بالجملہ جواز کے یہ دونوں اطلاق شائع وذائع ہیں اور ان کے سوا اور اطلاقات عہ بھی ہیں جن کی تفصیل سے یہاں بحث نہیں۔ اب اس صورت خاصہ میں جواز بمعنی صحت ضرور ہے یعنی نکاح کردیں تو ہوجائے گا اور حل بمعنی عدم حرمت وطی بھی حاصل یعنی اس میں جماع زنا نہ ہوگا وطی حرام نہ کہلائے گا۔
وذلک کقولہ عز وجل و احل لکم ما وراء ذلکم مع ان فیھن من یکرہ نکاحھن تحریما کالکتابیۃ کما سیأتی فعلم ان الحل بھذا المعنی لاینافی الاثم فی الاقدام علی فعل النکاح فافھم واحفظ کیلا تزل واﷲ الموفق۔
اوریہ ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ''تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں محرمات کے سوا'' حالانکہ غیر محرمات میں وہ عورتیں بھی شامل ہیں جن سے نکاح مکروہ تحریمہ ہے جیساکہ کتابیہ عورت کے بارے میں آئندہ بیان ہوگا۔ تو معلوم ہوا کہ اس معنی میں حلال، نکاح کرنے کے اقدام پر گناہ کے منافی نہیں ہے، اس کو سمجھو اور یاد رکھو تاکہ غلط فہمی نہ ہوا ور توفیق اللہ تعالٰی سے ہی ہے۔ (ت)
عہ: فقد یطلق بمعنی النفاذ کماقال فی کفاءۃ التنویر امرہ بتزویج امرأۃ فزوجہ امۃ جاز ۴؎ ای نفذ لان الکلام ثمہ فی النفاذ لافی الجواز ۵؎ افادہ السادات الثلثۃ المحشون ح ط ش وھو اخص من وجہ من الصحۃ والحل جمیعا فقد ینفذ عقد ولایصح ولایحل کالبیع عند اذان الجمعۃ الٰی اجل مجھول وقد یصح ویحل ولاینفذ کبیع فضولی مستجمعا شرائط الصحۃ والحل،
اور کبھی جواز کا اطلاق ''نفاذ'' پر بھی ہوتا ہے جیساکہ تنویر کے کفاءۃ کے باب میں ہے، اگر کسی نے دوسرے کو کہا کسی عورت سے میرا نکاح کردے تو اس نے لونڈی سے نکاح کردیا تو جائز ہے یعنی نافذ ہے کیونکہ یہاں نفاذ میں بات ہورہی ہے جواز میں بحث نہیں، اس فائدے کوتین بزرگوار محشی حضرات ____ یعنی حلبی، طحطاوی اور شامی نے بیان کیا، اور یہ معنٰی پہلے دو معنٰی صحیح اور حلال ہونے سے خاص من وجہ ہے کیونکہ کبھی عقد صحیح اور حلال نہ ہونے کے باوجود نافذہوتا ہے جیسے جمعہ کی اذان کے بعد بیع مجہول مدت کے ادھار پر ہو، اور کبھی عقدحلال اور صحیح ہوتا ہے لیکن نافذ نہیں ہوتا، جیساکہ فضولی کی وہ بیع جو حلال اور صحیح ہونے کی شرائط کی جامع ہو،
(۴؎ درمختار با ب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۹۵)
(۵؎ ردالمحتار با ب الکفاءۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۲۵)
قال فی ردالمحتار ظاھرہ ان الموقوف من قسم الصحیح وھواحد طریقین للمشائخ وھو الحق ۱؎ الخ
ردالمحتار میں کہا کہ موقوف بیع، صحیح کی قسم ہے اور یہ مشائخ کے استعمال کے دو طریقوں میں سے ایک ہے اور یہی حق ہے الخ
(۱؎ ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/۳)
وقد یطلق بمعنی اللزوم قال فی رھن الدر القبض شرط اللزوم کما فی الھبۃ ۲؎ اھ
اور جواز بمعنی لزوم بھی استعمال ہوتا ہے، درمختار کے مسئلہ رہن میں ہے کہ قبضہ لزوم کے لیے شرط ہے جیساکہ ہبہ میں ہوتا ہے اھ،
(۲؎ درمختار کتاب الرہن مطبع مجتبائی دہلی ۲/۲۶۵)
قال الشامی قال فی العنایۃ ھو مخالف لروایۃ العامۃ قال محمد لایجوز الرھن الامقبوضا اھ وفی السعدیہ انہ علیہ الصلٰوۃ والسلام قال لاتجوز الھبۃ الامقبوضۃ والقبض لیس بشرط الجواز فی الھبۃ فلیکن ھنا کذٰلک اھ وحاصلہ ان یفسرھنا ایضا الجواز باللزوم لابالصحۃ کما فعلوا فی الھبۃ ۱؎ اھ مختصراً
اس پر علامہ شامی نے کہا کہ عنایہ میں کہا ہے کہ یہ عام روایت کے خلاف ہے، امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ رہن، قبضہ کے بغیر صحیح نہیں اھ اور سعدیہ میں ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ ہبہ قبضہ کے بغیر جائز نہیں، جبکہ ہبہ کے جواز کے لیے قبضہ شرط نہیں ہے، مناسب ہے کہ یہاں بھی یونہی ہو ا س کا حاصل یہ ہے کہ یہاں رہن کے معاملہ میں بھی امام محمد کے قول میں جواز کی تفسیر لزوم کے ساتھ کی جائے نہ کہ صحت کے ساتھ جیساکہ فقہاء نے ہبہ میں کیا یعنی لایجوز کا معنی یہی لایلزم ہو (یعنی قبضہ کے بغیر رہن جائز تو ہے لازم نہیں) اھ مختصراً ۔
(۱؎ ردالمحتار کتاب الرھن داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/۳۰۸)
وفی مداینات غمز العیون لوجاز ای لزوم تاجیلہ لزم ان یمنع المقرض عن مطالبۃ قبل الاجل ولاجبر علی المتبرع ۲؎ اھ وھو اخص مطلقا من الصحۃ والنفاذ فقد یصح الشیئ وینفذ ولالزوم کتزویج العم من کفو بمھر المثل ولالزوم لموقوف فھو ظاہر ولالفاسد لانہ واجب الفسخ، ومن وجہ من الحل فقد یلزم ولایحل کالبیاعات المکروھۃ، واﷲ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اور غمزالعیون کے مداینات میں ہے لوجاز یعنی مہلت لازم ہوگی تو لازم ہے کہ قرضخواہ کو مدت پوری ہونے سے قبل مطالبہ سے منع کیا جائے جبکہ قرض کی نیکی کرنے والے پر جبر نہیں ہوسکتا، اھ اور جواز بمعنی لزوم، نفاذ اورصحت کے معنی سے خاص مطلق ہے کیونکہ کبھی چیز صحیح اور نافذ ہوتی ہے اور لازم نہیں ہوتی، جیساکہ چچازاد کا مہر مثل کے ساتھ کفو میں لڑکی کا نکاح کرنا صحیح اور نافذ ہے مگر لازم نہیں کیونکہ یہ موقوف ہے اور موقوف چیز لازم نہیں ہوتی، اور یہ ظاہر ہے، اور فاسد بھی لازم نہیں کیونکہ وہ واجب الفسخ ہے اور جواز بمعنی لزوم جواز بمعنی حل سے خاص من وجہ ہے، کیونکہ کبھی چیز لازم ہوتی ہے مگر حلال نہیں ہوتی جیساکہ مکروہ بیع کا حکم ہے، واللہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(۲؎ غمزعیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر کتاب المداینات ادارۃ القرآن کراچی ۲/۴۷۔ ۴۴۶)
عبارات درمختار وغیرہ تجوز منا کحۃ المعتزلۃ لانا لانکفر احدا من اھل القبلۃ وان وقع الزامالہم فی المباحث ۱؎
(معتزلہ سے نکاح جائز ہے ہم اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کرتے اگرچہ بحث کے طورپر ان پر کفر کاالزام ثابت ہے۔ ت)
کے یہی معنی ہیں،
( ۱؎ درمختار فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۸۹)
پر ظاہر کہ نکاح عقد ہے اور ابھی بحرالرائق وطحطاوی وردالمحتار سے گزرا کہ عقود میں غالب وشائع جواز بمعنی صحت ہے مگروہ عدم جواز بمعنی ممانعت واثم کے منافی نہیں،
فتح القدیر وغنیہ و بحرالرائق وغیرہا میں ہے: یراد بعدم الجواز عدم الحل ای عدم حل ان یفعل وھولاینافی الصحۃ ۲؎۔
عدم جواز سے عدم حل مراد لیا جاتا ہے یعنی اس کا کرنا حلال نہیں اور یہ صحیح کے منافی نہیں۔ (ت)
(۲؎ فتح القدیر باب الامامۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۳۰۴)
رہا جواز فعل بمعنی عدم ممانعت شرعیہ بد مذہبوں سے سنیہ عورت کا نکاح کردینا روا ومباح ہو جس میں کچھ گناہ ومخالفت احکام شرع نہ ہو یہ ہر گز نہیں۔ ارشاد مشائخ کرام المناکحۃ بین اھل السنۃ و اھل الاعتزال لاتجوز ۳؎ کے یہی معنی ہیں یعنی سنیوں اورمعتزلیوں میں مناکحت مباح نہیں،