Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
117 - 1581
مسئلہ ۲۱۷: مسئولہ ثناء اللہ صاحب متصل سرائے خام     ۵جمادی الاولٰی ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی لڑکی کانکاح کیا، بعد نکاح کے چھ مہینے کے واسطے سفرکو گیاداماد کو اور اپنی بیٹی کو مع لڑکی کے مکان پر چھوڑگیا، بعد واپس آنے سفر کے دیکھا کہ بیوی منکوحہ اپنی کو حاملہ پایا، بعد تحقیقات کے معلوم ہوا کہ حاملہ داماد سے ہوئی تھی، آیا لڑکی اس کی داماد کے نکاح سے علیحدہ ہوگئی یا نہیں؟ او رطلاق کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اور مہر اس لڑکی کا بذمہ داماد رہا یا نہیں؟ اور زوجہ اس کی بعد وضع حمل کے اس کی رہی یا نہیں؟ اور داماد کے نکاح میں اس کی زوجہ آسکتی ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب :چھ مہینے بلکہ دوسال سے ایک دن کم کے بعد واپس آکر عورت کو حاملہ پانے سے یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ وہ حمل دوسرے کا ہے، اور بدگمانی قطعی حرام ہے، اورتحقیقات اگر بذریعہ شہود یعنی لوگوں نے گواہی دی کہ اس کی زوجہ نے داماد سے زنا کیا تو یہ قریب بہ ناممکن ہے، شہادت کے لیے عدالت درکار ہے، جو یہاں گویا عنقاہے، پھر ثبوت زنا کے لیے چار مرد عادل کامشاہدہ ضرور کہ انھوں نے اپنی آنکھ سے اس کا اندام اس کے بدن میں سرمہ دانی میں سلائی کی طرح دیکھا، یہ کہاں متصور! لوگ محض قرائن وقیاسات پر اڑادیتے ہیں، اس پر اعتبار نہیں اور وہ سب شرعاً اسی اسی کوڑے کے مستحق ہوتے ہیں۔
یعظکم اﷲ ان تعودوالمثلہ ابدا ان کنتم مؤمنین ۱؎۔
اللہ تعالٰی انھیں فاسق فرماتا ہے اور حکم دیتاہے کہ ایمان رکھتے ہو تو پھر ایسی بات زبان سے نہ نکالنا۔
 (۱؎ القرآن الکریم        ۲۴/۱۷)
تحقیقات کا تو یہ حال ہے یہ تو تہمت زنا رکھنے کا حکم تھا، ہاں ثبوت مصاہرت کے لیے دو گواہ بھی کافی ہیں، اگرچہ صرف مس بہ شہوت کی گواہی دیں، اور اگر کوئی گواہ نہ ہو تو عورت اور داماد اپنے حال سے خوب آگاہ ہیں اوران کا رب ان سے زیادہ ان کا حال جانتا ہے، اگر واقعی اس نے بشہوت اس عورت کے بدن کو صرف ہاتھ لگایا تو جب بھی اس کی منکوحہ ہمیشہ کے لیے اس پر حرام ہوگئی، وہ اس کی بیٹی ہوگئی اور ساس تواس کی ماں تھی، اب وہ دونوں ماں بیٹیاں اس پر ابدالآباد تک حرام ہیں۔ کسی طرح کبھی ان سے نکاح نہیں ہوسکتا، اس پر فرض ہے کہ اپنی زوجہ کو چھوڑدے اور اس کا مہر ادا کردے، زوجہ زید  بدستور نکاح میں ہے زنا کے سبب اس کے نکاح میں خلل نہ آیا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۸: ۱۲ جمادی الآؒخر ۱۳۲۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت نے نکاح ثانی کیا، اس کے ایک لڑکی شوہر اول سے ہے، اب اس کا نکاح شوہر ثانی کے بھائی سے کرنا چاہتی ہے جواس لڑکی کا سوتیلا چچا ہے، یہ نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب: ماں کا شوہر ثانی  نہ اپنا باپ  ہے، نہ ا س کا بھائی اپنا چچا نہ سگا نہ سوتیلا، سوتیلا چچا وہ ہے کہ اپنےباپ کا سوتیلا بھائی ہو۔ نہ وہ کہ سوتیلے باپ کا بھائی ہو، یہ نکاح حلال ہے،
قال تعالٰی: واحل لکم ماوراء ذٰلکم ۱؎
 (محرمات کے ما سوا عورتیں تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ القرآن الکریم         ۴ /۲۴)
مسئلہ ۲۱۹:     ۲۰ رجب المرجب ۱۳۲۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس امر میں کہ زید کے پدر ومادر سے خسر او رخوشدامن کو بوجوہ ناروا ناراضی پیدا ہوئی لہذا زید کی زوجہ کو خسر خوشدامن نے طلب کیا، زید اور پدر ومادر زید نے کہا کہ ناراضی فیما بین کی دور ہوجائے تو زوجہ کو بھیجیں گے۔ اس پر بکر کے مکان سے کہ وہاں بتقریب دنیاوی زوجہ زید کی گئی تھی زبردستی جاکے خسر کے بھیجے ہوئے آدمی اور خوشدامن زوجہ کو لے گئے اب جب زید نے چاہا کہ میری زوجہ میرے گھر آئے تو خسر اور خوشدامن مجیب ہوئے کہ زید نے تو طلاق دے دی اور جھوٹے گواہ بھی بنائے، اور خود ارادہ دوسرے شخص سے نکاح کا خسر وخوشدامن رکھتے ہیں، پس یہ نکاح ثانی بدون طلاق زوج اول کے جائز ہوگا یا ناجائز اوروطی زوج ثانی سے حرام ہوگی یا حلال؟ بینوا تو جروا۔
الجواب: جبکہ صورت واقعہ یہ ہے تو نکاح ثانی محض باطل ہوگا اور زوج ثانی سے وطی نری زنا ہوگی، جتنے لوگ اس سخت شدید کبیرہ عظیمہ میں اس حال سے آگاہ ہو کر شریک ہوں گے سب سخت گنہ گار ومستحق عذاب نارہوں گے اور ان میں پہلے عذاب دوزخ کا استحقاق جھوٹے گواہوں کو ہو گا جن کی ناپاک گواہی ایسے ناپاک فاحشہ بات کی تمہید ہوگی، 

رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس منا من خبب امرأۃ علی زوجھا ۲؎۔ رواہ الامام احمد وابن حبان والبزار والحاکم وقال صحیح واقروہ عن بریرۃ وابوداؤد والحاکم بسند صحیح عن ابی ھریرۃ وابویعلی بسند جید والطبرانی فی الاوسط عن ابن عباس و فی الصغیر ونحوہ فی الاوسط عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جو کسی عورت کو اس کے شوہر سے بگاڑدے وہ ہمارے گروہ سے نہیں (اسے امام احمد، ابن حبان، بزار اور حاکم نے صحیح کہہ کر اور دوسرے نے ثابت مان کر، حضرت بریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ابوداؤد اور حاکم بسند صحیح ابوہریرہ سے ابو یعلٰی نے سند جید سے اور طبرانی نے اوسط میں ابن عباس سے اور طبرانی صغیر میں اوسط کی مثل عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
 (۲؂سنن ابی داؤد    کتاب الطلاق    باب فیمن خبب امرأۃ علی زوجہا     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱/۲۹۶)
جب کسی عورت کو شوہر سے بگاڑدینے پر یہ حکم ہے تو معاذاللہ عورت کو شوہر سے توڑ کر دوسرے کے نکاح میں کرادینا کیسا اشد ظلم ہے، 

حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
عدلت شھادۃ الزور بالاشراک باﷲ، عدلت شھادۃ الزور بالاشراک باﷲ، عدلت شھادۃ الزور بالاشراک باﷲ، ثم قرأ فاجتنبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور ۱؎۔ رواہ ابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ عن خزیم بن فاتک رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جھوٹی گواہی بت پوجنے کے برابر کی گئی، جھوٹی گواہی بت پوجنے کے برابر کی گئی، جھوٹی گواہی بت پوجنے کے برابر کی گئی، (تین بار اسے فرماکر) حضور نے یہ آیت اس کی سند میں پڑھی کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے بچو ناپاکی سے کہ وہ بت ہیں اور بچو جھوٹی گواہی سے۔ (اس کو ابوداؤد، ترمذی، اور ابن ماجہ نے خزیم بن فاتک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد    با ب فی شہادۃ الزور    آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/۵۱۔ ۱۵۰)

(سنن ابن ماجہ         با ب فی شہادۃ الزور   ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۷۳)
Flag Counter