| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج) |
طریق چہارم: کتاب القاضی الی القاضی یعنی قاضیِ شرع جسے سلطانِ اسلام نے فصلِ مقدمات کے لئے مقرر کیا ہو اس کے سامنے شرعی گواہی گزری اُس نے دوسرے شہر کے قاضیِ شرع کے نام خط لکھا کہ میرے سامنے اس مضمون پر شہادتِ شرعیہ قائم ہُوئی اور اُس خط میں اپنا اور مکتوب الیہ کا نام و نشان پُورا لکھا جس سے امتیاز کافی واقع ہو اور وُہ خط دو۲ گواہانِ عادل کے سپرد کیا کہ یہ میرا خط قاضیِ فلاں شہر کے نام ہے وُ ہ باحتیاط اس قاضی کے پاس لائے اور شہادت ادا کی آپ کے نام یہ خط فلاں قاضی فلاں شہر نے ہم کو دیا اور ہمیں گواہ کیا کہ یہ خط اس کا ہے اب یہ قاضی اگر اُس شہادت کو اپنے مذہب کے مطابق ثبوت کے لیے کافی سمجھے تو اس پر عمل کرسکتا ہے(اور بہتر یہ ہے کہ قاضی کا تب خط لکھ کر ان گواہوں کو سُنا دے یا اس کا مضمون بتادے اور خط بند کرکے اُن کے سامنے سر بمہر کردے، اور اولٰی یہ کہ اُس کا مضمون ایک کُھلے ہُوئے پرچے پر الگ لکھ کر بھی ان شہود کو دے دے کہ اُسے یا د کرتے رہیں یہ آکر مضمون پر بھی گواہی دیں کہ خط میں یہ لکھا ہے اور سر بمہر خط اس قاضی کے حوالہ کریں یہ زیادہ احتیاط کے لیے ہے ورنہ خیر اُسی قدر کافی ہے کہ دو۲مردوں یا ایک مرد دو۲ عورتیں عادل کو خط سپرد کرکے گواہ کرلے اور وُہ باحتیاط یہاں لاکر شہادت دیں)بغیر اس کے اگر خط ڈاک میں ڈال دیا یا اپنے آدمی کے ہاتھ بھیج دیا تو ہرگز مقبول نہیں اگر چہ وُہ خط اُسی قاضی کا معلوم ہوتا ہو اور اس پر اس کی اور اس کے محکمہ قضا کی مہر بھی لگی ہو(اور یہ بھی ضرور ہے کہ جب تک یہ خط قاضی مکتوب الیہ کو پہنچے اور وہ اُسے پڑھ لے اُس وقت تک کاتب زندہ رہے اور معزول نہ ہو ورنہ اگر خط پڑھے جانے سے پہلے مرگیا یا برخاست ہوگیا تو اس پر عمل نہ ہوگا اور بحالتِ زندگی یہ بھی ضرور ہے کہ جب تک مکتوب الیہ اس خط کے مطابق حکم نہ کرلے اُس وقت تک کاتب عہدہ قضا کا اہل رہے ورنہ اگر حکم سے پہلے کاتب مثلاًمجنوں یا مرتد یا اندھا ہوگیا تو بھی خط بیکار ہوجائے گا۔
درمختار میں ہے :
القاضی یکتب الی القاضی بحکمہ وان لم یکن الخصم حاضر الم یحکم وکتب الشھادۃ لیحکم المکتوب الیہ بھا علی رائہ وقرأالکتاب علیھم اوا علمھم بہ وختم عندھم وسلم الیھم بعد کتابۃ عنوانہ وھوان یکتب فیہ اسمہ واسم المکتوب الیہ وشھر تھماواکتفی الثانی بان یشھد ھم انہ کتابہ وعلیہ الفتوی، ویبطل الکتاب بموت الکاتب وعزلہ قبل القرأۃ وبجنون الکاتب وردتہ وحدہ لقذف وعمائہ،لخروجہ عن الاھلیۃ وکذابموت المکتوب الیہ لخروجہ عن الاھلیۃ الااذاعمم ولایقبل کتاب القاضی من محکم بل من قاض مولی من قبل الامام ۱؎(ملخصاً)۔
ایک قاضی دوسرے قاضی کی طرف حکم نامہ لکھے ، اگر خصم حاضر نہ ہو تو قاضی فیصلہ نہ کرے اور گواہی لکھ لے تاکہ قاضی مکتوب الیہ گواہی کے ذریعے اپنی رائے کے مطابق فیصلہ صادر کردے اور قاضی کاتب خط مذکور کو شہود پر پڑھے یا انہیں اس کے مضمون سے آگاہ کر دے ، پھر خط پر پتایُوں تحریر کرے کہ اپنا اور مکتوب الیہ کانام اور دونوں کی شہرت یعنی وہ لفظ یا لقب ضرور لکھے جس سے وُہ مشہور ہوں۔ اور امام ابویوسف نے اس پر اکتفاء کیا ہے کہ قاضی کاتب شاہدوں کو صرف اس پر گواہ کرلے کہ وہ اس کاخط ہے۔ فتوٰی اسی قول پر ہےـ اور خط پڑھے جانے سے قبل قاضی کاتب کی موت اور اس کی معزولی کے سبب باطل ہوجاتاہے ۔ اسی طرح قاضی کاتب کے مجنون ،مرتد ،محدود فی القذف اور نابینا ہوجانے پر بسبب نکل جانے اہلیت قضا سے خط باطل ہوجاتا ہے،یونہی مکتوب الیہ قاضی کی موت سے سبب نکل جانے اہلیت قضاء سے خط باطل ہو جائے گا مگر اس صورت میں مکتوب الیہ قاضی کی موت سے خط باطل نہیں ہوتا جب کاتب قاضی تعمیم کردے مثلاًیوں کہ جو وہاں کا قاضی ہو یہ خط اس کی طرف ہے، اور خط حَکم کی طرف سے مقبول نہیں بلکہ اس قاضی کی طرف سے مقبول ہے جو سلطان کی طرف سے معین ہو(ملخصاً)(ت)
(۱؎درمختار باب کتاب القاضی الی القاضی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۸۴-۸۳)
درر وغررمیں ہے:
لایقبلہ ایضا الابشھادۃ رجلین او رجل وامرأتین لان الکتاب قد یزوراذ الخط یشبہ الخط والخاتم یشبہ الخاتم فلا یثبت الابحجۃ تامۃ۔۲؎
تحریر مقبول نہ ہوگی مگر دو۲ مردوں کی گواہی یا ایک مرد اور خواتین کی گواہی کے بعد، کیونکہ تحریر میں جعلسازی ہوجاتی ہے اور تحریر دوسری تحریر کی مشابہ ہوسکتی ہے اسی طرح مُہر دوسری مُہر کے مشابہ ہوسکتی ہے لہذا حجت کاملہ کے بغیر تحریر کا ثبوت نہ ہوگا۔(ت)
(۲؎ دررغرر ،باب کتاب القاضی الی القاضی،مطبعہ احمد کامل الکائنہ دارصادر بیروت، ۲ /۴۱۴)
طریق پنجم: استفاضہ یعنی جس اسلامی شہر میں حاکم شرع قاضیِ اسلام ہو کہ احکامِ ہلال اُسی کے یہاں سے صادر ہوتے ہیں اور خود عالم اور ان احکام میں علم پر عامل وقائم یا کسی عالمِ دین محقق معتمد پر اعتماد کا ملتزم و ملازم ہے یا جہاں قاضیِ شرع نہیں تو مفتیِ اسلام مرجع عوام ومتبع الاحکام ہو کہ احکامِ روزہ و عیدین اُسی کے فتوے سے نفاذ پاتے ہیں عوام کالانعام بطور خود عید و رمضان نہیں ٹھہرالیتے وہاں سے متعدد جماعتیں آئیں اور سب یک زبان اپنے علم سے خبر دیں کہ وہاں فلاں دن بربنائے رؤیت روزہ ہُوا یا عید کی گئی مجرد بازادی افواہ خبر اُڑگئی اور قائل کا پتا نہیں۔ پُوچھے تو یہی جواب ملتا ہے کہ سُنا ہے یا لوگ کہتے ہیں، یا بہت پتا چلا تو کسی مجہول کا انتہا درجہ ، منتہائے سند دو ایک شخصوں کے محض حکایت کہ اُنہوں نے بیان کیا اور شدہ شائع ہوگئی، ایسی خبر ہرگز استفاضہ نہیں بلکہ خود وہاں کی آئی ہُوئی متعدد جماعتیں درکار ہیں جو بالاتفاق وُہ خبر دیں، یہ خبر اگر چہ نہ خود اپنی رؤیت کی شہادت ہے نہ کسی شہادت پر شہادت، نہ بالتصریح قضائے قاضی پر شہادت نہ کتاب قاضی پر شہادت، مگر اس مستفیض خبر سے بالیقین یا بہ غلبہ ظن ملتحق بالیقین وہاں رؤیت صوم وعید کا ہونا ثابت ہوگااور جبکہ وُہ شہر اسلامی اور احکام و حکام کی وہاں پابندی دوامی ہے تو ضرور مظنون ہوگا کہ امر بحکم واقع ہُوا تواس طریق سے قضائے قاضی کہ حجتِ شرعیہ ہے ثابت ہوجائیگی اور یہیں سے واضح ہُوا کہ تاریک شہر جہاں نہ کوئی قاضیِ شرع نہ مفتیِ اسلام، یا مفتی ہے مگر نااہل جسے خود احکامِ شرع کی تمیز نہیں، جیسے آج کل کے بہت مدعیان خامکار، خصوصاً وہابیہ ، خصوصاً غیر مقلدین وغیرہم فجّار،یا بعض سلیم الطبع سنّی ناقص العلم ناتجربہ کار، یا مفتی محقق معتمد عالم مستند ہے مگر عوام خود سر، اس کے منتظر احکام نہیں، پیش خویش اپنے قیاساتِ فاسدہ پر جب چاہیں عید ورمضان قرار دے لیتے ہیں ، ایسے شہروں کی شہرت بلکہ تواتر بھی اصلاً قابلِ قبول نہیں کہ اس سےکسی حجتِ شرعیہ کا ثبوت نہ ہُوا،
درمختار میں ہے :
شھد وا انہ شھد عند قاضی مصر کذا شاھد ان برؤیتہ الھلال وقضی بہ، قضی القاضی بشہادتھما لان قضاء القاضی حجۃ وشھد وابہ، لالو شھد وابرؤیۃ غیرھم لانہ حکایۃ نعم لواستفاض الخبر فی البلدۃ الاخری لزمھم علی الصحیح من المذہب مجتبٰی وغیرہ۱؎(ملخصاً)
دو۲گواہوں نے گواہی دی کہ فلاں شہر کے قاضی کے پاس چاند دیکھنے کی فلاں دوگواہوں نے گواہی دی ہے اور قاضی نے اس پر فیصلہ صادر فرمادیا ہے تو ان کی گواہی کی بناپر یہ قاضی بھی فیصلہ دے سکتا ہے کیونکہ قاضی کی قضاحجت ہے اور اس پر وہ گواہ موجود ہیں البتہ اس صورت میں قاضی فیصلہ نہیں دے سکتا جب وُہ صرف غیر رؤیت پر گواہی دیں کیونکہ یہ محض حکایت ہے، ہاں اگر خبر دوسرے شہر میں مشہور ہوجاتی ہوتو پھر صحیح مذہب کے مطابق ان پر روزہ لازم ہوجائے گا،مجتبٰی وغیرہ(ملخصاً)(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۹)
ردالمحتار میں ہے :
ھذہ الاسفاضۃ لیس فیھا شہادۃ علی قضاء قاض ولا علی شہادۃ لکن لما کانت بمنزلۃ الخبر المتواتر وقد ثبت بھا ان اھل تلک البلدۃ صاموایوم کذا لزم العمل بھا لان البلدۃلا تخلو عن حاکم شرعی عادۃ فلابد من ان یکون صومھم مبنیا علی حکم حاکمھم الشرعی فکانت تلک الاستفاضۃ بمعنی نقل الحکم المذکورالخ۱؎
یہ شہرت نہ تو قضاء قاضی پر شہادت ہے اور نہ ہی کسی اور شہادت پر، لیکن یہ خبر متواتر کے درجہ پر فائز ہے اور اس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ فلاں شہر کے لوگوں نے اس دن روزہ رکھا تواس پر عمل لازم ہوگا کیونکہ ہر شہر عادۃًحاکمِ شرعی سے خالی نہیں ہوتا تواب ان کا روزہ ان کے حاکم شرعی کے حکم کی بنا پر ہی ہوگا گویا وہ شہرت حکمِ قاضی کا منقول ہوناہے۔الخ(ت)
(۱ ؎ ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲ /۱۰۲)
اُسی میں ہے:
قال الرحمتی معنی الاستفاضۃ ان تأتی من تلک بلدۃ جماعات متعددون کل منھم یخبر عن اھل تلک البلدۃ انھم صامواعن رؤیۃ لامجرد الشیوع من غیرعلم بمن اشاعہ کما قد تشیع اخبار یتحدث بھا سائر اھل البلدۃ ولایعلم من اشاعھا کما ورد، ان فی اٰخرالزمان یجلس الشیطان بین الجماعۃ ویتکلم بالکلمۃ فیتحدثون بھا ویقولون لاندری من قالھا فمثل ھذالاینبغی ان یسمع فضلا من ان یثبت بہ حکم اھ قلت وھوکلام حسن ویشیرالیہ قول الذخیرۃ اذا استفاض وتحقق فان التحقق لایوجد مجردالشیوع۔۲؎
امام رحمتی نے فرمایا: شہرت کامعنی یہ ہے کہ اس شہر سے متعدد جماعتیں آئیں اور وُہ تمام یہ اطلاع دیں کہ اس شہر میں لوگوں نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا ہے محض ایسی افواہ سے نہیں جس کے پھیلانے والا معلوم نہ وہ، جیسا کہ اکثر ہوتا رہتا ہے کہ بہت سی خبریں شہر میں پھیل جاتی ہیں اور ان کے پھیلانے والا معلوم نہیں ہوتا، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آخری زمانے میں شیطان لوگوں کے درمیان آکر بیٹھے گا اور بات کرے گا لوگ اسے بیان کریں گے اور کہیں گے ہم نہیں جانتے یہ بات کس نے کہی، تو ایسی باتیں تو سُننا ہی مناسب نہیں چہ جائیکہ ان سے حکم ثابت کیاجائے اھ قلت یہ کلام بہت اچھا ہے اور اسی کی طرف قولِ ذخیرہ کا اشارہ ہے کہ جب خبر مشہور اور ثابت ہو، کیونکہ ثبوت محض افواہ کی بنا پر نہیں ہوتا۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲ /۱۰۲)