو طلاق دے، تو اس شخص نے کہا کہ مجھے اس سے محبت ہے، تو حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: تو پھر طلاق نہ دے اھ، تواس کا قول کہ ابواللیث نے کہا اس کا معنی ''لاینکح'' درست نہیں۔ مگر میرے حوالے کے مطابق صحیح یہ ہے کہ انھوں نے معنی ''لایزنی'' بتایا ہے اور انھوں نے بطور اعتماد کہاکہ ابواللیث نے نسخ کو مختار قرار دیا۔ یہ بات ابواللیث کے کلام سے ظاہرنہیں ہوتی۔واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۳؎ بستان العارفین علی ہامش تنبیہ الغافلین الباب الحادی والسبعون تزویج الزانیۃ دارالزہراء للطباعۃ والنشر ص۴۔ ۱۰۳)
رغائب الفرقان میں ہے:
قیل انہ صار منسوخا امابالاجماع وھو قول سعید بن المسیب، وزیف بان الاجماع لاینسخ ولاینسخ بہ، واما بعموم قولہ تعالٰی ''وانکحوا لایامٰی فانکحوا ماطاب لکم'' وھو قول الجبائی وضعف بان ذلک العام مشروط بعدم الموانع السببیۃ والنسبیۃ، ولیکن ھذاالمانع ایضا من جملتھا ۱؎ اھ اقول مانسب الی الجبائی فھو عہ
بعض نے کہا کہ منسوخ ہے یا اجماع کے ساتھ یہ قول سعید بن مسیب کا ہے یہ موقف کمزور ہے کیونکہ اجماع نہ منسوخ ہوتا اور نہ ناسخ ہوتاہے۔ یا منسوخ ہے اللہ تعالٰی کے ارشاد ''وانکحوا لایامٰی فانکحوا ماطاب لکم'' کے ساتھ، اور یہ جبائی کا قول ہے، اوریہ بھی ضعیف قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس آیت میں بیان کردہ اباحت،سببی یا نسبی مانع نہ ہونے کے ساتھ مشروط ہے اور زنا بھی ان موانع میں سے ایک مانع ہے اھ اقول جو جبائی کی طرف منسوب ہے تو وہ (اس سے آگے عبارت دستیاب نہیں ہوسکی)۔ (ت)
(۱؎ رغائب الفرقان (تفیسر نیشاپوری) زیر آیہ ماقبل مصطفی البابی مصر ۱۲/۵۸)
عہ: افسوس کہ یہ فتوٰی اس قدر منقول ملا، آگے دستیاب نہ ہوسکا، جتنا ملا اتنا چھاپ دیا، باقی اگر کبھی آئندہ کہیں مل سکا تو وہ بھی ان شاء اللہ تعالٰی علیحدہ یا بطور تبرک چھاپ دیا جائے گا یا کسی حصہ آئندہ میں۔ (مرتب)