| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۱(کتاب النکاح) |
الجواب بسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔ الحمد ﷲ الذی لم یرتض الطیبات الاللطیبین الاخیار وترک الخبیثین للخبیثات الاقذا ر والصلٰوۃ والسلام علی من امرنا بالتجنب عن کلاب النار وعلٰی اٰلہ وصحبہ الشاھرین سیوفھم علٰی رؤوس المبتدعین الفجار۔
اس اللہ تعالٰی کے لیے حمدہے جس نے طیبات کو صرف طیب لوگوں کے لیے منتخب فرمایا اور خبیث خبیث لوگوں کے لیے چھوڑ دیا گیا اور صلوٰۃ وسلام اس پر جس نے ہمیں جہنم کے کتوں سے بچنے کا حکم فرمایا ہے اور آپ کے آل و اصحاب پر جو بدعتی فاجر لوگوں پر اپنی تلواریں لہرا رہے ہیں۔ (ت)
فی الواقع صورت مستفسرہ میں وہ نکاح یا تو شرعا محض باطل و زنا ہے یا ممنوع وگناہ، سائل سنی صاحب معاملہ سنی وسنیہ۔ برادران سنت ہی سے خطاب ہے اور انھیں کو حکم شرع سے اطلاع دینی مقصود کہ ایک ذرا بنگاہ غور ملاحظہ فرمائیں، اگر دلیل شرعی سے یہ احکام ظاہر ہوجائیں تو سنی بھائیوں سے توقع کہ نہ صرف زبانی قبول بلکہ ہمیشہ اسی پر عمل فرمائیں گے اور اپنی کریمہ عزیزہ بنات واخوات کو ہلاک وابتلا اور دین وناموس میں گرفتاری بلاسے بچائیں گے وباللہ التوفیق، وہابی ہو یا رافضی جو بد مذہب عقائد کفریہ رکھتا ہے جیسے ختم نبوت حضور پر نور خاتم النبیین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا انکار یا قرآن عظیم میں نقص ودخل بشری کا اقرار، تو ایسوں سے نکاح با جماع مسلمین بالقطع والیقین باطل محض وزنائے صرف ہے اگرچہ صورت صورت سوال کا عکس ہویعنی سنی مردایسی عورت کونکاح میں لانا چاہے کہ مدعیان اسلام میں جو عقائد کفریہ رکھیں ان کا حکم مثل مرتد ہے کما حققنا فی المقالۃ المسفرۃ عن احکام البدعۃ والمکفرۃ (جیساکہ ہم نے اپنے رسالہ ''المقالۃ المسفرۃ عن احکام البدعۃ والمکفرۃ'' میں تحقیق کی ہے۔ ت)
ظہیریہ وہندیہ وحدیقہ ندیہ وغیرہامیں ہے:
احکامھم مثل احکام المرتدین ۱؎
(ان کے احکام مرتدین والے ہیں۔ ت)
( ۱؎ حدیقہ ندیہ الاستخفاف بالشریعۃ کفر مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/۳۰۵)
اور مرتدمرد خواہ عورت کا نکاح تمام عالم میں کسی عورت ومرد مسلم یا کافر مرتدیااصلی کسی سے نہیں ہوسکتا،
خانیہ وہندیہ وغیرہمامیں ہے:
واللفظ للاخیرۃ لایجوز للمرتدان یتزوج مرتدۃ ولامسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلک لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد کذافی المبسوط۲؎۔
دوسری کے الفاظ یہ ہیں مرتد کے لیے کسی عورت، مسلمان، کافرہ یا مرتدہ سے نکاح جائز نہیں، اور یونہی مرتدہ عورت کا کسی بھی شخص سے نکاح جائز نہیں۔ جیساکہ مبسوط میں ہے۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ القسم السابع المحرمات بالشرک کتاب النکاح نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۲۸۲)
اور اگر ایسے عقائد خود نہیں رکھتا مگر کبرائے وہابیہ یامجتہدین روافض خذلہم اللہ تعالٰی کہ وہ عقائد رکھتے ہیں انھیں امام وپیشوا یامسلمان ہی مانتا ہے تو بھی یقینا اجماعا خود کافر ہے کہ جس طرح ضروریات دین کا انکار کفر ہے یونہی ان کے منکر کو کافر نہ جاننا بھی کفر ہے،
وجیز امام کردری ودرمختار وشفائے امام قاضی عیاض وغیرہا میں ہے:
واللفظ للشفاء مختصراً اجمع العلماء ان من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۱؎۔
شفاء کے الفاظ اختصاراً یہ ہیں، علما کا اجماع ہے کہ جو اس کے کفر وعذاب میں شک کرے وہ کافرہے۔ (ت)
(۱؎ کتاب الشفاء القسم الرابع الباب الاول دارسعادت بیروت ۲/۲۰۸) (درمختار کتاب الجہاد باب المرتد مجتبائی دہلی ۱/۳۵۶)
اور اگرا س سے بھی خالی ہے ایسے عقائد والوں کو اگرچہ اس کے پیشوایانِ طائفہ ہوں صاف صاف کافر مانتا ہے (اگرچہ بد مذہبوں سے اس کی توقع بہت ہی ضعیف اور تجربہ اس کے خلاف پر شاہد قوی ہے) تو اب تیسرا درجہ کفریات لزومیہ کا آئے گا کہ ان طوائف ضالہ کے عقائد باطلہ میں بکثرت ہیں جن کا شافی ووافی بیان فقیر کے رسالہ الکوکبۃ الشہابیۃ فی کفریات ابی الوھابیۃ (۱۳۱۲ھ) میں ہے اور بقدر کافی رسالہ سل السیوف الھندیہ علی کفریات باباالنجدیۃ (۱۳۱۲ھ) میں مذکور ۔ اور اگرچہ نہ ہو تو تقلید ائمہ کو شرک اور مقلدین کو مشرک کہنا ان حضرات کا مشہور ومعروف عقیدہ ضلالت ہے یونہی معاملات انبیاء واولیاء واموات واحیأ کے متعلق صدہا باتوں میں ادنٰی ادنٰی بات ممنوع یا مکروہ بلکہ مباحات ومستحبات پر جا بجا حکم شرک لگادینا خاص اصل الاصول وہابیت ہے جن سے ان کے دفاتر بھرے پڑے ہیں، کیا یہ امور مخفی ومستور ہیں، کیا ان کی کتابوں زبانوں رسالوں بیانوں میں کچھ کمی کے ساتھ مذکور ہیں، کیا ہر سنی عالم وعامی اس سے آگاہ نہیں کہ وہ اپنے آپ کو موحد اور مسلمانوں کو معاذاللہ مشرک کہتے ہیں آج سے نہیں شروع سے ان کا خلاصہ اعتقاد یہی ہے کہ جو وہابی نہ ہو سب مشرک،
ردالمحتار میں اسی گروہ وہابیہ کے بیان میں ہے:
اعتقدوا انھم ھم المسلمون وان من خالف اعتقاد ھم مشرکون ۲؎۔
ان کا اعتقاد یہ ہے کہ وہی مسلمان ہیں او ر جو عقیدہ میں ان کے خلاف ہو وہ مشرک ہے (ت)
(۲؎ ردالمحتار باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۳۱۱)