Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
90 - 198
طریق دوم: شہادۃ علی الشہادۃ یعنی گواہوں نے چاند خود نہ دیکھا بلکہ دیکھنے والوں نے ان کے سامنے گواہی دی اور اپنی گواہی پر انہیں گواہ کیا، اُنہوں نے اُس گواہی کی گواہی دی، یہ وہاں ہے کہ گواہاں اصل حاضری سے معذور ہوں اور اس کاطریقہ یہ ہے کہ گواہ اصل گواہ سے کہے میری اس گواہی پر گواہ ہوجا کہ میں گواہی دیتا ہوں میں نے ماہ فلاں سنہ فلاں کا ہلال  فلاں دن کی شام کو دیکھا۔ گواہانِ فرع یہاں آکر یُوں شہادت دیں کہ میں گواہی دیتا ہُوں کہ فلاں بن فلاں نے مجھے اپنی اس گواہی پر گواہ کیا کہ فلاں بن فلاں مذکور نے ماہ فلاں سنہ فلاں کا ہلال فلاں دن کی شام کو دیکھا اور فلاں بن فلاں مذکور نے مجھ سے کہا کہ میری اس گواہی پر گواہ ہوجا،پھر اصل شہادت رؤیت میں اختلافِ احوال کے ساتھ جو احکام گزرے ان کا لحاط ضرور ہے، مثلاً ماہِ رمضان میں مطلع صاف تھا تو صرف ایک کی گواہی مسموع نہ ہونی چاہئے جب تک جنگل میں یا بلند مکان پر دیکھا نہ بیان کرے ورنہ ایک کی شہادت اور اس کی شہادت پر بھی صرف ایک ہی شاہد اگر چہ کنیز مستورۃ الحال ہو بس ہے، اور باقی مہینوں میں یہ توہمیشہ ضرور ہے کہ ہر گواہ کی گواہی پر دو۲ مرد یا ایک مرد دو عورت عادل گواہ ہوں اگر چہ یہی دو مرد اُن دواصل میں ہر ایک کے شاہد ہوں مثلاً جہاں عیدین میں صرف دو۲عادلوں کی گواہی مقبول ہے زید وعمر و دو۲ عادلوں نے چاند دیکھا اور ہر ایک نے اپنی شہادت پر بکر و خالد دومرد عادل کو گواہ کر دیا کہ یہاں آکر بکر اور خالد ہر ایک نے زید و عمر و دونوں کی گواہی پر گواہی دی کافی ہے یہ ضرور نہیں کہ ہر گواہ کے جُداجُدا دو۲ گواہ ہوں، اور یہ بھی جائز ہے کہ ایک اصل خود آکر گواہی دے اور دوسرا گواہ اپنی گواہی پر دو گواہ جد اگانہ کر بھیجے، ہاں یہ جائز نہیں کہ ایک گواہ اصل کے دو۲ گواہ ہوں اور انہیں دونوں میں سے ایک خود اپنی شہادت ذاتی بھی دے۔
درمختار میں ہے:
الشہادۃ علی الشہادۃ مقبولۃ وان کثرت استحسانا فی کل حق، علی الصحیح، الافی حد  وقود بشرط تعذر حضورالاصل بمرض اوسفر واکتفی الثانی بغیبتہ بحیث یتعذران یبیت باھلہ واستحسنہ غیر واحد، وفی القہستانی والسراجیۃ وعلیہ الفتوٰی واقرہ المصنف اوکون المرأۃ مخدرۃ لاتخالط الرجال وان خرجت لحاجۃ وحمام،قنیۃ، عندالشہادۃ عند القاضی قید للکل، وبشرط شہادۃ عددنصاب ولو رجلاوامرأتین عن کل اصل، ولوامرأۃ، لاتغایر فرعی ھذاوذاک، وکیفیتھا ان یقول الاصل مخاطبا للفرع ولوابنہ، بحر، اشھد علی شہادتی انی اشھدبکذا ویقول الفرع اشھد ان فلانا اشھد نی علی شہادتہ بکذا وقال لی اشھد علٰی شھادتی بذٰلک اھ۱؎مختصرا۔
گواہی مقبول ہے اگر چہ یکے بعد دیگر ے کتنے ہی درجے تک پہنچے مثلاًگواہانِ اصل نے زید و عمر و کو گواہ بنایا انہوں نے اپنی اس شہادت علی الشہادت پر بکر و خالد کو گواہ کردیا خالد نے اپنی اس شہادت علی الشہادت پر سعید و حمید کو شاہد بنالیا وعلٰی ھذاالقیاس)اور مذہب صحیح پر یہ امر حدود و قصاص کے سوا ہر حق میں جائز ہے اس شرط سے کہ جس وقت قاضی کے حضور ادائے شہادت ہُوئی اُس وقت وہاں اصل گواہ کا آنا مرض یا سفر یا زن پر دہ نشین ہونے کے باعث متعذر ہواور امام ابی یوسف کے نزدیک تین منزل دُور ہونا ضرور نہیں بلکہ اتنی دُوری کافی ہے کہ گواہی دے کر رات کو اپنے گھر نہ پہنچ سکے بکثرت مشائخ نے اس قول کو پسند کیا اور قہستانی و سراجیہ میں ہے کہ اسی پر فتوٰی ہے۔ مصنّف نے اسے مسلّم رکھا اورعورت کی پردہ نشینی یہ کہ مردوں کے مجمع سے بچتی ہو اگر چہ اپنی کسی ضرورت کے لیے باہر نکلے یا حمام جائے، ایسا ہی قنیہ میں ہے۔ اور یہ بھی شرط ہے کہ ہر اصل گواہ اگر چہ عورت کی گواہی پر پورا نصاب شہادۃ ہو یعنی دو مرد یا ایک مرد دو۲ عورتیں گواہی دیں، ہاں یہ ضرور نہیں کہ ہر گواہ اصل کے دو دو جُدا گانہ گواہوں اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ گواہِ اصل گواہِ فرع سے اگر چہ وہ اس کا بیٹا ہو خطاب کرکے کہے تو میری اس گواہی پر گواہ ہوجا کہ میں یہ گواہی دیتا ہُوں اور گواہِ فرع یُوں ادائے شہادت کرے کہ میں گواہی دیتا ہُوں کہ فلاں نے مجھے اپنی گواہی پر گواہ کیا اور مجھ سے کہا کہ میری اس گواہی پر گواہ ہوجا۔اھ مختصراً۔
 (۱؎دُرمختار         باب الشہادت علی الشہادت    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۰۰)
اُسی  کے بیان ہلال رمضان میں ہے:
وتقبل شہادۃ واحد علی اٰخر کعبد وانثی ولو علٰی مثلھما۔۲؎
ایک کی گواہی دوسرے پر مثلاً غلام یا عورت کی شہادت اگر چہ اپنی ہی جیسے پر ہلالِ رمضان میں مقبول ہے جبکہ ایک کی گواہی وہاں مسموع ہونے کے قابل ہوجیسے بحالت ناصافی مطلع۔
 (۲؎ دُرمختار،کتاب الصّوم،مطبع مجتبائی دہلی، ۱ /۱۴۸)
ردالمحتار میں ہے:
لو شھدا علٰی شہادۃ رجل واحد ھما یشھد بنفسہ ایضالم یجز کذا فی المحیط السرخسی فتاوی الھندیۃ ولو شھد واحد علی شھادۃ نفسہ وآخران علی شہادۃ غیرہ یصح وصرح بہ فی البزازیۃ اھ ۳؎ مختصرا
اگر دو گواہوں نے ایک مرد کی شہادت پر شہادت کی اور اُن میں ایک خود بذاتہ گواہ ہے تو یہ جائز نہیں، ایسا ہی فتاوٰی عالمگیری میں محیط امام سرخسی سے ہے اور اگر ایک نے خود گواہی دی اور دوسرے دو۲ نے اور شخص کی شہادت پر شہادت ادا کی تو یہ درست ہے، بزازیہ میں اس کی تصریح ہے۱۲
 (۳؎ ردالمحتار         باب الشہادت علی الشہادۃ    مصطفی البابی مصر    ۴ /۴۳۷)
فتاوٰی عٰلمگیریہ میں ذخیرہ سے ہے:
ینبغی ان یذکر الفرع اسم الشاھد الاصل واسم ابیہ وجدّہ حتی لوترک ذلک فالقاضی لا یقبل شہادتھما کذا فی الذخیرۃ۔۴؎
گواہِ فرع کو چاہئے کہ گواہ اصل اور اس کے باپ اور دادا سب کا نام ذکر کرے یہاں تک کہ اسے چھوڑدے گا توحاکم اس کی گواہی قبول نہ کرے گا کذافی الذخیرہ۔۱۲
 (۴؎ فتا وٰی ہندیۃ     الباب الحادی عشر فی الشہادۃ علی الشہادۃ     نورانی کتب خانہ پشاور ، ۳ /۵۲۴)
شہادۃ علی الشہادۃ میں یہ بھی ضرور ہے کہ اُ سکے مطابق حکم ہونے تک، گواہانِ اصل بھی اہلیتِ شہادت پر باقی رہیں اور شہادت کی تکذیب نہ کریں مثلاً گواہانِ فرع نے ابھی  گواہی نہ دی یا دی اور اس پر ہنوز حکم نہ ہوا تھا کہ گواہان اصل سے کوئی گواہ اندھایا گونگا یا مجنون یا معاذاﷲمرتد ہوگیا یاکہا کہ میں نے ان گواہوں کو اپنی شہادت کا گواہ نہ کیا تھا یا غلطی سے گواہ کردیا تھا تو یہ شہادت باطل ہوجائے گی۔
درمختار میں ہے:
تبطل شہادۃ الفروع بخروج اصلہ عن اھلیتھا کخرس وعمی، وبانکار اصلہ الشھادۃ کقولھم مالنا شہادۃ اولم نشھد اواشھد ناھم وغلطنا اھ۱؎ مختصرا
اصل شاہد کے اہلیت سے نکل جانے کے سبب سے فروع کی شہادت باطل ہوجاتی ہے مثلاً شاہد گونگا یا نابینا ہوگیا یا اصل شاہد شہادت سے انکاری ہو، مثلاً اصول یُوں کہیں ہم گواہ نہیں یا ہم نے ان کو گواہ نہیں کیا یا ہم نے ان کو گواہ کیا اور غلط کہا ۔(ت)
 ( ۱؎درمختار         باب الشہادۃ علی الشہادۃ         مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۱۰۰)
طریق سوم: شہادۃ علی القضاء یعنی دوسرے کسی اسلامی شہر میں حاکم اسلام قاضیِ شرع کے حضور رؤیت ہلال پر شہادتیں گزریں اور اُس نے ثبوتِ ہلال کا حکم دیا، دو۲ شاہدانِ عادل اس گواہی و حکم کے وقت حاضر دارالقضاء تھے، انہوں نے یہاں حاکم اسلام قاضیِ شرع یا وُہ نہ ہو تو مفتی کے حضور کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں ہمارے سامنے فلاں شہر کے فلاں حاکم کے حضور فلاں ہلال کی نسبت فلاں دن کی شام کو ہونے کی گواہیاں گزریں اور حاکم موصوف نے اُن گواہیوں پر ثبوت ہلال مذکور شام فلاں روز کا حکم دیا،
فتح القدیر شرح ہدایہ میں ہے :
لوشھدواان قاضی بلد کذا شھد عندہ اثنان برؤیۃ الہلال فی لیلۃ کذاوقضی بشھادتھما جاز لھذاالقاضی ان یحکم بشھادتھما لان قضاء القاضی حجۃ وقد شھد وابہ۔۲؎
اگر گواہوں نے گواہی دی کہ فلاں شہر کے فلاں قاضی کے پاس فلاں رات میں چاند دیکھنے پر دو۲ آدمیوں نے گواہی دی تو قاضی ان کی شہادت پر فیصلہ دے دیا ہے تو اس قاضی کے لیے ان دونوں کی شہادت کی وجہ سے فیصلہ دینا جائز ہے کیونکہ قضائے قاضی حجت ہے اور انہوں نے اس پر گواہی دی ہے۔(ت)
 (۲؎ فتح القدیر        کتاب الصوم         مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر     ۲ /۲۴۳)
اسی طرح فتاوٰی قاضیخاں و فتاوٰی خلاصہ وغیرھما میں ہے۔
قلت وقیدہ فی التنویر تبعاً للذ خیرۃ عن مجموع النوازل باستجماع شرائط الدعوی و وجھہ العلامۃ الشامی بتوجیھین، لنا فی کل منھما کلام حققناہ فیما علیہ علقناہ فراجعہ ثمہ فانہ من الفوائد المھمۃ۔
قلت تنویر میں ذخیرہ کی اتباع کرتے ہوئے مجموع النوازل کے حوالے سے نقل کرتے ہُوئے یہ قید لگائی کہ دعوٰی کے تمام شرائط کا پایا جانا ضروری ہے اور علامہ شامی نے اس کی دو۲ توجیہات بیان کی ہیں ان میں سے ہرایک پر ہمیں کلام ہے، اس کی پوری تفصیل ہم نے حاشیہ ردالمحتار میں بیان کردی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں وُہ نہایت ہی اہم ہے(ت)
Flag Counter