دلیل چہارم: قال المولی تبارک وتعالٰی (مولی تبارک وتعالٰی نے فرمایا):
الرجال قوامون علی النساء بمافضل اﷲ بعضھم علی بعض ۲؎۔
مرد حاکم و مسلط ہیں عورتوں پر بسبب اس فضیلت کے جوا للہ نے ایک دوسرے پر دی۔
(۲؎ القرآن ۴/۳۴)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اعظم الناس حقا علی المرأۃ زوجھا ۳؎۔ رواہ الحاکم وصححہ عن ام المومنین الصدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔
عورت پر سب سے بڑھ کر حق اس کے شوہر کا ہے (اسے حاکم نے روایت کیا اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے اس کی تصحیح کی۔ ت)
(۳؎ مستدرک للحاکم کتاب البروالصلۃ دارالفکر بیروت ۴/۱۵۰)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لوکنت امر احدا ان یسجد لاحد لامرت النساء ان یسجدن لازواجھن لما جعل اﷲ لھم علیھن من الحق ۴؎۔ ولوکان من قدمہ الی مفرق رأسہ قرحۃ تنجس بالقیح والصدید ثم استقبلتہ فلحستہ ماادت حقہ ۵؎۔ رواہ ابوداؤد والحاکم بسند صحیح عن قیس بن سعد بن عبادۃ واحمد والترمذی عن انس بن مالک وفصل السجود احمد وابن ماجۃ وابن حبان عن عبداﷲ بن ابی اوفی والترمذی وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ واحمد عن معاذبن جبل و الحاکم عن بریدۃ الاسلمی رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔
اگرمیں کسی کو حکم کرتا کہ غیر خدا کو سجدہ کرے تو البتہ عورتوں کو حکم کرتا کہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں بسبب اس حق کے کہ اللہ عزوجل نے ان کے لیے ان پر رکھا ہے۔ اور اگر شوہر کی ایڑی سے مانگ تک سارا جسم پھوڑا ہو جس سے پیپ اور گندا پانی جوش مارتا ہو عورت آکر اپنی زبان سے اسے چاٹ کر صاف کرے تو خاوند کا حق ادا نہ کیا (اس کو ابوداؤد اورحاکم نے صحیح سند کے ساتھ قیس بن سعد بن عبادہ، اور احمد اورترمذی نے انس بن مالک سے، اور احمد، ابن ماجہ اور ابن حبان نے عبدالعزیز بن ابی اوفٰی سے سجدہ کی فصل میں، اور ترمذی اور ابن ماجہ نے ابو ھریرہ سے اور احمد نے معاذ بن جبل اورحاکم نے بریدہ اسلمی رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا ہے۔ ت)
(۴؎ سنن ابی داؤد باب فی حق الزوج علی المرأۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۲۹۱)
(المستدرک للحاکم کتاب النکاح دارالفکر بیروت ۲/۱۸۷)
(۵؎ مسند احمد بن حنبل مروی از مسند انس بن مالک دارالفکر بیروت ۳/۱۵۹)
الغرض شوہر کے لیے سخت واجب التعظیم ہے اور بد مذہب کی تعظیم حرام، متعدد حدیثوں میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من وقر صاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام ۱؎۔ رواہ ابن عدی وابن عساکر عن ام المومنین الصدیقہ والحسن بن سفیان فی مسندہ وابونعیم فی الحلیۃ عن معاذ بن جبل والسجزی فی الابانۃ عن ابن عمر وکابن عدی عن ابن عباس والطبرانی فی الکبیر وابونعیم فی الحلیۃ عن عبداﷲ بن بسر والبیھقی فی شعب الایمان عن ابراھیم بن میسرۃ التابعی المکی الثقۃ مرسلا فالصواب ان الحدیث حسن بطرقہ۔
جس نے کسی بد مذہب کی توقیر کی اس نے اسلام کے ڈھانے میں مدد کی (اس کوابن عدی اور ابن عساکر نے ام المومنین عائشہ صدیقہ اور حسن بن سفیان نے اپنی مسند میں اور ابو نعیم نے حلیہ میں معاذ بن جبل سے اور سجزی نے ابانۃ میں ابن عمر سے اور ابن عدی نے ابن عباس سے اور طبرانی نے کبیر میں اور ابونعیم نے حلیہ میں عبداللہ بن بسر اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابراہیم بن میسرہ تابعی مکی سے مرسل طورپر روایت کیاہے۔ اور صحیح یہ ہے کہ اپنے طرق پر یہ حدیث حسن ہے۔ ت)
بد مذہب کے لیے حکم شرعی یہ ہے کہ اس سے بغض و عداوت رکھیں، روگردانی کریں، اس کی تذلیل وتحقیر بجالائیں۔ اس سے طعن کے ساتھ پیش آئیں۔
(۲؎ شرح مقاصد المبحث الثامن حکم المومن دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲/۲۷۰)
لاجرم ثابت ہوا کہ بد مذہب کو سنیہ کاشوہر بنانا گناہ وناجائز ہے۔
دلیل پنجم: قال العلی الاعلی جل وجلا (اللہ بلند واعلٰی نے فرمایا):
والفیاسید ھا لدی الباب ۳؎
ان دونوں نے زلیخا کے سید وسردار یعنی شوہر کو پایا دروازے کے پاس،
(۳؎ا لقرآن ۱۲/۲۵)
ردالمحتار باب الکفاءۃ میں ہے:
النکاح رق للمرأۃ و الزوج مالک ۴؎
نکاح سے عورت کنیز ہوجاتی ہے اور شوہر مالک۔
(۴؎ ردالمحتار با ب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۱۷)
اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتقولوا للمنافق یاسید فانہ ان یکن سیدا فقدا سخطتم ربکم عزوجل ۵؎۔ رواہ ابوداؤد و النسائی بسند صحیح عن بریدۃ بن الحصیب رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
منافق کو ''اے سردار'' کہہ کر نہ پکارو کہ اگر وہ تمھارا سردار ہو تو بیشک تم نے اپنے رب عزوجل کو ناراض کیا۔ (اس کو ابوداؤد اور نسائی نے صحیح سند کے ساتھ بریدہ بن حصیب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
(۵؎ سنن ابی داؤد کتاب الادب آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۳۲۴)
حاکم نے صحیح مستدرک میں بافادہ تصحیح اور بیہقی نے شعب الایمان میں ان لفظوں سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا قال الرجل للمنافق یاسید فقد اغضب ربہ ۱؎۔
جو شخص کسی منافق کو ''سردار'' کہہ کر پکارے وہ اپنے رب عزوجل کے غضب میں پڑے۔
امام حافظ الحدیث عبدالعظیم زکی الدین نے کتاب الترغیب والترھیب میں ایک باب وضع کیا :
الترھیب من قولہ لفاسق او مبتدع یاسیدی، اونحوھا من الکلمات الدالۃ علی التعظیم ۲؎۔
یعنی ان حدیثوں کا بیان جن میں کسی فاسق یابدمذہب کو ''اے میرے سردار'' یا کوئی کلمہ تعظیم کہنے سے ڈرانا۔
(۲؎ الترغیب والترھیب الترھیب من قولہ لفاسق او مبتدع یاسیدی الخ مصطفی البابی مصر ۳/۵۷۹)
اوراس باب میں یہی حدیث انھیں روایات ابی داؤد ونسائی سے ذکر فرمائی۔جب صرف زبان سے '' اے میرے سردار'' کہہ دینا باعث غضب رب جل جلالہ ہے تو حقیقۃً سردار مالک بنالینا کس قدر سخت موجب غضب ہوگا والعیاذباﷲ رب العالمین۔