Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
92 - 198
تنبیہ الغافل والوسنان علی احکام ہلالِ رمضان میں ہے:
لما کانت الاستفاضۃ بمنزلۃ الخبر المتواتر وقد ثبت بھا ان اھل تلک البلدۃ صامو ایوم کذالزم العمل بھا لان المراد بھا بلدۃ فیھاحاکم شرعی الخ ۱؎
جب چاند نظر آنے کی خبر، خبر متواتر کی طرح مشہور ہو، اور اس سے ثابت ہوجائے کہ فلاں شہر کے لوگوں نے چاندنظر آنے پر روزہ رکھا ہے تو ایسی خبر پر عمل لازم ہوگا کیونکہ اس سے وہ شہر مراد ہوگا جس میں حاکم شرعی ہوگا الخ(ت)
 (۱؎ تنبیہ الغافل والوسنان    رسالہ من رسائل ابن عابدین الرسالۃ التاسعۃ     سہیل اکیڈمی لاہور     ۱ /۲۵۲)
دربارہ استفاضہ یہ تحقیق علامہ شامی کی ہے اور اس تقدیر پر وُہ شرائط ضرور ہیں کہ صوم وعید بر بنائے حکم حاکمِ شرع عالم متبع احکام ہوا کرتا ہو، اور ایک صُورت یہ بھی متصوّر کہ دوسرے شہر سے جماعاتِ کثیرہ آئیں اور سب بالاتفاق بیان کریں کہ وہاں ہمارے سامنے لوگ اپنی آنکھ سے چاند دیکھنا بیان کرتے تھے جن کا بیان مورث یقین شرعی تھا  ظاہر اس تقدیر پر وہاں کسی ایسے حاکم شرع کا ہونا ضرور نہیں کہ رؤیت فی نفسہا حجتِ شرعیہ ہے۔
لقولہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم صوموالرؤیتہ وافطر والرؤیتہ۔۲؎
حضور اکرم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے کہ چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر عید کرو۔(ت)
 (۲؎ صحیح بخاری         باب اذارأیتم الہلال فصوموا        قدیمی کتب خانہ کراچی۱ /۲۵۶)
جب جماعت تواتر، جماعت تواتر سے اُن کی رؤیت کی ناقل ہے تورؤیت بالیقین ثابت ہوگئی اور شہادت کی حاجت نہ رہی کہ اثباتِ احکام میں تواتر بھی قائم مقام شہادت بلکہ اُس سے اقوی ہے کہ شہادت بر خلاف تواتر آئے تورَد کردی جائے اور نفی پر تواتر مقبول ہے اور شہادت نامسموع۔ عالمگیریہ میں محیط سے ہے :
ان وجد کلھم غیر ثقات یعتمد علی ذلک بتواتر الاخبار۔۳؎
اگر وہ تمام غیر ثقہ ہوں تب بھی تواتر خبر کی بنا پر اعتماد کیا جائے گا۔(ت)
 (۳؎فتاوٰی ہندیۃ         الباب الثانی عشرفی الجرح والتعدیل     نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۵۲۹)
درمختار میں ہے:
شھادۃ النفی المتواتر مقبولۃ۔۴؎
(نفی متواتر کی گواہی مقبول ہے۔ت)
 (۴؎درمختار             باب القبول وعدمہٖ            مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۹۸)
ردالمحتار میں ہے:
فی النوادر الثانی شھداعلیہ بقول اوفعل، یلزم علیہ بذٰلک اجرۃ اوبیع او کتابۃ اوطلاق اوعتاق او قتل او قصاص فی مکان او زمان اوصفات فبرھن المشہود علیہ انہ لم یکن ثمہ یومئذ لاتقبل لکن قال المحیط فی الحادی والخمسین ان تواتر عند الناس وعلم الکل عدم کونہ فی ذلک المکان والزمان لاتسمع الدعوی ویقضی بفراغ الذمۃ لانہ یلزم تکذیب الثابت بالضرورۃ۔۱؎
نوادر میں امام ابویوسف سے مروی ہے کہ دوگواہوں نے کسی کے خلاف اس کے قول یا فعل پر گواہی دی تو مکان، وقت اورصفات کو بیان سے مدعا علیہ پر الزام ثابت ہوجائے گا۔ جب یہ گواہی اجارہ، بیع ،کتاب،طلاق، عتاق، قتل اور قصاص سے متعلق ہو، اور اگر مشہود علیہ گواہ قائم کرکے ثابت کرے کہ اس دن وہ وہاں موجود نہ تھا تو پھر گواہی مقبول نہ ہوگی۔ لیکن محیط میں مسئلہ ۵۱ کے تحت کہا کہ اگر لوگوں سے متواتراًثابت ہو اور ہر کوئی جانتا ہو کہ یہ شخص اس وقت تک اس جگہ موجود نہ تھا تو اب دعوٰی قابلِ سماعت نہ ہوگا اور اسے بری الذمہ قرار دیا جائے گا ورنہ ثابت بالبداہت کی تکذیب لازم آئیگی(ت)
 ( ۱؎ ردالمحتار             باب القبول وعدمہٖ        مصطفی البابی مصر     ۴ /۴۳۱)
عقو دالدریہ میں فتاوٰی صغیری سے ہے:
البینۃ اذاقامت علی خلاف المشہور المتواتر لاتقبل وھوان یشتھر ویسمع من قوم کثیر لایتصوراجتماعھم علی الکذب۔۲؎
جب مشہور متواتر کے خلاف گواہ قائم ہوں تو انکی گواہی مقبول نہیں، مشہور متواتروہُ خبر ہے کہ اتنی کثیر قوم و کثیر لوگوں میں مشہور و مسموع ہوجن کا جُھو ٹا ہونا متصور نہ ہوسکتا ہو۔(ت)
 (۲؎ العقودالدریۃ        کتاب الشہادۃ و مطالبہ     ارگ بازار قندھار     ۱ /۳۶۱)
کلامِ علماء مثلاًقول مذکور درمختار کے :
لو استفاض الخبر فی البلدۃ الاخری ۳؎
 (اگر دوسرے شہر میں خبر مشہور ہوجائے۔ت)
 ( ۳؎ درمختار             کتاب الصوم         مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۱۴۹)
اور قولِ ذخیرہ:
قال شمس الائمۃ الحلوانی الصحیح من مذہب اصحابنا ان الخبر اذااستفاض وتحقق فیما بین اھل البلدۃ الاخری یلزمھم حکم ھذہ البلدۃ اھ۴؎ وغیرذٰلک۔
شمس الائمہ حلوائی نے کہا کہ ہمارے احناف کا صحیح مسلک یہ ہے کہ خبر مشہور متحقق ہوجائے تو اس شہر والوں پر بھی وُہ حکم لازم ہوجاتا ہے۔(ت)بلا شبہ اس صورت کو بھی شامل، واﷲتعالٰی اعلم باحکامہ۔
 (۴؎ ردالمحتار بحوالہ الذخیرہ     کتاب الصوم         مصطفی البابی مصر    ۲ /۱۰۲)
طریق ششم: اکمالِ عدّت یعنی جب ایک مہینہ کے تیس ۳۰دن کامل ہوجائیں تو ماہِ متصل کا ہلال آپ ہی ثابت ہوجائیگا اگر چہ اس کے لیے رویتِ شہادت حکمِ استفاضہ وغیرہ کچھ نہ ہو کہ مہینہ تیس۳۰ سے زائد کا نہ ہونا یقینی ہے۔رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فان غم علیکم فاکملو ا العدّۃ ثلثین۔۱؎ رواہ الشیخان عن ابن عمر رضی اﷲتعالٰی عنہما۔
اگر مطلع ابر آلُود ہوتو تیس ۳۰ کی تعداد مکمل کرو۔ اسے بخاری و مسلم نے حضرت عبد اﷲبن عمر رضی اﷲتعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے۔(ت)
 ( ۱؎ صحیح بخاری         باب اذارأیتم الہلال فصوموا    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۲۵۶)
یہ طریقہ صفائی مطلع کی حالت میں کافی ہے اگر چہ ہلال نظر نہ آئے جبکہ گزشتہ ہلال رؤیت واضحہ یا دوگواہان عادل کی شہادت سے ثابت ہولیاہو، ہاں اگر ایک گواہ کی شہادت پر ہلالِ رمضان مان لیا اور اُس حساب سے تیس دن آج پُورے ہوگئے اور اب مطلع روشن ہے اور عید کا چاند نظر نہیں آتا تو یہ اکمالِ عدّت کافی نہ ہوگا بلکہ صبح ایک روزہ اور رکھیں کہ اگلے ہلال کا ثبوت حجت تامہ سے نہ تھا اور باوصف صفائیِ مطلع تیس کے بعد بھی چاند نظر نہ آناصاف گواہ ہے کہ اس گواہ نے غلطی کی اور جبکہ وہ ہلال حجت تامہ دو گواہانِ عادل سے ثابت تھا تو آج بوصف صفائی مطلع نظر نہ آنا  اس پر محمول ہوگا کہ ہلال بہت باریک ہے اور کوئی بخار قلیل المقدار خاص اُسی کے سامنے حاجب ہے جسے صفائی عامہ افق کے سبب نظر صفائی مطلع گمان کرتی ہے یا اس کے سوا کوئی اورمانع خفی خلاف معتاد ہے، ہاں اگرآج ابر غبار ہے تو مطلقاً تیس پُورے کرکے عید کرلیں گے اگر چہ ہلالِ رمضان ایک ہی شاہد کی شہادت سے مانا ہوکہ اب اس کی غلطی ظاہر نہ ہُوئی ۔ تنویر میں ہے:
بعد صوم ثلثین بقول عدلین حل الفطر وبقول عدل لا۔۲؎
دو۲ عادل گواہوۤں کی بناپر رمضان کے روزے تیس ہوجانے پر عید الفطر جائز ہے اور ایک عادل کی شہادت پر جائز نہیں (ت)
( ۲؎ تنویر الابصار مع درمختار     کتا ب الصوم         مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۱۴۹)
درمختار میں ہے:
نقل ابن الکمال عن الذخیرۃ انہ ان غم ھلال الفطر حل اتفاقا الخ۳؎وتمام تحقیقہ فی ردالمحتار وما علقنا علیہ۔
ابن کمال نے ذخیرہ سے نقل کیا کہ اگر مطلع ابر آلود ہُوا تو عید بالاتفاق جائز الخ(ت)اس کی تمام تفصیل ردالمحتار اور اس پر ہمارے حاشیہ میں ہے(ت)
 (۳؎ درمختار شرح تنویرالابصار ،کتا ب الصوم،مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۹)
Flag Counter