المحرمات علی التابید بالنسب الامھات وان علت والبنات وان سفلت وبنات الاخوۃ والاخوات وان سفلت ۴؎۔
نسبی طورپرابدی محرمات مائیں اوپرتک، بیٹیاں نیچے تک، بھانجیاں اور بھتیجیاں نیچے تک ہیں۔ (ت)
(۴؎ انوار الاعمال الابرار)
اس جاہل احمق نکاح کرنے والے پر فرض ہے کہ فورا فورا اس اپنی سگی بیٹی سے جدا ہوجائے اور اس اجہل اضل عالم پر الزام کہ از سر نو کلمہ اسلام پڑھے اپنے اس ناپاک ملعون فتوی سے توبہ کرے اپنی عورت سے نکاح از سر نو کرے۔ ''اعلام بقواطع الاسلام'' میں ہے:
ومن ذلک (ای من المکفرات) ان یستحل محرما بالاجماع کالخمر واللواط ولوفی مملوکہ الخ۵؎۔
کافر بنانے والی چیزوں میں سے کسی ایسی چیز کو حلال بنالینا جس کی حرمت پر اجماع ہے مثلا شراب، لواطت خواہ اپنے مملوک سے ہو، الخ (ت)
الہٰی! اس زمانہ پر فتن کے ہرفتنے وشر سے تیر ی پناہ، ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
مسئلہ ۲۰۲: ا زنواب گنج ضلع بریلی مکان تحصیلدار ظہور الاسلام صاحب مرسلہ حضرت سیدنور عالم میاں صاحب مارہروی ۵ رجب ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وشرع شریف اساطین فرقہ اہل سنت وجماعت متبعین ملت حنفیہ اس باب میں کہ ایک شخص نے اپنی بی بی کی زندگی میں اس کی خواہر حقیقی سے نکاح کیا اوربعد نکاح خواہر زن مگر قبل خلوت صحیحہ یااس سے خلوت صحیحہ کے بعد پہلی بی بی کو طلاق دے دی ان دونوں صورتوں میں یہ نکاح عندالشرع درست وجائز ہوا یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : جب ایک بہن نکاح میں ہو دوسری سے نکاح حرام قطعی ہے۔
قال اﷲ تعالٰی وان تجمعوا بین الاختین ۱؎۔
اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: حرام ہے دونو ں بہنوں کو جمع کرنا۔ (ت)
( ۱؎ القرآن الکریم ۴/۲۳)
تو یہ نکاح ضرور حرام وناجائز ہوا اور پہلی زوجہ کو اس نکاح فاسد کے بعد پیش از خلوت خواہ بعد خلوت طلاق دے دینا اس حرام کو حلال اس فاسد کوصحیح اس ناجائز کو جائز نہیں کرسکتا۔ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اگر اولاً زوجہ کو طلاق دے اور ہنوز ا س کی عدت نہ گزری ہو کہ ا س کی بہن سے نکاح کرلے تو یہ نکاح حرام ہوگا تویہاں کہ پہلے ا س کی خواہر سے نکاح کرلیا بعد کو طلاق دی کیونکر حلال ہوسکتا ہے۔
درمختارمیں ہے:
حرم الجمع بین المحارم نکاحا وعدۃ ولومن طلاق بائن ۲؎۔
وہ عورتیں جو آپس میں محرم ہوں ان کو نکاح اور عدت خواہ طلاق بائن کی عدت ہو، میں جمع کرنا حرام ہے۔ (ت)
(۲؎ درمختار فصل فی المحرمات مجتبائی دہلی ۱/۱۸۸)
شخص مذکور پر فرض ہے کہ فوراً فوراً اس دوسری کو چھوڑدے پھر اگر پہلی کی عدت گزرچکی ہے توا سے اختیار ہوگا کہ اس دوسری کو چھوڑکر ابھی معاً اس سے نکاح کرلے ورنہ ااتنا انتظار فرض ہے کہ اس پہلی کی عدت گزرجائے اس کے بعد اس دوسری سے نکاح صحیح بروجہ شرعی کرے۔ واللہ تعالٰی اعلم