اورا س کے ساتھ کھانے پینے سے بھی احتراز کرنا چاہئے، سنن ابی داؤد وجامع الترمذی میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لما وقعت بنو اسرائیل فی المعاصی نھتھم علماؤھم فلم ینتھوا فجالسو ھم فی مجالسھم واٰکلوھم وشاربو ھم فضرب اﷲ قلوب بعضھم ببعض فلعنھم علی لسان داؤد وعیسٰی بن مریم ۱؎۔ الحدیث۔
جب بنی اسرائیل گناہوں میں پڑے ان کے مولوی مانع آئے، انھوں نے نہ مانا، اب وہ مولوی ان کے پاس بیٹھے، ساتھ کھانا کھایا پانی پیا تو اﷲ تعالٰی نے ان میں ایک کے دل میں دوسرے پر مارے اور ان سب کو ملعون کردیا داؤد اور عیسٰی بن مریم علیہم الصلوٰۃوالسلام کی زبا ن پر۔ (الحدیث)
زید کا ساتھ دینے والے اگرخاص اس گناہ میں اس کے ممدومعاون ہوئے جب تو ظاہر کہ وہ بھی زید کے مثل بلکہ اس سے بدتر ہیں،
قال اللہ تعالٰی: لاتعاونوا علی الاثم والعدوان ۲؎
(گناہ اور دشمنی پر ایک دوسرے سے تعاون نہ کرو۔ ت)
(۲؎ القرآن ۵/۲)
حدیث میں ہے:
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد خرج من الاسلام ۳؎۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر والضیاء فی المختارۃ عن اوس بن شرحبیل رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جو کسی ظالم کے ساتھ مدد دینے کو چلے اور وہ جانتاہو کہ یہ ظالم ہے وہ اسلام سے نکل جائے (اس کو طبرانی نے کبیرمیں اور ضیاء نے مختارہ میں اوس بن شرحبیل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
اور اگر اسی قدر ہوکہ زید سے باوصف اس حرکت کے راضی ہیں جب بھی بدلیل حدیث مذکور بنی اسرائیل شریک گناہ ومستحق توہین وتذلیل ہیں،
حدیث میں ہے:
الذنب شؤم علٰی غیر فاعلہ (الٰی قولہ) وان رضی بہ شارکہ ۴؎۔ رواہ فی مسند الفردوس عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
یعنی گنا ہ کرتا ایک ہے اور اس کا وبال اوروں پر بھی پڑتاہے کہ جو اس پر راضی ہو وہ بھی شریک گناہ ہے، (اس کو مسند فردوس میں انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
(۴؎ الفردوس بما ثور الخطاب حدیث ۳۱۶۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/۲۴۹)
(۲) آج کل عام رافضی منکران ضروریات دین اور باجماع امت کفار مرتدین ہیں کما حققناہ فی فتاوٰنا وفی المقالۃ المسفرۃ عن احکام البدعۃ والمکفرۃ (جیساکہ اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوی میں اور اپنے رسالہ ''المقالۃ المسفرۃ عن احکام البدعۃ المکفرۃ'' میں کردی ہے۔ ت) علاوہ اور کفریات کے دو کفر تو ان کے عالم وجاہل مرد عورت سب کو شامل ہیں، مولٰی علی کرم اللہ وجہہ الکیرم کو انبیاء سابقین علیہم الصلوٰۃ والتسلیم سے افضل ماننا، اور جوکسی غیر نبی کو کسی نبی سے افضل کہے کافر ہے، اور قرآن عظیم سے معاذاللہ صحابہ کرام وغیرہم اہلسنت کا چند پارے یا سورتیں آیتیں گھٹانا کچھ الفاظ تغیر و تبدیل کردینا اور جو قرآن عظیم کے ایک حرف ایک نقطے کی نسبت ایسا گما ن کرے کافر ہے،
قال اللہ تعالٰی: انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون ۱؎
(ہم نے ذکر نازل کیا اورہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۱۵/۹)
ان کے مجتہد حال نے یہ عقائد باطلہ اور دیگر عقیدہ کفریہ صاف صاف لکھ کر اپنی مہر کردی ان میں جو کوئی خود ان عقائد کا معتقد نہ بھی ہو تو مجتہد کو کافر ہر گز نہ کہے گا بلکہ جناب قبلہ وکعبہ ہی مانے گا اور جو منکر ضروریات دین کو معظم دینی جانے یا کافر ہی نہ کہے خود کافر ہے،
بزازیہ ودرمختار وغیرہما میں ہے:
من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۲؎
(جس نے اس کے کفر اور عذاب میں شک کیا وہ کافر ہے۔ ت)
(۲؎ درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/۵۶)
لہذا جز م کیا جاتا ہے کہ آج کل رافضیوں میں کوئی مسلمان ملنا ایسا ہی مشکل ہے جیسا کوّوں میں سپید رنگ والا، ایسوں کے ساتھ مناکحت تو حرام قطعی وزنائے خالص ہے، جو اپنی بہن بیٹی ان کو دے دیوث ہے، اس عقد باطل کے ذریعہ سے جو نام اس کی بہن بیٹی کو ملنے والے ہیں ان میں ہلکے نام یہ ہیں: زانیہ، فاجر، قحبہ، فاحشہ، روسی، رنڈی، بدکار، جواسے پسند کرتا ہو اس کبیرہ فاحشہ پر اقدام کرے ورنہ اللہ عزوجل کے غضب سے ڈرے، اور اگر بالفرض کوئی رافضی ایسا ملے جسے مسلمان کہہ سکیں تو حضرات شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہما پر صرف تبرا بھی فقہائے کرام کے نزدیک مطلقا کفر ہے، کما نص علیہ فی الخلاصۃ و الفتح والدر وغیرہا من الاسفار الغر (جیساکہ خلاصہ، فتح، در وغیرہا مشہور کتب میں اس پر تصریح ہے۔ ت) تو فقہاء کے طور پر ہر تبرائی کے ساتھ مناکحت میں وہی احکام ہوں گے اور بغرض غلط اس سے بھی محفوظ ملے تو آخر گمراہ بددین ہونے میں شبہ نہیں اور ایسے کو بیٹی دینا شرعا گناہ وممنوع ہے۔
کما بیناہ فی رسالۃ مفردۃ فی ھذا الباب سمینا ھاازالۃ العاربحجر الکرائم عن کلاب النار۔
جیساکہ ہم نے اس کو علیحدہ ایک رسالہ میں بیان کیا ہے جو اس موضوع سے متعلق ہے جس کا نام ہم نے ''ازالۃ العار بحجرالکرائم عن کلاب النار'' رکھا ہے۔ (ت)
ائمہ معتمدین سلف صالحین سے ہر گز یہ امر ثابت نہیں اوراگر نادراً شاہد کہیں وقوع ہوا ہو تواس کا منشا اس کے رفض پر اطلاع نہ پانا اور رافضی کے دین میں تقیہ ہونا وامثال ذٰلک من الاعذار (اوراس قسم کےدیگر عذر۔ ت) ہوگا اس وقت اور پہلے کے روافض میں اتنا فرق بھی ہے کہ اول اتنی آزادی نہ تھی عام طور پر انکار ضروریات دین کی جرأت وتمادی نہ تھی رافضی تواب پیدا ہوئے زنا کاری وحرام خواری توا ن سے بھی ہزاروں برس پہلے رائج ہے، کیا علمائے دین نے اس طرف کچھ توجہ نہ فرمائی یا اس وقت کے زناواکل حرام سے اس وقت کے زنا وحرام کو کچھ فرق ہے، حاشا علمائے دیندار ہر قرن وطبقہ وزمانہ میں منع فرماتے آئے، ماننا نہ ماننا عوام کا فعل ہے، اور ہدایت کرنا نہ کرنا اللہ عزوجل کے اختیار، یہی حال گمراہوں سے میل جول کا ہے کہ علمائے اہل حق صحابہ وتابعین وائمہ دین رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین قرنا فقرنا منع فرماتے آئے، رسائل رد ند وہ خصوصا فتوائے جدیدہ فقیر مسمی بہ ''فتاوٰی الحرمین برجف ندوۃ المین'' ملاحظہ ہوں۔ پھر اگر عوام نہ مانیں یا دنیا پر ست مولوی ضلالت کی طرف بلائیں تو اس کا کیا علاج اور علمائے اہل حق پر کیا الزام، والی اﷲ المشتکی من ضعف الاسلام (لوگوں کے ضعف اسلام کی شکایت اللہ تعالٰی ہی کے دربار میں ہے۔ ت) ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔ واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔