مسئلہ ۲۰۱ : از گیا محلہ بارہ قریب مسجد غلام المصطفی صاحب
مظہرِ انوار شریعت حضرت مولانا دامت برکاتکم وفیوضاتکم بعد سلام باکرام آنکہ ایک مسئلہ جو رمضان کی تیس تاریخ پیش آیا تھا وہ دریافت طلب ہے امید کہ جواب باصواب زودتر ارسال فرکر سرفراز و ممتاز فرما کر عندا ﷲماجور ہوں، بصورتِ فرصت و مہلت حدیث ماخذ و حوالہ کتاب بھی ارشاد فرمادیجئے گا فقط، زیادہ آفتاب ہدایت تاباں ودرخشاں باد۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین اس مسئلہ میں کہ ایک قصبہ میں جس روز رمضان شریف کی تیس ۳۰ تاریخ تھی اُسی روز ایک شہر کے مختارکچہری کے آئے اور اُنہوں نے کہا کہ آج ہم جس شہر سے آئے ہیں وہاں آج عید کی نماز ہوگی، سامان نماز کو ہورہا تھا، آپ لوگ بھی پڑھیے۔ مختار صاحب مذکور کسی عالم کے فرستادہ میں سے نہ تھے اور نہ کسی عالم صاحب کا خط لائے تھے اب قطع نظر امورِ خارجہ کے اور اس بات کے کہ آئندہ کیا متحقق ہوگا، صرف یہ ارشاد ہو کہ اس قصبہ میں ازرُو ئے شریعت کے اس روز مختار صاحب موصوف کی خبر معتبر تھی یا نہیں اور مختار صاحب کی خبر کا اعتبار کرکے نمازِ عید کے واسطے فتوٰی دینا صحیح ہوگا یا نہیں، ارشاد فرماکر عنداﷲماجور و داخلِ حسنات ہوں اور اس قصبہ کا ہندو تار بابُو خبر دیتا تھا کہ تار آیا ہے آج عید فلاں شہر میں ہوگی، اب تار بابُو کا خبر دینا معتبر تھا یا نہیں؟
الجواب:دربارہ ہلال خط و تار محض بے اعتبار ، اشباہ والنظائر میں ہے:
لا یعتمد علی الخط ولا یعمل بہ۱؎
(خط پر نہ تو اعتماد کیا جائے نہ ہی اس پر عمل کیا جائے۔ت)
(۱؎ اشباہ والنظائر ،کتاب القضاء والشہادات والدعاوی، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ،۱ /۳۳۸)
مخبر واحد اور کچہری کے مختار اور وُہ بھی محض حکایت و اخبار کہ دو شاھدِ عدل بھی ایسی حکایت کرتے تو اصلاً معتبر نہ تھی۔ درمختار میں ہے:
شھد واانہ شھد عند قاضی مصر کذا شاھد ان برؤیۃ الہلال وقضی بہ و وجد استجماع شرائط الدعوی قضی القاضی بشھادتھما لان قضاء القاضی حجۃ وقد شھد وابہ، لالوشھد وابرؤیۃ غیرھم لانہ حکایۃ۔۲؎(ملخصاً)
گواہ کہتے ہیں کہ قاضی مصر کے پاس فلاں دو۲ گواہوں نے فلاں تاریخ کو چاند دیکھنے پر گواہی دی ہے اور وہاں کہ قاضی نے اس پر فیصلہ کر دیا ہے اور شرائطِ دعوٰی ساری کی ساری پائی گئی ہوں تواب قاضی کو جائز ہے ان کی گواہی پر فیصلہ کردے کیونکہ قاضی کی قضا ء حجّت ہے اور اسی پر وہاں کے گواہوں نے گواہی دی ہے۔ ہاں اگر وُہ دوسروں کی رؤیت پر گواہی دیتے تو قبول نہ ہوتی کیونکہ یہ حکایت ہے(ملخصاً)۔(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۹)
صورتِ مذکورہ میں اہلِ قصبہ کو عید کرنی حرام تھی اگر چہ بعد کو عید ثابت ہی ہوجائے کہ اُنہوں نے قبل ثبوت عید کی اور ارشادِ حدیثِ صحیح
صوموالرؤیتہ وافطر وا لرؤیتہ۱؎
(چانددیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید کرو۔ت)
جب غیر اہل کوکام سپرد کردیا جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔(ت) واﷲتعالٰی اعلم
(۲؎ صحیح بخاری کتاب العلم،قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴)
مسئلہ ۲۰۲ : از مقام سوجت مارواڑ بازار کے اندر مسئولہ شیخ ننے میاں کلاہ فروش داہن منڈی ۲۶صفر۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ قصبہ سوجت مارواڑ میں ۲۹ شعبان کو چاند نظر نہیں آیا اور شعبان کے تیس روز پُورے کرکے رمضان شریف کے روزے رکھنے شروع کئے، بعد میں کسی وجہ سے دو تین آدمی دہلی گئے، وہاں کے لوگوں نے ۲۹ شعبان کو چاند دیکھنے کے حساب سے روزے رکھے تھے اب وہ شخص اخیر رمضان مبارک میں سوجت واپس آگئے اور کہنے لگے کہ دہلی میں ۲۹ کے حساب سے روزہ رکھنا شروع ہُوا ہے ہم بھی وہاں کے حساب سے عید کرینگے سوجت کے چاند دیکھنے کا خیال نہیں کریں گے، اب سوجت کی ۲۹، اور دوسری جگہ ۳۰ کو کہا کہ کل عید کرینگے تو انہوں نے ضد اور نفسانیت کرکے روزہ نہیں رکھا، اور جن لوگوں نے روزہ رکھا تھا بہکا بہکا کر افطار کردیا اور بعض لوگوں نے کہا کہ بغیر چاند نظر آئے ہم روزہ افطارنہ کریں گے اور ۳۰ دن پُورے کرکے عید کریں گے کیونکہ ہم کو شرع شریف کا یہی حکم ہے اور ایک فتوٰی جناب مولانا احمد رضا خاں صاحب کا دیکھا گیا تھا جس میں تحریر تھا کہ خطوط اور تار وغیرہ سے روزہ افطار نہیں کرنا چاہئے اور پھر اسی قسم کی ایک حدیث بھی نظر آئی جس کا مضمون یہ ہے کہ حضرت کریب رضی اﷲتعالٰی عنہ ملک شام میں حضرت امیر معاویہ رضی اﷲتعالٰی عنہ کے پاس گئے اور رمضان المبارک کا چاند اُن کونظر آگیا تھا پھر اخیر رمضان شریف کو مدینہ منورہ میں آئے اور حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما نے اُن سے وہاں کے حالات دریافت کئے اور یہ بھی دریافت کیا کہ تم نے چاند کو دیکھا تھا اُنہوں نے کہا کہ جمعہ کی رات کو دیکھا تھا، پھر ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما نے فرمایا تم نے خود دیکھا تھا، انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے بھی دیکھا تھا اور دوسرے آدمیوں نے بھی دیکھا اور سب نے روزہ رکھا، حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما نے فرمایا کہ ہم نے تو ہفتے کی رات چاند دیکھا سواسی حساب سے ہم روزہ رکھیں گے۔ پھر حضرت کریب رضی اﷲتعالٰی عنہ نے کہا کیا آپ حضرت معاویہ اوراُن کے روزہ رکھنے پر عمل نہیں کرینگے تو حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما نے فرمایا کہ نہیں کیونکہ اسی طرح حکم کیا ہم کو رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے کہ اپنے اپنے ملک کی رؤیت لازم آتی ہے دوسرے ملک یا علاقہ والوں پر لازم نہیں ہوتی، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ جن لوگوں نے روزہ توڑ دیا اور دُوسروں کے روزے قریب آٹھ بجے کے تُڑوادئے بغیر چاند دیکھے، تو اب ۲۹ روزے رکھنے والے کو توبہ کرنا اور روزہ کی قضاء رکھنا چاہئے یا نہیں؟
الجواب:رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
صوموالرؤیتہ وافطر والرؤیتہ فان غم علیکم فاکملواعدۃ شعبان ثلثین۔۱؎
چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر عید کرو، اگر موسم ابر آلود ہوتوتم پر تیس۳۰ دنوں کا پورا کرنا ضروری ہے(ت)
روزہ اور افطار دونوں کی بناء حضور نے رؤیت پر رکھی، توخود رؤیت ہو یا دوسری جگہ کی رؤیت کا ثبوت شرعی ہو، اگر چہ دونوں جگہ فاصلہ مشرق ومغرب کاہو، یہی ظاہرالروایۃ ہے اور یہی صحیح و معتمد ہے۔ درمختار وغیرہ میں ہے:
اہل مشرق پر اہلِ مغر ب کی رؤیت کی بنا پر روزہ افطار لازم ہے بشرطیکہ ان کے ہاں چاند کا ثبوت بطریق موجب شرعی ہو۔(ت)
( ۲؎ درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۹)
اس کے ثبو ت کے سات۷ طریقے ہیں جو ہم نے اپنے فتاوٰی میں مفصل بیان کئے، یہ بات کہ ایک دو آدمی گئے اور دوسرے شہر سے خبر لائے کہ وہاں ۲۹کاچاند ہوا،نہ رؤیت ہے، نہ شہادت ہے، نہ شہادت علی الشہادت، نہ شہادت علی الحکم، غرض کوئی طریقہ شرعیہ نہیں محض حکایت ہے، اور وہ دربارہ ہلال اصلاً معتبر نہیں
کما نص علیہ فی الدروغیرہ من الاسفار
(جیساکہ اس پر دروغیرہ کتب میں تصریح ہے۔ت) اوروں کے روزے تُڑوانے میں یہ مرتکب کبیرہ ہوئے اور وہ روزہ توڑنے والے اور سخت کبیرہ کے مرتکب ہُوئے اور اُن پر قضاء لازم ، اور اُن کو دہلی میں اگر کوئی ثبوتِ شرعی بہم نہ پہنچا تھا تو ان کا جُرم اور اشرہے، اور ان پربھی قضاء لازم، یہ ایسی صورت کا مطلق حکم ہے مگر اس سال کی نسبت کافی شرعی ثبوتوں سے ۲۹دن کا ثابت ہوگیا، لہٰذا قضاء کی حاجت نہیں،البتّہ بلاثبوت شرعی جو حکم شرع پر جرأت کی اُس سے توبہ کی حاجت مگر جبکہ شعبان ۳۰کا سمجھ کر روزے رکھے تو یکم رمضان کے روزے کی قضا لازم ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔