ردالمحتار میں نہایہ امام سغناقی سے ہے انھوں نے اپنے شیخ سے نقل کیاوہ فرماتے تھے :
الرستغفنی امام معتمد فی القول والعمل ولواخذنا یوم القٰیمۃ للعمل بروایتہ ناخذہ کما اخذنا ۶؎۔
یعنی رستغفنی امام معتمد ہیں قول وفعل میں، اگر روز قیامت ان کی روایت پر عمل میں ہم سے گرفت ہوئی توہم ان کا دامن پکڑیں گے کہ ہم نے ان کے ارشاد پر عمل کیا۔
(۶؎ ردالمحتار)
وجیز امام کردری میں ہے:
سمعت عن ائمۃ خوارزم انہ یتزوج من المعتزلی ولایزوج منھم کما یتزوج من الکتابی ولایزوج منھم ولعلہ اخذ ھذا التفصیل من کلام ابی حفص السفکردری ۱؎۔
میں نے بعض ائمہ خوارزم سے سناکہ معتزلی کی بیٹی تو بیاہ لے اور اپنی بیٹی ان کے نکاح میں نہ دے۔ جس طرح یہودی نصرانی کی بیٹی بیاہ لیتاہے اور اپنی بیٹی ان کے نکاح میں نہیں دیتا اور ممکن ہے کہ ان امام نے یہ تفصیل امام ابوحفص سفکردری کے قول سے اخذ کی۔
یہ دوسرا جواب ہے اس شبہہ کا، کہ مبتدعین کتابیوں سے بھی گئے گزرے ثم اقول وباﷲ التوفیق (پھر میں کہتا ہوں اورتوفیق اللہ تعالٰی ہی سے ہے۔ ت) اگر نظر تحقیق کو رخصت جولاں دیجیئے تو بد مذہب سے سنیہ کی تزویج ممنوع ہونے پر شرع مطہر سے دلائل کثیرہ قائم ہیں مثلا:
دلیل اول:
قال عزوجل واماینسینک الشیطن فلاتقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ۲؎۔
اور اگر شیطان تجھے بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔
(۲؎ القرآن ۶/۶۸)
بد مذہب سے زیادہ ظالم کون ہے اور نکاح کی صحبت دائمہ سے بڑھ کر کون سی صحبت، جب ہر وقت کاساتھ ہے، اور وہ بدمذہب تو ضرور اس سے نادیدنی دیکھے گی ناشنیدنی سنے گی اور انکار پر قدرت نہ ہوگی اور اپنے اختیار سے ایسی جگہ جانا حرام ہے جہاں منکر ہو اور انکار نہ ہوسکے نہ کہ عمر بھر کے لیے اپنے یا اپنی قاصرہ مقسورہ عاجز مقہورہ کے واسطے اس فضیحہ شنیعہ کا سامان پیدا کرنا۔
دلیل دوم: قال تبارک وتعالٰی (اللہ تعالٰی نے فرمایا) :
ومن اٰیتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ ۳؎۔
اللہ کی نشانیوں سے ہے کہ اس نے تمھیں میں سے تمھارے جوڑے بنائے کہ ان سے مل کر چین پاؤ اور تمھارے آپس میں دوستی ومہر رکھی۔
(۳؎ القرآن ۳۰/۲۱)
اور حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان للزوج من المرأۃ لشعبۃ ماھی لشئی ۱؎۔ رواہ ابن ماجۃ والحاکم عن محمد بن عبداﷲ بن جحش رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
عورت کے دل میں شوہر کے لیے جو راہ ہے کسی کے لیے نہیں (اس کو ابن ماجہ اور حاکم نے محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
(۱؎ المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابہ دارالفکر بیروت ۴/۶۲)
(سنن ابن ماجہ ابواب الجنائز باب ماجاء فی البکاء علی المیت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۵)
آیت گواہ ہے کہ زن وشوئی وہ عظیم رشتہ ہے کہ خواہی نخواہی باہم انس ومحبت الفت ورافت پیدا کرتا ہے اور حدیث شاہدہے کہ عورت کے دل میں جو بات شوہرکی ہوتی ہے کسی کی نہیں ہوتی، اور بد مذہب کی محبت سم قاتل ہے،
اللہ عزوجل فرماتا ہے:
ومن یتولھم منکم فانہ منھم ۲؎
تم میں جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انھیں میں سے ہوگا۔
(۲؎ القرآن ۵/۵۱)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
المرء مع من احب ۳؎۔ رواہ الائمۃ احمد والستۃ الاابن ماجہ عن انس والشیخان عن ابن مسعود واحمد ومسلم عن جابر وابوداؤد عن ابی ذر والترمذی عن صفوان بن عسال وفی الباب عن علی وابی ھریرۃ وابی موسٰی وغیرھم رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔
آدمی کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے (اس کو امام محمد نے اور ابن ماجہ کے ماسوا صحاح ستہ کے ائمہ نے روایت کیاہے حضرت انس سے اور بخاری ومسلم نے ابن مسعود سے، احمد ومسلم نے جابر سے، ابوداؤد نے ابوذر سے، اور رترمذی نے صفوان بن عباس سے، اور اس باب میں علی، ابو ھریرہ، ابوموسٰی وغیرہم رضی اللہ تعالٰی عنہم سے بھی روایت ہے۔ ت)
دلیل سوم: قال اﷲ تعالٰی (اللہ تعالٰی نے فرمایا):
لاتلقوا بایدیکم الی التھلکۃ ۴؎۔
اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو اور بد مذہبی ہلاک حقیقی ہے۔
(۴؎ القرآن ۲/۱۹۵)
قال اﷲ تعالٰی (اللہ تعالٰی نے فرمایا):
ولاتتبع الھوی فیضلک عن سبیل اﷲ ۵؎
(اور خواہش کے پیچھے نہ جانا کہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکا دے گی۔ ت)
(۵؎ القرآن ۳۸/۲۶)
اور صحبت خصوصاً بدکا اثر پڑجانا احادیث وتجاربِ صحیحہ سے ثابت۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انما مثل الجلیس الصالح وجلیس السوء کحامل المسک ونافخ الکیر فحامل المسک اما ان یحذیک واماان تبتاع منہ واما ان تجد منہ ریحا طیبۃ ونافخ الکیر اماان یحرق ثیابک واماان تجد منہ ریحا خبیثۃ ۱؎۔ رواہ الشیخان عن ابی موسٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اچھے اور برے ہمنشین کی کہاوت ایسی ہے جیسے ایک کے پاس مشک ہے اور دوسرا دھونکنی پھونکتا، وہ مشک والایا تجھے مفت دے گا یا تو اس سے مول لے گا۔ اور کچھ نہیں تو خوشبو ضرور آئے گی، اور دھونکنی والا تیرے کپڑے جلادے گا یا تجھے اس سے بد بو آئے گی، (اسے شیخین (امام بخاری و مسلم) نے ابو موسٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
(۱؎ صحیح بخاری باب المسک قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۸۳۰)