Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
116 - 1581
مسئلہ ۲۱۳: ۸ ربیع الآخر ۱۳۱۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کے شوہر نے طلاق بائن دی، درمیان عدت کے ہندہ نے نکاح ثانی کرلیا، بعد نکاح کم وبیش ایک سال کے، شوہر ثانی ہندہ کا، باہر چلاگیا اور کچھ خبر گیراں نہ ہوا، اب کچھ کم ایک سال کے بعد بتحریک ورثہ ہندہ ونیز بخواہش خود ہندہ کو اپنے پاس بلانا چاہتا ہے لیکن اب ہندہ و ورثہ ہندہ اس کے یہاں بھیجنے پر رضامند نہیں اور نیز یہ بھی کہتے ہیں کہ نکاح درمیان عدت کے جائز نہیں تھا اب نکاح ثالث کسی شخص دیگر سے کرنا چاہتی ہے آیا یہ نکاح بلاطلاق جائز ہے یا نہیں؟ بینو ا توجروا
الجواب:اگر اس دوسرے شخص کو وقت نکاح معلوم تھا کہ عورت ہنوزعدت میں ہے یہ جان کر اس سے نکاح کرلیا جب تو وہ زنائے محض تھا عدت کی کچھ حاجت نہیں نہ طلاق کی ضرورت بلکہ ابھی جس سے چاہے نکاح کرے جبکہ شوہر اول کی عدت گزر چکی ہو اور اگر اسے عورت کا عدت میں ہونا معلوم نہ تھا توطلاق کی اب حاجت نہیں مگر متارکہ ضرو ر ہے یعنی شوہرکا عورت سے کہنا کہ میں نے تجھے چھوڑدیا یا عورت کا اس سے کہہ دینا کہ میں تجھ سے جداہوگئی، اس کے بعد عدت بیٹھے عدت کے بعد جس سے چاہے نکاح کرے۔
درمختارمیں ہے:
لاعدۃ لوتزوج امرأۃ الغیرعا لما بذٰلک ودخل بھا وبہ یفتی ۱؎۔
دوسرے کی منکوحہ عورت سے یہ جانتے ہوئے کہ منکوحہ ہے، نکاح اور دخول کرنے سے عدت نہ ہوگی، اسی پر فتوی ہے (ت)
 (۱؎ درمختار    باب العدۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۲۵۹)
ردالمحتارمیں ہے:
اما نکاح منکوحۃ الغیر ومعتدتہ فالدخول فیہ لایوجب العدۃ ان علم انھا للغیر ۱؎۔
غیرمنکوحہ اور معتدہ کو جانتے ہوئے بھی اس سے نکاح اور دخول کی وجہ سے عدت واجب نہ ہوگی۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار        باب المہر    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۵۰)
اسی میں ہے:
فسخ ھذا النکاح یصح من کل منھما بمحضر الاخراتفاقا والفرق بین المتارکۃ والفسخ بعید کذافی البحر ۲؎۔
ان مرد وعورت میں سے ہر ایک کی طر ف سے اس نکاح کا فسخ باتفاق دوسرے کی موجودگی میں متارکہ سے صحیح ہوجاتاہے کیونکہ متارکہ اور فسخ میں یہاں فرق بعید ہے، جیسا کہ بحرمیں ہے۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار   باب المہر    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۳۵۲)
اسی میں علامہ خیرالدین رملی سے ہے :
الحق عدم الفرق ولذاجزم بہ المقدسی ۳؎
 (فرق نہ ہونا ہی حق ہے، اسی لیے مقدسی نے اس پر جزم کیاہے۔ ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
 ( ۳؎ ردالمحتار   باب المہر  داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۵۲)
مسئلہ ۲۱۴: از شہر کہنہ لاڈلے میاں صاحب

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی حقیقی بہن کی رضاعی بہن زید کے نکاح میں آسکتی ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب: حقیقی بہن کی رضاعی بہن ہونا خود یہ رشتہ موجب حرمت نہیں جبکہ اس کے ساتھ کوئی مروجہ حرمت نہ پائی جائے، مثلا اگر حقیقی بہن کی رضاعی بہن یوں ہے کہ اس  نے اس کی ماں یا باپ کا دودھ پیا ہے تووہ خود اس کی بھی رضاعی بہن ہوئی اور اس پر حرام ہے، اور اگریوں ہے کہ زید کی بہن نے اس لڑکی کی ماں کا دودھ پیایا دونوں نے تیسری عورت کا دودھ پیا جس سے زیدکوکوئی علاقہ نہیں تو اس صورت میں وہ لڑکی زید پر حرام نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۵: از مقام بیادرہ ایجنٹی بھوپال ملک مالوہ مرسلہ محمد عاشق صاحب اہلکار نظامت ۲۹ ربیع الاول ۱۳۱۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سائلہ اپنی حیات میں بخواہش اولاد چاہتی ہے کہ میرا شوہر میری ہمشیرہ حقیقی بیوہ کے ساتھ اپنا عقد کرلیوے اور شوہر اس کا رضامند ہے جو کچھ کہ حکم شرع شریف میں سے ہو، آگہی بخشی جائے۔
الجواب :جب زوجہ مرجائے یا اسے طلاق دے اورعدت گزرجائے تواس وقت زوجہ کی بہن سے نکاح جائزہوتا ہے بغیر اس کے حرام قطعی اور مثل زنا ہے، اللہ تعالٰی فرماتاہے:
وان تجمعوا بین الاختین ۱؎
(حرام ہے جمع کرنا دو بہنوں کو۔ ت)
 (۱؎ القرآن الکریم                        ۴/۲۳)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فلاتعرضن علیّ بناتکن ولااخواتکن ۲؎۔
اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو (اے میری ازواج !) مجھ پر مت پیش کرو۔ (ت) واللہ تعالٰی اعلم
 (۲؎ مسند احمد بن حنبل    خطب علی رضی اللہ عنہ ومواعظہ    دارالفکر بیروت    ۶/۳۰۹)
مسئلہ ۲۱۶:     ۱۷ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کانکاح سالی کی لڑکی سے بعد فوت بی بی کے درست ہے یا نہیں؟ بینوا تو جرو
الجواب: زوجہ کا انتقال ہوتے ہی فوراً اس کی بھتیجی بھانجی سے نکاح جائز ہے،
لعدم الجمع نکاحا ولاعدۃ اذلاعدۃ علی الرجل کما حققہ فی العقود الدریۃ۔
بوجہ عدم اجتماع کے نکاح اور عدت میں کیونکر مردپر عدت نہیں ہوتی جیساکہ عقود الدریہ میں تحقیق فرمائی۔ (ت) واللہ تعالٰی اعلم
Flag Counter