Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
97 - 198
علامہ عبد الغنی نابلسی حدیقہ ندیہ  میں فرماتے ہیں:
اما خبر التواتر من الناس لبعضھم بعضابذٰلک فھو ممنوع لاسناد الکل فیہ الی الظن والتوھم والتخمین واستفاضۃ الخبر من بعضھم لبعض بحیث لوسألت کل واحدمنھم عن رؤیۃ ذٰلک و معاینتہ لقال لم اعاینہ وانما سمعت، ومن قال عاینتہ تستکشف عن حالہ فتراہ مستنداالٰی ظنون وامارات وھمیۃ وعلامات ظنیۃ و ربما اذا تأملت وتفحصت وجدت خبرذٰلک التواتر الذی تزعمہ کلہ مستند افی الاصل الی خبرواحد او اثنین۱؎الٰی اٰخرماافادواجاد رحمہ اﷲتعالٰی۔
کسی خبر کو لوگوں میں سے بعض کا بعض سے تواتر نقل کرنا ممنوع ہے کیونکہ اس سلسلہ میں ان میں سے ہر ایک کی نسبت ظن، وہم اور تخمین کی ہے، اور خبر کا ایک دوسرے سے اس طرح مشہور ہونا کہ اگر ان میں سے ہرایک سے پُوچھا جائے کہ تُونے دیکھا ہے اور مشاہدہ کیا ہے تو وُہ کہے گا میں نے مشاہدہ تو نہیں کِیا ہاں سُنا ہے، اور  جو کہے میں نے مشاہدہ کیا ہے تو اس کا حال معلوم کیا جائے گا تو اسے علاماتِ ظنیہ اور اماراتِ و ہمیہ اور ظنیات کو سند بنائے ہوئے پائیگا اور اکثر طور پر ایسا ہوتا ہے کہ تو غور و تلاش کرے تو وُہ خبر جس کو تُومتواتر مستند گمان کررہا تھا وہ اصل میں ایک یا دو۲ کی خبر ہوتی ہے الخ انہوں نے جو کہا خوب کہا اﷲتعالٰی ان پر رحمتیں نازل فرمائے(ت)
 (۱؎ الحدیقۃ الندیۃ     الصنف التاسع تتمۃالاصناف التسعۃ         مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد         ۲ /۵۲۱)
اور یہ زعم ہم کو تو یقین ہوگیا صحیح نہیں، یقین وُہ ہے جو حجتِ شرعیہ سے ناشئی ہو، یُوں توایک جماعت ثقات عدول کی وقعت ان چند مجہولوں یا ساقطوں یا تار و خطوط کی اوہام و ضبوط سے کیا کم تھی، انصاف کیجئے تو بدرجہا زائد تھے

پھر کیوں علمائے دین نے اسکی بے اعتباری کی تصریح فرمائی ،
کمامرنقلہ عن الھندیۃ والفتح ونحوہ فی البحرالرائق والدرالمختار ومجمع الانھر وغیرھا من الاسفار۔
جیساکہ ہندیہ اور فتح کے حوالےسے گزرچکا ، اسی طرح بحرالرائق، درمختار، مجمع الانہر اور دیگر کتبِ معتمدہ میں ہے(ت)

بلکہ وہ استفاضہ جو شرعاً معتبر ہے اُس کے معنی یہ ہیں کہ اُس شہر سے گروہ کے گروہ متعدد جماعتیں آئیں اور سب بالاتفاق یک زبان بیان کریں کہ وہاں فلاں شب چاند دیکھ کر لوگوں نے روزہ رکھا یہاں تک کہ اُن کی خبر پر یقین شرعی حاصل ہو۔
ردالمحتار میں ہے:
قال الرحمتی معنی الاستفاضۃ ان تاتی من تلک البلدۃ جماعات متعددون کل منھم یخبر عن اھل تلک البلدۃ انھم صامواعن رؤیۃ لامجرد الشیوع من غیرعلم بمن اشاعہ کما قد تشیع اخبار یتحدث بھاسائر اھل البلدۃ  ولا یعلم من اشاعھا کما وردان فی اٰخرالزمان یجلس الشیطان بین الجماعۃ فیتکلم بالکلمۃ فیتحدثون بھا ویقولون لاندری من قالھا فمثل ھذالا ینبغی ان یسمع فضلا من ان یثبت بہ حکم اھ(قلت)وھو کلام حسن ویشیرالیہ قول الذخیرۃ اذااستفاض وتحقق فان التحقق لایوجدبمجرد الشیوع۔۱؎
شیخ رحمتی نے فرمایا: شہرت کامفہوم یہ ہے کہ اس شہر سے متعدد جماعتیں آئیں اور تمام اس بات کی اطلاع دیں کہ وہاں کے لوگوں نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا ہے محض ایسی افواہ سے نہیں جس کے پھیلانے والا معلوم نہ ہو، جیسا کہ بعض اوقات بہت سی باتیں شہر میں پھیل جاتی ہیں لیکن وہ یہ نہیں  جانتے ہوتے کہ انہیں کس نے پھیلایا ہے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہے کہ آخری زمانے میں شیطان لوگوں کے درمیان آکر  بیٹھے گا اور وہ کچھ گفتگو کرے گا تو لوگ وہ گفتگوبیان توکریں گے مگر کہیں گے ہمیں علم نہیں کہ یہ بات کس نے کی ہے، ایسی بات تو قابلِ سماعت ہی نہیں ہوتی چہ جائیکہ اس سے حکم ثابت ہواھ(میں کہتا ہوں) یہ کلام نہایت ہی خوبصورت ہے اور ذخیرہ کا یہ قول کہ'' جب خبر مشہور و متحقق ہوتو تب لازم ہے ورنہ محض شہرت ثبوت نہیں ہوتا'' بھی اسی کی طرف اشارہ کررہا ہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار        کتاب الصوم         مصطفی البابی مصر        ۲ /۱۰۲)
اسی میں ہے:
الشھادۃ بان اھل البلدۃ رأواالہلال وصاموالانھا لا تفید الیقین فلذالم تقبل الااذا کانت علی الحکم اوعلی شہادۃ غیرھم لتکون شہادۃ معتبرۃ والافھی مجرد اخبار بخلاف الاسفاضۃ فانھا تفید الیقین۔۱؎واﷲتعالٰی اعلم
اس بات پر گواہی کہ فلاں اہلِ شہر نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا ہے چونکہ مفید یقین نہیں اس لیے گواہی مقبول نہیں، البتہ اس صورت میں جب قاضی کے فیصلہ ہو یا غیر کی گواہی پرگواہ ہوں تاکہ یہ شہادت معتبرہ قرار پائے تو مفید یقین ہے ورنہ یہ محض خبر ہوگی بخلاف استفاضہ، کیونکہ وہ مفید یقین ہوتی ہے،واﷲتعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ ردالمحتار         کتاب الصوم         مصطفی البابی مصر    ۲ /۱۰۲)
مسئلہ۲۰۷: از بہرائچ چوک بازار مرسلہ حافط محمد شفیع صاحب     ۲۶ماہ مبارک ۱۳۳۳ھ

رمضان شریف کا چاند غبار یا ابر ہونے کی حالت میں صرف ایک شخص نے دیکھا اور قاضی نے اُس پر فتوٰی چاند ہونے کا دے دیا اب کیا غرہ شوال اُس سے تیس دن پُورے ہوجانے پر ثابت ہوجائے گا گو چاند بوجہ غبار یا ابر کے اُس رات کو نظر نہ آئے یا ایسا ایک سے زائد عادل گواہ ہونے پر کیا جاسکتا ہے ، بینواتوجروا۔
الجواب : جبکہ ہلال ماہ مبارک بوجہ غبار ایک کی شہادت سے مان کر ۳۰ روزے پُورے کئے اور ہلالِ شوال بوجہ ابر نظر نہ آیا تو صحیح یہ ہے کہ بالاتفاق اس صورت میں عید کرلی جائے، ہاں اگر تیس۳۰ روزوں کے بعد مطلع صاف ہُوا اور عید کا چاند نظر نہ آئے اور رمضان کا چاند شاہد واحد کے قول پر مانا تھا تو راجح یہ ہے کہ عید نہ کریں گے اوراگر دو۲ عادلوں کی گواہی سے روزے رکھے تھے توقول ارجح پر ۳۰  کے بعد عید کرلیں گے اگر مطلع صاف ہواور ہلال نظر نہ آئے ،
درمختار میں ہے:
بعد صوم ثلثین بقول عدلین حل الفطر۔۲؎
دو۲ عادل آدمیوں کی گواہی پر رمضان کے روزے رکھنے شروع کئے تھے تو ۳۰ روزوں کے بعد عید جائز ہوتی ہے
(۲؎ در مختار،کتاب الصوم قبیل باب مایفسد الصوم مطبع مجتبائی دہلی ،۱ /۱۴۹)
 (اتفاقا ان کانت لیلۃ الحادی والثلثین متغیمۃ وکذا لوکان مصحیۃ علی ماصححہ فی الدرایۃ والخلاصۃ والبزازیۃ وفی الفیض الفتوی علی حل الفطر اھ۱؎شامی)
 (اتفاقاً اگر اکتیسویں رات ابر آلود ہو اور اگر مطلع صاف ہو پھر بھی درایہ، خلاصہ اور بزازیہ کی تصحیح کے مطابق یہی حکم ہے اور فیض میں ہے کہ فتوٰی اسی قول پر ہے ک عیدالفطر جائز ہوگی اھ شامی)
 (۱؎ ردالمحتار         کتاب الصوم         مصطفی البابی مصر    ۲ /۰۳-۱۰۲)
ولوصاموابقول عدل لایحل علی المذھب کذاذکرہ المصنف لکن قول الفطر حل اتفاقا وفی الزیلعی الاشبہ ان غم حل والالا اھ۲؎وتنقیحہ فی ردالمحتار وماعلقنا علیہ،واﷲتعالٰی اعلم۔
اور اگر ایک عادل کے قول پر انہوں نے روزہ رکھنا شروع کیا تھا تو صحیح مذہب پر عید کرنا درست نہیں، مصنف نے اسی طرح اسے ذکر کیا ہے لیکن ابن کمال نے ذخیرہ سے یہ نقل کیا ہے کہ اگر چاند رات مطلع ابر آلود ہوتو بالاتفاق عید جائز ہے، زیلعی میں ہے کہ مشابہ بالحق یہ ہے کہ اگرمطلع ابر آلود ہوتو عید جائز، ورنہ جائز نہیں اھ اس کی تفصیل ردالمحتار اور اس پر ہمارے حواشی میں ہے، واﷲتعالٰی اعلم (ت)
 (۲؎ درمختار          کتاب الصوم   قبیل مایفسد الصوم     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۱۴۹)
Flag Counter