Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
103 - 1581
انہی میں ہے:
نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلارضی ولی و بہ یفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلاوھو المختار للفتوی لفساد الزمان فلاتحل مطلقۃ ثلثا نکحت غیر کفو بلارضی ولی بعد معرفتہ ایاہ فلیحفظ ۱؎۔
عاقلہ بالغہ نے ولی کی رضا کے بغیر نکاح کیا تو نکاح نافذہوگا اور غیر کفو میں عدم جوازکا فتوی دیا جائیگا اور یہی فتوی کے لیے مختار ہے کیونکہ زمانہ میں فساد آگیا ہے، تو مطلقہ ثلاثہ بھی اگر ولی کی رضا کے بغیر غیر کفومیں نکاح کرے تو پہلے خاوند کے لیے حلال نہ ہوگی جبکہ ولی کو یہ معلوم ہو کہ وہ غیر کفو ہے یا د رکھو۔ (ت)
 (۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار    باب الولی    مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۱۹۱)
ردالمحتارمیں ہے:
لایلزم التصریح بعدم الرضا بل السکوت منہ لایکون رضی وقولہ بلارضی یصدق بنفی الرضی بعد المعرفۃ  و بعدمھا و بوجود الرضی مع عدم المعرفۃ  ففی ھذہ الصور الثلثۃ لاتحل وانما تحل فی الصورۃ الرابعۃ وھی رضی الولی بغیر الکفو مع علمہ بانہ کذلک اھ ح ۲؎ا ھ الکل مختصر۔
ولی کو اپنی عدم رضا مندی کے اظہار کے لیے تصریح ضروری نہیں ہے بلکہ اس بارے میں اس کا خاموش رہنا ہی عدم رضا ہے اس کے قول '' بغیر رضا'' کا  مصداق کفو غیر کفو کے علم کے بعد اور اسی طرح علم کے بغیر رضاکی نفی اور غیر کفو کا علم نہ ہونے پر رضامندی، ان تین صورتوں میں حلال نہ ہوگی، صرف چوتھی صورت میں حلال ہے اور وہ یہ  ہے کہ ولی کو غیر کفو کا علم ہو اور اس کے باوجود وہ نکاح پر راضی ہو اھ ح تمام اختصاراً (ت)
 (۲؎ ردالمحتار          باب الولی  داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/۲۹۷)
اس تقریر منیر سے اس شبہہ کا ایک جواب حاصل ہوا جویہاں بعض اذہان میں گزرتا ہے کہ جب اہل کتاب سے مناکحت جائز ہے تو مبتدعین ان سے بھی گئے گزرے، غیر مقلد مسلم ہے پھر نکاح مسلم ومسلمہ میں کیا توقف، اہل کتاب سے مناکحت کے کیا معنی، آیا یہ کہ مسلمان مرد کا کتابیہ کافرہ کو اپنے نکاح میں لانا، اس کے جواز وعدم جواز سے ہم ان شاء اللہ تعالٰی عنقریب بحث کریں گے یہاں اسی قدر کافی ہے کہ مسئلہ دائرہ میں عورت سنیہ اور مرد وہابیہ کے نکاح سے بحث ہے، عورت کا مرد پرقیاس کیونکر صحیح، آخر وہ کیا فرق تھا جس کے لیے شرع مطہر نے کتابی سے مسلمہ کا نکاح زنا مانااور مسلم کا کتابیہ سے صحیح جانا، اگر مسلمان مرد کسی کافرہ کو اپنے تصرف میں لاسکے تو کیا ضرور ہے

کہ سنیہ عورت بھی بد مذہب کے تصرف میں جاسکے، عورت کے لیے کفاءت مرد بالاجماع ملحوظ جس کی بنا پراحکام  مذکورہ متفرع ہوئے اورمرد بالغ کے حق میں کفاءت زن کا کچھ اعتبار نہیں کہ دناءت فراش وجہ غیظ مستفرش نہیں ہوتی۔
فی الدرالمختار الکفاءۃ معتبرۃ من جانب الرجل لان الشریفۃ تأبی ان تکون فراشاً للدنی ولاتعتبر من جانبھا لان الزوج مستفرش فلاتغیظہ دناءۃ الفراش ۱؎۔ ملخصا
درمختار میں ہے کہ کفو مرد کی طرف سے معتبر ہے کیونکہ شریف عورت، حقیر مرد کی بیوی بننے سے انکاری ہوتی ہے اور عورت کی طرف سے مرد کے لیے ہم کفو ہونا معتبر نہیں ہے کیونکہ خاوند تو بیوی بنالیتا ہے خواہ عورت ادنٰی ہو، وہ اس وجہ سے عار نہیں پاتا۔ ملخصا (ت)
 ( ۱؎ درمختار    باب الکفاءۃ        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۴)
وہابی توبد مذہب گمراہ ہے اگر کوئی زن شریفہ بے رضائے صریح ولی بروجہ مذکور کسی سنی صحیح العقیدہ صالح حائک سے نکاح کرلے یا غیر ولی غیرا ب وجد اپنی صغیرہ کو کسی ایسے سے بیاہ دے تو ناجائز وباطل ہوگا یا نہیں، ضرورباطل ہے پھر یہ سنی صالح کیا ان سے بھی گیا گزرا، اور نکاح مسلم ومسلمہ میں کیوں بطلان کا حکم ہوا، ھذا ولنرجع الٰی ماکنا فیہ (اس کو محفوظ کرو اور ہمیں اپنی بحث کی طرف لوٹنا چاہئے۔ ت) یہ صورتیں بطلان نکاح بوجہ عدم کفاءت کی تھیں اوراگر ان کے سوا وہ صورت ہو جہاں عدم کفاءت مانع صحت نہیں تو پہلے اتنا سمجھ لیجئے کہ عرف فقہ میں جواز دومعنی پر مستعمل ، ایک بمعنی صحت اور عقود میں یہی زیادہ  متعارف ،یہ عقد جائز ہے یعنی صحیح مثمرثمرات مثل افادہ ملک متعہ یا ملک یمین یا ملک منافع ہے اگرچہ ممنوع وگناہ ہو جیسے بیع وقت اذان جمعہ، دوسرے بمعنی حلت اور افعال میں یہی ز یادہ مروج ، یہ کام جائز ہے یعنی حلال ہے، حرام نہیں، گناہ نہیں، ممانعت شرعیہ نہیں،
بحرالرائق کتاب الطہارۃ بیان میاہ میں ہے:
المشائخ تارۃ یطلقون الجواز بمعنی الحل وتارۃ بمعنی الصحۃ وھی لازمۃ للاول من غیر عکس والغالب ارادۃ الاول فی الافعال والثانی فی العقود ۲؎۔
مشائخ لفظ ''جواز'' کو کبھی حلال ہونے کے معنٰی میں اور کبھی صحیح ہونے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں جبکہ صحیح ہو نا حلال ہونے کو لازم ہے، غالب طورپر افعال میں حلال ہونے اور عقود میں صحیح ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے (ت)
 (۲؎ بحرالرائق    کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۶۶)
اسی طرح علامہ سید احمد مصری نے حاشیہ در میں نقل کیا اور مقرر رکھا،  درمختار میں ہے:
یجوز رفع الحدث بما ذکر۱؎ الخ
(مذکور چیز کے ساتھ حدث کو ختم کرنا جائز ہے الخ۔ ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الطہارۃ    مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۳۵)
اسی پر ردالمحتار میں کہا:
یجوز ای یصح وان لم یحل فی نحو الماء المغصوب وھو اولی من ارادۃ الحل وان کان الغالب ارادۃ الاول فی العقود و الثانی فی الافعال ۲؎۔
یجوز یعنی یصح، اگرچہ حلال نہ ہو، مثلا غصب شدہ پانی کے ساتھ، اور یہی معنٰی یہاں بہتر ہے بجائیکہ حلال و الا معنی مراد لیا جائے اگرچہ صحیح غالب طورپر عقود میں اور حلال افعال میں استعمال ہوتا ہے۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار  کتاب الطہارۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/۱۲۳)
درمختار کتاب الاشربہ میں ہے:
صح بیع غیر الخمر مامر و مفادہ صحۃ بیع الحشیشۃ والافیون قلت وقد سئل ابن نجیم عن بیع الحشیشۃ ھل یجوز فکتب لایجوز فیحمل علی ان مرادہ بعدم الجواز عدم الحل ۳؎۔
مذکورہ چیزوں میں سے غیر خمر کی بیع صحیح ہے جس کا مفاد یہ ہے کہ حشیش اور افیون کی بیع صحیح ہے، میں کہتاہوں کہ ابن نجیم سے حشیش کی بیع کے متعلق پوچھاگیا کہ وہ جائز ہے تو انھوں نے جواب میں لکھا لایجوز۔ ان کا مقصد عدم جواز سے عدم حل ہے۔ (ت)
 (۳؎ درمختار    کتاب ا لاشربہ    مطبع مجتبائی دہلی        ۳/۲۶۰)
Flag Counter