Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
111 - 1581
شرح وقایہ میں ہے:
وبنات الاخوۃ والاخوات وان سفلت فیحرم جمیع ھؤلاء ۳؎۔
بھتیجیاں اور بھانجیاں نیچے تک سب حرام ہیں۔ (ت)
 (۳؎ شرح وقایہ        المحرمات من النساء    مجتبائی دہلی    ۲/۱۱)
اصلاح میں ہے:
حرم علی المرء اصلہ وفرعہ واختہ وفرعھا وفرع اخیہ ۴؎۔
مرد پر اس کے اصول وفروع اور اس کی بہن اوربھائیوں کی اولاد حرام ہے۔ (ت)
 (۴؎ اصلاح)
درر میں ہے:
واختہ وبنتھا وان سفلت ۵؎۔
بہن اور اس کی بیٹیاں نیچے تک حرام ہیں۔ (ت)
 (۵؎ دررالحکام کتاب النکاح احمدکامل الکائنہ دارالسعادت بیروت۱/۳۰۔ ۳۲۹)
فتح القدیر میں ہے:
تدخل فی بنات الاخ والاخت بناتھن وان سفلن ۶؎۔
بھتیجیوں اور بھانجیوں میں ان کی بیٹیاں بھی نیچے تک داخل ہیں۔ (ت)
 (۶؎ فتح القدیر        فصل فی بیان المحرمات    نوریہ رضویہ سکھر            ۳/۱۱۸)
اختیار شرح مختار وخزانہ المفتین میں ہے:
وبنات الاخ وبنات الاخوات وان سفلن فھن محرمات بنص الکتاب نکاحا و وطأ ودواعیہ علی التابید ۱؎۔
بھتیجیاں اور بھانجیاں نیچے تک محرمات ہیں جن سے نکاح، وطی اور اس کے دواعی کی ابدی حرمت کتاب اللہ کی نص سے ثابت ہے۔ (ت)
 (۱؎ الاختیار لتعلیل الاختیار    فصل فی المحرمات    دارفراس للنشروالتوزیع بیروت    ۳/۸۵)
فتاوٰی قاضی خان وغیرہا میں ہے:
وبنات الاخوات وان سفلن ۲؎۔
بھانجیاں نیچے تک۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی قاضٰی خاں    باب فی المحرمات    نولکشور لکھنو            ۱/۱۶۵)
محیط سرخسی وفتاوی عٰلمگیری میں ہے:
وکذا بنات الاخ والاخت وان سفلن ۳؎۔
یونہی بھتیجیاں اور بھانجیاں نیچے تک۔ (ت)
(۳؎ فتاوی ہندیہ    فی بیان المحرمات    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۲۷۳)
انوار اما م یوسف اردبیلی شافعی میں ہے:
المحرمات علی التابید بالنسب الامھات وان علت والبنات وان سفلت وبنات الاخوۃ والاخوات وان سفلت ۴؎۔
نسبی طورپرابدی محرمات مائیں اوپرتک، بیٹیاں نیچے تک، بھانجیاں اور بھتیجیاں نیچے تک ہیں۔ (ت)
 (۴؎ انوار الاعمال الابرار)
اس جاہل احمق نکاح کرنے والے پر فرض ہے کہ فورا فورا اس اپنی سگی بیٹی سے جدا ہوجائے اور اس اجہل اضل عالم پر الزام کہ از سر نو کلمہ اسلام پڑھے اپنے اس ناپاک ملعون فتوی سے توبہ کرے اپنی عورت سے نکاح از سر نو کرے۔ ''اعلام بقواطع الاسلام'' میں ہے:
ومن ذلک (ای من المکفرات) ان یستحل محرما بالاجماع کالخمر واللواط ولوفی مملوکہ الخ۵؎۔
کافر بنانے والی چیزوں میں سے کسی ایسی چیز کو حلال بنالینا جس کی حرمت پر اجماع ہے مثلا شراب، لواطت خواہ اپنے مملوک سے ہو، الخ (ت)
 (۵؎ الاعلام بقواطع الاسلام    ملحق بسبل النجاۃ    مکتبہ حقیقۃ دارالشفقت استنبول ترکی    ص۳۵۳)
خلاصہ وہندیہ میں ہے:
من اعتقد الحرام حلالااوعلی القلب یکفر ۶؎۔
جو شخص حرام کو حلال یا حلال کو حرام کرنے پر عقیدہ رکھے وہ کافرہے۔ (ت)
 (۶؎ فتاوٰی ہندیہ    احکام المرتدین    نورانی کتب خانہ پشاور        ۲/۲۷۲)
الہٰی! اس زمانہ پر فتن کے ہرفتنے وشر سے تیر ی پناہ، ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
مسئلہ ۲۰۲: ا زنواب گنج ضلع بریلی مکان تحصیلدار ظہور الاسلام صاحب مرسلہ حضرت سیدنور عالم میاں صاحب مارہروی ۵ رجب ۱۳۱۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین وشرع شریف اساطین فرقہ اہل سنت وجماعت متبعین ملت حنفیہ اس باب میں کہ ایک شخص نے اپنی بی بی کی زندگی میں اس کی خواہر حقیقی سے نکاح کیا اوربعد نکاح خواہر زن مگر قبل خلوت صحیحہ یااس سے خلوت صحیحہ کے بعد پہلی بی بی کو طلاق دے دی ان دونوں صورتوں میں یہ نکاح عندالشرع درست وجائز ہوا یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : جب ایک بہن نکاح میں ہو دوسری سے نکاح حرام قطعی ہے۔
قال اﷲ تعالٰی وان تجمعوا بین الاختین ۱؎۔
اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: حرام ہے دونو ں بہنوں کو جمع کرنا۔ (ت)
 ( ۱؎ القرآن الکریم            ۴/۲۳)
تو یہ نکاح ضرور حرام وناجائز ہوا اور پہلی زوجہ کو اس نکاح  فاسد کے بعد پیش از خلوت خواہ بعد خلوت طلاق دے دینا اس حرام کو حلال اس فاسد کوصحیح اس ناجائز کو جائز نہیں کرسکتا۔ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اگر اولاً زوجہ کو طلاق دے اور ہنوز ا س کی عدت نہ گزری ہو کہ ا س کی بہن سے نکاح کرلے تو یہ نکاح حرام ہوگا تویہاں کہ پہلے ا س کی خواہر سے نکاح کرلیا بعد کو طلاق دی کیونکر حلال ہوسکتا ہے۔
درمختارمیں ہے:
حرم الجمع بین المحارم نکاحا وعدۃ ولومن طلاق بائن ۲؎۔
وہ عورتیں جو آپس میں محرم ہوں ان کو نکاح اور عدت خواہ طلاق بائن کی عدت ہو، میں جمع کرنا حرام ہے۔ (ت)
 (۲؎ درمختار    فصل فی المحرمات    مجتبائی دہلی    ۱/۱۸۸)
شخص مذکور پر فرض ہے کہ فوراً فوراً اس دوسری کو چھوڑدے پھر اگر پہلی کی عدت گزرچکی ہے توا سے اختیار ہوگا کہ اس دوسری کو چھوڑکر ابھی معاً اس سے نکاح کرلے ورنہ ااتنا انتظار فرض ہے کہ اس پہلی کی عدت گزرجائے اس کے بعد اس دوسری سے نکاح صحیح بروجہ شرعی کرے۔ واللہ تعالٰی اعلم
Flag Counter