| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح) |
مسئلہ ۲۰۵ تا ۲۰۸: از بنگالہ ضلع سلہٹ ڈاک خانہ کمال گنج موضع پھول ٹولی مرسلہ مولوی عبدالغنی صاحب ۱۹ شوال ۱۳۱۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں: (۱) سید سید شیخ شیخ پٹھان پٹھان، آیا ان قوموں میں بڑے بھائی کی لڑکی اور چھوٹے بھائی کا لڑکا اس صورت میں نکاح جائز ہے یا نہیں؟ (۲) زید وعمر و حقیقی چچازاد بھائی ہیں اب عمرو کی دختر کے ساتھ نکاح کرناچاہتا ہے جائزہے یا نہیں؟ اور غیر حقیقی میں کیا حکم ہے؟ (۳) آپس میں بھائی اور بہنوں سوائے نسبی اور رضاعی کے نکاح جائز ہے یا نہیں؟ (۴) زید کا دادا غیر حقیقی ہے اب زید اس غیر حقیقی دادا کی دختر سے نکاح کرنا چاہتاہے جائز ہے یا نہیں؟ بینو اتوجروا
الجواب : ان سب صورتوں میں یعنی اپنے حقیقی چچاکی بیٹی یا چچا زاد بھائی کی بیٹی یاغیر حقیقی دادا کی اگرچہ وہ حقیقی داداکا حقیقی بھائی ہو، اور رشتے کی بہن جو ماں میں ایک نہ باپ میں شریک نہ باہم علاقہ رضاعت جیسے ماموں خالہ پھوپھی کی بیٹیاں یہ سب عورتیں شرعاً حلال ہیں جبکہ کوئی مانع نکاح مثل رضاعت ومصاہرت قائم نہ ہو۔
قال اﷲ تعالٰی واحل لکم ماوراء ذلکم ۲؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: محرمات کے علاوہ عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۴/۲۴)
نقایہ میں ہے:
حرم اصلہ وفرعہ وفرع اصلہ القریب وصلبیۃ اصلہ للبعید ۱؎۔
مرد پر اس کے اصول وفروع اور اصل قریب (ماں باپ)کے فروع (بہن بھائی) اور اصل بعید (دادا اور اوپر والے) باپوں کے صلبی رشتے حرام ہیں۔ (ت)
( ۱؎ مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایہ کتاب النکاح نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۵۲)
درمختارمیں ہے:
حلال بنت عمہ وعمتہ وخالہ وخالتہ لقولہ تعالٰی واحل لکم ماوراء ذٰلکم ۲؎ اھ
چچا، پھوپھی، ماموں اور خالہ کی لڑکیاں حلال ہیں کیونکہ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ محرمات کے ماسوا سب عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں،
(۲؎ درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۸۷)
قلت ویدخل فیھم اعمام ابیہ وجدہ وان علا وامہ وجدتہ وان علت وعماتھم واخوالھم وخالاتھم کمادخلن فی قولہ تعالٰی وعمتکم وخالتکم کمافی التبیین۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
قلت (میں کہتاہوں۔ ت) ان میں ماں، باپ، دادا اور دادی کے چچوں اور ان کے ماموں، خالاؤں، اور پھوپھیوں کی بیٹیاں بھی حلال ہونے میں داخل ہیں، جیساکہ تبیین میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۰۹: مرسلہ مولوی عبدالحمیدصاحب ۶ محرم ۱۳۱۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدکی دو بہنیں اور ایک بیٹی ہے اور ان کا نکاح بھی ہوگیا ہے، اب آیا زید کی بیٹی کو زید کی دونوں بہنوں کے شوہر سے پردہ کرنا واجب ہے یا نہیں؟ اور بعد مرنے کے ایک ہمشیرہ کے اس کے شوہر سے زید کی لڑکی کانکاح ہوسکتا ہے یا نہیں؟ اور اس سے بھی پردہ اس حالت میں ہے یا نہیں؟ اور جس بہن کا شوہر زندہ ہے اس سے بھی نکاح درست ہے یا نہیں؟ بینوا بالدلیل توجروا باجرالجزیل۔
الجواب :پھوپھی یا خالہ یا بہن اور اسی طرح جتنی عورت کی محارم ہیں ان کی زندگی میں ان کے شوہروں سے عورت کا نکاح اگرچہ حرام۔
واصلہ قولہ عزوجل وان تجمعوا بین الاختین ۳؎۔
اور اس کا اصل ___ اللہ تعالٰی کا یہ ارشاد ''حرام ہے دو بہنوں کو جمع کرنا''
(۳؎ القرآن الکریم ۴/۲۳)
وفی الحدیث لاتنکح المرأۃ علی عمتھا ولاعلی خالتھا ۱؎۔
اور حدیث میں ہے کہ پھوپھی اورخالہ کے ہوتے ہوئے ان کی بھتیجی اور بھانجی سے نکاح نہ کیا جائے۔ (ت)
(۱؎ صحیح مسلم باب تحریم الجمع بین المرأۃ وعمتھا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۵۳) (صحیح بخاری باب لاتنکح المرأۃ علی عمتھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۷۶۶)
مگر وہ عورت کے محارم نہیں ہوجاتے کہ ان سے نکاح صرف اس حالت تک حرام جب تک اس کی پھوپھی یا خالہ یا بہن یاکوئی محرم عورت ان کے نکاح میں ہے بعد افتراق بموت یا طلاق ان کے شوہروں سے عورت کانکاح حلال ہے اور محرم وہ ہوتا ہے جس سے کبھی کسی حال میں نکاح نہ ہوسکے اس کی حرمت ابدیہ ہو جیسے باپ، بیٹا، بھائی، بھتیجا، بھانجا، وغیرہم، اور جو محرم نہیں وہ اجنبی ہے اس سے پردہ کا ویسا ہی حکم ہے جیسے اجنبی سے خواہ فی الحال اس سے نکاح ہوسکتا ہو یا نہیں۔ اگر حرمت فی الحال عدم پردہ کے لیے کافی ہوتو چاہئے کہ زن شوہر کا تمام جہان میں سے کسی سے پردہ نہ ہو کہ جب تک وہ اپنے شوہر کے عقد عصمت میں ہے کسی کو اس سے نکاح روا نہیں ۔
قال اﷲ تعالٰی: والمحصنت من النساء ۲؎
(منکوحہ عورتیں حرام ہیں۔ ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۴/۲۴)
اس طرح جس مردکے نکاح میں چار عورتیں موجود ہوں چاہئے کہ اس سے کسی عورت شوہر دار خواہ بے شوہر کا پردہ نہ ہو کہ جب تک ان چار میں سے کسی سے بذریعہ موت یا طلاق جدائی نہ ہو پانچواں نکاح اسے حلال نہیں، غرض یہ سب ہندی ہوسیں اور جاہلانہ رسمیں ہیں، شرع مطہر میں پھوپھا اور خالو اور بہنوئی اور جیٹھ اور دیور اور چچا، پھوپھی، خالہ، ماموں کے بیٹوں اور راہ چلتے اجنبی سب کا ایک حکم ہے نہ وہ بے تکلف گھر میں آسکتا ہے بخلاف ان کے، ولہذا حدیث میں ہے حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی گئی یا رسول اﷲ ارأیت الحمو یا رسول اللہ! جیٹھ دیور کا حکم ارشاد ہو، فرمایا: الحمو موت ۳؎ یہ تو موت ہیں، والعیاذ باللہ تعالٰی، اس بیان سے تمام مراتب سوال کا جواب منکشف ہوگیا، واللہ تعالٰی اعلم۔
(۳؎ مسنداحمد بن حنبل حدیث عقبہ بن عامر الجہنی رضی اللہ عنہ دارالفکر بیروت ۴/۱۴۹)