(امرأتہ) فاطمۃ بنت الحسن بن علی رضی اﷲ تعالٰی عنہم وھی ابنۃ عمھم ۱؎۔
بیوی سے مراد فاطمہ بنت حسن بن علی (رضی اللہ تعالٰی عنہم) ہے جو ان کی چچازاد ہیں (ت)
(۱؎ ارشاد الساری شرح صحیح بخاری کتاب الجنائز قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۴۲۹)
یہ نیا مسئلہ خاص مشرکین ہندکی گھڑت ہے وہ بھی ہندوستان کے بعض شہروں کے لیے دیگر مثل دکن کے سکان کو شاید وہ بھی حلال مانتے ہیں۔ ہنود عنود کو توآسان ہے کہ ان کا امام ہوائے نفس وشیطان ہے، عجب اس سے جو دعوی اسلام رکھے قرآن عظیم کو اپنا امام جانے اور پھر خلاف قرآن مسائل شیطان مانے والعیاذباللہ رب العالمین، غالباً یہ ایسے ہی لوگوں کے ناپاک اوہام ہوسکتے ہیں جن کے باپ دادا ہندو تھے اسلام لائے تھوڑا زمانہ گزرا ہواا و ر رہے جاہل بے شعور اور صحبت اہل علم سے دور، دل میں وہی خیالات بے معنی جمے ہوئے ہیں اور موروث ہونے کے باعث گویا طبیعت ثانیہ ہوگئے ہیں اب کہ حکم قرآن عظیم معلوم ہوا طبعی گھن کہ اس سے چڑھی ہوئی ہے اس کے امتثال سے مانع آتی ہے جیسے کوئی پرانا پجاری برہمچاری خوبی قسمت سے مشرف بہ اسلام ہوجائے اور اس کے سامنے نوجوان گہتی کا نفیس عمدہ فربہ تازہ سرخ بریاں خوشبو خوشنما نرم چکنا چپٹا سلونا گوشت پیش کیا جائے تو عادت قدیمہ کے باعث یکایک اس کی ہمت اس لذیذنوالے کے لیے یاری نہ دے گی بلکہ دیکھتے ہی آنکھ بند ہوجائے گی، اگر فی الواقع ان لوگوں کے انکار کا صرف اسی قدر منشا ہے خوب جانتے ہیں، اور ایمان لاتے ہیں کہ یہ نکاح حلال ہیں ان میں کوئی قباحت نہیں، اورہنود کہ انھیں حرام سمجھتے ہیں یہ ان کا شنیع وقبیح زعم ہے باایں ہمہ اس عادت قدیمہ کے سبب اس سے جھجکتے بچتے ہیں جب توکفر نہیں مگر یہ خیال ناپاک رسوم کفر کا بقیہ ہے ان پر فرض ہے کہ اسے دل سے دور کریں اور پورے پورے اسلام میں داخل ہوں ورنہ عذاب الہٰی کے منتظر رہیں،
اللہ عزوجل فرماتاہے:
یایھاالذین اٰمنوا ادخلوا فی السلم کافۃ ولاتبتعوا خطوات الشیطن انہ لکم عدومبین o فان زللتم من بعد ماجاء تکم البینت فاعلموا ان اﷲ عزیز حکیم o ھل ینظرون الاان یاتیھم اﷲ فی ظلل من الغمام والملٰئکۃ وقضی الامر والی اﷲ ترجع الامور۱؎
اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بیشک وہ تمھارا صریح دشمن ہے پھر اگر لغزش کرو بعد اس کے کہ تمھارے پاس آچکیں روشن آیتیں تو جان رکھو کہ اللہ زبردست حکمت والا ہے یہ لوگ کس انتظار میں ہیں مگر یہی کہ آئے ان پر اللہ کا عذاب بادل کی گھٹاؤں میں اور فرشتے اور ہوچکے ہونے والی، اور اللہ ہی کی طرف پھرتے ہیں سب کام۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲/۲۰۸ تا ۲۱۰)
جلالین شریف میں ہے:
نزل فی عبداﷲ بن سلام واصحابہ لما عظموا السبت عہ وکرھوا الابل بعد الاسلام ادخلوا فی السلم ای الاسلام کافۃ ای جمیع شرائعہ۲؎ (ملخصا)
جب عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں نے ہفتہ کا دن منانا چاہا اور سابقہ دین کے پیش نظر اونٹ کے گوشت کو ناپسند کیا تو آیہ کریمہ" ادخلوا فی السلم کافۃ" نازل ہوئی یعنی داخل ہوجاؤ سلم میں، سلم سے مراد اسلام ہے یعنی یہ کہ پوری شریعت اسلامیہ کو اپناؤ۔ (ملخصا) (ت)
یہ مصدر ہے، اسی سے ہے اللہ تعالٰی کا قول ''یوم لایسبتون لاتأتیھم'' روز ہفتہ کے علاوہ دنوں میں مچھلیاں انکے پاس نہ آتیں اور اس سے مراد روز ہفتہ کی تعظیم ہے۔ (ت)
یعنی جب علمائے یہود مشرف باسلام ہوئے عادت قدیمہ کے باعث اونٹ کے گوشت سے کراہت کی کہ یہود کے یہاں اونٹ حرام تھا اور تعظیم شنبہ کا عزم کیا کہ یہود میں ہفتہ معظم تھا اس پر حق سبحنہ وتعالٰی نے یہ آیہ کریمہ نازل فرمائی کہ اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو اس کے سب احکام مانو ورنہ عذاب الہٰی کے منتظر رہو والعیاذ باللہ تعالٰی۔ اگریہ لوگ نہ مانیں تو مسلمانوں کو چاہئے کہ ان سے میل جول نہ کریں خصوصا جن سفہانے وہ ناپاک کلمہ کہا کہ ''گویہ مسئلہ شرع کا ہے مگر ہم الخ'' اور جنھوں نے ایسے نکاح کرنے والے کو برادری سے خارج کردیا وہ سخت ظالم اورشدید مجرم ہیں مسلمانوں کو ان سے احتراز ضرورہے۔
قال اللہ تعالٰی:ولاترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار ۳؎۔
ظالموں کی طرف میل نہ کرو کہ تمھیں چھوئے دوزخ کی آگ۔
(۳؎ القرآن الکریم ۱۱/۱۳)
ان کے پیچھے نماز ممنوع ہے کہ وہ اس تعصب وتشدد کے باعث فاسق معلن ہوئے اور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے اور اسے امام بنانا گناہ، کما نص فی الغنیۃ وغیرھا وحققناہ فی النھی الاکید (جیسا کہ اس پر غنیہ وغیرہا میں نص کی ہے اور ہم نے اس کی تحقیق اپنے رسالہ النہی الاکید میں کی ہے۔ ت)
اسی صورت میں حتی الوسع کوشش کرے کہ والدین راضی رہیں اور ان کی مرضی کی مخالفت سے بھی نجات ملے ورنہ ظاہری مخالفت اس قدر کہ منجربہ معصیت نہ ہو مجبورانہ محض والدین کے دکھانے تک بجالائے۔
فان ایذاء ھما من اشدالکبائر ولیست مخالفتھم علی ماوصفنا فی السوء والشناعۃ مثل العقوق ومن ابتلی ببلیتین اختار اھونہما وقد کان سیدنا عبداﷲ بن عمر وبن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہما حامل لواء صفین مع ابیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ طاعۃ لہ من دون قتال مع علمہ ان الحق مع امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ وکان یعتذر عن ذلک بان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم امرہ بطاعۃ ابیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔
والدین کو اذیت دینا گناہ کبیرہ ہے، اور بری باتوں اور غلط امورمیں ان کی مخالفت والدین کی نافرمانی جیسی بات نہیں ہے، اور جو شخص دو مصیبتوں میں مبتلا ہو وہ دونوں میں سے آسان کو اختیار کرے، حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنے والد کے حکم پر جنگ صفین میں علم بردار تھے اور جنگ میں شرکت نہ چاہتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس جنگ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم حق پر ہیں انھوں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے والد کی اطاعت کی پابندی کے حکم کے عذر سے والد کی موافقت کی۔ (ت)
اور اگر معاذاللہ اس انکارکی وجہ یہ ہو کہ اس نکاح کو واقع میں حرام جانتے اور حکم شرع کو باطل مانتے مسئلہ کفار کو صحیح وحسن سمجھتے ہیں جب تو صریح کفار مرتدین ہیں ان سے میل جول قطعی حرام، اب اس صورت میں ان کی عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیں، ان سے ہمبستری زنا ہوگی، ا ولاد ولد الزنا ہوگی، ان کے پیچھے نماز باطل محض، ان سے میل جول میں والدین کی اطاعت ناجائز، ان سے مخالفت وجدائی لازم، اگرچہ ماں باپ ناراض ہوں،