Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
95 - 198
 سوم خطوط و اخبار : بڑی دوڑیہ ہوتی ہے کہ فلاں جگہ سے خط آیا، فلاں اخبار میں یہ لکھا پایا، حالانکہ ہم طریقِ چہارم میں بیان کرچکے کہ حاکم  شرع کا خاص مُہری دستخطی خط جس پر خود اس کی اور محکمہ دارالقضا کی مُہر لگی اور اُس کے اپنے ہاتھ کا لکھا ہو، اور یہاں بھی حاکمِ شرع کے نام آئے ، ہرگز بغیر دو۲ شاہدوں عادل کے جنہیں لکھ کر اپنی کتاب کا گواہ بنا کر خط سپرد کیا اور یہاں اُنہوں نے حاکمِ شرع کو دے کر شہادت اداکی ہو، مقبول نہیں، پھر یہ ڈاک کے پرچے کیا قابل التفات ہوسکتے ہیں، اور اخبار گپیں تو اصلاً نام لینے کے بھی قابل نہیں۔ درمختار میں ہے:
لا یعمل بالخط۲؎
 (خط پر عمل نہیں کیاجائے گا۔ت)
 (۲؎ درمختار،باب کتاب القاضی الی القاضی،مطبع مجتبائی دہلی۔۲ /۸۳)
ہدایہ میں ہے :
الخط یشبہ الخط فلم یحصل العلم۱؎
(تحریر،دوسری تحریر کے مشابہ ہوسکتی ہے تو علم قطعی حاصل نہ ہوا۔ت)
 (۱؎ ہدایہ         باب کتاب القاضی الی القاضی         مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳ /۱۳۹)
چہارم تار: یہ خط سے بھی زیادہ بے اعتبار، خط میں کاتب کے ہاتھ کی علامت تو ہوتی ہے، یہاں اُس قدر بھی نہیں، تو اس پر عمل کوکون کہے گا مگر اجہل سا اجہل جسے علم کے نام سے بھی مَس نہیں، فقیر نے اس کے رَد میں ایک مفصل فتوٰی لکھا اور بحمد اﷲتعالٰی اس پر ہندوستان کے بکثرت علماء نے مُہریں کیں کلکتے میں چھپ کر شائع ہوا تھا، گنگوہی مُلّا نے اپنے ایک فتوٰی میں تار کی خبر اسباب میں معتبر ٹھہرائی اور اُسے تحریر خط پر قیاس کیا تھا کہ تار کی خبر مثل تحریر خط کے ہے کیونکہ تحریر میں حروف اصطلاحی ہیں جس سے مطلب معلوم ہوجاتا ہے خواہ بحرکتِ قلم پیداہوں خواہ کسی لاٹھی یا بانس طویل کی حرکت سے (الٰی قولہ) بہر حال خبر تار کی مثل خط ہے اور معتبر ہے، یعنی خط میں قلم سے لکھتے ہیں تار دینا ایسا ہے کہ کسی بڑے بانس سے جوہزاروں کوس تک لمبا ہے لکھ دیا تو جیسے وہ معتبر ہے ویسے ہی یہ،بلکہ یہ تو زیادہ معتبر ہونا چاہئے کہ وہاں چھوٹا ساقلم ہے اور یہاں اتنا بڑابانس ، تواعتبار بھی اسی نسبت پر بڑھنا چاہئے، شملہ بہ مقدار قلم، قیاس تو اچھا دوڑا تھا مگرافسوس کہ شرعاً محض مردود وناکام رہا۔ اوّلاً: خط و تار میں جو فرق ہیں ہم نے اپنے فتوٰی مفصلہ میں ذکر کئے جو اس قیاس کو از بیخ برکندہ کرتے اور ان سے قطع نظر بھی کیجئے تو بحکم شرع خط ہی پر عمل حرام ، پھر اس بانس کے قیاس کاکیا کام، حکم مقیس علیہ میں باطل ہے تو مقیس آپ ہی عاری و عاطل ہے، مولوی صاحب لکھنوی نے اپنے فتاوٰی میں خط و تار کو بے اعتبار ہی ٹھہرایا اور اس حکم میں حق کی موافقت کی مگر یہ کہنا ہر گز صحیح نہیں کہ خبر تار یا خط بدرجہ کثر ت پہنچ جائے تو اس پر عمل ہوسکتا ہے، اسے استفاضہ میں داخل سمجھنا صریح غلط ، استفاضے کے معنے جو علماء نے بیان فرمائےتھے وُہ تھے کہ طریق پنجم میں مذکور ہُوئے ، متعدد جماعتوں کا آنا اور یک زبان بیان کرنا چاہئے، یہاں اگر متعدد جگہ سے خط یا تار آئے بھی تو اوّلاً وہ اُن وجوہ نا جوازی سے جنہیں ہم نے اس فتوٰی میں مفصلاً ذکر کیا ہرگز بیان مقبول کے سلسلے میں نہیں آسکتے، ڈاک کے منشی، تار کے بابو، چٹھی رساں اکثر کفار یا عموماًمجاہیل یافساق فجار ہوتے ہیں، اور بفرضِ باطل آئیں بھی تویہ تعدد مخبر عنہ میں ہوا نہ کہ مخبرین میں کہ یہاں تار لینے والے بابواگر مسلمان ثقہ ہوں بھی تو ہرگز اتنی جماعاتِ متعدد ہ نہ ہوں گی جن کی اخبار پر یقینِ شرعی حاصل ہو بلکہ عامہ بلاد میں صرف دو ایک ہی تار گھر ہوتے اور صدر ڈاک خانہ تو ایک ہی ہوتاہےاگرچہ بڑے شہر میں تقسیم کے لیے دو چار برانچ اور بھی ہوں ،بہر حال یہ خط یا تار ہم کو تو معدود ہی شخصوں کے ذریعہ سے ملیں گے پھر استفاضے سے کیاعلاقہ ہُوا، کیا اگر زیدآکر کہہ دے کہ فلاں جگہ لاکھ آدمیوں نے چاند دیکھا تو یہ خبر مستفیض کہلائے گے
ولاحول ولا قوۃ الّاباﷲالعلی العظیم۔
پنجم جنتریوں کا بیان : کہ فلاں دن پہلی ہے، اول بعض علمائے شافعیہ و بعض معتزلہ وغیرہم کا خیال اس طرف گیا تھا کہ مسلمان عادل منجموں کا قول اس بارے میں معتبر ہوسکتا ہے اور بعض نے قید لگائی تھی کہ جب اُن کی ایک جماعت کثیر یک زبان بیان کرے کہ فلاں مہینے کی یکم فلاں روز ہے تو مقبول ہونے کے قابل ہے اگر چہ واجب العمل کسی کے نزدیک نہیں، مگر ہمارے ائمہ کرام اور جمہورمحققین اعلام اسے اصلاً تسلیم نہیں فرماتے اور اس پر عمل جائز ہی نہیں رکھتے اور یہی حق ہے کہ حضور پُر نور سیّدعالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم صحیح حدیث میں یہاں قولِ منجمین سے قطع نظر وعدمِ لحاظ کی تصریح فرما چکے، پھر اب اُس پر عمل کا کیا محل۔
درمختار میں ہے :
لاعبرۃ بقول الموقتین ولوعدولا علی المذہب۔۱؎
صحیح مذہب کے مطابق اہلِ توقیت کا قول معتبر نہیں اگر چہ وُہ عادل ہو۔(ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الصّوم     مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۴۸)
ردالمحتار میں ہے:
بل فی المعراج لایعتبر قولھم بالاجماع ولا یجوز للمنجم ان یعمل بحساب نفسہ۔۲؎
بلکہ معراج میں ہے کہ اہلِ توقیت کا قول بالاجماع معتبر نہیں اور منجمین کے لیے جائز نہیں کہ وُہ اپنے حساب پر عمل پیرا ہوں(ت)
 (۲؂ ردالمحتار   کتاب الصوم         مصطفی البابی مصر    ۲ /۱۰۰)
جب منجمین مسلمین ثقات عدول کے بیان کا یہ حال تو آجکل کی جنتر یوں جو عموماً ہنود وغیرہم کفار شائع کرتے ہیں یا بعض نیچری نام کے مسلمان یا بعض مسلمان بھی، تو وُہ بھی انہی ہندوانی جنتریوں کی پیروی سے، کیا قابلِ التفات ہوسکتی ہیں؟ فقیر نے بیس۲۰ برس سے بڑی بڑی نامی جنتریاں دیکھیں، اول مصرانی ہیئت ہی ناقص و مختل ہے پھر ان جنتری سازوں کو اس کی بھی پُوری تمیز نہیں، تقویماتِ کواکب میں وہ وہ سخت فاحش غلطیاں دیکھنے میں آئیں جن میں کوئی سمجھ دار بچّہ بھی نہ پڑتا پھر یہ کیا اور ان کی جنتری کیا، اور ان کی دوج اور پروا کی کسے پروا!
ششم قیاسات و قرائن: مثلاً چاند بڑا تھا روشن تھا دیر تک رہا تو ضرور کل کا تھا، آج بیٹھ کر نکلا تو ضرور پندرھویں ہے، اٹھائیسویں کو نظر آیا تھا مہینہ تیس کا ہوگا، اٹھائیسویں کو بہت دیکھا نظر نہ آیا مہینہ انتیس کا ہوگا۔ یہ قیاسات تو حسابات کی  وقعت بھی نہیں رکھتے،پھر ان پر عمل محض جہل و زلل ۔
حدیث میں ہے حضور پر نور سیّد عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اقتراب الساعۃ انتفاخ الاھلۃ۔۱؎ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن عبداﷲبن مسعود رضی اﷲتعالٰی عنہ۔
قُربِ قیامت کی علامات سے ہے کہ ہلال پُھولے ہوتے نکلیں گے۔ یعنی دیکھنے میں بڑے معلوم ہوں گے۔ (اسے طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت عبداﷲبن مسعود رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے ۔ت)
(۱؎ المعجم الکبیر للطبرانی         حدیث۱۰۴۵۱        المکتبۃ الفیصلیہ بیروت        ۱۰ /۲۴۴)
دوسری حدیث میں ہے رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اقتراب الساعۃ ان یری الہلال قبلا ویقال ھو للیلتین۔۲؎ رواہ فی الاوسط عن انس رضی اﷲتعالٰی عنہ۔
علاماتِ قیامت سے ہے کہ چاند بے تکلف نظر آئے گا کہا جائیگا دو۲ رات کا ہے (اسے طبرانی نے اوسط میں حضرت انس رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
 (۲؎ کنزالعمال بحوالہ طبرانی اوسط،حدیث ۳۸۴۷۰۔مؤسسۃ الرسالۃ بیروت،۱۴ /۲۲۰)
صحیح مسلم شریف میں ابو البختری سعید بن فیروز سے ہے:
قال خرجنا للعمرۃ فلما نزلنا ببطن نخلۃ قال تراء ینا الھلا ل فقال بعض القوم ھو ابن ثلاث وقال بعض القوم ھو ابن لیلتین فقال ایّ لیلۃ رأیتموہ قال قلنا لیلۃ کذا وکذا، فقال ان رسول اﷲصلی اﷲعلیہ وسلم مدہ للرؤیۃ فھو للیلۃ رأیتموہ۔۳؎
ہم عمر ے کو چلے جب بطنِ نخلہ میں اُترے ہلال دیکھا، کوئی بولاتین رات کا ہے،کسی نے کہادو۲رات کا، عبداﷲبن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما سے ملے اُن سے عرض کی کہ ہم نے ہلال دیکھا، کوئی کہتا ہے تین شب کا مدار ہے کوئی دوشب کا۔ فرمایا: تم نے کس رات دیکھا؟ ہم نے کہا فلاں شب۔ کہا رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے اس کا مدار رؤیت پر رکھا ہے تو وُہ اسی رات کا ہے جس رات نظر آیا۔
 (۴؎ صحیح مسلم            باب بیان انہ لا اعتباریکرہ الہلال وصغرہ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۳۴۸)
ہفتم :  کچھ استقرائی کچھ اختراعی قاعدے: مثلاً رجب کی چوتھی رمضان کی پہلی ہوگی۔ رمضان کی پہلی ذی الحجہ کی دسویں ہوگی۔ اگلے رمضان کی پانچویں اس رمضان کی پہلی ہوگی۔ چار مہینے برابر تیس تیس کے ہوچکے ہیں یہ ضرور انتیس کا، تین پے درپے انتیس کے ہُوئے ہیں یہ ضرور تیس کا ہوگا۔ ان کا جواب اسی قدر میں ہے:
ماانزل اﷲبھا من سلطان ۴؎
 (حق سبحانہ نے ان باتوں پر کوئی دلیل نہ اتاری۔)
 (۴؎ القرآن ۱۲ /۴۰)
وجیز امام کردری میں ہے:
شھر رمضان جاء یوم الخمیس لایضحی ایضا فی یوم الخمیس مالم یتحقق انہ یوم النحر،وما نقل عن علی رضی اﷲتعالٰی عنہ ان یوم اول الصوم یوم النحر لیس بتشریع کلی بل اخبار عن اتفاقی فی ھذہ السنۃ وکذاما ھو الرابع من رجب لایلزم ان یکون غرۃ رمضان بل قد یتفق۔۱؎
رمضان کا مہینہ جمعرات کو شروع ہُوا تو یوم خمیس کو قربانی جائز نہ ہوگی جب تک اس بات کا ثبوت نہ ہوجائے کہ یہ قربانی کا دن ہے، اور جو حضرت علی رضی اﷲتعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ روزے کا پہلا دن عید کا دن ہوتا ہے، یہ شریعت کا قاعدہ کلیہ نہیں بلکہ اس سال اتفاقاً ایسا ہوجانے کا بیان ہے۔ اسی طرح جو رجب کا چوتھا دن ہے لازم نہیں وہ رمضان کا پہلا دن ہو ہاں کبھی ایسا اتفاقاً ہوجاتا ہے(ت)
 (۱؎ فتاوٰی بزازیہ علی حاشیہ فتاوٰی ہندیہ       کتاب الصوم الفصل الاول     نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۹۲)
خزانۃ المفتین میں فتاوٰی کبرٰی سے ہے:
مایروی ان یوم نحرکم یوم صومکم کان وقع ذٰلک العام بعینہٖ دون الابدلان من اول یوم رمضان الٰی غرۃ ذی الحجۃ ثلاثۃ اشھر فلا یوافق یوم النحر یوم الصوم الاان یتم شھر ان من الثلثۃ وینقص الواحد فاذا تمت الشہور الثلثۃ تتأخر عنہ واذاانقصت الشہور الثلثۃ اوشہران تقدم علیہ فلا یصح الاعتماد علی ھذا۔۲؎
یہ جو مروی ہے کہ تمھاری عید کا دن تمہارے روزے کا دن ہے، یہ ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ معین سال میں ایسا واقعہ ہوا تھا کیونکہ رمضان کے پہلے دن سے لے کر ذوالحجہ کے پہلے دن تک تین ماہ ہوتے تو یوم نحر اور یوم صوم میں موافقت نہیں ہوسکتی مگر اس صورت میں کہ جب ان تین ماہ میں سے دو کامل ہوں اور ایک ناقص، اب اگر تینوں ماہ کامل  ہوتے ہیں تو اس سے تأخر ہوگا اور اگر تین یا دو ناقص ہوجاتے ہیں تو پھر اس پر تقدم ہوگا لہذا اس پر اعتماد درست نہیں۔(ت)
 (۲؎خزانۃالمفتین ،   کتاب الصوم  ، قلمی نسخہ، ۱ /۶۰)
یہ کلام اجمالی بقدر کفایت ہے اور ان احکام کی تفصیل تام رسائل و مسائلِ فقیر میں ہے
وباﷲ التو فیق، واﷲتعالٰی اعلم۔
Flag Counter