| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج) |
ثمّ اقول: ھذاکلہ کلام معہ علی تسلیم ان النوط بالرؤیۃ انما وردفی الصوم والفطر ولیس کذٰلک بل قد ثبت کذٰلک فی الاضحیۃ فقد اخرج ابوداؤد والدارقطنی عن امیر مکّۃ الحارث بن حاطب رضی اﷲتعالٰی عنہ قال عھد الینا رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ان ننسک للرؤیۃ فان لم نرہ وشھد شاھد اعدل نسکنا بشھادتھما۳؎ قال الدارقطنی ھذا اسناد متصل صحیح۴؎
ثمّ اقول: (پھر میں کہتا ہوں) یہ تمام کلام اس صُورت میں ہے جب یہ تسلیم ہوکہ رؤیت پر مدار صرف صوم اور فطر کے بارے میں وارد ہے حالانکہ ایسی بات نہیں بلکہ اسی طرح ثبوت تو قربانی میں بھی ہے، امام ابو داؤد اور دار قطنی نے امیر مکہ حضرت حارث بن حاطب رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے کہ ہم سے رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے اس بارے میں یہ عہد لیا تھا کہ ہم چاند دیکھنے کی بناء پر قربانی کریں اور اگر ہم چاند نہ دیکھ سکیں اور دو۲ عادل آدمی گواہی دے دیں تو ان کی شہادت کی بناء پر قربانی کریں۔ دار قطنی نے فرمایا اسکی سند متصل اور صحیح ہے
(۳؎ سنن الدار قطنی باب الشہادت علی رؤیۃ الہلال نشر السنۃ ملتان ۲ /۱۶۷) (۴ سنن الدار قطنی باب الشہادت علی رؤیۃ الہلال نشر السنۃ ملتان ۲ /۱۶۷)
فانقطع مبنی البحث من راسہ واستبان الحق وﷲالحمد اماما تمسک بہ من مسئلۃ الحج فاقول لاحجۃ فیھا فانھما فیما اری لدفع الحرج العظیم ونظیرہ مافی التنویروالدر، تبین ان الامام صلی بغیر طھارۃ تعادالصلٰوۃ دون الاضحیۃ لان من العلماء من قال لا یعید الصلٰوۃ الا الامام وحدہ فکان للاجتھاد فیہ مساغ زیلعی، کما لو شہدوا انہ یوم العید فصلو اثم ضحوا ثم بان انہ یوم عرفۃ اجز أتھم الصلٰوۃ والتضحیۃ لانہ لایمکن التحرز عن مثل ھذاالخطاء فیحکم بالجواز صیانۃ لجمع المسلمین زیلعی اھ۱؎ ملخصا مصححا،
تو بحث کی بنیاد ہی ختم ہوگئی اور حق واضح ہوگیا وﷲالحمد، رہا معاملہ مسئلہ حج سے استدلال، تو میں کہتا ہوں کہ اس میں کوئی دلیل نہیں کیونکہ میرے خیال کے مطابق حج کا مسئلہ دفع حرجِ عظیم پر مبنی ہے اور اس کی نظیر تنویر اور در میں ہے کہ اگر واضح ہوگیا کہ امام نے بغیر طہارت کے نماز پڑھائی تو نماز لوٹائی جائے گی نہ کہ قربانی ، کیونکہ بعض علماء نے یہ فرمایا کہ نماز کا صرف امام ہی اعادہ کرے، تو اب یہ مسئلہ اجتہادی قرار پایا، زیلعی ۔ جیساکہ گواہوں نے گواہی دی کہ یہ عید کا دن ہے تو لوگوں نے نماز پڑھی پھر قربانی دی، بعد میں واضح ہوا کہ یہ عرفہ کا دن تھاتو ان کی نمازاور قربانی جائز قرار دی جائے کیونکہ ایسی غلطی سے بچنا ممکن نہیں تو مسلمانوں کے اجتماع کے تحفظ کے پیش نظر جواز کا حکم یہی لگایا جائے گا زیلعی اھ ملخصاً مصححا،
(۱؎درمختار کتاب الاضحیہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۲)
ثم رأیت بحمداﷲالتصریح بہ فی اللباب وشرحہ بل فی نفس الشرح المتعلق بہ الدرالمختار حیث قال شھد وابعد الوقوف بوقوفھم بعد وقتہ، لا تقبل شھادتھم والوقوف صحیح استحسانا حتی الشھود للحرج الشدیدالخ۲؎ فقد ظہرالحق والحمد ﷲ رب العالمین۔
بحمداﷲ پھر میں نے اللباب اور اس کی شرح بلکہ خود شرح درمختار کے مسئلہ سے متعلق درمختار میں تصریح دیکھی کہ اگر گواہوں نے وقوفِ عرفہ کے بعد گواہی دی کہ یہ وقوف وقت کے بعد ہوا ہے تو یہ گواہی مقبول نہ ہوگی اور حاجیوں کاوقوف استحساناً صحیح ہوگا یہاں تک کہ گواہوں کا وقوف بھی صحیح ہوگا ورنہ حرج شدید لازم آئیگا الخ تواب حق ظاہر ہوگیا
والحمد ﷲ رب العالمین۔
(۲؎ ؎درمختار باب الہدی مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۸۳)
غرض ثبوت ہلال کے شرعی طریقے یہ ہیں، ان کے سوا جس قدر طُرق لوگوں نے ایجاد کئے محض باطل و مخذول و ناقابلِ قبول ہیں، خیالاتِ عوام کا حصر کیا ہومگر آج کل جہّال میں غلط طریقے جو زیادہ رائج ہیں وُہ بھی سات۲ہیں:
یکم حکایتِ رؤیت : یعنی کچھ لوگ کہیں سے آئے اور خبر دی کہ وہاں فلاں دن چاند دیکھا گیا وہاں کے حساب سے آج تاریخ یہ ہے ظاہرہے کہ یہ نہ شہادت رؤیت ہے کہ اُنہوں نے خود نہ دیکھا،نہ شہادت علی الشہادت کہ دیکھنے والے ان کے سامنے گواہی دیتے اور انہیں اپنی گواہیوں کا حامل بناتے اور یہ حسبِ قواعدِ شرعیہ یہاں شہادت دیتے بلکہ مجرد حکایت جس کا شرع میں اصلاً اعتبار نہیں اگر چہ یہ لوگ بھی ثقہ معتمد ہوں اور جن کا دیکھنا بیان کریں وُہ بھی ثقہ مستند ہوں نہ کہ جہال، جہال میں تو یہ رائج ہے کہ کوئی آئے، کیسا ہی آئے، کسی کے دیکھنے کی خبر لائے اگر چہ خود اُس کا نام بھی نہ بتائے بلکہ سِرے سے اُس سے واقف ہی نہ ہو، ایسی مہمل خبروں پر اعتماد کر لیتے ہیں۔
فتح القدیر و بحرالرائق و عالمگیریہ وغیرہا میں ہے :
لو شہد جماعۃ ان اھل بلدۃ کذارأواھلال رمضان قبلکم بیوم فصامواوھذا الیوم ثلثون بحسابھم ولم یرھٰؤلاء الھلال لایباح فطر غد ولا تترک التراویح فی ھذہ اللیلۃ لانھم لم یشھد وابالرؤیۃ ولا علی شہادۃ غیرھم وانما حکوارؤیۃ غیرھم۔۱؎
اگر کسی جماعت نے گواہی دی کہ فلاں شہر کے لوگوں نے تم سے ایک دن پہلے چاند دیکھا اور انہوں نے روزہ رکھا ہے اور یہ دن اُن کے حساب سے تیسواں بنتا ہواور ان لوگوں نے چاند نہیں دیکھا تھا تو ان کے لیے آئندہ دن افطار کی اجازت نہیں اور نہ یہ اس رات تراویح چھوڑسکتے ہیں کیونکہ گواہوں نے نہ تو رؤیت پر گواہی دی اور نہ غیر کی رؤیت پر شہادت دی بلکہ انہوں نے رؤیت غیر کی حکایت کی ہے(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی فی رؤیۃ الہلال نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۹۹) ( بحرا لرائق کتاب الصوم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۲۷۰)
دوم افواہ: شہرمیں خبر اُڑ جاتی ہے کہ فلاں جگہ چاند ہُوا، جاہل اسے تواتر واستفاضہ سمجھ لیتے ہیں حالانکہ جس سے پوچھئے سُنی ہُوئی کہتا ہے، ٹھیک پتا کوئی نہیں دیتا، یا منتہائے سند صرف دو ایک شخص ہوتے ہیں اسے استفاضہ سمجھ لینا محض جہالت ہے، اُس کی صورتیں وُہ ہیں جو ہم نے طریق پنجم میں ذکر کیں۔
منحۃ الخالق حاشیہ بحرالرائق میں ہے :
اعلم ان ا لامراد بالاستفاضۃ تواتر الخبر من الواردین من بلدۃ الثبوت الی بلدۃ التی لم یثبت بھا، لا مجرد الاستفاضۃ لانھا قد تکون مبینۃ علی اخبار رجل واحد مثلا فیشیع الخبر عنہ ولا شک ان ھذا لایکفی بدلیل قولھم اذااستفاض الخبر وتحقق فان التحقق لایکون الابما ذکرنا۔۱؎
واضح ہوکہ شہرت سے مراد چاند ہونے والے شہر سے دوسرے شہر میں آنے والے لوگوں کی خبر کا تواتر ہے محض شہرت کافی نہیں کیونکہ بعض اوقات کسی ایک آدمی کی خبر کی بناء پر مشہور ہوجاتا ہے اور یہ بلاشُبہ کافی نہ ہوگی کیونکہ فقہاء کا قول یہ ہے کہ جب خبر مشہور اور متحقق ہوکیونکہ تحقق مذکورہ بات کے علاوہ ہو ہی نہیں سکتا۔(ت)
(۱؎ منحۃ الخالق حاشیہ بحرالرئق کتاب الصوم قبیل باب مایفسد الصوم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۲۷۰)
قیر کو بارہا تحریر ہُوا کہ ایسی شہرتیں محض بے سر وپا نکلتی ہیں اسی ذی الحجہ میں خبر شائع ہُوئی کہ آنولے میں چاند ہُوا ہے وہاں عامل لوگوں نے دیکھا اور فقیر کے ایک دوست کا خاص نام بھی لیا گیا، وُہ آئے اور خود اپنی رؤیت اور وہاں سب کا دیکھنا بیان کرتے تھے، فقیر نے اُن کے پاس ایک معتمد کو بھیجا وہاں سے جواب ملا کہ یہاں ابر غلیظ تھا نہ میں نے دیکھا نہ کسی اور نے دیکھا، پھر خبر اُڑی کہ شاہجہان پور میں تو ایک ایک شخص نے دیکھا فقیر نے وہاں بھی ایک معتمد ثقہ کو اپنے ایک دوست عالم کے پاس بھیجا انہوں نے فرمایا اس کا حال میں آپ کو مشاہدہ کرائے دیتا ہوں، اُن کا ہاتھ پکڑ کر شہر میں گشت کیا، دروازہ دروازہ دریافت کرتے پھرتے عید کب ہے، کہا جمعہ کی، کہا کیا چاند دیکھا،کہا کہ دیکھا تو نہیں، کہا پھر کیوں؟ اس کا جواب کُچھ نہ تھا، شہر بھر سے یہی جواب ملا، صرف ایک شخص نے کہا میں نے منگل کو چاند دیکھا تھا اور میرے ساتھ فلاں فلاں صاحب نے بھی ۔ اب یہ عالم مع اُن معتمد کے دوسرے صاحب کے پاس گئے اُن سے دریافت کیا، کہا وہ غلط کہتا تھا، اور خود ان دونوں صاحبوں کے ساتھ اُن گواہ صاحب کے پاس آئے، اب یہ بھی پلٹ گئے کہ ہاں کچھ یا دنہیں ۔پھر خبر گرم ہُوئی کہ رامپور میں چاند دیکھا گیا اور جمعہ کی عید قرار پائی، فقیر نے دو ثقہ شخصوں کو وہاں کے دوعلمائے کرام اپنے احباب کے اپس بھیجا معلوم ہُوا وہاں بھی ابر تھا کسی نے بھی نہ دیکھا، اس بارے میں اتنا معلوم ہُوا کہ وہاں دو۲ شخص دہلی سے دیکھ کر آئے ہیں، ان علماء نے ان دو۲ شاہدوں کو بلا کر ان دو۲ ثقات کے سامنے شہادت دلوائی اور جو الفاظ فقیر نے انہیں لکھوادئے تھے وُہ ان سے کہلواکر ان کو تحمیلِ شہادت کر ائی اوردنوں عالم صاحبوں نے خود ان دونوں شہود اصل کا تزکیہ کیا ،اب ان دونوں فرع نے یہاں آکر شہادت علی الشہادت حسبِ قاعدہ شرعیہ دی اُس وقت فقیر نے عید کا فتوٰی دیا، دیکھئے افواہِ اخبار کی یہ حالت ہوتی ہے،
ولا حول ولا قوۃ الاباﷲالعلی العظیم۔