Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
89 - 198
رسالہ

طرق اثبات الہلال (۱۳۲۰ھ)

(اثباتِ چاند کے طریقے)
مسئلہ ۲۰۳: از بڑودہ گجرات باڑہ نواب صاحب مرسلہ نواب سیّد معین الدین حسن خاں بہادر۲۵محرم الحرام۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رؤیت ہلال شریعت میں کس طرح ثابت ہوتی ہے؟بحوالہ کتب مع ترجمہ اردو جواب عطاہو۔بینواتوجروا
الجواب

بسم اﷲالرحمٰن الرحیم :الحمدﷲالذی جعل الشمس ضیاء و القمر نورا والصلٰوۃ والسلام علی من صار الدین بطلوع ہلالہ بدرامنیرا وعلٰی اٰلہ وصحبہ الکاملین نورا والمکملین تنویرا۔
سب تعریفا ت اﷲکے لیے جس نے شمس کو ضیاء اور قمر کونوربنایا، صلٰوۃ وسلام اس ذاتِ اقدس پر جس کی آمد سے دینِ اسلام تمام ادیان میں بدر منیر بن گیا، آپ کے آل واصحاب پر جو نور کے اعتبار سے کامل اور تنویر کے اعتبار سے مکمل  ہیں(ت)

ثبوتِ رؤیت ِ ہلال کے لیے شرع میں سات۷طریقے ہیں :
طریقِ اوّل: خود شہادتِ رؤیت یعنی چاند دیکھنے والے کی گواہی، ہلال رمضان مبارک کے لیے ایک ہی مسلمان عاقل، بالغ، غیر فاسق کا مجرد بیان کافی ہے کہ میں نے اس رمضان شریف کا ہلال فلاں دن کی شام کو دیکھا اگر چہ کنیز ہو اگر چہ مستور الحال ہو، جس کی عدالت باطنی معلوم نہیں، ظاہر حال پابندِ شرع ہے اگر چہ اس کا یہ بیان مجلسِ قضاء میں نہ ہو، اگر چہ گواہی دیتا ہُوں نہ کہے، نہ دیکھنے کی کیفیت بیان کرے کہ کہاں سے دیکھا کدھر کو  تھا کتنا اونچا تھا وغیر ذٰلک۔ یہ اس صورت میں ہے کہ ۲۹ شعبان کو مطلع صاف نہ ہو، چاند کی جگہ ابر یا غبار ہو، اور بحال صفائی مطلع اگر ویسا ایک شخص جنگل سے آیا یا بلند مکان پر تھا تو بھی ایک ہی کا بیان کافی ہوجائے گا، ورنہ دیکھیں گے کہ وہاں کے مسلمان چاند دیکھنے میں کوشش رکھتے ہیں، بکثرت لوگ متوجہ ہوتے ہیں یا کاہل ہیں دیکھنے کی پروا نہیں، بے پروائی کی صورت میں کم سے کم دودرکار ہوں گے اگر چہ مستور الحال ہوں، ورنہ ایک جماعتِ عظیم چاہئے کہ اپنی آنکھ سے چاند دیکھنا بیان کرے جس کے بیان سے خوب غلبہ ظن حاصل ہوجائے کہ ضرور چاند ہُوا اگر چہ غلام یا کھلے فساق ہوں،اور اگر کثرت حدِ تواتر کو پہنچ جائے کہ عقل اتنے شخصوں کا غلط خبر پر اتفاق محال جانے توایسی خبر مسلم وکافر  سب کی مقبول ہے۔باقی گیارہ ہلالوں کے واسطے مطلقاً ہر حال میں ضرور ہے کہ دو۲مرد عادل یا ایک مرد دو۲ عورتیں عادل آزاد جن کا ظاہری و باطنی حال تحقیق ہو کہ پابند شرع ہیں، قاضی شرع کے حضور لفظ اشھد گواہی دیں یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے اس مہینے کا ہلال فلان دن کی شام کو دیکھا اور جہاں قاضی شرع نہ ہو تو مفتی اسلام اُس کا قائم مقام ہے جبکہ تمام اہلِ شہر سے علمِ فقہ میں زائد ہو اُس کے حضور گواہی دیں اور اگر کہیں قاضی و مفتی کوئی نہ ہوتو مجبوری کو اور مسلمانوں کے سامنے ایسے عادل دو۲مرد یا ایک مرد دو۲ عورتوں کا بیان بے لفظ اشھد بھی کافی سمجھاجائے گا، ان گیارہ ہلالوں میں ہمیشہ یہی حکم ہے مگر عیدین میں اگر مطلع صاف ہو اور مسلمان رؤیتِ ہلال میں کاہلی نہ کرتے ہوں اور وہ دو۲ گواہ جنگل یا بلندی سے نہ آئے ہوں تو اس صورت میں وہی جماعتِ عظیم درکار ہے، اسی طرح جہاں اور کسی چاند مثلاً ہلالِ محرم کا عام مسلمان پُورا اہتمام کرتے ہوں تو بحالتِ صفائی مطلع جبکہ شاہدین  جنگل یا بلندی سے نہ آئیں تو  ظاہراًجماعت عظیم ہی چاہئے کہ جس وجہ سے اُس کا ایجاب رمضان و عیدین میں کیا گیا تھا یہاں بھی حاصل ہے۔
درمختار میں ہے:
قیل بلادعوی وبلا لفظ اشھد وحکم و مجلس قضاء،  للصوم مع علۃ کغیم وغبار، خبر عدل او مستورلا فاسق اتفاقا ولوقنّا او انثی بیّن کیفیۃ الرؤیۃ اولا،علی المذہب، وشرط للفطر مع العلۃ العدالۃ و نصاب الشھادۃ ولفظ اشھد ولو کانواببلدۃ لاحاکم فیھا، صاموابقول ثقۃ وافطر واباخبار عدلین مع العلۃ للضرورۃ،وقیل بلاعلۃ جمع عظیم یقع غلبۃ الظن بخبرھم وعن الامام، یکتفی بشاھدین واختارہ فی البحر وصحح فی الاقضیۃ الاکتفاء بواحد، ان جاء من خارج البلد، او کان علی مکان مرتفع واختارہ ظہیرالدّین، وھلال الاضحی وبقیۃ الاشھر التسعۃ کالفطر علی المذھب اھ۱؎مختصرا
ابرو غبار کی حالت میں ہلال رمضان کے لیے ایک عادل یا مستور الحال کی خبر کافی ہے اگر چہ غلام یا عورت ہو رؤیت کی کیفیت بیان کرے خواہ نہ کرے،دعوٰی یا لفظ اشھد یا حکم یا مجلس قاضی کسی کی شرط نہیں مگر فاسق کا بیان بالاتفاق مردود ہے اور عیدکے لیے بحال ناصافی مطلع عدالت کے ساتھ دومرد یا ایک مرد  دو۲ عورت کی گواہی بلفظ اشھد ضرور ہے اور اگر ایسے شہر میں ہوں جہاں کوئی حاکمِ اسلام نہیں تو بوجہ ضرورت  بحال ابروغبار ایک ثقہ شخص کے بیان پر روزہ رکھیں اور دو عادلوں کی خبر پر عید کرلیں، اور جب ابر و غبار نہ ہو تو ایسی بڑی جماعت کی خبر مقبول ہوگی جس سے ظنِ غالب حاصل ہوجائے اور امام سے مروی ہوا کہ دو۲ گواہ کافی ہیں اور اسی کو بحرالرائق میں اختیار کیا،اور کتاب الاقضیہ میں فرمایا صحیح یہ ہے کہ ایک بھی کافی ہے اگر جنگل سے آئے یا بلند مکان پر تھا اور اسی کو امام ظہیرالدین نے اختیار فرمایا اور ذی الحجہ اور باقی نو مہینوں کے چاند کاوہی حکم ہے جو ہلالِ عید الفطر کا۔ اھ مختصراً
 (۱؎ درمختار     کتاب الصوم     مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۴۹-۱۴۸)
ردالمحتار میں ہے:
شرط القبول عند عدم علۃ فی السماء لہلال الصوم اوالفطر اخبار جمع عظیم لان التفرد من بین الجم الغفیر بالرؤیۃ مع توجھھم طالبین لما توجہ ھو الیہ مع فرض عدم المانع ظاھر فی غلطہ،بحر، ولا یشترط فیھم العدالۃ، امداد ولا الحریۃ قھستانی،۲؎
جب آسمان صاف ہوتو ہلالِ روزہ وعید کے قبول کو جماعتِ عظیم کی خبر شرط ہے اس لیے کہ بڑی جماعت کہ وُہ بھی چاند دیکھنے میں مصروف تھی اُس میں صرف دو ایک شخص کو نظر آنا حالانکہ مطلع صاف ہے ان دو ایک  کی خطا میں ظاہر ہے، ایسا ہی بحرالرائق میں ہے اور جماعت عظیم میں عدالت شرط نہیں، ایسا ہی امداد الفتاح میں ہے، نہ آزادی شرط ہے ایسا ہی قہستانی میں ہے،
 (۲؎ ردالمحتار     کتاب الصوم        مصطفی البابی مصر    ۲ /۱۰۰)
قولہ واختارہ فی البحر حیث قال ینبغی العمل علی ھذھ الروایۃ فی زماننا لان الناس تکاسلت عن ترائی الاھلۃ فانتفی قولھم مع توجھھم طالبین و ظاہر الولوالجیۃ والظھیریۃ یدل علی ان ظاہرالروایۃ ھو اشتراط العدد والعدد یصدق باثنین اھ وفی زماننا مشاھد من تکاسل الناس فلیس فی شھادۃ الاثنین تفرد من بین الجم الغفیر حتی یظھرغلط الشاھد،فانتفت علۃ ظاھرالروایۃ فتعین الافتاء بالروایۃ الاخری،۱؎
اور بحرالرائق میں فرمایا کہ جب لوگ چاند دیکھنے میں کاہلی کریں تو اس روایت پر عمل چاہئے کہ دو گواہ کافی ہیں کہ اب وُہ وجہ نہ رہی " کہ سب چاند دیکھنے میں مصروف تھے اور مطلع صاف تھا تو فقط انہی دو۲ کو نظر آنا'' بعید از قیاس ہے، اور ولوالجیہ وظہیریہ سے ظاہر ہوتاہے کہ ظاہرالروایۃ میں صرف تعدد گوہان کی شرط ہے اور تعدددو۲ سے بھی ہوگیا انتہی اور ہمارے زمانے میں لوگوں کاکسل آنکھوں دیکھا ہے تو دو۲ کی گواہی کو یہ نہ کہیں گے کہ جمہور کے خلاف انہی کو کیسے نظر آگیا جس سے گواہ کی غلطی ظاہر ہو تو ظاہر الروایۃ کی وجہ نہ رہی تو اس دوسری روایت پر فتوٰی دینا لازم ہُوا
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب الصوم    مصطفی البابی مصر    ۲ /۱۰۱)
وفی کافی الحاکم الذی ھو جمع کلام محمد فی کتبہ ظاہر الروایۃ وتقبل شھادۃ المسلم والمسلمۃ عد لاکان اوغیر عدل بعد ان یشھد انہ رأی خارج المصر اوانہ رأہ فی المصر وفی المصر علۃ تمنع العامۃ من التساوی فی رؤیتہ اھ ولا منا فاۃ بینھما لان اشتراط الجمع العظیم اذاکان الشاھد من المصر فی مکان غیرمرتفعِ، فالثانیۃ مقیدۃ لاطلاق الاولی بدلیل ان الاولی علل فیھا ردالشہادۃ بان التفرد ظاہر فی الغلط وعلی مافی الثانیۃ لم توجد علۃ الردولھذا قال فی المحیط فلایکون تفردہ بالرؤیۃ خلاف الظاہرالخ۲؎
اور کافی حاکم جس میں امام محمد کا تمام کلام،کتب ظاہرالروایۃ کا جمع فرمادیا ہے یُوں ہے کہ رمضان میں ایک مسلمان مرد یا عورت عادل یا مستورا لحال کی گواہی مقبول ہے جبکہ یہ گواہی دے کہ اس نے جنگل میں دیکھا یا شہر میں دیکھا اور کوئی سبب ایسا تھا جس کے باعث اوروں کو نظر نہ آیا انتہی اور ان دونوں روایتوں میں منافات نہیں اس لیےکہ جماعت عظیم کی شرط وہاں ہے کہ گواہ شہر میں غیر مکان بلند پر ہوتو یہ پچھلی روایت اُس پہلی کے اطلاق کی قید بتاتی ہے اور اس پر دلیل یہ کہ پہلی میں ایک کی گواہی نہ ماننے کی وجہ یہ فرمائی کہ تنہا اُس کا دیکھنا غلطی میں ظا ہر ہے اور اُس پچھلی صورت یعنی جبکہ وُہ جنگل میں یا بلند مکان پر تھا وہ رَد کی وجہ نہ پائی گئی اس لیے محیط میں فرمایا کہ اس حالت میں تنہا اُ س کا دیکھنا خلاف ظاہر نہ ہوگا الخ
 (۲؎ ردالمحتار     کتاب الصوم    مصطفی البابی مصر    ۲ /۱۰۱)
قولہ وبقیۃ الشھر التسعۃ لا یقبل فیھا الاشھادۃ رجلین اورجل وامرأتین عدول احرارغیر محدودین کما فی سائرالاحکام، بحر عن شرح مختصر الطحاوی للامام الاسبیجابی والظاھر انہ فی الاھلۃ التسعۃ لافرق بین الغیم والصحوفی قبول الرجلین لفقد العلۃ الموجبۃ لاشتراط الجمع الکثیر وھی توجہ الکل طالبین ویؤیدہ قولہ کما فی سائرالاحکام اھ۱؎ملتقطا۔
اور باقی نو مہینوں میں مقبول نہ ہوگی مگر گواہی دو۲ مرد وں یا ایک مرد دوعورتوں عادل آزاد کی جن پر حدِ قذف نہ لگ چکی ہو جیسے باقی تمام معاملات میں ۔ اسی طرح بحرالرائق میں امام اسبیجابی شرح مختصر طحاوی سے ہے اور ظاہر یہ ہے کہ ان نو چاندوں میں صفائی وعدم صفائی مطلع کا کچھ فرق نہیں ہر حال میں دو۲ کی گواہی قبول ہوگی کہ وہ وجہ جو وہاں شرط جماعت عظیم کی باعث تھی کہ سب ہلال کو تلاش کرتے ہیں یہاں موجود نہیں کہ ان نومہینوں کا چاند عام لوگ تلاش نہیں کرتے ہیں،اور اس کی تائید کرتا ہے امام اسبیجابی کا وُہ فرمانا کہ اُن میں وُہ درکار ہے جو باقی تمام معاملات میں اھ ملتقطا
 (۱؎ ردالمحتار         کتاب الصوم         مصطفی البابی مصر        ۲ /۱۰۳)
حدیقہ ندیہ میں ہے:اذا خلاالزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور مؤکلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیھم ویصیرون ولاۃ فاذا عسر جمعھم علی واحد استقل کل قطر باتباع علمائہ فان کثروا فالمتبع اعلمھم فان استووا اقرع بینھم۔۲؎
جب زمانہ ایسے سلطان سے خالی ہوجو معاملاتِ شرعیہ میں کفایت کرسکے تو شرعی سب کام علماء کوسپرد ہونگے اور مسلمانوں پر لازم ہوگا کہ اپنے ہرمعاملہ شرعیہ میں اُن کی طرف رجوع کریں وُہ علماء ہی قاضی و حاکم سمجھے جائیں گے، پھر اگر سب مسلمانوں کا ایک عالم پر اتفاق مشکل ہو تو ہر ضلع کے لوگ اپنے علماء کا اتباع کریں گے، اگر ضلع میں عالم کثیر ہوں توجو سب میں زیادہ احکامِ شریعت کا علم رکھتا ہے اُس کی پیروی ہوگی، اور اگر علم  میں برابر ہوں توان میں قرعہ ڈالیں ۱۲منہ غفرلہ،
 (۲؎ الحدیقۃ الندیہ،النوع الثالث من انواع العلوم الثلاثۃ،مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ، ا/ ۳۵۱)
Flag Counter