Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
99 - 198
مسئلہ ۲۰۹تا۲۱۲ : ازسہسرام عربیہ     مرسلہ مولوی ظفرالدین صاحب مدرس اوّل     ۱۵ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ 

(۱)عید یہاں پنجشنبہ کو ہُوئی مگر پھلواری میں سات آدمیوں کی رؤیت کے مطابق حسب الحکم شاہ بدرالدین صاحب چہار شنبہ کی عید ہُوئی اس کے بارے میں انہوں نے مجھے خط لکھا پھر جب میں بانکی پور گیا تو بطور استفاضہ خبر مجھے پھلواری میں سات آدمیوں کا چاند دیکھنا اور شاہ صاحب کا حکم دینا معلوم ہوا تو جب عید چہار شنبہ کی ہُوئی تو ذیقعدہ و ذی الحجہ دونوں مہینوں کے چاند تیس ہی کے مانے جائیں جب بھی سہ شنبہ کو ذی الحجہ ہوتی ہے مگر اس طریقہ پر ثبوت یہاں سوائے میرے کسی کو نہیں، تو آیا میرے فتوٰی دینے سے یہاں کے لوگوں کو نماز پڑھنا جائز ہوگا خود اسی شہر میں وُہ خبر بطور استفاضہ آنے کی ضرورت ہے۔
 (۲)یوم صومکم یوم نحرکم یہ کیسی حدیث ہے اور کس کتاب میں ہے اور کس موقع پر حضرت علی رضی اﷲتعالٰی عنہ سے فرمایا تھا یہاں بالاتفاق روزِ شنبہ کو عید ہُوئی مگریہاں کے کسی شخص نے نہ عید کاچاند دیکھا نہ ذی قعد ہ کا، صرف میرے فتوٰی و حکم کے مطابق ایسا ہوامیں نے اپنی تسلّی کے لیے یہ سوالات کئے ہیں ،شامی، قاضیخان، سراجیہ، بحرالرائق، عالمگیریہ، فتح القدیر، کافی میں ثبوت نہیں ملا، اس لئے حضور کو تکلیف دی ۔
 (۳) آج کل کے علماء قاضی کے حکم میں ہوں گے یا نہیں؟اور اس کے لیے کیا کیا شرط ہے؟ یہ تمام عالم جس نے درسی کتابیں پڑھ لی ہوں اوردرس یا وعظ میں مشغول ہو۔

(۴) نماز عیدالاضحی کے لیے لوگوں کا چاند دیکھنا یا دوسری جگہ کی رؤیت بطریق موجب ثابت ہونا بایں معنی ضرور ہے کہ جب تک نہ ہوگا اُن لوگوں پر نماز واجب نہ ہوگی یا باوجود رؤیت عامہ بلاد اگر کسی جگہ کے لوگ بوجہ ابر خود نہ دیکھ سکے، نہ دس دن کے اندر کہیں سے کچھ معلومات یقینی بہم پہنچاسکے، حالانکہ جس وقت لوگ اس غفلت سے بیدار ہُوئے تو اس کا موقع تھا کہ طریق موجب کے ذریعہ ثبوت حاصل کرسکتے تھے، مگر ایسا نہ کیا اور باوجود ان سب باتوں کے پھر نماز عیدالاضحی اُس  دن جو ہر جگہ ۱۰ذی الحجہ تھی اور اُن کے حساب سے ۹ تھی یہ نماز ہوگی یا نہیں؟ اور قربانی جوکی گئی وُہ ٹھیک ہُوئی یا نہیں ؟بینواتوجروا
الجواب: (۱) یہ گواہی کہ فلاں شہر والوں نے چاند دیکھا مقبول نہیں اگر چہ شاہد ایک جماعت ہو کہ یہ نہ
شہادۃ علی الرؤیۃ نہ شہادت علی الشہادت۔
فتح القدیر و بحرالرائق و عالمگیریہ وغیرہا میں ہے:
لوشھد جماعۃ ان اھل بلدۃ کذارأواھلال رمضان قبلکم بیوم فصامواوھذاالیوم ثلثون بحسابھم ولم یرھؤ لاء الھلال، لا یباح فطر غدولاترک التروایح فی ھذہ اللیلۃ لانھم لم یشھد وابالرؤیۃ ولا علی شھادۃ غیرھم وانما حکوا رؤیۃ غیرھم۔۱؎
اگر لوگوں کی جماعت نے گواہی دی کہ فلاں اہلِ شہر نے تم سے ایک دن پہلے رمضان کا چاند دیکھا اور انہوں نے روزہ رکھا اوراُن کے حساب سے تیسواں دن ہے لیکن ان لوگوں نے چاند نہیں دیکھا تو آئندہ کل وہ عید نہ کریں اور نہ ہی اس رات کی تراویح ترک کریں کیونکہ اس جماعت نے نہ تو چاند دیکھنے پر گواہی دی اور نہ دو سروں کی شہادت پر گواہی دی، اُنہوں نے صرف دوسروں کی رؤیت کی حکایت کی ہے۔(ت)
 (۱؎ فتح القدیر             فصل فی رؤیۃ الہلال         مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر         ۲ /۲۴۳)

(فتاوٰی عالمگیری         الباب الثانی فی رؤیۃ الہلال     نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۱۹۹)

(بحرالرائق             کتاب الصوم         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۲ /۲۷۰)
استفاضہ کے بعد تحقیق معتبر ہے خاص اس شہر کا جہاں حاکم شرعی ہو کہ اب یہ شہادۃ علی الحکم ہوگی، تنبیہ الغافل الوسنان میں ہے:
لما کانت الاستفاضۃ بمنزلۃ الخبر المتواتر وقد ثبت بھا ان اھل تلک البلدۃ صاموایوم کذا لزم العمل بھالان المراد بھا بلدۃ فیھا حاکم شرعی۔ ۱؎
جب شہرت، خبر متواتر کے درجہ پر ہو اور شہرت سے یہ ثابت ہوجائے کہ فلاں اہلِ شہر نے فلاں دن روزہ رکھا ہے تو اس پر عمل لازم ہوگا کیونکہ اس سے مراد وہی شہر ہے جس میں کوئی نہ کوئی حاکمِ شرعی ہوگا(یعنی حاکم کے فیصلہ کے بعد ہی وہاں عمل ہُوا)۔(ت)
 ( ۱؂تنبیہ الغافل والوسنان     رسالہ من رسائل ابن عابدین رسالہ نمبر۹ سہیل اکیڈمی لاہور    ۱ /۲۵۲)
 (ردالمحتار میں ہے:
فکانت تلک الاستفاضۃ بمعنی نقل الحکم المذکور۔۲؎)
وہ شہرت بمعنی حکم مذکور کے منقول ہونے کے ہے۔(ت)
 ( ۲؎ ردالمحتار  کتاب الصوم مصطفی البابی مصر  ۲ /۱۰۲)
حاکمِ شرعی سلطانِ اسلام یا قاضی مولی من قبلہ ہے، یا امورِ فقہ میں فقیہ بصیر افقہ بلد، نہ آج کل کے عام مولوی۔ یہی جوابِ سوال نمبر ۳ہے۔ آج کل درسی کتابیں پڑھنے پڑھانے سے آدمی فقہ کے دروازے میں بھی داخل نہیں ہوتا نہ کہ واعظ جسے سوائے طلاقت لسان کوئی لیاقت جہاں درکار نہیں، خصوصاً جبکہ خاص مسائل رؤیت ہلال میں جمیع ائمہ سے تفرد ہو۔
والمسئلۃ فی الحدیقۃ الندیۃ عن فتاوی الامام العتابی
 (اس مسئلہ کی پوری تفصیل حدیقہ ندیہ میں فتاوٰی امام عتابی سے منقول ہے۔ت)
 (۲)مولٰی علی سے نہ فرمایا بلکہ مولٰی علی نے فرمایا کرم اﷲوجہہ، یہ اثر کسی کتابِ حدیث سے نظر میں نہیں، فقہا نے ذکر کیا اور ساتھ ہی فرمادیا کہ یہ اُسی عام(سال)کو تھا نہ عام کو، یعنی اسی سال کے لئے تھا اور سالوں کے لیے نہیں۔ فتاوٰی کبریٰ وخزانۃ المفتین میں ہے:
مایروی ان یوم نحرکم یوم صومکم کان وقع ذلک العام بعینہ دون الابد۔۳؎
یہ جو مروی ہے کہ تمہاری قربانی کا دن ہی تمہارے روزے کا دن ہے۔ یہ صرف اسی ایک معین سال کا معاملہ تھا دائمی نہیں۔(ت)
 ( ۳؎ خزانۃ المفتین     کتاب الصوم             قلمی نسخہ         ۱ /۶۰)
وجیز کردری میں ہے:
مانقل عن علی رضی اﷲتعالٰی عنہ ان یوم اول الصوم یوم النحر لیس بتشریع کلی بل اخبار عن اتفاقی فی ھذہ السنۃ۔۱؎
جو حضرت علی رضی اﷲتعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ روزے کا پہلا دن ہی قربانی کا دن ہے، یہ ضابطہ شرعی کابیان نہیں بلکہ اسی سال اتفاقی معاملہ کے بارے میں اطلاع ہے۔(ت)
 (۱؂فتاوٰی بزازیہ علی حاشیہ فتاوٰی ہندیہ     الاوّل فی الشہادۃ من کتاب الصوم     نورانی کتب خانہ پشاور     ۴ /۹۶)
تحقیق میں تقصیر سے الزام نہ ہُوا مگر بے تحقیق محض افواہ پر عید و قربانی صحیح نہ ہوئی اگر چہ واقع میں دہم میں ہو، کہ جس طرح صحتِ نماز کے لیے دخولِ وقت شرط ہے یونہی اعتقادِدخول بھی۔ اگر اسے شک ہے کہ ثبوت نہیں اور جزافاً نماز پڑھ لی نماز فاسد ہوئی اگر چہ وقت حقیقۃً ہوگیا ہو، یونہی نمازِ عید بھی کہ ہر مفسد صلواتِ خمس مفسدِ عیدین بھی ہے، امداد الفتاح و مراقی الفلاح وردالمحتار میں ہے:
یشترط اعتقاد دخولہ لتکون عبادتہ بنیۃ جازمۃ لان الشک لیس بجازم حتی لوصلی وعندہ ان الوقت لم یدخل فظھرانہ کان قد دخل لاتجزیہ۔۲؎
نماز کے لیے دخولِ وقت کا اعتقاد بھی شرط ہے تاکہ نیّتِ جازمہ کے ساتھ عبادت ادا ہوکیونکہ شک سے جزم پیدا نہیں ہوتا حتی کہ اگر کسی نے یہ خیال کرتے ہوئے نماز پڑھی کہ ابھی وقت داخل نہیں ہُوا اور بعد میں پتا چلا کہ وقت داخل ہوچکا تھا تو اس صورت میں اس کی نماز کافی نہ ہوگی(ت)
 (۲؎مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی     باب شروط الصّلٰوۃ             نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۱۱۷)
ردالمحتار میں امداد کے لفظ یہ ہیں:
وکذایشترط اعتقاد دخولہ فلوشک لم تصح صلوتہ وان ظھر انہ قد دخل۔۳؎
اسی طرح دخولِ وقت کا اعتقاد بھی شرط ہے پس اگر نمازی کو وقت کے بارے میں شک تھا تو اس کی نماز نہ ہوگی اگرچہ بعد کو پتا چلے کہ وقت داخل ہوچکا تھا۔(ت)
 (۳؎ردالمحتار، باب شروط الصّلٰوۃ،داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۲۶۹)
بدائع امام ملک العلماء میں ہے:
کل ما یفسد سائر الصلوات وما یفسد الجمعۃ یفسد صلٰوۃ العیدین۔۴؎
ہر وہ شیئ جو باقی نمازوں اور نماز جمعہ کو فاسد کرتی ہے وُہ نمازِ عیدین کو بھی فاسد کرتی ہے(ت)
 (۴؎ بدائع الصنائع     فصل فی بیان مایفسد ھا             ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی         ۱ /۲۷۹)
اور جب نماز نہ ہُوئی قربانی نہ ہُوئی کہ شہر میں تقدمِ صلٰوۃ صحتِ اضحیہ ہے
والافھو لحم قدمہ لاھلہ کما نص  علیہ حدیثا وفقھا
 (ورنہ وہ گوشت ہے جو اس نے اپنے اہل کے لیے عید سے پہلے تیار کیا جیسا کہ اس پر حدیث و فقہ میں تصریح ہے۔ت) واﷲتعالٰی اعلم.
Flag Counter