Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
87 - 198
مسئلہ ۱۹۹تا ۲۰۰ : از شاہجہان پور     محمد خلیل غربی   ۲۱ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ 

اوّلاً:مرسلہ محمد اعزاز حسین بعبارت: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شاہجہان پور کے رہنے والے دوشخص ثقہ عادل بمبئی سے آئے اورانہوں نے بیان کیا کہ ہم نے خود ۲۹ ذیقعدہ کو بمبئی میں چاند دیکھا تو بمبئی کے آئے ہُوئے لوگوں کی شہادۃ اہلِ شاہجہانپور پر عید الاضحٰی ۲۹ کے حساب سے ہوگی یا نہیں؟ مع حوالہ کتبِ فقہیہ حنفیہ معتبرہ جواب تحریر فرمائیے بینواتوجروا
ثانیا: مرسلہ مولوی ریاست علی خاں صاحب بعبارتِ:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دو شخص کسی دوسرے شہر سے ۲۹ تاریخ کا چاند دیکھ کر آئیں، گو مسافت اُس شہر کی ایک ماہ سے زائد ہوتوگواہی اُن کی درباب رؤیت ہلال عیدالاضحی معتبر ہوگی یا نہیں؟ اور اگر معتبر ہوگی تو قول شامی کا کہ:
یفھم من کلامھم فی کتاب الحج ان اختلاف المطالع فیہ معتبر فلا یلز مھم شئی لو ظھر انہ رأی فی بلدۃ اخری قبلہم بیوم الخ۲؎
کتاب الحج میں فقہا ء کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ حج میں اختلافِ مطالع معتبر ہے تو حجاج پر کوئی شئی لازم نہ ہوگی اگر دوسرے شہر میں ایک دن پہلے چاند کا دیکھنا ظاہر ہوجائے الخ(ت)
 (۲؎ ردالمحتار    کتاب الصوم      مصطفی البابی مصر    ۲ /۱۰۵)
کیا مطلب ہے، اور یہ قول شامی کا معارض قول مفتی بہ اور ظاہرالروایۃ کے ہے تو ترجیح قول شامی کو دی جائیگی یا مفتی بہ قول کو کہ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اختلاف مطالع کا مطلقاً اعتبارنہیں ہے گوعیدالاضحی کا ہو 

اور نیز فتوٰی مولوی عبدالحی صاحب کا کہ جو مؤید بحدیث ہے اعتبار کیا جائے گا یا ظاہر الروایۃ اور مفتٰی بہ قول کا کیونکہ مولوی عبدالحی اپنے مجموعہ فتاوٰی میں یہ لکھتے ہیں کہ ایک ماہ یا زائد کی مسافت کی گواہی درباب رؤیتِ ہلال معتبر اور مقبول نہ ہوگی۔بینواتوجروا۔
الجواب:

جواب سوال اول: ان لوگوں کی شہادت عادلہ مستجمعہ شرائط شرعیہ واجب الاعتبار ہے اور اُس کا خلاف ناجائز، اور شاہجہان پور میں اس کی بنا پر ضرور ماہ ذیقعدہ ۲۹ کا ثبوت ہوکر اُس کے حساب سے چہار شنبہ کو عیدالضحٰی کرنی لازم ہُوئی اور اسی حساب سے جو بارہویں تھی یعنی روز جمعہ اُسی تک میعاد قربانی رہی جس نے اُس کے بعد شنبہ کو قربانی کی وُہ قربانی نہ ہُوئی کہ مذہب حنفی مین اختلاف مطالع کا اصلا اعتبار نہیں یہی ظاہرالروایۃ ہے اور اسی پر فتوٰی ہے، اور علمائے کرام تصریح فرماتے ہیں کہ جو ظاہر الروایۃ سے خارج ہے وہ اصلاً مذہب ائمہ حنفیہ نہیں خصوصاً جب وہی مذیل بفتوٰی ہو کہ اب تو کسی طرح اس سے عدول روا نہیں۔ خلاصہ و بحرالرائق وتنویرالابصار و دُرمختار میں ہے:
واللفظ لھذین ملتقطا ھلال الاضحٰی وبقیۃ الاشھر التسعۃ کالفطر علی المذھب واختلاف المطالع غیر معتبر علی ظاھر المذھب وعلیہ اکثر المشائخ و علیہ  الفتوی ۔۱؎(ملخصاً)
خلاصۃً ان دونوں کتابوں کے الفاظ میں صحیح مذہب پر عید الاضحی اور بقیہ نو ماہ کے چاند کا معاملہ عید الفطر کی طرح ہے، اختلافِ مطالع کا ظاہر مذہب کے مطابق اعتبارنہیں، اس پر اکثر مشائخ ہیں، اور اسی پر فتویٰ ہے۔(ت)
 (۱؎ درمختار         کتاب الصوم     مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۱۴۹)
فتاوٰی خیریہ میں ہے:
صرحوابان ما خرج عن ظاھر الروایۃ لیس مذھبا لابی حنیفۃ ولاقولالہ۔۲؎
فقہاء نے تصریح کی ہے کہ جو ظاہر الروایۃ سے نکل جائے وہ امام ابو حنیفہ کا نہ مذہب ہوتاہے نہ قول۔(ت)
 (۲؎فتاوٰی خیریہ     کتاب الطلاق     دارالمعرفۃ الطباعۃ والنشربیروت    ۱ /۵۲)
بحرالرائق میں ہے:
ما خرج عن ظاھرالروایۃ فھو مرجوع عنہ والمرجوع عنہ لم یبق قولالہ۔۳؎
جو ظاہرالروایۃ سے نکل جائے اس سے رجوع کرلیا گیا ہوتا ہے اور مرجوع عنہ امام صاحب کا قول باقی نہیں رہتا۔(ت)
 (۳؎بحرالرائق     فصل فی التقلید     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۶ /۲۷۰)
ردالمحتار میں ہے:
ما خالف ظاھر الروایۃ لیس  مذھبا لاصحابنا۔۱؎
جو ظاہرالروایت کے خلاف ہو وہ ہمارے احناف کا مذہب نہیں۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب احیاء الموات     دارالتراث العربی بیروت    ۵ /۲۷۸)
درمختار میں ہے:
الحکم والفتیابالقول المرجوح جھل وخرق الاجماع۔۲؎
مر جوح قول پر فتوٰی و فیصلہ جہالت اور اجماع کی مخالفت ہے۔(ت)
 (۲؎درمختار     خطبہ کتاب    مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۵)
ردالمحتار میں ہے:
کقول محمد مع وجود قول ابی یوسف اذالم یصحح اویقوّوجہہ واولی من ھذا بالبطلان الافتاء بخلاف ظاھرالروایۃ اذا لم یصحح والافتاء بالقول المرجوع عنہ اھ ۳؎ ھ  واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
جیسا کہ امام ابو یوسف کے قول کے باوجود امام محمد کے قول پر جس کی تصحیح نہ کی گئی ہو یا اس کی تقویت بیان نہ کی گئی ہو اور اس سے زیادہ باطل وُہ فتوٰی ہوگا جو ظاہر الروایۃ کے خلاف ہو جبکہ اس خلاف کی تصحیح نہ کی گئی ہو، اور وُہ فتوٰی جو مرجوع عنہ ہواھ ح،
واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت)
 (۳؎ ردالمحتار     تحت عبارتِ مذکور    مصطفی البابی مصر    ۱ /۵۵)
جواب سوال ثانی: صُورت مستفسرہ میں جب وُہ شہادت شرعیہ عادلہ ہوتو ضرور معتبر ہوگی اگر چہ ہلال عید اضحی ہواگرچہ اُن میں مسافت ایک ماہ سے زیادہ ہو، یہی ہمارے ائمہ کا مذہب ہے اور اسی پر فتوٰی اور اس سے عدول باطل وناروا،علّامہ شامی نور قبرہ السامی نے یہاں ظاہر الروایۃ وقول مفتٰی بہ کا معارضہ نہ چاہا بلکہ براہِ بشریت ایک خطائے فکری سے اُسے مختص بہ ہلال صوم و فطر سمجھا،فقط ہلال اضحی کو اُن نصوص سے مخصوص جانا اور یہ لغزشِ نظر تھی کہ اطلاقات بلکہ تنصیصات کتب معتمدہ مذہب کے مقابل اُس کی طرف التفات بھی ناممکن، چہ جائے اعتماد، علامہ ممدوح کایفھم من کلامھم فرمانا اُسی لغزشِ فکر کے باعث ہے ورنہ وُہ ہرگز ہمارے علماء کے کلام سے مفہوم بلکہ موہوم بھی نہیں اُن کے کلمات عالیات صاف اس مزعوم سے ابا فرمارہے ہیں۔ مولوی لکنھوی صاحب نے نہ صرف اضحی بلکہ صوم و فطر سب میں اختلافِ مطالع معتبر ٹھہر ایا اور ضرور ظاہرالروایۃ اور مفتٰی بہ کا بالقصد معارضہ کیا اور 

خود اپنی تصریحات کی رُو سے بوجوہ کثیرہ فاحش  خطاؤں اور باطل بناؤں سے کام لیا علامہ شامی کی بحث سے جسے وُہ فتوٰی نہیں بتاتے، اور مولوی لکھنوی صاحب کا فتوٰی جس پر وہ جزم واعتماد کررہے ہیں علمِ فقہ و علمِ حدیث وعلمِ ہیئت تینوں علوم کی رُو سے صریح باطل و محض ناقابل، اور خود ان دونوں حضرات کی دوسری تصریحات کے معارض ومناقض و مقابل ہیں، احادیث کی مخالفت تو دونوں صاحبوں نے یکساں کی ہے اگر چہ اس کا الزام بھی مولوی لکھنو ی صاحب پر زائد و قوی ہے کہ علّامہ شامی رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ ایک متفقہ مقلد سے زیادہ نہیں بنتے اور فاضل لکھنوی ایک محقق محدّث اہلِ نظر اعتبار، نقّادارشادات ائمہ کبار بننا چاہتے ہیں،حتی کہ محمد رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے معجزہ عظیمہ سراج الامہ کاشف الغمہ امام الائمہ نائل العلم والایمان من الثریا سیّد نا امام اعظم ہمام اقدم رضی اﷲتعالٰی عنہ ارشاداتِ عالیہ کو محک نقد ونقض وردپر رکھتے ہیں کہ ابو حنیفہ نے یہ کہا اور حق یُوں ہے ابو حنیفہ کے دلائل یہ ہیں اور یہ سب باطل ہیں ، ایسے جلیل الشان رفیع المکان محدّث ، احادیث وآثار کے محیط و حاوی، فخر بخاری ورشک طحاوی کا احادیث و اضحہ مشہور ہ معروفہ صحیحہ صریحہ سے مخالف پڑنا ضرور محل عجب ہے۔فتوائے مولوی صاحب ہرگز مؤید بحدیث بلکہ صریح مخالف احادیث ہے اور اس کی شکایت بھی کُچھ نہیں ، بڑے بڑوں پر بھی بد زبانی کی ہے کہ ہمارے ائمہ رضی اﷲتعالٰی عنہم کے کسی مذہب کو اپنے زعم ناقص میں مخالف حدیث سمجھے اور بعد تنقیح، آفتاب کی طرح روشن ہُوا کہ یہ معتر ضین خود ہی حدیث نہ سمجھتے تھے، وﷲدرمن قال(اور اﷲتعالٰی ہی کے لیے بھلائی ہے، جس نے یہ شعر کہا:
؎ وکم من عائب قولا صحیحا واٰفتہ من الفھم السقیم
بہت سے لوگ صحیح بات کو معیوب قرار دیتے ہیں جبکہ یہ مصیبت کمزور فہم کی وجہ سے آئی ہے۔ت)
اور مبارک فقہ کی مخالفت کا زیادہ حصّہ توانہی فاضل محقق نے لیا۔ علامہ شامی پر اگر یہاں ایک اعتراض ہے تو ان پر چار پھر جیسا کہ ہم اشارہ کر آئے ہیں، اتنی مخالفت باوصف کثرت قصدیہ ہیں، اور علامہ شامی سے ایک مسئلہ کے فہم میں لغزش ہُوئی جس پر انُہوں نے بنائے کلام فرمائی تو وہ قاصد موافقت ہیں، نہ مرتکب مخالفت، طرفہ یہ کہ یہ اپنی تصریحوں سے تعارض وتناقض میں بھی ، انہی ہمارے محقّق مدقّق معاصر کا پلّہ بھاری ہے اور علمِ ہیئت سے یکسر بیگانگی کا الزام تو صرف انہی پر ہے کہ علامہ شامی کو ان فنون کی جانب التفات نہ تھا اور ہمارے محقق معاصر تو ہمہ داں ہیں، یہ سب اجمالی بیان بعونہِ تعالٰی دربارہ اہلہ فقیر کی متفرق تحریرات سے واضح ہیں اور احباب کی خواہش ہُوئی تو فقیر بعون القدیر تفصیل کے لیے حاضر۔ واﷲتعالٰی اعلم

ؕ
Flag Counter