Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
86 - 198
مسئلہ ۱۹۸: ۱۲ذی الحجہ ۱۳۰۹ھ مولوی سیّد شجاعت علی صاحب    از شہر کہنہ بریلی
ماقولھم رضی اﷲتعالٰی عنھم اجمعین
 (اﷲتعالٰی تم سے راضی ہو تمہارا قول کیا ہے۔ت) اس مسئلہ میں کہ غیر معتبر ہونا اختلاف المطالع کا جو اس عبارت تنویرالابصار سے ظاہر ہے
واختلاف المطالع غیر معتبر علی المذھب فیلزم اھل المشرق برؤیۃ اھل المغرب
 (مطالع کا اختلاف ہمارے مذہب میں معتبر نہیں ہے تواہلِ مغرب کی رؤیت سے اہلِ مشرق پر حکم لازم ہوگا۔ت) عام ہے، شامل ہے حج واضحیہ کو، یا خاص بصوم یا بہ فطر ہے اور نیز یلزم کی ضمیر کا مرجع ثبوت ہلال عام ہے، شامل ہر حج واضحیہ کو یا صوم یا فطرہ سے خاص ہے، عام سمجھنا اس کو صواب ہے یا خطا، ایک شہر میں عید الاضحی سہ شنبہ کوہُوئی بموجب رؤیت ہلال وہاں کی، اور دوسرے شہر میں چہار شنبہ کو ہُوئی بموجب رؤیت ہلال یہاں کی، اب قربانی کرنا دوسرے شہر والوں کوجمعہ کے آخر تک کہ وہ یومِ رابع قربانی کا ہے باعتبار رؤیۃ اول کے، اور یومِ ثالث قربانی کا ہے باعتبار ثانی کے، جائز ہے یا نہیں؟
بینو ابسند الکتاب توجروابیوم الحساب
 (کتاب کی سند کے ساتھ بیان کیجئے اور روزِ حساب اجر پائیے۔ت)فقط
الجواب:علّامہ سیّد حلبی و علّامہ سیّد طحطاوی و علامہ سیّد شامی محشیان درمختارعلیہم رحمہ اﷲالعزیز الغفار نے ضمیر یلزم کا مرجع ہلال صوم وفطر کو قرار دیا،
وھذا عبارۃ الشامی قولہ فیلزم فاعلہ ضمیریعود الٰی ثبوت الہلال ای ہلال الصوم اوالفطر۔۱؎
شامی کی عبارت یہ ہے قولہ فیلزم فاعلہ، یہ ضمیر ثبوت ہلال کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی رمضان یا عید کا چاند۔(ت)
 ( ۱؎ ردالمحتار    کتاب الصوم    مصطفی البابی مصر    ۲ /۱۰۵)
اس قدر چنداں قابلِ انکار نہیں، نہ حج واضحیہ سے نفی لزوم میں نص، ہاں علّامہ شامی نے تصریح فرمائی کہ کلماتِ ائمہ کرام سے حج میں اختلاف مطالع کا معتبر ہونا مفہوم اور استظہار کیا کہ اضحیہ میں یہی معتبر ہونا چاہئے اس تقدیر پر اہلِ عید چار شنبہ کو جمعہ تک قربانی جائز ہوگی اگر چہ منگل والوں کے نزدیک وُہ روزِ چہارم ہو جبکہ مطالع بلدین کا مختلف ہونا وہاں کی رؤیت کو یہاں لازم نہ کرے۔ردالمحتارمیں ہے:
تنبیہ: یفھم من کلامھم فی کتاب الحج ان اختلاف المطالع فیہ معتبر فلا یلزمھم شئی لوظہر انہ رؤی فی بلدۃ اخرٰی قبلھم بیوم، وھل یقال کذلک فی حق الاضحیۃ لغیرالحجاج لم ارہ، والظاھر نعم لان اختلاف المطالع انمالم یعتبر فی الصوم لتعلقہ بمطلق الرؤیۃ وھذا بخلاف الاضحیۃ فالظاھر انھا کاوقات الصلٰوۃ یلزم کل قوم العمل بماعند ھم فتجزی الاضحیۃ فی الیوم الثالث عشروان کان علٰی رؤیا غیرھم ھو الرابع عشر۔۲؎
تنبیہ : کتاب الحج میں فقہا کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اختلافِ مطالع کا حج میں اعتبار ہے تو ان حجاج پر کوئی شئی لازم نہ ہوگی ، جب یہ ظاہر ہوجائے کہ دوسرے شہر میں چاند ان سے ایک دن پہلے دیکھا گیا ہے، کیا حجاج کے علاوہ قربانی کے حق میں بھی یہی حکم ہوگا؟ یہ مسئلہ میرے مطالعہ میں نہیں آیا، ہاں ظاہراً یہی حکم  معلوم ہوتا ہے کیونکہ اختلافِ مطالع کا اعتبار صوم (روزہ)اس لیے نہیں کیا جاتا کہ اس کا تعلق مطلق رؤیت سے ہے بخلاف قربانی کے، تو اس میں ظاہر یہی ہے کہ یہ اوقاتِ نماز کی طرح ہے، ہر قوم پر ان کے اپنے وقت میں نماز لازم ہوگی تو تیسرے دن کی قربانی کفایت کرجائے گی اگر چہ دوسروں کے اعتبار سے وہ چوتھا دن ہو۔(ت)
 ( ۲؎ ردالمحتار    کتاب الصوم،صطفی البابی مصر ،۲ /۱۰۵)
اُن کے خیال  کا منشایہ ہے کہ طلاق، صلٰوۃ، زکٰوۃ، صوم ، نکاح، عتق، ایمان، سیر، بیع، اجارہ، شفعہ، میراث وغیرہا تمام ابوابِ فقہ میں اختلافِ مطالع بلاشبہ معتبر ہے،ہلالِ صوم و فطر میں اصح التصحیحین پر اُس کا نہ ماننا بربنائے ورودنص ہے کہ:
صوموالرؤیتہ وافطرو الرؤیتہ۔۱؎
چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر افطار کرو۔(ت)
 (۱؎ صحیح بخاری     باب اذارأیتم الہلال فصوموا    قدیمی کتب خانہ رکراچی     ۱ /۲۵۶)
مگر یہ علّامہ ممدوح رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ کا اپنا خیال ہے جس پر انہوں نے کوئی نقل معتمد پیش نہ کی، نہ کلماتِ علماء اُس کی مساعدت کریں، مسئلہ حج کی بناء،دفعِ حرج شدید پر ہے نہ کہ اختلافِ مطالع پر اور یہاں عدمِ ورودِ نص ماننا بھی صحیح نہیں، خاص دربارہ ذی الحجہ بھی حدیث صریح صحیح سے رؤیت پر تعلیق ثابت ہے اور ظاہر سیاق کلام ماتن و شارح رحمہما اﷲتعالٰی رجوع ضمیر مطلق ثبوت ہلال کی طرف جس میں ذی الحجہ بھی داخل ہے ،
نظمِ عبارت یہ ہے:
وھلال الاضحٰی وبقیۃالاشھر التسعۃکالفطر علی المذھب ورؤیتہ بالنھار للیلۃ الاٰتیۃ مطلقاعلی المذھب ذکرہ الحدادی، واختلاف المطالع ورؤیتہ نھارا قبل الزوال اوبعدہ غیرمعتبر علٰی ظاھر المذھب، وعلیہ اکثر المشائخ وعلیہ الفتوی بحرعن الخلاصۃ فیلزم اھل المشرق الخ۲؎
عید الاضحی اور باقی نوماہ کاچاند صحیح مذہب پر عیدالفطر کی طرح ہے، جو چاند دن کو نظر آئے ہر حال میں صحیح مذہب پر آنے والی رات کا شمار ہوگا، اسے حدادی نے ذکر کیا، ظاہر مذہب کے مطابق اختلافِ مطالع اور دن کو زوال سے پہلے یا بعد چاند کا نظر آنا غیر معتبر ہے اکثر مشائخ اسی پر ہیں اور اسی پر فتوی ہے، بحر عن الخلاصۃ، لہذامشرق پر لازم ہوگا الخ(ت)
 (۲؎ درِمختار         کتاب الصوم         مطبع مجتائی دہلی    ۱ /۱۴۹)
وہ یہاں احکامِ عامہ کے بیان میں ہیں علی الخصوص اس تصریح کے بعد ذی الحجہ وغیرہ کہ سب مہینوں کے ہلال کا وہی حکم ہے جو رمضان و فطر کے تو عندالتحقیق اگر دوسری جگہ کی رؤیت بطریق شرعی ثابت ہوجائے تو اُسی پر عمل واجب ہوگا،
والعبدالضعیف لطف بہ المولی اللطیف ، یرید ان یأتی بھذاالتحقیق الجلیل الشریف ان شاء اﷲتعالٰی فی تحریر منفصل نفیس۔
عبد ضعیف اپنے مولیٰ لطیف کے چاہتا ہے کہ اس پر مستقبل تحریر میں تفصیلاً تحقیق کردے اِن شاء اﷲتعالٰی۔ (ت)

ورنہ بے تحقیق باتوں پر اس نظرو بحث کی اصلاً گنجائش نہیں، شرعاً  نہ ہرگز خط پر عمل،نہ پرچہ اشتہار کوئی چیز ،نہ ایسی مہمل دو ایک تحریروں سے، استفاضہ شرعی حاصل ہوسکے، ایسے طریق کو موجب سمجھ لینا محض خطا وناواقفی اور ایسے بیہودہ ثبوتوں پر عید کرلینا مسلمانوں کی نماز و قربانی خراب کردینا اور عرفہ کے روزے تڑوانا سخت جرأت وبیباکی ہے
درمختار میں ہے:
یلزم اھل المشرق برؤیتہ اھل المغرب اذا ثبت عندھم رؤیۃ اولٰئک بطریق موجب کمامر۔۱؎
اہلِ مشرق پر اہل مغرب کی رؤیت کی بنا پر روزہ یا افطار لازم ہوگا بشرطیکہ ان کے ہاں وہ رؤیت بطریق موجب ثابت ہو۔جیسا کہ گزرا۔(ت)
 (۱؎درمختار     کتاب الصوم     مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۴۹)
ایسی حالت میں ہم پر باتفاقِ علماء اپنی رؤیت پر عمل واجب ہے اور اُن بے اصل شوشوں کی طرف التفات ہی باطل وذاہب واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
Flag Counter