Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
112 - 1581
مسئلہ ۲۰۳: ۵ رجب ۱۳۱۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ معاذاللہ ساس سے زنا کے باعث جب منکوحہ حرام ہوجائے تو اس سے پردہ بھی فرض ہوجاتا ہے یا وہ مثل محارم کے ہوجاتی ہے کہ دیکھنا، چھونا، تنہا مکان میں رہنا جائز ہے۔ بینوا توجروا
الجواب: مذہب اصح یہی ہے کہ حرمت مصاہرت اگرچہ معاذاللہ زنا سے ناشی ہوئی ہو عورت کو مثل محارم کے کردیتی ہے تو نظر ومس بہ شہوت تو قطعاً حرام ہوگئے اور بلاشہوت میں حرج نہیں جبکہ اپنے یا عورت کے لیے حدوث شہوت کا اندیشہ نہ ہو۔ بحالت اندیشہ بلاشہوت بھی دیکھنا چھونا حرام ہوگا بلکہ اگر شک بھی ہو کہ شاید مجھے یا عورت کو شہوت پیدا ہو، نہ ہو جب بھی حکم حرمت ہے، تنہا ایک مکان میں جانے کی تواصلا اجازت نہیں کہ یہ خواہی نخواہی مظنہ شہوت ہے خصوصاً منکوحہ میں جو ایک زمانے تک ا س کے نکاح میں رہ چکی اور باہم حجاب وتکلف مرتفع رہاتھا تو عندالانصاف جبکہ منکوحہ سے معاذاللہ حرمت مصاہرت پیداہو اسے مثل اجنبیہ تصور کرنے ہی میں احتیاط ہے وباللہ العصمۃ، درمختارمیں ہے:
ینظر الرجل من محرمہ ھی من لایحل لہ نکاحہا ابدابنسب اوبسبب ولوبزنا، الی الراس والوجہ والصدروالساق والعضدان أمن شہوتہ وشھوتہا وان لم یأمن اوشاھی لایحل النظر والمس، کشف الحقائق لابن سلطان والمجتبی ۱؎ اھ ملتقطا۔
محرمہ وہ عورت ہے جس سے ابدی طورپر نکاح حرام ہو، نسب کی وجہ سے محرمہ ہو یا کسی سبب کی وجہ سے وہ سبب زنا ہی کیوں نہ ہو، شہوت کا خد شہ نہ ہو تو ایسی محرم عورتوں کے سر، چہرہ،سینہ، پنڈلی اور بازو کو دیکھنا مردکے لیے جائز ہے اور اگر مرد یا عورت کو شہوت کا خدشہ ہو یا کوئی ان میں سے حالت شہوت میں ہو تو پھر محرمہ کو چھونا اور دیکھنا جائز نہیں۔ کشف الحقائق ابن سلطان اور مجتبٰی اھ ملتقطا (ت)
 (۱؎ درمختار    فصل فی النظروالمس    مجتبائی دہلی            ۲/۲۴۱)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ ولوبزنا ای ولوکان عدم حل نکاحھالہ بسبب زناہ باصولھا او فروعھا قال الزیلعی وقیل انھاکالاجنبیۃ والاول اصح اعتبارا للحقیقۃ لانھا محرمۃ علیہ علی التابید ۲؎۔
اس کاقول ''اگرچہ زنا سے ہو'' یعنی اس سےنکاح حلال نہ ہونے کی وجہ سے اس کے اصول یا فروع سے زنا ہو، زیلعی نے کہا کہ ایسی عورت کاچھونے اور دیکھنے میں اجنبی عورت جیسا حکم ہے جبکہ پہلا قول اصح ہے کیونکہ اس کے ابدی ہونے کی حقیقت کا اعتبار ہوگا۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار     فصل فی النظروالمس   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/۲۳۵)
اسی میں ہے:
قولہ اوشک معناہ استواء الامرین تاتارخانیہ ۱؎۔
اس کاقول ''اوشک'' اس کا معنٰی یہ ہے کہ شہوت اورعدم شہوت دونوں کا احتمال مساوی ہو۔ تاتارخانیہ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    فصل فی النظر والمس    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/۲۳۵)
درمختار میں ہے:
والخلوۃ بالمحرم مباحۃ الاالاخت رضاعا والصھرۃ الشابۃ ۲؎۔
محرم عورتوں سے خلوت مباح ہے مگر رضاعی بہن اور جوان ساس سے جائز نہیں۔ (ت)
 (۲؎ درمختار   فصل فی النظر والمس    مجتبائی دہلی            ۲/۲۴۱)
ردالمحتار میں ہے:
قال فی القنیۃ وفی استحسان القاضی الصدر الشہید وینبغی للاخ من الرضاع ان لایخلو باختہ من الرضاع لان الغالب  ھنالک الوقوع فی الجماع، اھ، وافادالعلامۃ البیری ان ینبغی معناہ الوجوب ھنا ۳؎ اھ مافی ردالمحتار
قنیہ اور قاضی الصدر الشہید کے استحسان میں ہے کہ رضاعی بھائی کو رضاعی بہن کے ساتھ تخلیہ مناسب نہیں کیونکہ تخلیہ جماع کا موجب ہوتاہے، غالب یہی ہے۔ اھ اور علامہ بیری نے مفید بات کی ہے کہ یہاں ینبغی کا معنی وجوب ہے، ردالمحتار کابیان ختم ہوا،
 (۳؎ ردالمحتار    فصل فی النظر والمس   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/۲۳۶)
قلت فاذاکان الغالب ذلک فی الاخت رضاعا فماظنک فی التی کانت تحتہ زمانا وقد ذاق کل عسیلۃ صاحب، نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔ واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم
قلت (میں کہتا ہوں کہ۔ ت) جب رضاعی بہن کے متعلق غالب امریہ ہے تو اس عورت کے بارے میں کیا خیال ہے جومدت بھر اس کی بیوی رہی ہو اور یہ مرد عورت دونوں ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوتے رہے ہوں، ہم اللہ تعالٰی سے معافی اور عافیت کی دعا کرتے ہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ ۲۰۴: از مارہرہ مطہرہ مدرسہ درگاہ معلی مرسلہ مولوی رحمت اللہ صاحب ۱۷ رجب المرجب ۱۳۱۷ھ

زید نے ہندہ کے ساتھ عرصہ پندرہ برس کا ہوا نکاح کیا، لڑکا بھی پیدا ہوا پھر زید چلاگیا اور اب تک اس کی خبر نہ لی، نہ نان نفقہ دیا،چند بار اس کو واسطے دینے طلاق کے تحریر کیا، جواب نہ دیا، اب ہندہ دوسرا عقد کرنا چاہتی ہے بخیال حالات کہ زمانہ  نامعلوم کیا امر نا مناسب آئندہ پیش آئے، اس وقت بجز ندامت اہل دنیا و الزام شرع کچھ سود نہ ہوگا، پس یہ ازروئے شریعت جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب ك جب تک موت یا طلاق نہ ہو حرام ہے،
قال اﷲ تعالٰی والمحصنت من النساء ۱؎۔
اللہ تعالٰی کاارشاد ہے : شادی شدہ عورتیں۔ (ت)
 ( ۱؎ القرآن الکریم        ۴/۲۴)
چارہ کار نالش ہے ورنہ صبر، ورنہ یہ نکاح خود کیا حرام  نہ ہوگا تووہم آئندہ سے بچنے کے لیے قصداً حرام کاری کے کیا معنی۔ واللہ تعالٰی اعلم
Flag Counter