Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
121 - 1581
غمز العیون میں ہے:
اتفق مشائخنا من رأی امرالکفار حسنا فقد کفر حتی قالوا فی رجل ترک الکلام عند اکل الطعام حسن من المجوس اوترک المضاجعۃ عندھم حال الحیض حسن فھو کافر۔ ۱؎
ہمارے مشائخ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کفار کے شعائر کو پسند کرنے والا کافر ہے، حتی کہ انھوں نے فرمایا کہ جو شخص مجوسیوں کے شعار، کھانا کھاتے وقت بات چیت کے ترک، کو اچھا کہے یا حالت حیض میں بیوی کے ساتھ ایک بسترمیں لیٹنے کے ترک، کو مجوسیوں کی وجہ سے اچھا کہے وہ کافر ہے (ت)
 (۱؎ غمز العیون مع الاشباہ والنظائر    کتاب السیر والردۃ    ادارۃ القرآن کراچی    ۱/۲۹۵)
اور اتنا حکم تو پہلی صورت میں بھی ہے کہ جس نے وہ الفاظ انکار کہے احتیاطا تجدید اسلام وتجدید نکاح کرے، جامع الفصولین میں ہے:قال لخصمہ حکم الشرع کذا فقال خصمہ من برسم کارمی کنم بشرع نے قیل کفر وقیل لا ۲؎۔

جس نے اپنے مقابل کوکہا کہ حکم شرع یوں ہے اور مقابل کہے میں مروجہ رسم پر عمل پیراہوں شرع پر نہیں، تو بعض نے فرمایا وہ کافر ہوگیا اور بعض نے فرمایا نہ ہوا (ت)
 (۲؎ جامع الفصولین        فصل فی تنفیذ الوصیۃ    اسلامی کتب خانہ کراچی    ۲/۳۱۰)
درمختار میں ہے:
فی شرح الوھبانیۃ للشرنبلالی مایکون کفرا اتفاقا یبطل العمل والنکاح واولادہ اولاد زنا ومافیہ خلاف یومر بالاستغفار والتوبہ وتجدید النکاح ۳؎. واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
شرح وھبانیہ شرنبلالی میں ہے کہ متفق علیہ کفر سے عمل اور نکاح باطل ہوجاتا ہے حالت کفر کی اولاد اولاد زنا ہوگی، او رجس کے کفر ہونے میں اختلاف ہو اس میں توبہ و استغفار اور تجدید نکاح کا حکم دیا جائے گا ____ واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم اور اس جل مجدہ کا علم اتم واکمل ہے۔ (ت)
 (۳؎ درمختار  کتاب الجہاد  باب المرتد    مجتبائی دہلی        ۱/۳۵۹)
مسئلہ ۲۲۷: از ملک بنگال ضلع پٹنہ ڈاکخانہ بنگا شی موضع مختار گاتی مرسلہ مصلح الدین صاحب ۱۲ شوال المکرم ۱۳۲۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حقیقی بھانجا کی بیٹی سے نکاح جائزہے یا نہیں؟ بادلیل عنایت ہو،بینوا توجروا
الجوابك حرام قطعی ہے وہ خود اسی کی بیٹی ہے،
قال اﷲ تعالٰی وبنت الاخت ۱؎ وھن یشملن بناتھا من بطنھا ومن ابنھا ومن بنتھا وان سفلن۔ واﷲ تعالٰی اعلم
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اور بھانجیاں جبکہ یہ لفظ بھانجی کی بیٹیوں، پوتیوں اور نواسیوں کو نیچے تک شامل ہے۔ (ت) واللہ تعالٰی اعلم
 (۱؎ القرآن الکریم        ۴/۲۳)
مسئلہ ۲۲۸: چہ مے فرمایند علمائے دین وحامی شرع متین دریں مسئلہ کہ اگر مردے از طریق اہل سنت وجماعت وزنے از طریق اہل شیعہ وباہم مرد وزن صیغہ نکاح مروجہ بطریق اہل سنت وجماعت خواندہ باشد و ہنوز خلوت صحیحہ بلکہ رسم رخصت مروجہ ہندوستان نہ شدہ باشد وحالا باہم رضامندی نہ، چہ حکم دارد، آیا نکاح صحیح ست یا نہ؟ بینوا توجروا

علمائے دین وحامی شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ مرد اہل سنت وجماعت ہو اور عورت اہل شیعہ میں سے، ان دونوں کا نکاح اہل سنت و جماعت کے طریقہ پر ہوا، اور ابھی خلوت صحیحہ بلکہ رخصتی نہ بھی ہوئی، جیسا کہ ہندوستا ن کا طریقہ ہے، جبکہ ابھی رضامندبھی نہ ہوں، توایسا نکاح صحیح ہے یا نہیں؟ بیان کرو اجر پاؤ۔ (ت)
الجواب: آں زن اگر بسلامت قلب خود از عقائد مکفرہ بری ست نکاح صحیح شد وبعد نکاح عدم رضائے اعتبارے نے وحکما سپرد شوہر کردہ شود اگر در رنگ عامہ روافض زمانہ عقیدہ مکفرہ دارد، نکاح باوباطل محض ست نہ سنی رارسد نہ رافضی نہ یہودی نہ مجوسی ہیچ کس را لان المکفر من اھل الھوی کالمرتد حکمہ والمرتدۃ لاینکحھا مسلم ولاکافر اصلی ولامرتد مثلھا کما نصوا علیہ آرے اگروقت نکاح ا ز کفربری بود تاآنکہ نکاح صحیح شدہ وحالا ارتکاب او کند تاازحبالہ نکاح بدرآید ایں حیلت ومکیدہ فاسدہ اش ہم بروئے زن زنند وحکم ببقائے نکاح ووجوب تسلیم نفس کنند کما ھوالمختار الان للفتوی علی ما حققنا ہ فی فتاوٰنا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر وہ عورت خود دل سے عقائد کفریہ سے توبہ کرچکی ہے اوربری ہوچکی ہے تو نکاح صحیح ہے، اور نکاح کے بعدعدم رضامندی کا کوئی اعتبارنہیں، ایسی عورت کو حکما شوہر کے سپرد کیا جائے گا،ا ور اگر وہ عورت موجودہ عام روافض  جیسے کفریہ عقیدے رکھتی ہو تو اس سے نکاح باطل محض ہے، سنی رافضی اور مجوسی کسی کے لیے بھی وہ حلال نہیں کیونکہ اہل ہوی میں سے جن کو کافر قرار دیا گیا ہو وہ مرتد کی طرح ہیں اور مرتد والاحکم رکھتے ہیں اور مرتدہ سے کسی مسلمان، اصلی کافر یا اس جیسے مرتد کو نکاح جائز نہیں، جیساکہ فقہاء کرام نے اس پر تصریح کی ہے، ہاں اگر نکاح کے وقت کفر سے بری تھی تو نکاح صحیح ہوا مگر اس کے بعد اب وہ عقائد کفریہ کا اظہار بطور حیلہ ومکر اس لیے کرتی تاکہ نکاح سے خلاصی حاصل کرے تواس حیلہ ومکرو فریب کو اس کے منہ پر دے ماراجا ئے اور نکاح کاحکم باقی رکھا جائے اور اس کو خاوند کے سپردکرنا ضروری ہے جیساکہ آج کل فتوی میں مختار ہے جس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوی میں کردی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
Flag Counter