Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
96 - 198
مسئلہ۲۰۴: از پیلی بھیت     مسئولہ عبدالجلیل سوداگر        ۱۳صفر المظفر ۱۳۳۴ھ

جناب مولانا صاحب مکرم دام اکرامکم بعد ہدیہ سلام سنّت الاسلام کے گزارش یہ ہے کہ اس مرتبہ رمضان المبارک کے چاند میں اختلاف ہوکر عیدالفطر میں اکثر اتفاق ہوگیاہے، چنانچہ بریلی میں بھی جمعہ کی عید ہوئی، سناگیا ہے کہ آپ نے پنجشنبہ کی شام کو بعد مغرب ارشاد فرمایا تھا کہ چونکہ آج ۳۰ رمضان المبارک ہے اس وجہ سے ہم تراویح نہیں پڑھیں گے اور کل سے بروز جمعہ روزہ نہیں رکھیں گے لیکن دوسروں کو حکم نہیں دیتے ہیں، بعد کو شہادتوں سے چاند رمضان کا منگل کے دن ثابت ہو کر  پنچشنبہ کو ۳۰ رمضان قرار پائی اور جمعہ کو عید ہُوئی، کارڈ ثانی پر جلد تحریر فرمائیے کہ آپ کا یقین مردوں کی باتوں پر تھا یا ذریعہ اطمینان کوئی اور تھا اور شہادتیں مصر سے آئے ہُوئے لوگوں کی ہیں یا ہندوستان سے کس مقام سے تحقیق ہواس لیے تصدیق کیا جاتا ہے کہ آئندہ کو کام آئے۔بینو اتوجروا
الجواب :یہاں نہ منگل کو ہلال رمضان دکھائی دیا نہ پنجشنبہ کو ہلالِ عید، ابر تھا اور بہت گہرا، شبِ جمعہ میں میں نے تراویح پڑھیں اور صبح روزہ کی نیت کی تھی کہ دفعۃً مصر سے کچھ لوگوں کے آنے کی خبر سُنی جنہوں نے وہاں ہلالِ رمضان منگل کی شام کو دیکھا تھا وُہ بُلائے گئے اور اُنہوں نے شہادتیں دیں اور پوری تنقیح کی گئی اور رات کے ایک بجے صبح عید کاحکم دیا گیا اور اُسی وقت سے شہر و شہر کُہنہ و اطرافِ شہر میں اعلان کیا گیا،یُوں یہاں جمعہ کی عید ہُوئی ورنہ افوا ہیں تو پہلے سے سُنی جاتی تھیں جن پر حکم نہیں ہوسکتا تھا، واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۰۵: از منڈی افریقہ     مسئولہ حاجی عبد اﷲ حاجی یعقوب     ۲۴محرم ۱۳۳۱ھ

منڈی شہر میں سب آدمی مذہب شافعی ہیں اور حنفی مذہب والے ہم چند آدمی ہیں ، اب یہاں پر روزے ۲۹ ہُوئے، ۳۰ کی رات کو ابر بہت ہونے کے سبب سے چاند دیکھنے میں نہیں آیا لیکن بعد نماز مغرب کے تین شہروں سے ٹیلی گراف آئے کہ ہم نے چاند دیکھا ہے شوال کا ،اور کل عید ہے ،لیکن یہاں کے قاضی صاحب نے ٹیلی گراف کی خبر کو قبول نہ کیا اور تراویح کی نماز پڑھی اور پڑھائی اور روزہ بھی سب سے رکھایا، لیکن جب سورج طلوع ہوا، بعد دو۲ ساعت کے منڈی شہر کے آس پاس کے باغیچوں سے آدمی آئے اُنہوں نے گواہی دی کہ ہم نے چاند دیکھا، تب قاضی صاحب نے شاہدوں سے گواہی لے کرروزہ کھولنے کا حکم دیا، تب تمام آدمیوں نے روزہ توڑدیااور خود بھی قاضی صاحب نے روزہ توڑ دیا، اُس دن بہت دیر ہونے کے سبب سے عید کی نماز نہیں پڑھی گئی دُوسرے دن عید کی نماز ہُوئی، اب ہم کو دُوسرے آدمی کہتے ہیں کہ ہم کو ایک روزہ قضا کرنا چاہئے۔ اب ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا ہم کو ایک روزہ قضا کرنا پڑے گا؟
الجواب :تاربرقیوں پر کہ قاضی نے اعتبار نہ کیا بہت صواب کیا، ایسا ہی چاہئے تھا، دربارہ ہلال خط یا تار کا کچھ اعتبار نہیں، صبح کو جو چند شہادتیں گزریں وہ لوگ اگر ثقہ اور ہلال عید میں قابلِ شہادت تھے اور اتنے فاصلہ پر تھےکہ رات کو آکر گواہی نہ دے سکتے تھے تو اُن کی گواہی مان کر روزہ کھولنے کا حکم دینا بھی صحیح ہے اور اُس روزہ کی قضا نہیں کہ ثبوتِ شرعی سے ثابت ہوگیا کہ وہ روزِ عید تھا نہ کہ روزہ رمضان کا۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۶: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شہرت واستفاضہ جو دربارہ ہلال شرعاً معتبر ہے اُس کے کیا معنی ہیں؟ اور مجرد شیوع و اشتہار خبر کافی ہے یا نہیں؟بینو اتوجروا
الجواباصل یہ ہے کہ مدارِ کار حقیقۃً رؤیت پر ہے وبس،
  قال رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم صوموالرؤیتہ وافطر والرؤیتہ۔۱؎اخرجہ الشیخان وغیرھما والحدیث مشہورمستفیض۔
رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر عید کرو۔ اسے بخاری، مسلم اور دیگر محدثین نے روایت کیا، اور یہ حدیث مشہور و معروف ہے(ت)
 ( ۱؎ صحیح بخاری         باب اذارأیتم الہلال فصوموا    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۲۵۶)
اور رؤیت کا ثبوت شہادت سے منوط
فان البینۃ کاسمھا مبینۃ(کیونکہ بینہ
 (گواہ) اپنے نام کی طرح واضح کرنیوالے ہیں۔ت) اور شہادت کی حلّت رؤیت سے مربوط
اذلاشہادۃ الاعن شھود
 (کیونکہ شہادت معائنہ کرنیوالوں کے بغیر نہیں ہوتی۔ت)
شہادت علی الشہادت والشہادت علی القضاء
مقبول ہوتی ہے اُن کی وجہ قبول یہی ہے کہ وُہ مثبت شہادت معائنہ ہیں،
اما الاولی فظاھر واماالاخری فلانہ لاحکم الاعن شہادۃ ومثبت المثبت مثبت۔
پہلی صورت تو واضح ہے، رہی دُوسری تو وہ اس لیے کہ حکم شہادت کی بنا پر ہی ہوسکتا ہے اور مثبت کو ثابت کرنے والامثبت ہی ہوتاہے(ت)
توہروُہ گواہ کہ ان امور سے خالی ہو زنہار قابل قبول نہیں، مثلاً ایک جماعت ثقات عدول یُوں گواہی دے کہ فلاں جگہ چاند ہُوا یا فلاں دن اُس شہر والوں نے روزہ رکھا یا آج اُن کے حساب سے فلاں تاریخ ہے ہرگز نہ مانیں گے یہاں تک کہ جو اس پر عمل کرے گا گناہگار ہوگا کہ یہ نہ شہادت رؤیت ہے،نہ شہادت علی الشہادت، نہ شہادت علی القضا، بلکہ مجرد حکایت ہے جو کسی طرح حجت نہیں۔
فتح القدیر و فتاوٰی عٰلمگیریہ میں ہے:
انما یلزم الصوم علی متأخری الرؤیۃ اذا ثبت عندھم رؤیۃ اولٰئِک بطریق موجب  حتی لو شھد جماعۃ ان اھل بلدۃ کذا رأوا ھلال رمضان قبلکم بیوم فصامواوھذا الیوم ثلثون بحسابھم ولم یرھٰؤلاء الھلال لایباح فطر غد ولا ترک التراویح فی ھذہ اللیلۃ لانھم لہم یشھد وابالرؤیۃ ولا علی شہادۃ غیرھم وانما حکوارؤیۃ غیرھم۔۱؎
تاخیر سے چاند دیکھنے والوں پر روزہ تب لازم ہوگاجب ان کے ہاں چاند کا ثبوت بطریق موجب شرعی ہو حتی کہ اگر کسی جماعت نے گواہی د ی کہ فلاں اہل شہر نے تم سے پہلے ایک دن چاند دیکھا اور انہوں نے روزہ رکھا ہے اور یہ دن ان کے حساب سے تیسواں بنتا ہے، لیکن انہوں نے چاند نہیں دیکھا تو ان کے لیے آئندہ کل عید جائز نہیں اور نہ ہی اس رات کی وُہ تراویح ترک کرسکتے ہیں کیونکہ ان لوگوں نے چاند کے دیکھنے پر گواہی نہیں دی اور نہ غیرکے چاند دیکھنے کی گواہی پر گواہی دی ہے اُنہوں نے دُوسروں کی رؤیت کو حکایت کیا ہے(ت)
 (۱؎ فتح القدیر         فصل فی رؤیۃ الہلال         مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر         ۲ /۲۴۳)

(فتاوٰی ہندیۃ     الباب الثانی فی رؤیۃ الہلا ل    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۱۹۹)
ہاں اگر رؤیت شہر دیگر کی خبر اُس حدِشہرت واستفاضہ کو پہنچے جو باعثِ ثبوت رؤیت یقینی و محقق ہوجائے تو صحیح یہ ہے کہ اعتبار کریں گے،
ردالمحتار میں ہے:
فی الذخیرۃ قال شمس الائمۃ الحلوانی الصحیح من مذھب اصحابنا ان الخبر اذا استفاض  وتحقق فیما بین اھل البلدۃ الاخری یلزمھم حکم ھذہ البلدۃ اھ ومثلہ فی الشرنبلالیۃ عن المغنی۔۲؎
ذخیرہ میں ہے کہ شمس الائمہ حلوانی نے کہا ہمارے احناف کا صحیح مذہب یہی ہے کہ جب دوسرے شہر میں خبر مشہور و متحقق ہوتو تب ان پر اس شہر کا حکم لازم ہوگااھ شرنبلالیہ میں المغنی کے حوالے سے اسی طرح ہے۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار         کتاب الصوم         مصطفی البابی مصر        ۲ /۱۰۲)
مگر حاشا مجرد شیوع و شہرت کافی نہیں کہ صدہا خبریں خصوصاً آج کل ایسی اڑتی ہیں جن کاتمام شہر میں چر چا ہوتا ہے، پھر تجربہ گواہ ہے کہ بعد تنقیح محض بے اصل نکلتی ہیں انہیں افواہ کہتے ہیں، نہ استفاضہ شرعیہ، ولہٰذا علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ایسا چرچا محض نا معتبر جب تک ثبوت شرعی نہ ہو، اختیار شرح مختار میں یوم الشک کی نسبت لکھا:
ذٰلک بان یتحدث الناس بالرؤیۃ ولا تثبت۔۳؎
وہ یہ ہے کہ لوگوں میں رؤیت کاچرچا ہومگر ثبوت نہ ہو۔(ت)
 (۳؎ الاختیار لتعلیل المختار       کتاب الصوم         مصطفی البابی مصر        ۱ /۱۳۰)
واقعی ایسی خبروں کی ظاہری شوکت عام لوگوں کودھوکا دیتی ہے مگر تفتیش کے بعد کھلتا ہے کہ حقیقت امر کیا ہے یا ان کی ٹھیک سند منتہی تک ملتی ہی نہیں، جس سے پُوچھئے سُنا، کہے گا ، بعض اپنے مخبر کا نام بھی بتائیں اُن مخبر سے پُوچھئے وہ سُنا کہہ کر چُپ رہیں گے، یا بہزار کاوش و عرق ریزی اصل نکلی تو اتنی کہ فلاں کا خط آیا فلاں نے تار دیا چند مسافر معقول صورت ملے، کہتے تھے فلاں شہر میں لوگوں نے دیکھا ہمارا فلاں قریب اُس شہر بعید سے آیا بیان کیا وہاں ہزاروں نے دیکھا، ہزاروں کا لفظ تو بیشک ہے مگر یہ نہ دیکھا کہ منقول عنہم میں میں ہے یا ناقل میں، غرض ایسی افواہ و حکایات شرعاً قابلِ التفات بھی نہیں، نہ ان کی بنا پر کوئی حکم ثابت ہو، ولہذا امام شمس الائمہ وذخیرہ ومغنی و امداد کا ارشاد سُن چکے کہ ہمارے ائمہ نے صرف استفاضہ واشتہار کافی نہ جانا بلکہ اُس کے ساتھ تحقیق ہوجانے کی قید زیادہ فرمائی۔
Flag Counter