نیز حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لن تزول قدماشاھد الزور حتی یوجب اﷲ لہ النار ۲؎۔ رواہ ابن ماجۃ والطبرانی فی الکبیر والحاکم وصحح سندہ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
ہر گز جھوٹے گواہ کے پاؤں جگہ سے ہٹنے نہ پائیں گے، کہ اللہ تعالٰی اس کے لیے جہنم واجب کردے گا۔ (اسے طبرانی نے کبیر میں اور ابن ماجہ اور حاکم نے سند کو صحیح قرار دے کر عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے۔ ت)
(۲سنن ابن ماجہ با ب فی شہادۃ الزور ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۷۳)
جب مطلق جھوٹی شہادت کا یہ وبال ہے جس میں پیسہ دو پیسہ مال پر جھوٹی گواہی بھی داخل تو شہادت کذب سے کسی کے ناموس کو برباد کردینا کس قدر موجب غضب الہٰی ہوگا والعیاذباﷲ تعالٰی، اللہ تعالٰی مسلمانوں کو ہدایت دے۔ آمین! واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۰: از بدایوں مولوی ٹولہ مرسلہ شیخ نذر اللہ صاحب ۳۰ شوال ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ایک مسجد کا امام ہے، ایک عورت اس کے نکاح میں تھی، بعدہ اس کی حقیقی بہن سے نکاح کرلیا، اب وہ دونوں سگی بہن اس کے پاس ہیں، جب ساس سے کہا جاتا ہےتو کہتا ہے یہ امام شافعی کے مذہب میں جائز ہے۔ اس صورت میں اسے امام بنانا اورا س کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب: دو بہنوں کا ایک شخص کے نکاح میں ہونا حرام قطعی ہے، اس کی حرمت ایسی نہیں کہ کسی امام نے اپنے اجتہاد سے نکالی ہو جس میں دوسرے اما م کو خلاف کی گنجائش ہو، نہ اس کی حرمت کسی حدیث احا د سے ہے کہ جسے وہ حدیث نہ پہنچے یا اس کی صحت اسے ثابت نہ ہوئی وہ انکار کر سکے بلکہ اس کی حرمت قرآن عظیم نے خاص اپنی نص واضح صریح سے ارشاد فرمائی ہے کہ:
حرمت علیکم امھاتکم وبنٰتکم واخواتکم (الٰی قولہ عزوجل) وان تجمعوا بین الاختین ۱؎۔ الآیۃ۔
حرام کی گئیں تم پر تمھاری مائیں اور تمھاری بیٹیاں اور تمھاری بہنیں، (اللہ عزوجل کے اس قول تک) اوریہ کہ اکٹھی کرو دو بہنیں۔ الآیۃ
(۱؎ القرآن الکریم ۴/۲۳)
دیکھو جس طرح آدمی پر اس کی ماں بہن بیٹی حرام ہے اسی طرح دو بہنوں کو جمع کرنا اس پر حرام ہے، زیدنے امام شافعی پر سخت جھوٹا افترا کیا اوراب تک تو وہ اس ناپاک فعل سے فقط حرام کار ومرتکب کبیرہ ومستحق عذاب نار تھا اب مسلمانوں کے اماموں میں مختلف فیہ مان کر ا س کی حرمت کا منکر ہوا اور اس کا کام سرحد کفر تک پہنچا، اس کا معاملہ بہت سخت ہوگیا، اسے امام بنانا حرام ہے اس کے پیچھے نماز محض باطل ہے، مسلمانوں پر لازم ہے کہ جب تک وہ اپنے اس ناپاک فعل سے باز نہ آئے اس دوسری کو الگ کرکے جدا نہ کردے اپنے اس نجس تر قول سے توبہ نہ کرے نئے سرے سے تجدید اسلام نہ کرے جب تک اس کے پاس نہ بیٹھیں اس سے میل جول نہ کریں ورنہ خوف کریں کہ اس کی آگ انھیں بھی نہ پھونک دے،
قال اللہ تعالٰی:واتقوا فتنۃ لاتصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ایسے فتنے سے بچو جو صرف ظالموں تک محدود نہ رہے گا (ت) واللہ تعالٰی اعلم
(۲؎القرآن الکریم ۸/۲۵)
مسئلہ ۲۲۱: مسئولہ مولوی عبدالکریم صاحب ساکن امرتسر کٹرہ حکیماں نزیل بریلی ۵ محرم الحرام ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے دو زوجہ تھیں، زوجہ اولٰی سے ایک بیٹا عمرو اور ثانیہ سے تین بیٹے بکر، خالد، ولید ہوئے، عمر و کا بیٹا سعیدہوا، سعید کی دختر لیلٰی تھی، لیلٰی دختر سلمٰی ہے، یہ سلمی عمرو کے بیٹے سعید کی نواسی عمرو کے سوتیلے بھائیوں بکر وخالد و ولید پر حرام ہے یا حلال؟ بینوا توجروا۔
الجواب : سلمی اپنی ماں لیلٰی کے ان سب سوتیلے داداؤں پر ایسے ہی حرام ہے جیسے اس کے سگے دادا عمروپر، وہ ان سب کی بیٹی ہے، اسے ان میں سے کسی کے لیے حلال جاننا نص قطعی واجماع امت کا انکار اور موجب کفر ہے، قال اللہ تعالٰی:
تمھاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں اور بھانجیاں تم پر حرام کی گئی ہیں۔ (ت)
( ۱؎ القرآن الکریم ۴/۲۳)
اللہ تعالٰی بھائی کی بیٹیوں کو حرام فرماتا ہے، اور بھائی عام ہے سگا ہو خواہ سوتیلا، ماں جد اہو خواہ باپ جدا، اور بیٹیاں عام ہیں خواہ بھائی کی اپنی بیٹی ہو یا پوتی یا نواسی یا اس کے بیٹے کی بیٹی، پوتی، نواسی آخرتک، عالمگیریہ میں ہے: