| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح) |
فقیر نے رسالہ النھی الاکید عن الصلاۃ وراء عدی التقلید (۱۳۰۵ھ) میں واضح کیا کہ خاص مسئلہ تقلید میں ان کے مذہب پر گیارہ سو برس کے ائمہ دین وعلما ئے کاملین واولیائے عارفین رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین معاذاللہ سب مشرکین قرار پاتے ہیں خصوصاً وہ جماہیر ائمہ کرام وسادات اسلام وعلمائے اعلام جو تقلید شخصی پر سخت شدید تاکید فرماتے اورا س کے خلاف کو منکر وشنیع وباطل وفظیع بتاتے رہے جیسے امام حجۃ الاسلام محمد غزالی وامام برہان الدین صاحب ہدایہ و امام احمد ابوبکر جوزجانی وامام کیاہر اسی وامام ابن سمعانی وامام اجل امام الحرمین وصاحبان خلاصہ وایضاح وجامع الرموز وبحرالرائق و نہر الفائق وتنویرالابصار ودرمختار وفتاوٰی خیریہ وغمزالعیون وجواہر الاخلاطی ومنیہ وسراجیہ ومصفی و جواھر و تتارخانیہ ومجمع وکشف وعالمگیریہ ومولانا شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی وجناب شیخ مجد دالف ثانی وغیرہم ہزاروں اکابر کے ایمان کا توکہیں پتا ہی نہیں رہتا اور مسلمان تو نرے مشرک بنتے ہیں یہ حضرات مشرک ٹھہرتے ہیں والعیاذ باللہ سبحٰنہ وتعالٰی ، اور جمہور ائمہ کرام فقہائے اعلام کا مذہب صحیح ومعتمدومفتی بہ یہی ہے کہ جو کسی ایک مسلمان کوبھی کافر اعتقاد کرے خود کافر ہے، ذخیرہ وبزازیہ وفصول عمادی وفتاوٰی قاضی خاں وجامع الفصولین وخزانۃ المفتین و جامع الرموز وشرح نقایہ برجندی وشرح وہبانیہ ونہرا لفائق ودرمختار ومجمع الانہر واحکام علی الدرر وحدیقہ ندیہ و عالمگیری وردالمحتار وغیرہا عامہ کتب میں اس کی تصریحات واضحہ کتب کثیرہ میں اسے فرمایا: المختار للفتوی ۱؎ (فتوٰی کے لیے مختار ہے۔ ت) شرح تنویر میں فرمایا: بہ یفتی ۲؎ (اس پر فتوٰی دیا جاتا ہے۔ ت)
( ۱؎جامع الفصولین فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/۳۱۱ ) (۲؎ درمختار باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ۱/۳۲۷)
یہ افتاءو تصحیحات اس قول اطلاق کے مقابل ہیں کہ مسلمانوں کو کافر کہنے والا مطلقاکافر اگرچہ محض بطور دشنام کہے نہ از راہ اعتقاد، جامع الفصولین میں ہے:
قال لغیرہ یا کافر قال الفقیہ الاعمش البلخی کفر القائل وقال غیرہ من مشائخ بلخ لایکفر فاتفقت ھذہ المسألۃ ببخاری اذاجاب بعض ائمہ بخارٰی انہ کفر فرجع الجواب الی بلخ فمن افتی بخلاف الفقیہ الاعمش رجع الی قولہ وینبغی ان لایکفر علی قول ابی اللیث وبعض ائمۃ بخاری والمختار للفتوٰی فی جنس ھذہ المسائل ان قائل ھذہ المقالات لو ارادالشتم ولایعتقد کافرا لایکفر ولو اعتقد کافر ا کفر ۱اھ اختصارا
کسی نے غیر کوکہا ''اے کافر'' امام اعمش فقیہ بلخی نے فرمایا وہ کافر ہوگیا، اورا ن کے علاوہ دیگر مشائخ نے فرمایا: وہ کافر نہ ہوگا، اوریہی مسئلہ بخارٰی میں پیش آیا تو بخاری کے بعض ائمہ نے فرمایا: وہ کافرہوگیا۔ جب یہ جواب بلخ پہنچا تو جن لوگوں نے امام اعمش فقیہ کے خلاف فتوٰی دیا تھا انھوں نے رجوع کرکے اعمش کے قول سے اتفاق کرلیا، اور ابولیث اور بخاری کے بعض ائمہ کے نزدیک کافر نہ کہنا مناسب ہے جبکہ اس قسم کے مسائل میں فتوٰی یہ ہے کہ مسلمان کو کافر کہنے والے نے اگرگالی مراد لی ہو اور کفرمراد نہ لیا تو کافر نہ ہوگا۔ اوراگر اس نے کفر کا اعتقاد کیا تو وہ کا فر ہے اھ اختصارا
(۱ جامع الفصولین فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/۳۱۱)
تو فقہائے کرام کے قول کے مطلق و حکم مفتی بہ دونوں کے رو سے بالاتفاق ان پر حکم کفر ثابت ،اور یہی حکم ظواہر احادیث صحیحہ سے مستفاد صحیح بخاری و صحیح مسلم وغیرہا میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنھما کی حدیث سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرما تے ہیں :
ایما امرئ قال لاخیہ کافرا فقد باء بھا احدھما ،۲ زاد مسلم ان کا ن کما قال والا رجعت الیہ ۳
جو کسی کلمہ گو کو کافر کہے ان دونوں میں ایک پر یہ بلا ضرور پڑے گی ،اگر جسے کہا وہ فی الحقیقۃ کافر ہے تو خیر ،ورنہ یہ کفر کا حکم اسی قائل پر پلٹ آئے گا ۔(ت)
(۲صحیح البخاری باب من اکفر اخا ہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۰۱) (۳صحیح مسلم باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم یا کافر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۷)
نیز صحیحین وغیرھما میں حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث سے ہے :
لیس من دعا رجلا با لکفر او قال عدو اللہ و لیس کذلک الا حا ر علیہ ۔۴
جو کسی کو کفر پر پکارے یا خدا کا دشمن بتائے اور وہ ایسا نہ ہو تو اس کا یہ قول اسی پر پلٹ آئے ۔
( ۴ صحیح مسلم باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم یا کافر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۷)
طرفہ یہ کہ ان حضرات کو ظواہر احادیث ہی پر عمل کرنے کا بڑا دعوی ہے ،تو ثابت ہوا کہ حدیث وفقہ دونوں کے حکم سے مسلمان کی تکفیر پرحکم کفر لازم ،نہ کہ لاکھوں کروڑوں ائمہ واولیا ء وعلماء کی معاذاللہ تکفیر ان صاحبوں کا خلاصہ مذہب ابھی ردالمحتار سے منقول ہوا کہ جو وہابی نہیں سب کو مشرک مانتے ہیں اسی بنا پر علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی نے انھیں خوارج میں داخل فرمایا اور وجیز کردری میں ارشاد ہے :
یجب اکفار الخوارج فی اکفارھم جمیع الا مۃ سواھم ۔۵
خوارج کو کافر کہنا واجب ہے اس بنا پر کہ وہ اپنے ہم مذہب کے سوا سب کو کا فر کہتے ہیں ۔
(۵فتاوی بزازیہ علی ہامش ہندیہ نوع فیما یتصل بہا مما یجب اکفارہ الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۳۱۸ )
لا جرم الدر ر السنیہ فی الرد علی الوہا بیۃمیں فرمایا :ھؤلاء الملا حدۃ المکفرۃ للمسلمین ۶
یعنی یہ وہا بی ملحد بے دین کہ مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں ۔
(۶الدر ر السنیہ فی الرد علی الوہا بیۃ المکتبہ الحقیقۃ استنبول ترکی ص ۳۸ )