Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح)
102 - 1581
پھر یہ بھی ان کے صرف ایک مسئلہ ترک تقلید کی رو سے ہے باقی مسائل متعلقہ انبیا ء واولیا ء وغیرھم میں ان کے شرک کی اونچی اڑانیں دیکھئے ۔فقیر نے رسالہ اکمال الطامۃ علی شرک سوی بالامور العامۃ میں کلام الہی کی ساٹھ آیتوں اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تین سو حدیثوں سے ثابت کیا ہے کہ ان کے مذہب نامہذب پر نہ صرف امت مرحومہ بلکہ انبیائے کرام وملائکہ عظام وخود حضور پر نور سید الانام علیہ افضل الصلوۃ والسلام حتی کہ خود رب العزۃ جل وعلا تک کوئی بھی شرک سے محفوظ نہیں ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ،پھر ایسے مذہب ناپاک کےکفریات واضحہ ہونے میں کون مسلما ن تامل کر سکتا ہے ،پھر  یہ عقائد باطلہ و مقالات زائغہ جب ان حضرات کے اصول مذہب ہیں تو کسی وہابی صاحب کا ان سے خالی ہونا کیونکر معقول ،یہ ایسا ہو گا جس طرح کچھ روافض کو کہا جائے تبرا وتفضیل سے پاک ہیں ،اور بالفرض تسلیم بھی کر لیں کہ کوئی وہابی صاحب کسی جگہ کسی مصلحت سے ان تمام عقائد مردودہ و اقوال مطرودہ سے تحاشی بھی کریں یا بفرض غلط فی الواقع ان سے خالی ہوں تو یہ کیونکر متصور کہ ان کے اگلے پچھلے چھوٹے بڑے مصنف مؤلف واعظ مکلب نجدی دہلوی بنگالی بھوپالی وغیرھم جن کے کلام میں ان اباطیل کی تصریحات ہیں یہ صاحب ان سب کے کفر یا اقل درجہ لزوم کفر کا اقرار کریں کیا دنیا میں کوئی وہابی ایسا نکلے گا کہ اپنے اگلے پچھلوں پیشواؤں ہم مذہبوں سب کے کفر و لزوم کفر کا مقر ہو او ر جتنے احکا م باطلہ سے کتاب التوحید و تقویۃ الایمان و صراط مستقیم و تنویر العینین و تصانیف بھوپالی و سورج گڑھی و بٹالوی وغیرھم میں مسلمانوں پر حکم شرک لگا یا جو معاذ اللہ خدا و رسول وانبیا ء و ملائکہ سب تک پہنچا ان سب کو کفر کہہ دے حاش للہ ہر گز نہیں ،بلکہ قطعا انھیں اچھا جانتے امام وپیشوا وصلحائے علما مانتے اور ان کے کلمات و اقوال کو یا معنی و مقبول سمجھتے اور ان پر رضا رکھتے ہیں اور خودکفریا ت بکنا یا کفریا ت پر راضی ہونا برا نہ جاننا ان کے لیے معنی صحیح ماننا سب کا ایک ہی حکم ہے ،اعلام بقواطع الاسلام میں ہمارے علمائے اعلام سے ان امور کے بیان میں جو بالاتفاق کفر ہیں نقل فرمایا :من تلفظ بلفظ کفر یکفر و کذا کل من ضحک او استحسنہ او رضی بہ یکفر ۱؂جس نے کلمہ کفر یہ بولا اس کو کافر قرار دیا جائے گا ،یونہی جس نے اس کلمہ کفر پر ہنسی کی یا اس کی تحسین کی اور اس پر راضی ہوا ا س کو بھی کافر قرار دیا جائے گا (ت)  0
 (اعلام بقواطع الاسلام ملحق بسبل النجاۃ        مطبعہ حقیقہ استانبول  ترکی          ص۳۶۶)
بحرالرائق میں ہے:
من حسن کلام اھل الاھواء وقال معنوی اوکلام لہ معنی صحیح ان کان ذلک کفرا من القائل کفرالمحسن۱؎۔
جس نے بے دینی کی بات کو سراہا یا بامقصد قرار دیا،یااس کے معنی کو صحیح قرار دیا تو اگر یہ کلمہ کفر ہو تو اس کاقائل کافر ہوگا اورا س کی تحسین کرنے والا بھی (ت)
 (۱؎ بحرالرائق    باب احکام المرتدین    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۵/۱۲۴)
تو دنیا کے پردے پر کوئی وہابی ایسانہ ہوگا جس پرفقہائے کرام کے ارشادات سے کفرلازم نہ ہو او رنکاح کا جواز عدم جواز نہیں مگر ایک مسئلہ فقہی، تو یہاں حکم فقہا یہی ہوگا کہ ان سے مناکحت اصلا جائز نہیں خواہ مرد وہابی ہو،یاعورت وہابیہ اور مرد سنی، ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم اس باب میں قول متکلمین اختیار کرتے ہیں اور ان میں جو کسی ضروری دین کا منکر نہیں نہ ضروری دین کے کسی منکر کو مسلمان کہتاہے اسے کافرنہیں کہتے مگر یہ صرف برائے احتیاط ہے، دربارہ تکفیر حتی الامکان احتیاط اس میں ہے کہ سکوت کیجئے ، مگر وہی احتیاط جو وہاں مانع تکفیر ہوئی تھی یہاں مانع نکاح ہوگی کہ جب جمہور فقہائے کرام کے حکم سے ان پر کفر لازم نہیں توا ن سے مناکحت زنا ہے تو یہاں احتیاط اسی میں ہے کہ اس سے دور رہیں اور مسلمانوں کو باز رکھیں، للہ انصاف کسی سنی صحیح العقیدہ فقہائے کرام کا قلب سلیم گوارا کرے گا کہ اس کی کوئی عزیزہ کریمہ ایسی بلا میں مبتلا ہوجسے فقہائے کرام عمر بھر کا زنا بتائیں، تکفیر سے سکوت زبان کے لیے احتیاط تھی اور اس نکاح سے احتراز فرج کے واسطے احتیاط ہے یہ کونسی شرع کہ ز بان کے باب میں احتیاط کیجئے اور فرج کے بارے میں بے احتیاطی ، انصاف کیجئے تو بنظر واقع حکم اسی قدر سے منقح ہولیا کہ نفس الامر میں کوئی وہابی ان خرافات سے خالی نہ نکلے گا اور احکام فقہیہ میں واقعات ہی کالحاظ ہوتا ہے نہ احتمالات غیرواقعیہ کا،

بل صرحوا ان احکام الفقۃ تجری علی الغالب من دون نظر الی النادر۔
بلکہ انھوں نے تصریح کی ہے کہ فقہی احکام کا مدار غالب امور بنتے ہیں ، نادر امور پیش نظرنہیں ہوتے۔ (ت)
اور اگراس سے تجاوز کرکے کوئی وہابی ایسا فرض کیجئے جوخود بھی ان تمام کفریات سے خالی ہو اور ان کے قائلین جملہ وہابیہ سابقین ولاحقین سب کو گمراہ وبدمذہب مانتا بلکہ بالفرض قائلان کفریات مانتا اور لازم الکفر ہی جانتا ہواس کی وہابیت صر ف اس قدر ہو کہ باوصف عامیت تقلید ضروری نہ جانے اور بے صلاحیت اجتہاد پیروی مجتہدین چھوڑ کر خود قرآن وحدیث سے اخذ احکام روا مانے تو اس قدرمیں شک نہیں کہ یہ فرضی شخص بھی آیہ کریمہ قطعیہ
فاسئلوا اھل الذکران کنتم لاتعلمون ۲؎
(اگر یہ نہیں جانتے تو اہل ذکر (علماء)سے پوچھو۔ ت)
 (۲؎ القرآن      ۱۶/۴۳)
اور اجماع قطعی تمام ائمہ سلف کا مخالف ہے یہ اگر بطور فقہاء لزوم کفر سے بچ بھی گیا تو خارق اجماع ومتبع غیر سبیل المومنین وگمراہ وبددین ہونے میں کلام نہیں ہوسکتا جس طرح متکلمین کے نزدیک دو قسم پیشین کافر بالیقین کے سوا باقی جمیع اقسام کے وہابیہ ، اب اگر عورت سنیہ بالغہ اپنا نکاح کسی ایسے شخص سے کرے اورا س کا ولی پیش از نکاح اس شخص کی بدمذہبی پر آگاہ ہو کہ صراحۃً اس سے نکاح کئے جانے کی رضامندی ظاہر نہ کرے خواہ یوں کہ اسے اس کی بد مذہبی پراطلاع ہی نہ ہو یا نکاح سے پہلے اس قصد کی خبرنہ ہوئی یا بد مذہب جانا اور اس ارادہ پر مطلع بھی ہو ا مگرسکوت کیا صاف رضا کا مظہر نہ ہوا، یا عورت نابالغہ ہو اور ولی مزوج اب وجد کے سوا یا اب وجد ایسے جو اس سے پہلے اپنی ولایت سے کوئی تزوج کسی غیر کفو سے کرچکے ہوں یا وقت تزویج نشے میں ہوں ان سب صورتوں میں یہ بھی نکاح باطل وزنائے خالص ہوگا کہ بد مذہب کسی سنیہ بنت سنی کا کفو نہیں ہوسکتا اور غیر کفو کے ساتھ تزویج میں یہی احکام مذکورہ ہیں،
درمختار میں ہے:الکفاءۃ تعتبر فی العرب والعجم دیانۃ ای تقوی فلیس فاسق کفوا لصالحۃ، نھر ۱؎۔
عربی اور عجمی لوگوں کے کفو میں دیانت اور تقوٰی کا اعتبار ہے تو فاسق شخص نیک عورت کا کفو نہ ہوگا، نہر (ت)
 (۱؎ درمختار            باب الکفاءۃ        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۵)
غنیہ میں ہے:
المبتدع فاسق من حیث الاعتقاد وھو اشد من الفسق من حیث العمل ۲؎۔
اعتقاد فاسق، عمل فاسق سے زیادہ برا ہے۔ (ت)
 (۲؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فی الامامۃ    سہیل اکیڈمی لاہور    ص۵۱۴)
تنویر الابصار وشرح علائی میں ہے:
لزم النکاح بغیر کفو ان المزوج اباوجدالم یعرف منھما سوء الاختیار وان عرف لایصح النکاح اتفاقا وکذا لوسکران بحر، وان المزوج غیرھما لایصح النکاح من غیر کفواصلاً ۳؎۔
اگر باپ یا دادا نے نکاح کیا تو غیر کفومیں بھی یہ نکاح لازم ہوگا بشرطیکہ باپ اور دادا نے اس سے قبل اختیار کو غلط استعمال نہ کیا ہو، اورا گر وہ غلط اختیار استعمال کرچکا ہو تو بالاتفاق یہ نکاح صحیح نہ ہوگا، اوراگر باپ یا دادا نشے میں ہو تب بھی بالاتفاق نکاح صحیح نہ ہوگا (بحر) اور نکاح والد اور دادا نے نہ کیا تو غیر کفو میں نکاح صحیح نہ ہوگا۔ (ت)
 (۳؎ درمختار شرح تنویرالابصار        باب الولی        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۹۲)
Flag Counter