طریق ہفتم:علامہ شامی رحمہ اﷲتعالیٰ نے توپیں سُننے کو بھی حوالی شہر کے دیہات والوں کے واسطے دلائل ثبوت ہلال سے گنا ۔ ظاہر ہے کہ یہاں بھی وہی شرائط مشروط ہوں گے کہ اسلامی شہر میں حاکمِ شرع معتمد کے حکم سے انتیس کی شام کو توپوں کے فائر صرف بحالتِ ثبوت شرعی رؤیت ہلال ہوا کرتے ہوں کسی کے آنے جانے کی سلامی وغیرہ کا اصلاً احتمال نہ ہو ورنہ شہر اگر چہ اسلامی ہو مگر وہاں احکام شرعیہ کی قدر نہیں احکام نہال بے خرد یا نیچری رافضی وغیرہم بد مذہبوں کے حوالے ہیں جنہیں نہ قواعد شرعیہ معلوم نہ اُن کے اتباع کی پروا، اپنی رائے ناقص میں جو آیا اس پر حکم لگادیا، توپیں چل گئیں، تو ایسی بے سروپا باتیں کیا قابل لحاظ ہوسکتی ہیں کما لایخفی، پھر جہاں کی توپیں شرعاً قابلِ اعتماد ہوں اُن پر عمل اہلِ دیہات ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ عند التحقیق خاص اس شہر والوں کو بھی اُن پر اعتماد سے مفر نہیں کہ حاکمِ شرع کے حضور شہادتیں گزرنا اُس کا اُن پر حکم نافذ کرنا ہر شخص کہاں دیکھتا سُنتا ہے بحکمِ حاکم اسلام اعلان عام کے لیے ایسی ہی کوئی علامتِ معہودہ معروفہ قائم کی جاتی ہے جیسے توپوں کے فائر یا ڈھنڈورا وغیرہ۔
اقول : یہیں سے ظاہر ہوا کہ ایسے اسلامی شہر میں منادی پر بھی عمل ہوگا حتی کہ اس کی عدالت بھی شرط نہیں جبکہ معلوم ہو کہ بے حکم سلطانی ایسا اعلان نہیں ہوسکتا۔
عالمگیریہ میں ہے :
خبر منادی السلطان مقبول عدلاکان او فاسقاکذافی جواھر الاخلاطی ۔۱؎
سلطان کے منادی کی خبر مقبول ہوگی خواہ منادی عادل ہویا فاسق، جیسا کہ جواہراخلاطی میں ہے(ت)
(۱ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب الاول فی العمل بخبر واحد نورانی کتب خانہ پشاور۵ /۳۰۹)
ردالمحتار میں ہے:
قلت والظاھرانہ یلزم اھل القری الصوم بسماع المدافع اورؤیۃ القنادیل من المصر لانہ علامۃظاہرۃتفید غلبۃ الظن وغلبۃ الظن حجۃ موجبۃ للعمل کما صرحو بہ،واحتمال کون ذلک لغیررمضان بعید، اذلا یفعل مثل ذلک عادۃ فی لیلۃ الشک الا لثبوت رمضان۔۲؎
قلت اور ظاہری یہی ہے کہ اہلِ دیہات پر شہر سے توپوں کی آواز اور قندیلوں کو دیکھنے سے روزہ لازم ہوجاتا ہے کیونکہ یہ علامت ظاہرہ ہے اس سے غلبہ ظن حاصل ہوتا ہے اور غلبہ ظن، عمل کا موجب ہوتا ہے جیسا کہ فقہا نے اس پر تصریح کی ہے، اور یہ احتمال کہ یہ عمل رمضان کے علاوہ کسی کام کے لیے ہو بعید ہے کیونکہ شک کی رات یہ عمل ثبوت رمضان کے علاوہ کسی اور کام کے لیے عادۃًنہیں ہوتا۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار،کتاب الصوم ،مصطفی البابی مصر ۲ /۹۹)
منحۃ الخالق میں ہے :
لم یذکرواعندنا العمل بالامارات الظاھرۃ الدالۃ علی ثبوت الشھر کضرب المدافع فی زماننا والظاھر وجوب العمل بھا علی من سمعھا ممن کان غائبا عن المصر کاھل القری ونحوھا کما یجب العمل بھا علی اھل المصر الذین لم یروا الحاکم قبل شہادۃ الشھود وقد ذکر ھذا الفرع الشافعیۃ فصرح ابن حجر فی التحفۃ انہ یثبت بالا مارۃ الظاھرۃ الدالۃ التی لاتتخلف عادۃ کرؤیۃ القنادیل المعلقۃ بالمنابر ومخالفۃ جمع فی ذٰلک غیر صحیحۃ اھ۱؎
علماء نے یہ ذکر نہیں کیاکہ ہمارے نزدیک امارات ظاہر مثلاً ہمارے دَور میں توپوں کا چلنا جوثبوتِ ماہ پر دال ہیں، پر عمل لازم ہے، اور ظاہر یہی ہے کہ اس پر شہر سے غائب،آواز سننے والے پر عمل واجب ہے مثلاً اہلِ دیہات وغیرہ پر جیسا کہ اس پر عمل کرنا ان اہل شہر کیلئے واجب ہے جنہوں نے گواہوں کی گواہی سے پہلے حاکم کو نہ دیکھا ہو، اور یہ جزئیہ شوافع نے بھی بیان کیا ہے ابنِ حجر نے تحفہ میں تصریح کی ہے کہ روزے کا ثبوت ان علاماتِ ظاہرہ سے ہوجاتا ہے جو عادۃًاس موقع پر معروف ہوں مثلاً مناروں پر معلق قنادیلِ روشن کا دیکھنا، اور کہا کہ ایک جماعت نے اس کی مخالفت کی ہے جو صحیح نہیں اھ (ت)
(۱؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق،کتاب الصوم قبیل باب یفسد الصوم الخ ،ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۲۷۰)
تنبیہ دربارہ ہلال غیر رمضان وشوال :
جہاں دوسرے شہر کی رؤیت سے یہاں حکم ثابت کیا جائے جیسے دوم سے پنجم تک چار طریقوں میں اُن کے بارے میں علامہ شامی رحمہ اﷲتعالٰی علیہ کی رائے یہ ہے کہ اگر وُہ دوسرا شہر اس شہر سے اس قدر مغرب کو نہ ہٹا ہو جس کے باعث رؤیت ہلال میں اختلاف پڑسکے جب تو وہ طریقے ہر ہلال میں کام دیں گے ورنہ غیر رمضان و شوال میں معتبر نہ ہوں گے یعنی اگر وہ شہر اس شہر سے اتنا غربی ہے جس کی مقدار بعض علماء نے یہ رکھی ہے کہ بہتر۷۲میل یا زیادہ اُس کا طول شرقی اس کے طول شرقی سے کم ہو اور وہاں کی رؤیتِ ہلال ذی الحجہ پر مثلاً شہادت یا شہادت علی الشہادت یا شہادت علی القضا گزری یا کتاب القاضی یا خبر متواتر آئی تو یہاں اس پر عمل نہ ہوگا بلکہ اپنے ہی شہر یا اس کے قریب مواضع یا شرقی بلاد سے اگر چہ کتنے ہی فاصلے پر ہوں ثبوت آنے پر مدار رکھیں گے، اور نہ ملا تو تیس کی گنتی پُوری کریں گے۔
ردالمحتار میں فرمایا:
یفھم من کلامھم فی کتاب الحج ان اختلاف المطالع فیہ معتبر فلا یلزمھم شئی لو ظہر انہ رؤی فی بلدۃ اخری قبلھم بیوم وھل یقال کذٰلک فی حق الاضحیۃ لغیر الحجاج لم ارہ والظاھر نعم لان اختلاف المطالع انما لم یعتبر فی الصوم لتعلقہ بمطلق الرؤیۃ وھذا بخلاف الاضحیۃ فالظاھر انھا کاوقات الصلٰوۃ یلزم کل قوم العمل بماعندھم فتجزئ الاضحیۃفی الیوم الثالث عشروان کان علٰی رؤیا غیرھم ھو الرابع عشر۔۱؎
کتاب الحج میں فقہاء کے کلام سے مفہوم ہے کہ حج میں اختلافِ مطالع کا اعتبار ہے لہذا ان حجّاج پر کوئی شئی لازم نہ ہوگی، اگر یہ ظاہر ہُوا کہ فلاں شہر میں ایک دن پہلے چاند دیکھا گیا، کیا یہی بات غیر حجّاج کے لیے قربانی کے بارے میں کہی جاسکتی ہے یا نہیں؟ میرے مطالعہ میں اس کاجواب نہیں آیا لیکن ظاہر یہی ہے کہ معتبر ہے کیونکہ روزہ میں اختلافِ مطالع کا اعتبار اس لیے نہیں کیا جاتا کہ اس کا تعلق مطلق رؤیت سے ہے بخلاف قربانی کے، اس میں ظاہریہی ہے کہ یہ اوقاتِ نمازکی طرح ہے کہ ہر قوم پر اپنے اپنے وقت کے مطابق لازم ہوگی تو انکی تیرھویں کی قربانی کافی ہوجائے گی اگر چہ غیر کی رؤیت کے مطابق وہ چودہویں ہو۔(ت)
(۱ ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲ /۱۰۵)
اقول : مگر صحیح اس کے خلاف ہے کلامِ علماء صاف مطلق و عام اور اس تخصیص میں بوجوہ کلام ،
فان رسول اﷲتعالٰی علیہ وسلم علل اسقاط اعتبار الحساب،بانا امۃامیّۃلانکتب ولانحسب۔۲؎ کما رواہ الشیخان وابوداؤد و النسائی وغیرھم عن ابن عمر رضی اﷲتعالٰی عنھما، وھذہ العلۃ تعم الاھلۃ وھذا وان کان خلاف القیاس فلا یمتنع الالحاق بہ دلالۃ وان امتنع قیاسا کما قد نص علیہ العلماء ومنھم العلامۃ الشامی فی نفس ھذاالکتاب، ولا شک ان ذاالحجۃ کالفطر سواء بسواء،
رسالتمآب صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے حساب و کتاب کی اسقاط کی علّت یہ بیان فرمائی کہ ہم امّی لوگ ہیں نہ لکھتے ہیں نہ حساب کرتے ہیں ، جیساکہ بخاری، مسلم، ابوداؤد اور نسائی وغیرہ نے حضرت ابن عمر رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے اور یہ علّت تمام چاندوں کو شامل ہے اور یہ اگر چہ قیاس کے مخالف ہے لیکن دلالۃً الحاق سے مانع نہیں اگر چہ قیاساً مانع ہے جیسے کہ اس پر علماء نے تصریح کی ہے اور ان میں سے خود اس کتاب میں امام شامی نے بھی تصریح کی ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ذی الحجہ کا چاند بعینہٖ فطر کے چاند کے مطابق ہے
(۲؎ صحیح بخاری باب قول النبی صلی اﷲعلیہ وسلم لانکتب ولانحسب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۵۶)
(سنن ابی داؤد اول کتاب الصیام مطبع مجتبائی لاہور ۱ /۳۱۷)
وقد قال رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم الفطر یوم یفطر الناس والا ضحی یوم یضحی الناس،۱؎ اخرجہ الترمذی بسند صحیح عن ام الومنین الصدیقۃ رضی اﷲتعالٰی عنھا
کیونکہ رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کافرمان ہے کہ فطر کا دن وہی ہے جس دن لوگوں نے افطار کیا اور قربانی اسی دن ہے جس دن لوگوں نے قربانی دی۔ ترمذی نے اسے صحیح سند کے ساتھ اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالٰی عنہا سے روایت کیاہے۔
وقال صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فطر کم یوم یفطرون واضحا کم یوم تضحون،۲؎ رواہ ابوداؤد و البیہقی بسند صحیح عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ۔
اور آپ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے تمھاری فطر کا دن وہ ہے جس میں تم افطار کرو، اور تمہاری اضحی کا دن وہ ہے جس میں تم قربانی کرو۔ اسے ابوداؤد اور بیہقی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابوھریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے(ت)
(۲؎ سنن ابی داؤد کتا ب الصیام باب اذااخطاء القوم الہلال مطبع مجتبائی لاہور ۱ /۳۱۸)