Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
114 - 1581
مسئلہ ۲۱۰: از عثمان پور ڈاک خانہ کوٹھی ضلع بارہ بنکی مرسلہ محمد حسن یار خان صاحب ۲۷ ربیع الاول شریف ۱۳۱۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی سنی المذہب کو اپنی دختر شیعی تبرائی وقاذف حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے عقدنکاح میں دینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر ناجائز ہے اور کوئی سنی باوجود ناجائز سمجھنے کے بھی ایسا کرے تواس کی بابت شرعا کیاحکم ہے؟ جواب مختصر ومدلل مرحمت فرمایا جائے،بینوا تو جروا
الجواب :معاذاللہ رافضی قاذف باجماع مسلمین کافر ملعون ہے یہاں تک کہ جو اسے کافر نہ جانے خود کافر ہے، ردالمحتار میں ہے:
لاشک فی تکفیر من قذف السیدۃ عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا الخ ۱؎۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پر تہمت لگانے والے کے کفرمیں کوئی شک نہیں الخ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار        باب المرتد        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/۲۹۴)
اسی کے باب البغاوۃ میں ہے:
لان ذلک تکذیب صریح القراٰن ۲؎۔
کیونکہ یہ صریح قرآن کی تکذیب ہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار         باب البغاۃ        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/۳۱۰)
جو شخص اپنی دختر یا خواہر ایسے کے نکاح میں دے وہ یقینا دیوث ہے۔ وہ اپنی بہن بیٹی کو صریح زنا کے لیے دینے والاہے، حدیث ارشاد فرماتی ہے کہ اس پر جنت حرام ہے اللہ تعالٰی روز قیامت اس پر نظر رحمت نہ فرمائےگا۔
احمد والنسائی والحاکم عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما بسند حسن عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، ثٰلثۃ لاینظر اﷲ الیھم یوم القیامۃ العاق لوالدیہ والمرأۃ المترجلۃ المتشبھۃ بالرجال والدیوث ۳؎۔
 (احمد،نسائی اور حاکم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے سند حسن کے ساتھ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے روایت کیا۔ ت) تین شخصوں پر اللہ تعالٰی روزقیامت نظر نہ کرے گا ماں باپ کو آزار دینے والا اور مردانی عورت یعنی مردوں کی وضع بنانے والی  اور دیوث۔
 (۳؎ مسند احمد بن حنبل    مروی از مسند عبداللہ بن عمر    دارالفکر بیروت        ۲/۱۳۴)

(سنن النسائی        کتاب الزکوٰۃ    نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ۱/۳۵۷)
وروی الحاکم والبیھقی فی الشعب بسند صحیح عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ثلثۃ لایدخلون الجنۃ العاق لوالدیہ والدیوث ورجلۃ النساء ۱؎۔
 (حاکم اور بیہقی نے شعب الایمان میں بسند صحیح روایت کیا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا۔ ت) تین شخص جنت میں نہ جائیں گے ماں باپ کانافرمان اوردیوث اور مردانی  وضع کی عورت۔
 (۱؎ المستدرک للحاکم    کتاب الایمان ثلاثۃ لایدخلون الجنۃ الخ    دارالفکر بیروت    ۱/۷۲)

(شعب الایمان    باب فی الغیرۃ والمذاء الخ        دارالکتب العلمیہ بیروت    ۷/۴۱۲)
الطبرانی فی الکبیر بسند حسن عن عمار بن یاسر رضی اﷲ تعالٰی عنہما، ثلثہ لایدخلون الجنۃ ابداالدیوث والرجلۃ من النساء ومدمن الخمر ۲؎۔
 (طبرانی نے کبیر میں سند حسن کے ساتھ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ ت) تین شخص جنت میں کبھی نہ جائیں گے: دیوث اور مردانی وضع کی عورت اور شرابی۔والعیاذباللہ تعالٰی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ مجمع الزوائد        باب فیمن لایرضی لاھلہ بالخبث    دارالکتاب بیروت    ۴/۳۲۷)
مسئلہ ۲۱۱ تا ۲۱۲: از موضع مذکور بوساطت نواب نثار احمد خاں صاحب بریلوی ۱۷ ربیع الاول شریف ۱۳۱۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:

(۱) زید باوجود علم ہونے کے حقیقی دو بہنوں کو اپنے عقدمیں لایا اور دونوں کے ساتھ اوقات بسر کرتا ہے، اہل اسلام اس حرکت سے مانع ہوئے لیکن زید نے کچھ خیال نہ کیا، نہ دونوں میں سے کسی کوجدا کیا، مسلمانوں نے مجبور ہوکر زید سے  اجتناب اختیار کیا مگر بعض اشخاص نے زید کا ساتھ دیا تو ازروئے شرع شریف مسلمانوں کا یہ اجتناب حق ہے یا نہیں؟ اور زید و نیز اس کے ہمراہیوں کے یہاں خوردو نوش اور سلام علیک جائز ہے یا نہیں؟ اور زید پر کون سی عورت جائز ہے اولٰی یا ثانیہ؟ یادونوں ناجائز ہیں؟ جواب مدلل مرحمت فرمائیے، بینوا تو جروا۔

(۲) سنی کو اپنی دختر شیعی کے نکاح میں دینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر ناجائز ہے کوئی سنی باوجود ناجائز سمجھنے کے ایسا کرے تو اس بابت شرعا کیا حکم ہے؟ اور جو سنی وشیعہ کی قرابت زمانہ سلف سے اس وقت تک جاری ہے اس کا کیا باعث ہے آیا اس وقت  میں علمائے دین نے اس طرف کچھ توجہ نہیں فرمائی یا اس وقت کے شیعہ سے اس وقت کے شیعہ میں کچھ فرق ہے؟ اس کی وجہ مدلل زیب قلم فرمایئے کہ سائل کی خلش ومعترضین کا اعتراض دفع ہو جوا ب مختصر مدلل مرحمت فرمایا جائے، بینواتوجروا۔
الجواب

(۱)اولٰی وثانیہ کہنے سے واضح ہوا کہ دونوں سے معاًنکاح نہ کیا تھا اس صورت میں ثانیہ سے نکاح حرام ہوا لقولہ تعالٰی:
وان تجمعوا بین الاختین ۱؎
 (۱؎ القرآن الکریم                            ۴/۲۳)
اور جب تک اسے ہاتھ نہ لگایا تھا زوجہ حلال تھی اسے ہاتھ لگاتے ہی وہ بھی حرام ہوگئی، اب جب تک اس دوسری کو چھوڑ کر اس کی عدت نہ گزرجائے زوجہ کو بھی ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں، زید پر فرض ہے کہ اسے ترک کردے، جب اس کی عدت بعد متارکہ گزرجائے گی اس وقت زوجہ اس کے لیے حلال ہوگی۔
فی ردالمحتار الثانی باطل ولہ وطء الاولٰی الاان یطأ الثانیۃ فتحرم الاولٰی الٰی انقضاء عدۃ الثانیۃ کما لووطی اخت امرأ تہ بشبھۃ حیث تحرم امرأتہ مالم تنقض عدۃ ذات الشبھۃ عن البحر ۲؎۔
ردالمحتارمیں ہے: دوسرا نکاح باطل ہے اس کی پہلی سے وطی جائز ہے لیکن اگر دوسری سے وطی کرلی تو پہلی دوسری کی عدت گزر جانے تک حرام ہوگی جیساکہ اگر شبہ کے طور پر بیوی کی بہن سے وطی ہوجائے توبیوی اس وقت تک حرام رہتی ہے جب تک شبہ والی کی عدت نہ گزرجائے حلبی بحوالہ بحر۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار        باب المحرمات        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۲۸۶)
مسلمانوں کا یہ اجتناب حق ہے۔ قال اللہ تعالٰی:
فلاتقعد بعد  الذکرٰی مع القوم الظالمین ۳؎۔
ظالموں کے ساتھ یاد آنے پر مت بیٹھو۔ (ت)
(۳؎ القرآن الکریم                            ۶/۶۸)
زید سے، جب تک تائب نہ ہو، ابتدابسلام ممنوع ہے کہ وہ فاسق معلن ہے اور گناہ کبیرہ پر مصر ہے۔
فی الدرالمختار یکرہ السلام علی الفاسق لومعلنا ۴؎الخ
درمختارمیں ہے کہ فاسق کوسلام کرنا مکروہ ہے بشرطیکہ وہ اعلانیہ فسق کرتا ہو الخ،
 (۴؎ درمختار        فصل البیع            مطبع مجتبائی دہلی        ۲/۲۵۱)
وفی ردالمحتار عن فصول العلامی لایسلم علی الشیخ المازح الکذاب واللاغی ولاعلی من یسب الناس اوینظر وجوہ الاجنبیات ولاعلی الفاسق المعلن ولاعلی من یغنی اویطیر الحمام مالم تعرف توبتھم ۵؎۔
اور ردالمحتار میں ہے فصول علامی سے مروی ہے کہ جھوٹے اور مذاق کرنے والے بوڑھے، لغویات بولنے والے، لوگوں کو گالی گلوچ کرنے والے، اجنبی عورتوں کو دیکھنے والے، اعلانیہ فسق کرنے والے، گانے والے اور کبوتر بازی کرنیوالے کو اس وقت تک سلام نہ کیا جائے جب تک اس کی توبہ کا علم نہ ہوجائے۔ (ت)
 (۵؎ ردالمحتار         کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/۲۶۷)
Flag Counter