(۳؎ سنن ابوداؤد کتاب الادب آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۳۴۳)
دوسری حدیث میں فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:
مثل جلیس السوء کمثل صاحب الکیران لم یصبک من سوادہ اصابک من دخانہ ۲؎۔ رواہ ابوداؤد والنسائی عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
برا ہمنشین دھونکنے والے کی مانند ہے تجھے اس کی سیاہی نہ پہنچے تو دھواں تو پہنچے گا۔ (اس کو ابوداؤد اور نسائی نے حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
(۲؎ سنن ابوداؤد باب من یومران یجالس آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۳۰۸)
تیسری حدیث صریح میں فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم ۳؎۔ رواہ مسلم۔
گمراہوں سے دور بھاگو۔ انھیں اپنے سے دور کرو۔ کہیں وہ تمھیں بہکا نہ دیں۔ کہیں وہ تمھیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔ (اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ ت)
(۳؎ صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۰)
چوتھی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی ٰعلیہ وسلم فرماتے ہیں:
اعتبروا الصاحب بالصاحب ۴؎۔ رواہ ابن عدی عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ حسن لشواھدہ۔
مصاحب کو مصاحب پر قیاس کرو (اس کو ابن عدی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیااور اس کے شواہد کی بناپر اس حدیث کو انھوں نے حسن قرار دیا۔ ت)
(۴؎ کنز العمال بحوالہ عبداللہ بن مسعود حدیث ۳۰۷۳۴ مکتبۃ التراث الاسلامی حلب ۱۱/۸۹)
پانچویں حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاک وقرین السوء فانک بہ تعرف ۱؎۔ رواہ ابن عساکر عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
برے ہمنشین سے دور بھاگ کہ تو اسی کے ساتھ مشہور ہوگا(اس کو ابن عساکر نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
( ۱؎ کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر حدیث۲۴۸۴۴ مکتبۃ التراث الاسلامی حلب ۹/۴۳)
مولٰی علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں:
ماشئی ادل علی الشئی ولاالدخان علی النار من الصاحب علی الصاحب ۲؎۔ ذکرہ التیسیر۔
کوئی چیز دوسری پر اور نہ دھواں آگ پر اس سے زیادہ دلالت کرتا ہے جس قدر ایک ہمنشین دوسرے پر (اس کو تیسیر میں ذکر کیا گیا۔ ت)
(۲؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث ماقبل کے تحت مکتبۃ امام شافعی الریاض السعودیہ ۱/۴۰۲)
عقلاء کہتے ہیں گوش زدہ اثر ے دارد نہ کہ عمر بھر کان بھرے جانا۔پھر اس کے ساتھ دوسرا مؤید شوہر کا اس پر حاکم ہونا، مجربین کہتے ہیں:
تیسرا مؤید عورت میں مادہ قبول وانفعال کی کثرت، وہ بہت نرم دل ہیں جلد اثر پذیر ہیں یہاں تک کہ اہل تجربہ میں موم کی ناک مشہور ہیں۔ خود رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
رویدک یاانجشہ بالقواریر ۴؎
(اے انجشہ! آبگینوں کو بچا کر رکھو۔ ت)
(۴؎ صحیح بخاری با ب المعاریض مندوحۃ عن الکذب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۹۱۷)
چوتھا مؤید، ان کاناقصات العقل والدین ہونا، یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے صحیح حدیث میں فرمایا کما فی الصحیحین (جیسا کہ صحیحین میں ہے۔ ت) پانچواں مؤید، شوہر کی محبت، جس کا بیان آیت وحدیث سے گزرا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حبک الشئی یعمی ویصم ۵؎۔ رواہ احمد والبخاری فی التاریخ وابوداؤد عن ابی الدرداء وابن عساکر بسند حسن عن عبداﷲ بن انیس والخرائطی فی الاعتلال عن ابی برزۃ الاسلمی رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔
محبت اندھا بہرا کردیتی ہے (اسے احمد وبخاری نے اپنی تاریخ میں اور ابوداؤد نے ابودرداء سے،ا ور ابن عساکر نے سند حسن کے ساتھ عبداللہ بن انیس سے اور خرائطی نے اعتلال میں ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا ہے۔ ت)
(۵؎ سنن ابو داؤد کتاب الادب باب فی الہوٰی آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۳۴۳)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:
الرجل علی دین خلیلہ فلینظر احد کم من یخالل ۱؎۔ رواہ ابوداؤد والترمذی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔
آدمی اپنے محبوب کے دین پر ہوتا ہے تو دیکھ بھال کر کسی سے دوستی کرو (اسے ابوداؤد اور ترمذی نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
(۱؎ سنن ابوداؤد کتاب الادب باب من یومران یجالس آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۳۰۸)
مسلمانو! اللہ عزوجل عافیت بخشے دل پلٹتے خیال بدلتے کیا کچھ دیر لگتی ہے قلب کہتے ہی اس لیے ہیں کہ وہ منقلب ہوتاہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مثل القلب مثل الریشۃ تقلبھا الریاح بفلاۃ ۲؎۔ رواہ ابن ماجۃ عن ابی موسٰی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
دل کی حالت اس پر کی طرح ہے کہ میدان میں پڑاہو اور ہوائیں اسے پلٹے دے رہی ہوں۔ (اس کو ابن ماجہ نے ابوموسٰی اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
(۲؎ سنن ابن ماجہ باب فی القدر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۰)
نہ کہ عورتوں کا سانرم نازک دل اور اس پر یہ صحبت وسماع متصل پھرواسطہ حاکمی محکومی کااور اس کے ساتھ مہرو محبت کا غضب جذبہ باعثوں داعیوں کا یہ متواتر وفور اور مانع کہ عقل ودین تھے ان میں نقصان وقصور تو اس تزویج میں قطعا یقینا عورت کی گمراہی وتبدیل مذہب کا مظنہ قویہ ہے اور یہ خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں پڑنا ہے کہ بنص قطعی ممنوع وناروا ہے شرع مطہرجس چیزکو حرام فرماتی ہے کہ مقدمہ وداعی کو بھی حرام بتاتی ہے مقدمۃ الحرام حرام (حرام کا پیش خیمہ بھی حرام ہوتا ہے۔ ت) مقدمہ مسلمہ ہے، قال اﷲ تعالٰی (اللہ تعالٰی نے فرمایا):
ولاتقربوا الزنی انہ کان فاحشۃ و ساء سبیلا ۱؎۔
زنا کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے اوربہت بری راہ۔
(۱؎ القرآن ۱۷/۳۲)
جس طرح زنا حرام ہوا زنا کے پاس جانا بھی حرام ہوا اور یہ خیال کہ ممکن ہے اثر نہ ہو محض نافہمی اور عقل و نقل دونوں سے بیگانگی ہے داعی کے لیے مفضی بالدوام ہونا ضرور نہیں آخر بوس وکنارومس ونظر دواعی وطی داعی ہی ہونے کے باعث حرام ہوئے مگر ہرگز مستلزم ومفضی دائم نہیں۔