| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح) |
مسئلہ ۲۲۹تا ۲۳۱: مسئولہ جناب مولوی بشیر احمد صاحب علی گڑھی مدرس اول مدرسہ منظر اسلام بریلی ۱۹ ذی الحجہ ۱۳۲۴ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں: (۱) سوتیلی خالہ سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟ (۲) کوئی شخص اگر ساس سے آشنائی اور صحبت کرے تو عورت اس کے نکاح سے باہر ہوجاتی ہے اور اس کی عدت ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا (۳) ایسی دو عورتوں کاایک وقت میں نکاح میں لانا کہ اگر ایک کو مرد اور ایک کو عورت قرار دیا جائے تو صورت محرمات میں آجائیں تو درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب (۱) خالہ سگی ہو یا سوتیلی، مثل ماں کے حرام قطعی ہے،
قال اللہ تعالٰی : وخالتکم
(اور تمھاری خالائیں۔ ت)
درمختارمیں ہے:
الاشقاء وغیرھن۱؎
(سوتیلی وغیرہ۔ ت)
(۱؎ درمختار کتاب النکاح باب فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی۱/۱۸۷)
ہاں منکوحہ پدر کہ اس کی ماں نہیں تو اس کی سگی بہن بھی حلال ہے جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو، قال تعالٰی:
واحل لکم ماوراء ذلکم ۲
(تمھارے لیے ان محرمات کے ماسوا حلال کی گئی ہیں۔ ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۴/۲۴)
مگر وہ ا س کی خالہ نہیں کہ جس کی بہن ہے وہ اس کی ماں نہیں ہے مجازاً اور ادعائے مجاز بے قرینہ مدفوع ونامسموع۔ اوربفرض غلط اگرسوتیلی ماں کی بہن،بھی سوتیلی خالہ ہو تو ماں کی سوتیلی بہن یقینا سوتیلی خالہ ہے بلکہ وہی اطلاقاً اکثر اور فہماًاظہر توبعض عمائد غیرمقلدین سے تحلیل حرام وتضلیل عوام کے دونوں الزام مدفوع نہیں ہوسکتے، واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲) سالی سے زنا عورت کو حرام نہیں کرتا ،ساس کو بشہوت ہاتھ لگانے ہی سے عورت ہمیشہ کو حرام ہو جاتی ہے کہ کسی طرح اس کے لیے حلا ل نہیں ہو سکتی مگر نکاح نہیں جاتا بلکہ متارکہ ضرور ہے مثلا عورت سے کہہ دے میں نے تجھے چھوڑا یا ترک کردیا ، متارکہ کے بعد عدت واجب ہو گی جبکہ عورت سے خلوت کر چکا ہو ۔ واللہ تعالی اعلم
(۳) دو عورتیں کہ ان میں جس کو مرد فرض کریں دوسری اس پر ہمیشہ حرام ہو ایک شخص کے نکاح میں جمع نہیں ہوسکتیں خواہ ایک وقت میں خواہ مختلف اوقات میں۔ جیسے ماں بیٹی کہ بعد فرض ماں بیٹا یا باپ بیٹی ہوں گی اور اگر ایک کو مرد فرض کئے سے دوسری اس پر حرام ابدی ہو مگر دوسری کو مرد ٹھہرانے سے وہ پہلی حرام نہ ہو تو ایسی دو عورتوں کو نکاح میں جمع کرسکتے ہیں جیسے ساس بہو کہ ساس مرد ہو تو وہ خسر اور بہو ہیں، بہو خسر پر ہمیشہ حرام ہے اور اگر بہو مرد ہو تو اب ساس سے کوئی رشتہ نہیں وہ اس کے لیے حلال ہوگی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۲تا ۲۳۳: از تحصیل ستار گنج ڈاک خانہ خاص ضلع نینی تال مرسلہ الہٰی بخش صاحب کاریگر ہادی دین شرع متین جناب مولانا مولوی احمد رضاخاں صاحب دام مجدہم، بعد سلام دست بستہ کے التماس ہے آپ کی ذات مجمع کمالات ہم عاصیوں کے لیے باعث افتخار ہے اور ہر مشکل مسئلہ میں آپ سے عقدہ کشائی ہوکر کار ثواب میں داخل ہوکر کارنیک کے پابند ہوسکتے ہیں۔ (۱) ایک عورت بیوہ نے اپنی لڑکی نابالغ کو لڑکے کی زوجیت میں دیا، بعد تھوڑی مدت میں وہ لڑکی نابالغ مرگئی، بعد تھوڑی مدت کے اس عورت نے جو بیوہ پہلے سے تھی اب اس نے اپنے داماد سے نکاح کرلیا ہے اوراس نکاح سے اب ایک بچہ موجود ہے، آیا یہ نکاح درست ہے یا حرام ہے؟ (۲) ایک شخص نے ایک عورت بیوہ سے نکاح کرلیا، اس عورت بیوہ کا جو پہلا خاوند تھا اس سے ایک لڑکاتھا جواب عورت کے دوسرے نکاح کرنے پر ہمراہ آیاتھا وہ لڑکا جوان ہوکر مرگیا اور اس کی ماں بھی مرگئی، اب اس جوان لڑکے کی بیوی بیوہ ہے اوراب اس لڑکے کا باپ یعنی اب سوتیلا ہے اور یہ سوتیلا باپ اس سوتیلے لڑکے کی بیوہ بیوی کو یعنی اب اپنی سوتیلی بہو کو یعنی اب سوتیلے بیٹے کی بیوی بیوہ کو نکاح میں لایا چاہتا ہے اور حرام بھی کیاہے اور اسی وجہ سے وہ بیوہ بہو حاملہ ہے اور اس کا حمل قریباً چار ماہ کا ہے اوراسی قدر عرصہ اس کے خاوند کو مرے ہوئے گزرا، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ بعدمرنے اپنے سوتیلے بیٹے کے وہ شخص اپنی سوتیلی بہو کے ساتھ فعل کرتا رہا، اب یہ نہیں معلوم کہ حمل بیٹے کا ہے یا باپ کا، البتہ قرین قیاس یہ ہے کہ سوتیلے بیٹے کا یعنی اس کے شوہر کا ہے کیونکہ اس کے شوہر کومرے ہوئے بھی عرصہ چار ماہ کا گزرا ہے، آیا بعد وضع حمل کے نکاح ہونا یعنی سوتیلے بیٹے کی بیوہ بیوی سے خسر سوتیلے کا جائز ہے یا ناجائز؟ والسلام، دوسرے مسئلہ کا اصل قصہ مختصر یہ ہے کہ سوتیلے بیٹے کی بیوہ بیوی کو سوتیلا خسر اپنے نکاح میں لاسکتا ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب (۱) ساس پر داماد مطلقا حرام ہے اگرچہ اس کی بیٹی کی رخصت نہ ہوئی ہو اور قبل رخصت مرگئی ہو، قال اللہ تعالٰی:
وامھات نسائکم ۱؎
(اور تمھاری بیویوں کی مائیں تم پر حرام ہیں)
(۱؎ القرآن الکریم ۴/۲۳)
یہ نکاح حرام محض ہوا، وہ بچہ ولدالحرام ہوا، ان دونوں پر کہ حقیقۃً ماں بیٹے ہیں فرض ہے کہ فورا جد اہوجائیں۔ واللہ تعالی اعلم۔
(۲) جبکہ یہ بھی احتمال ہے کہ اس بیوہ کا یہ حمل اپنے شوہر کا ہو، تو جب تک وضع حمل نہ ہو اس سے نکاح قطعی حرام ہے، بعدوضع حمل نکاح کرسکتا ہے لقولہ تعالٰی:
وحلائل ابنائکم الذین من اصلابکم ۲؎
(اور تمھارے نسبی بیٹوں کی بیویاں حرام ہیں، ت) مع قولہ تعالٰی:
واحل لکم ماوراء ذلکم ۳؎
(اللہ تعالٰی کے اس قول کے پیش نظر: اور تمھارے لیے ان کے ماسوا حلال کی گئیں ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲؎القرآن الکریم ۴/۲۳) (۳؎القرآن الکریم ۴/۲۴)
مسئلہ۲۳۴: مسئولہ مولوی محمد امانت الرسول صاحب از رام پور محلہ پیلاتالاب سوتیلی ماں کو اگر باپ تین طلاقیں دے دے لڑکا اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں؟ مدلل تحریرہو، والسلام۔ بینوا توجروا
الجواب اﷲ لاالہ الااﷲ، سوتیلی ماں حقیقی ماں کے برابر حرام قطعی ہے۔ اللہ عزوجل نے قرآن عظیم میں ماں کی حرمت سے پہلے سوتیلی ماں کی حرمت بیان فرمائی ہے،اذ قال اﷲ تعالٰی (جبکہ اللہ تعالٰی نے فرمایا۔ ت): ولاتنکحوا مانکح اٰبائکم الی قولہ تعالٰی انہ کان فاحشۃ ومقتا وساء سبیلا ۴؎۔ نہ نکاح کرو ان عورتوں سے جن سے تمھارے باپ نکاح کرچکے، بیشک وہ بے حیائی اور خدا کو دشمن اور نہایت بری راہ ہے۔ (ت)واﷲ تعالٰی اعلم(۴؎القرآن الکریم ۴/۲۲)