Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
110 - 1581
مسئلہ ۲۰۰: غرہ جمادی الاولٰی ۱۳۱۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید سنی المذہب ہے اور ہندہ زوجہ شیعی مذہب رکھتی ہے اور باہم کسی طریقہ پر عقد بھی ہوگیاہے ایسی حالت میں شرعاً ہمبستری یعنی مجامعت جائز ہے اور ایسی حالت میں جو اولاد ہوگی وہ نطفہ صحیح ہوگایا نہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب : آج کل کے روافض تبرائی علی العموم کافر مرتد ہیں شاید شاذو نادر ان میں کوئی مسلمان نکل سکےجیسے کوّوں میں سپید رنگ کا کوّا، ایسی عورت سے نکاح محض باطل ہے اور قربت صریح زنا، اور اولاد یقینا ولدالزنا، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۱: از کلکتہ سند ریاپٹی ۱۰۹ متصل مسجد ناخدا دکان کتب شیخ فخرالدین مرسلہ نظیر حسن صاحب ۲۳ جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ھ

بعالی خدمت جناب مولانا مولوی احمد رضاخان صاحب دام افضالہ پس از سلام مسنون الاسلام آن کہ زید نے اپنی سگی یعنی حقیقی بہن کی لڑکی کی لڑکی سے بحکم ایک عالم عقد کیا یہ ازروئے شرع شریف کے عندالاحناف جائز ہے یا ناجائز ہے؟ مفصل تحریر فرمائیے۔ بینو اتوجروا
الجواب : عقد مذکور زنائے محض ہے حرام قطعی ہے سخت عظیم شدید گناہ کبیرہ ہے، نہ فقط حنفیہ بلکہ شافعیہ مالکیہ حنبلیہ تمام امت مرحومہ کے اجماع سے حرام ہے نص قرآن عظیم سے حرام ہے، قال اﷲ تعالٰی (اللہ تعالٰی نے فرمایا):
حرمت علیکم امھاتکم وبنتکم واخواتکم وعمٰتکم وخالتکم وبنت الاخ وبنت الاخت ۱؎۔
تم پر تمھاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، اور بھانجیاں حرام کی گئی ہیں۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم                        ۴/۲۳)
اس آیہ کریمہ میں رب عزوجل نے بنات کا لفظ تین جگہ ارشاد فرمایا کہ حرام کی گئیں تم پر تمھاری بیٹیاں، بھائی کی بیٹیاں، بہن کی بیٹیاں، اگربنات یعنی بیٹیاں پوتی نواسی کوبھی شامل تو ضرور بھائی بہن کی پوتی، نواسی بھی اسی حکم میں داخل، اور اگر شامل نہیں تو خوداپنی پوتی نواسی بھی حکم آیت میں داخل نہیں تواس جاہل بیباک کے طورپر وہ حلال ٹھہرے گی،
لقولہٖ تعالٰی: واحل لکم ماوراء ذٰلکم ۲؎
 (تمھارے لیے ان کے ماسوا حلال قرار دی گئی ہیں، ت)
 (۲؎ القرآن الکریم                        ۴/۲۴)
لاجرم کتب تفسیر میں اسی آیت کریمہ سے بھائی بہن کی پوتی  نواسی کا حرام ابدی ہونا ثابت فرمایا اور کتب فقہ میں انھیں بھتیجی بھانجی میں داخل مان کر محارم ابدیہ میں گنایا، 

معالم التنزیل میں ہے:
یدخل فیھن بنات اولادالاخ والاخت وان سفلن ۳؎۔
ان محرمات ابدیہ میں بھائی اور بہن کی اولاد کی بیٹیاں خواہ نیچے تک ہوں ، داخل ہیں۔(ت)
 (۳؎ معالم التنزیل    حرمت علیکم امہتکم الخ کے تحت    مصطفی البابی مصر    ۱/۵۰۱)
تفسیر کبیرمیں ہے:
النوع الثانی من المحرمات البنات کل انثی یرجع نسبھا الیک بالولادۃ بدرجۃ بدرجۃ اوبدرجات باناث اوبذکر فھی بنتک النوع السادس والسابع بنات الاخ وبنات الاخت والقول فی بنات الاخ وبنات الاخت کالقول فی بنات الصلب فھذہ الاقسام السبعۃ محرمۃ فی نص الکتاب بالانساب والارحام ۱؎ اھ ملتقطا۔
محرمات کی دوسری قسم بیٹیاں ہیں وہ تمام لڑکیاں جن کا نسب ایک درجہ یا کئی درجوں کے مرد اور عورتوں کے واسطہ سے تیری طرف بطور ولادت لوٹنا ہے وہ سب کی سب تیری بیٹیاں ہیں ا ور چھٹی اور ساتویں قسم بھائی اور بہن کی بیٹیاں ہیں، اور بھائی بہن کی بیٹیوں کا حکم بھی اپنی صلبی بیٹیوں کی طرح ہے، تو یہ سات اقسام نسب اور ارحام کی وجہ سے قرآنی نص سے حرام ہیں اھ ملتقطا (ت)
 (۱؎ تفسیر کبیر        تحت الآیۃ حرمت علیکم امھاتکم    مطبعۃالبھیۃ مصر    ۱۰/۲۹۔ ۲۸)
تفسیر بیضاوی وتفسیر ارشاد العقل میں ہے:
بنات الاخ وبنات الاخت تتناول القربٰی والبعدی ۲؎۔
محرمات میں بھائی اور بہن کی بیٹیاں قریب ہوں یا بعید ہوں سب شامل ہیں۔ (ت)
 (۲؎تفسیر بیضاوی    تحت الآیۃ حرمت علیکم امھاتکم    مصطفی البابی مصر    ۱/۸۳)
تفسیر جلالین میں ہے:
وبنٰت الاخ وبنٰت الاخت وتدخل فیھن اولادھن ۳؎۔
بھائی اوربہن کی بیٹیوں میں ان بیٹیوں کی اولاد بھی داخل ہے۔ (ت)
 (۳؎ تفسیر جلالین    تحت الآیۃ حرمت علیکم امھاتکم    اصح المطابع دہلی    ص۸۷۳)
فتوحات الہیہ حاشیہ جلالین میں ہے:
فشملت العبارۃ بنت ابن الاخ وان سفل وبنت ابن الاخت وان سفل ۴؎۔
یہ عبارت بھتیجوں اور بھانجی کی بیٹیوں کو بھی اگرچہ نیچے تک ہو شامل ہے۔ (ت)
 (۴؎ فتوحات الہیہ حاشیہ جلالین تحت الآیۃ حرمت علیکم امھاتکم  مصطفی البابی مصر    ۱/۳۷۰)
ملتقی الابحر میں ہے:
تحرم علی الرجل اختہ وبنتھا وبنت اخیہ وان سفلتا ۱؎۔
مردپر اس کی بہن اور اس کی بھانجی اور بھتیجی اور انکی اولاد نیچے تک حرام ہے۔ (ت)
 (۱؎ ملتقی الابحر        باب المحرمات    موسسۃ الرسالۃ بیروت            ۱/۲۳۹)
نقایہ میں ہے:
حرم اصلہ وفرعہ اصلہ القریب ۲؎۔
مرد پر اس کے اصول وفروع اور اصل قریب (باپ اور ماں) کے فروع حرام ہیں۔ (ت)
 (۲؎ النقایۃمختصرالوقایۃ    کتاب النکاح    نور محمدکارخانہ تجارت کتب کراچی        ص۵۲)
Flag Counter