| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج) |
مسئلہ۲۰۸: از افضل گڑھ ضلع بجنور مرسلہ یوسف خاں وغیرہ ۲۶رمضان ۱۳۳۳ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذا میں کہ چاند شعبان کا اکثر جگہ دیکھا اور بہت سے آدمیوں نے نہیں دیکھا مثلاً قصبہ افضل گڑھ میں تخمیناً پندرہ بیس آدمی اقراری چاند دیکھنے یک شنبہ کے ہیں باقی تمام قصبہ خلاف ہے یعنی باقی نے نہیں دیکھا، اب رمضان شریف میں ابر محیط رہا اُسی بنا پر ۳۰ یوم پُورے کرکے روزہ ہر دو فریق نے رکھا، تھوڑے فریق نے ایک یوم پیشتر اور زیادہ فریق نے ایک روز بعد رکھا، اب عید قریب آگئی اگر ابر محیط ہواتو عید فریق اوّل و دوم کو ایک ساتھ کرنا چاہئے یا علیحدہ علیحدہ پورے روزے کرکے کرنا چاہئے حالانکہ ہر فریق اپنے اپنے روزے پُورے ۳۰ کرے گا، اگر دونوں اتفاق سے عید کرتے ہیں تو ایک فریق کے روزے ۳۰ ہوتے ہیں دوسرے کے ۳۱ ہوتے ہیں، ایسی حالت میں کیا کرنا چاہئے ؟ بینو اتوجروا
الجواب :اگر اُس کم فریق میں دو۲ مر د یا ایک مرددو۲ عورتیں ثقہ عادل شرعی جو نہ کسی کبیرہ کے مرتکب ہیں نہ صغیرہ پر مُصِر، نہ خفیف الحرکات، اور انہوں نے ہلالِ شعبان شام یک شنبہ کو دیکھ کر وہاں اگر کوئی عالم فقیہ سنی المذہب دین دار ہے اس کے حضور بلفظ اشھد یعنی میں گواہی دیتا ہُوں کہہ کرگواہی دی، یا وہاں ایسا کوئی عالم نہ تھا تو مسلمانوں کو اپنی رؤیت کی خبر دی اور وہاں شامِ یکشنبہ یا تو مطلع صاف نہ تھا یا لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش نہ کی یا کی تو بے وقت کی، یا ان دیکھنے والوں نے جہاں سے دیکھا جگہ بلند پر یا آبادی سے باہر تھی تو ان صورتوں میں ان شرطوں سے یکم شعبان روز دو شنبہ کی ثابت ہوگئی اور اُس کی بنا پر بضرورت چہارشنبہ کا پہلا روزہ ہوا،جنہوں نے نہ رکھا اُس کی قضا رکھیں، پھر پنجشنبہ آئندہ کو رمضان کے ۳۰ہوکر بضرورت جمعہ کی عید ہوگی، دونوں فریق بالاتفاق جمعہ کی عید کرینگے ، ایک کے ۳۰ روزے ایک کے ۲۹ ہوں گے، ۲۹ والے ایک قضا رکھیں گے ، اور اگر اُس فریق میں دو۲گواہ بھی عادل نہیں یا انہوں نے اس صفت والے عالم کے سامنے لفظ اشھد بمعنی مذکور شہادت نہ دی، یا مطلع صاف تھا اور عام لوگوں نے وقت پر چاند دیکھنے کی کافی کوشش کی اور نظر نہ آیا اور ان لوگوں میں کوئی خصوصیت مثل بلندی مقام یا بیرون آبادی کی نہ تھی توان صورتوں میں دو شنبہ کی یکم شعبان ثابت نہ ہُوئی اور یہ بعض کہ دیکھنا بیان کرتے ہیں غلط کہتے ہیں ان کو دھوکا ہُوا( اور نظر واقع سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ اس دن حال ہلال عادۃً قابلِ رؤیت نہ تھا) لہذا شعبان کی ۳۰چہار شنبہ کوہُوئی، اور یکم ماہِ مبارک پنجشنبہ سے ہوکر پنجشنبہ ۲۹ کو اگر ابر رہے جمعہ کی ۳۰ ہوگی اور اس کم فریق کو بھی جائز نہ ہوگا کہ اپنے زعم کی بنا پر جمعہ کی عید کرلے بلکہ ان پر بھی روزہ رکھنا واجب ہوگا، عام کے ۳۰ ہوگے اور ان کے ۳۰ ہی ہوں گے، پہلا روزہ چہار شنبہ کا رمضان میں محسوب نہ ہوگا اگر چہ ان پر اپنی رؤیت عین کے سبب اُس دن بھی روزہ کا حکم تھا، یہ سب اُس صورت میں ہے کہ غرہ رمضان چہار شنبہ کا کسی اور ثبوتِ شرعی سے ثابت نہ ہوجائے ورنہ آپ ہی جمعہ کی عید ہے۔
ردالمحتار میں ہے:
بقیۃ الاشھر التسعۃ(ای ماعدارمضان والعیدین) لا یقبل فیھا الا شہادۃ رجلین اور رجل وامرأتین عدول احرار غیرمحد ودین کما فی سائرالاحکام، بحرعن شرح الامام الاسبیجابی۔۱؎
باقی نوماہ(یعنی رمضان، عید الفطر اور عید الاضحی کے مہینوں کے علاوہ) میں ایسے دو۲ مرد یا ایک مرد دوخواتین کی گواہی قبول کی جائے گی جو عادل، آزاد اور محدود فی القذف نہ ہوں جیسا کہ بقیہ احکام میں ہوتا ہے، بحر میں شرح امام اسبیجابی سے اسی طرح منقول ہے۔(ت)
( ۱؎ ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲ /۱۰۳)
درمختار میں ہے:
شرط للفطرمع العد الۃ نصاب الشہادۃ ولفظ اشھد ولوکانواببلدۃ لا حاکم فیھا صاموا بقول ثقۃ وافطروا باخبار عدلین للضرورۃ۲؎(ملخصاً)
عیدالفطر کے چاند کے لیے عدالت کے علاوہ نصابِ شہادت اور لفظِ شہادت(یعنی اشہد) کا ہونا بھی ضروری ہے اوروہ ایسا شہر ہوجہاں کوئی حاکم نہ ہوتو ضرورت کے پیش نظر ایک ثقہ کے قول پر لوگ روزہ رکھ لیں اور دو۲ عادل گواہوں کی خبر پر عیدالفطر کرلیں(ملخصاً)(ت)
( ۲درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۸)
ردالمحتار میں بعد عبارت مذکور ہے:
وذکرفی المداد انھا فی الصحو کرمضان والفطر ای فلا بد من الجمع العظیم ولم یعزہ لاحد لکن قال الخیرالرملی الظاھرانہ فی الاھلۃ التسعۃ لافرق بین الغیم والصحو فی قبول الرجلین لفقدالعلۃ الموجبۃ لاشتراط الکثیر وھی توجہ الکل طالبین فلو شھدا فی الصحوبھلال شعبان وثبت بشروط الثبوت الشرعی ثبت رمضان بعد ثلثین یومامن شعبان وان کان رمضان فی الصحو لایثبت بخبر ھما لان ثبوتہ حینئذ ضمنی اھ۱؎مافی الشامی
امداد میں ہے کہ اگر مطلع صاف ہو(تو باقی ماہ بھی) رمضان اور عیدالفطر کی طرح ہیں یعنی عظیم جماعت کی گواہی ضروری ہے، مگر انہوں نے اس قول کی نسبت کسی کی طرف نہیں کی لیکن خیرالدین رملی نے کہا کہ ظاہر یہی ہے کہ باقی مہینوں میں چاند کے معاملہ میں دو۲ مردوں کی گواہی کی مقبولیت کے لیے ابر آلود اور غیر ابر آلود میں کوئی فرق نہیں ہوتا کیونکہ یہاں وُہ علّت ہی مفقود ہے جو جماعتِ کثیر کیلئے شرط ہے اور وُہ ہے سب کا چاند کو تلاش کرنا، پس اگر دو۲ مردوں نے صاف موسم میں شعبان کے چاند کی گواہی دی اور شعبان کے تیس دن مکمل ہونے پر رمضان کا ثبوت ہوجائے گا اگر چہ صاف موسم میں دو ۲ شخصوں کی گواہی سے رمضان ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اب اس کا ثبوت ضمناً ہوگااھ (شامی کی عبارت ختم ہوئی)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲ /۱۰۳)
اقول : فاذا ثبت توجہ الکل طالبین تحقق المانع فلا یقبل تفرد البعض ما لم یتفر دوا بما یقرب الرؤیۃ لھم دون عامۃ الناس فکانت شھادتھم مردودۃ فلایعملوابھا حتی فی انفسھم کما فی الدر رأی مکلف ھلال رمضان او الفطر وردقولہ بدلیل شرعی صام مطلقا وجوبا ۲؎
اقول : تو جب سب کا چاند تلاش کرنا ثابت ہوجائے تو مانع کا ثبوت ہوگا لہذا بعض کی گواہی مقبول نہ ہوگی جب تک یہ بعض، عام لوگوں کے مقابلہ میں چاند کی رؤیت کے قریب (بلند جگہ یا آبادی سے باہر) ہونے میں منفرد نہ ہوں پس ان کی شہادت مردود ہوگی اور اس پر عمل نہیں کیا جائیگا حتی کہ گواہ بھی عمل نہیں کرسکتے جیسا کہ در میں ہے کسی مکلف نے رمضان اور عید الفطر کا چاند دیکھا لیکن اس کا قول دلیل شرعی کی بنا پر رد کردیا گیا تو وُہ وجوباً روزہ رکھے۔
(۲؎ درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۸)
وفی ردالمحتارو افادالخیر الرملی،انہ لوکانواجماعۃ وردت شھادتھم لعدم تکامل الجمع العظیم فالحکم فیھم کذٰلک۔
ردالمحتار میں ہے خیر رملی نے کہا اگر چاند، ایک جماعت دیکھے لیکن عظیم جماعت نہ ہونے کی بنا پر ان کی گواہی مسترد کردی گئی تو ان کا حکم بھی یہی ہے(یعنی وہ روزہ رکھیں)۔(ت)
تنبیہ : لوصام رأی ھلال واکمل العدۃ لم یفطر الامع الامام لقولہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم صومکم یوم تصومون وفطر کم یوم تفطرون رواہ الترمذی وغیرہ والناس لم یفطر وافی مثل ھذا الیوم فوجب ان لایفطر نھراھ۱؎ھذامااخذتہ تفقھا من کلامھم والنزاع واضح کما تری بتوفیق اﷲ والعلم بالحق عند ربی وھو تعالٰی اعلم۔
تنبیہ : اگر چاند دیکھنے والے نے روزہ رکھا اور تیس روزے مکمل کئے تو اب وُہ عیدالفطر امام کے ساتھ ہی کرے(نہ کہ اکیلا) کیونکہ حضور سرورِ عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے''روزے کا وہ دن ہے جس میں تم روزہ رکھتے ہو اور عید کا وہ دن ہے جس میں تم عیدکرتے ہو''۔ اسے ترمذی اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے، اور باقی دیگر لوگ اس دن عید نہیں کررہے لہذااس شخص پر واجب ہے کہ وہ عید نہ کرے نہر اھ یہ وہ تفصیل ہے جو بندہ نے فقہاء کے کلام سے سمجھی ہے اور اﷲکی توفیق سے اب نزاع بھی واضح ہوگیا جیساکہ آپ نے پڑھ لیا، اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے، وھو تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲ /۹۸)