دلیل ہفتم: کتابیہ سے نکاح کا جواز عدم ممانعت وعدم گناہ صرف کتابیہ ذمیہ میں ہے جو مطیع الاسلام ہوکر دارالاسلام میں مسلمانوں کے زیر حکومت رہتی ہو وہ بھی خالی از کراہت نہیں بلکہ بے ضرر مکروہ ہے، فتح القدیر وغیرہ میں فرمایا:
الاولی ان لایفعل ولایأکل ذیبحتھم الاللضرورۃ ۴؎۔
بہتر یہ ہے کہ بلاضرورت ان سے نکاح نہ کرے اور نہ ذبیحہ کھائے۔ (ت)
(۴؎ فتح القدیر فصل فی بیان المحرمات نوریہ رضویہ سکھر ۳/۱۳۵)
مگر کتابیہ حربیہ سے نکاح یعنی مذکورہ جائز نہیں بلکہ عند التحقیق ممنوع وگناہ ہے، علمائے کرام وجہ ممانعت اندیشہ فتنہ قرار دیتے ہیں کہ ممکن کہ اس سے ایسا تعلق قلب پیدا ہو جس کے باعث آدمی دارالحرب میں وطن کرلے نیز بچے پر اندیشہ ہے کہ کفار کی عادتیں سیکھے نیز احتمال ہے کہ عورت بحالت حمل قید کی جائے تو بچہ غلام بنے، محیط میں ہے:
یکرہ تزوج الکتابیۃ الحربیۃ لان الانسان لایأمن ان یکون بینھا ولد فینشأ علی طبائع اھل الحرب ویتخلق باخلاقھم فلایستطیع المسلم قلعہ عن تلک العادۃ ۱؎۔
حربیہ کتابیہ عورت سے نکاح مکروہ ہے کیونکہ انسان اس بات سے بے فکر نہیں ہوسکتا کہ اس سے بچہ پیدا ہو تو وہ اہل حرب میں پرورش پائیگا اور انکے طور طریقے اپنالے گا اور پھر مسلمان اس بچے سےان کی عادات کو چھوڑنے پر قادر نہ ہوگا۔ (ت)
جواز نکاح کاحکم کتابیہ حربیہ کو بھی شامل ہے لیکن یہ مکروہ ہے بالاجماع، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ بیوی کی وجہ سے دارالحرب میں قیام پسند کرلے، اور اس لیے بھی کہ اس میں بچے کوغلامی میں مبتلا کرنے کی سبیل ہوسکتی ہے کہ اس کی وہ حاملہ بیوی مسلمانوں کے ہاتھ قید ہوجائے تو بچہ بھی ماں کی وجہ سے قیدی ہوکر غلام بن جائے اگرچہ وہ مسلمان ہے نیز وہ بچہ دارالحرب میں کفار کی عادات کو اپنا سکتا ہے۔ (ت)
(۲؎ فتح المعین فصل فی المحرمات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۲۰)
محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں بعد عبارت مذکورہ فرمایا:
وتکرہ الکتابیۃ الحریبۃ اجماعا لانفتاح باب الفتنۃ من امکان التعلق المستدعی للمقام معہا فی دارالحرب وتعریض الولد علی التخلق باخلاق اھل الکفر وعلی الرق بان تسبی وھی حبلی فیولد رقیقا وان کان مسلما ۲؎۔
حربیہ کتابیہ بالاجماع مکروہ ہے کیونکہ اس سے فتنے کا دروازہ کھلنے کا اندیشہ ہے وہ یہ کہ بیوی سے تعلق مسلمان مرد کو دارالحرب میں رہنے پر آمادہ کرسکتا ہے اور بچے کو کفار کی عادات کا عادی بنانے کا راستہ ہے نیز بچے کی غلامی کے لیے راستہ ہموار کرنے کی کوشش ہے کیونکہ ہوسکتا ہے وہ بیوی حاملہ ہو کر مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہوجائے تو بچہ بھی ماں کی وجہ سے غلام بنے اگرچہ وہ مسلمان ہوگا۔ (ت)
(۳؎ فتح القدیر فصل فی المحرمات نوریہ رضویہ سکھر ۳/۱۳۵)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ والاولی ان لایفعل یفید کراھۃ التنزیہ فی غیر الحربیۃ وما بعدہ یفید کراھۃ التحریم فی الحربیۃ ۴؎۔
اس کے قول کہ ''بہتر ہے نہ کرے'' سے یہ فائدہ ملتا ہے کہ کتابیہ غیر حربیہ سے نکاح مکروہ تنزیہہ ہے جبکہ اس کا مابعد میں حربیہ کے بارے میں مکروہ تحریمہ ہونے کا فائدہ دیتا ہے۔ (ت)
(۴؎ ردالمحتار فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۲۸۹)
اہل انصاف ملاحظہ کریں کہ جواندیشے ائمہ کرام نے وہاں مرد اور اولاد کے لیے پیدا کئے وہ زائدہیں یا یہ جو یہاں عورت واولاد کے لیے ہیں، وہاں مرد کا معاملہ ہے یہاں عورت کا ، وہ حاکم ہوتاہے یہ محکوم، وہ مستقل ہوتاہے یہ متلونہ، وہ موثر ہوتا ہے یہ متاثر، وہ عقل ودین میں کامل ہو تا ہے یہ ناقصہ، وہ اگر دارالحرب میں متوطن ہوگیا تو گنہ گارہوا دین نہ گیا یہ اگر اس کی صحبت میں مبتدعہ ہوگئی تو دین ہی رخصت ہوا، بچہ بعد شعور اپنے ماں باپ کی تربیت میں رہتاہے وہاں باپ مسلم ہے یہاں بدمذہب، وہاں کافروں کی عادتیں ہی سیکھنے کا احتمال ہے یہاں خود مذہب کے بد ل جانے کا قوی مظنہ، وہاں اگر غلام بنا تو ایک دنیوی ذلت ہے آخرت میں ہزاروں غلام کروڑوں آزادوں سے اعز واعلٰی ہوں گے یہاں اگر رافضی وہابی ہوگیا تو اخروی ذلت دینی فضیحت ہے۔ وہاں غلامی ایک احتمال ہی احتمال تھی اور یہاں یہ بدانجامی مظنون قوی، تووہاں وہ اندیشے اگر کراہت تنزیہہ لاتے یہاں یہ ظنون کراہت تحریمیہ تک پہنچ جاتے، ہم اوپر گزارش کرچکے ہیں کہ شرعا جو چیز حرام ہے اس کے مقدمات ودواعی بھی حرام ہوتے ہیں اور جب کہ وہاں ان کے سبب کراہت تحریم مانیں تو یہاں ان کے باعث کھلی تحریم رکھی ہے، یہ تیسرا جوا ب ہے اس شبہہ کا کہ یہ ان سے بھی گئے گزرے، مع ہذا شرع مطہر میں اگرچہ وہ مبتدع جس کی بدعت حد کفر کو نہ پہنچی آخرت میں کفار سے ہلکا رہے گا ان کا عذاب ابدی ہے اور اس کا منقطع اور بعد موت دنیوی احکام میں بھی خفت ہوگی مگرا س کے جیتے جی ا س کے ساتھ برتاؤ کافر ذمی کے برتاؤ سے اشد ہے اور اس کی وجہ ذی عقل پر روشن، کافر ذمی سے ہرگز وہ اندیشہ نہیں جو اس دشمن دین مدعی اسلام وخیرخواہ مسلمین سے ہے وہ کھلا دشمن ہے اور یہ مار آستین، اس کی بات کسی جاہل سے جاہل کے دل پر نہ جمے گی کہ سب جانتے ہیں یہ مردود کافر ہے خدا ورسول کا صریح منکر ہے اور یہ جب قرآن وحدیث ہی کے حیلے سے بہکائے گا تو ضرور اسرع واظہر ہے والعیاذ باللہ رب العالمین،
امام حجۃ الاسلام محمد محمد محمد غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم شریف میں فرماتے ہیں:
ان کانت البدعۃ بحیث یکفربھا فامرہ اشد من الذمی لانہ لایقر بجزیۃ ولایسامع بعقد ذمۃ وان کان مما لایکفربہ فامرہ بینہ و بین اﷲ اخف من امر الکافر لامحالۃ،۔ ولکن الامرفی الانکار علیہ اشدمنہ علی الکافر لان شرالکافر غیر متعدفان المسلمین اعتقد وا کفرہ فلایلتفتون الی قولہ اذلایدعی الاسلام واعتقاد الحق اما المبتدع الذی یدعوالی البدعۃ ویزعم ان مایدعو الیہ حق فھو سبب لغو ایۃ الخلق فشرہ متعدفالاستحباب فی اظھار بغضہ ومعاداتہ والانقطاع عنہ وتحقیرہ والتشنیع علیہ ببدعتہ وتنفیر الناس عنہ اشد ۱؎۔
وہ بدعت جو مسلمان کو کفر میں مبتلا کردے تو ایسا کافر بدعتی دارالاسلام میں ذمی کافر سے بدتر ہے کیونکہ وہ جزیہ کاپابند نہیں بنتا اور نہ ہی وہ عقد ذمہ کی پروا کرتاہے اوراگر بدعت ایسی ہو جس کی وجہ سے بدعتی کو کافر نہیں کہا جاسکتا تو ایسے بدعتی کا معاملہ کافر کی نسبت سے اللہ تعالٰی کے ہاں ضرور خفیف ہے لیکن اس کی تردید کا معاملہ کافر کے مقابلہ میں زیادہ اہم ہے کیونکہ کافر کاشر مسلمانوں کے لیے اتنا نقصان دہ نہیں کیونکہ مسلمان اس کے کافر ہونے کی وجہ سے اس کی بات کو قابل التفات نہیں سمجھتے کیونکہ وہ اسلام اور حق کا مدعی نہیں بنتا لیکن گمراہ بدعتی اپنی بدعت کو حق قرار دے کر لوگوں کو اس کی طر ف دعوت دیتاہے اس لیے وہ عوام الناس کو گمراہ کرنے کا سبب بنتاہے لہذا اس کا شر زیادہ موثرہے، ایسے شخص کو برا جاننا اس کی مخالفت کرنا، اس سے قطع تعلق کرنا، اس کی تحقیر کرنا، اس کار د کرنا، اور لوگوں کو اس سے متنفر کرنا زیادہ باعث اجر وثواب ہے۔ (ت)
(۱؎ احیاء العلوم کتاب الالفۃ والاخوۃ بیان مراتب الذین یبغضون فی اللہ مکتبہ ومطبعۃ المشہد الحسینی القاہرہ مصر ۲/۱۶۹)
یہ چوتھا جواب ہے اس شبہ کا الحمد ﷲ آفتاب حق بے حجاب سحاب متجلی ہوا اور دلائل واضحہ سے نہ صرف وہابی بلکہ ہر بدمذہب کے ساتھ سنیہ کی تزویج کا باطل محض یا اقل درجہ ممنوع وگناہ ہونا ظاہر ہوگیا، ہاں ہمارے بعض بھائیوں کا بعض متفنی وہابیہ کے فریب سے دھوکا پاکر یہ عذر باقی ہے کہ یہ احکام توا ن کے لیے ہیں جو مذہب اہلسنت سے خارج ہیں اور وہابی ایسے نہیں فلاں فلاں وہابی تو سنی ہیں، اس کا جواب اسی قدر بس ہے کہ عزیز بھائیو! دین حق کے فدائیو! دیکھو یہ دام درسبزہ ہیں دھوکے میں نہ آئیو، بھلا وہابی صاحب جو چاہیں بکیں وہاں نہ خوف خدانہ خلق کی حیاء، مگر پیارے سنیو! تم نے یہ کیونکر باورکرلیا کہ بعض وہابی اہلسنت ہیں، عزیزو! کیا یہ اس کہنے سے کچھ زیادہ عجیب تر ہے کہ فلاں رات دن ہے یافلاں نصرانی، مومن ہے، جب سنیت، وہابیت سے صاف مباین ہے تو ان کا اجتما ع کیونکر ممکن ہے، ہاں یوں کہتے تو ایک بات تھی کہ فلاں فلاں لوگ جو وہابی کہلاتے ہیں وہابی نہیں اہلسنت ہیں، بہت اچھا، چشم ماروشن دل ماشاد، خدا ایسا ہی کرے، اگر واقع اس کے مطابق ہے تو ہمارا کیا ضرر، اورا س فتوی پر اس سے کیا اثر، فتوی میں زید وعمر وکسی کی تعیین نہ تھی، سائل نے وہابی کی نسبت سوال کیا مجیب نے وہابی کے باب میں جواب دیا فلاں اگر وہابی نہیں سنی ہے اس سوال وجواب دونوں سے بری ہے، فتوی کی صحت میں کیا شک پروری ہے، پھر عزیز بھائیو! یہ تنزل جواب اس کے تسلیم ادعا پر مبنی ہے، ابھی امتحان کا مرحلہ باقی ودیدنی ہے، زبان سے کہہ دینا کہ ہم وہابی نہیں گنتی کے لفظ ہیں کچھ بھاری نہیں،
الم احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا اٰمنّا وھم لایفتنون ۱؎۔
کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اس زبانی کہہ دینے پرچھوڑدئے جائیں گے کہ ہم ایمان لے آئے اوران کی آزمائش نہ ہوگی۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲۹/۲)
لاالٰہ الااﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ا ورحضرت محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالٰی ہمیں کافی ہے اور وہ اچھا وکیل ہے کوئی حرکت اور کوئی قوت اللہ تعالٰی عظیم وبلند کی مشیت کے بغیر نہیں ہے۔ (ت)
بہت اچھا جو صاحب مشتبہ الحال وہابیت سے انکار فرمائیں امور ذیل پر دستخط فرماتے جائیں
کھوٹے کھرے کا پردہ کھل جائے گا چلن میں
(۱) مذہب وہابیہ ضلالت وگمراہی ہے۔
(۲) پیشوایان وہابیہ مثل ابن عبدالوہاب نجدی واسمعیل دہلوی ونذیر حسین دہلوی وصدیق حسن بھوپالی اور دیگر چھٹ بھیے آروی بٹالی پنجابی بنگالی سب گمراہ بد دین ہیں۔
(۳) تقویۃ الایمان وصراط مستقیم ورسالہ یکروزی وتنویرالعینین تصانیف اسمعیل اور ان کے سوا دہلوی و بھوپالی وغیرہما وہابیہ کی جتنی تصنیفیں ہیں صریح ضلالتوں گمراہیوں اور کلمات کفریہ پر مشتمل ہیں۔
(۴) تقلید ائمہ فرض قطعی ہے بے حصول منصب اجتہاد اس سے روگردانی بددین کا کام ہے، غیر مقلدین مذکورین اور ان کے اتباع واذناب کہ ہندوستان میں نامقلدی کا بیڑا اٹھائے ہیں محض سفیہان نامشخص ہیں ان کا تارک تقلید ہونا اوردوسرے جاہلوں اور اپنے سے اجہلوں کو ترک تقلید کا اغوا کرنا صریح گمراہی وگمراہ گری ہے۔
(۵) مذاہب اربعہ اہلسنت سب رشد وہدایت ہیں جو ان میں سے جس کی پیروی کرے اور عمر بھر اس کا پیرو رہے، کبھی کسی مسئلہ میں اس کے خلاف نہ چلے، وہ ضرور صراط مسقیم پرہے، اس پرشرعاً الزام نہیں ان میں سے ہر مذہب انسان کے لیے نجات کوکافی ہے تقلید شخصی کو شرک یا حرام ماننے والے گمراہ ضالین متبع غیر سبیل المومنین ہیں۔
(۶) متعلقات انبیاء واولیاء علیہم الصلوٰۃ والثناء مثل استعانت وندا وعلم وتصرف بعطائے خدا وغیرہ مسائل متعلقہ اموات واحیا میں نجدی ودہلوی اور ان کے اذناب نےجو احکام شرک گھڑے اورعامہ مسلمین پر بلاوجہ ایسے ناپاک حکم جڑے یہ ان گمراہوں کی خباثت مذہب اور اس کے سبب انھیں استحقاق عذاب وغضب ہے۔
(۷) زمانہ کو کسی چیز کی تحسین وتقبیح میں کچھ دخل نہیں، امر محمود جب واقع ہو محمود ہے اگرچہ قرون لاحقہ میں ہو، اور مذموم جب صادر ہو مذموم ہے اگرچہ ازمنہ سابقہ میں ہو، بدعت مذ مومہ صرف وہ ہے جو سنت ثابتہ کے ردوخلاف پر پید ا کی گئی ہو، جواز کے واسطے صرف اتنا کافی ہے کہ خدا ورسول نے منع نہ فرمایا، کسی چیز کی ممانعت قرآن وحدیث میں نہ ہو تو اسے منع کرنے والا خود حاکم وشارع بننا چاہتا ہے۔
(۸) علمائے حرمین طیبین نے جتنے فتاوے ورسائل مثل الدرر السنیہ فی الردعلی الوہابیہ وغیرہا رد وہابیہ میں تالیف فرمائے سب حق وہدایت ہیں اور ان کا خلاف باطل وضلالت۔
حضرات! یہ جنت سنت کے آٹھ باب ہادی حق وصواب ہیں، جو صاحب بے پھیرپھار بے حیلہ انکار بکشادہ پیشانی ان پردستخط فرمائیں تو ہم ضرور مان لیں گے کہ وہ ہر گز وہابی نہیں، ورنہ ہر ذی عقل پر روشن ہوجائیگا کہ منکر صاحبوں کا وہابیت سے انکار نرا حیلہ ہی حیلہ تھا، مسمے پر جمنا اور اسم سے رمنا، اس کے کیا معنی ؎
منکر می بودن ودر رنگ مستان زیستن
(منکر ہونا اور مستیوں کے رنگ میں جینا۔ ت)
واﷲ یھدی من یشاء الٰی صراط مستقیم ۱؎
(اللہ تعالٰی جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت عطا فرماتا ہے۔ ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲/۲۱۳)
الحمد ﷲ کہ یہ مختصر بیان تصدیق مظہر حق وحقیق اوائل عشرہ اخیرہ ماہ مبارک ربیع الاول شریف سے چند جلسوں میں بدرسمائے تمام اوربلحاظ تاریخ ''ازالۃ العار بحجر الکرائم عن کلاب النار'' نام ہوا، و صلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدناومولٰنا محمد واٰلہ واصحابہ اجمعین والحمد ﷲ رب العالمین۔