مسئلہ۱۹۷: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نسبت رؤیت ہلال ماہ رمضان المبارک ہندوستان میں اختلاف ہے بذریعہ اخبار ودیگر تحریر معلوم ہُوا کہ کلکتہ و دیگر جا میں رؤیت بروز دو شنبہ اور روزہ بروز سہ شنبہ ہوا و دیگر بلاد و امصار میں رؤیت بروزسہ شنبہ اور روزہ بروز چہار شنبہ اور بعض جاروز پنجشنبہ ہوا، پس اب فتوٰی علماء کا کیا ہے، آیا بحالت عدم رؤیت ہلال شوال کے روزہ رمضان چار شنبہ آئندہ کو ختم کرکے پنجشنبہ کو عید کی جائے یا بروز چہار شنبہ عید ہو؟ بینو ا توجروا
الجواب:واﷲ الموفق المصدق والصواب(اﷲتعالیٰ ہی صدق و ثواب کی توفیق عطا فرمانے والا ہے۔ت)شارع علیہ الصلٰوۃ والتسلیم نے صوم و فطر کو منوط برؤیت فرمایا۔
قال رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم صوموا لرؤیتہ وافطر والرؤیتہ ۱؎کمافی الصحاح۔
رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:چاند دیکھنے پرروزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر عید کرو۔ جیسا کہ احادیثِ صحاح میں ہے(ت)
پس ہر شہر اور اس کی رؤیت اور اسی پر ابتنائے عدت، مجرد اخبارات و خطوط، صالح تعویل و اعتماد نہیں نہ صرف شہرت افواہ (کہ فلاں بلد میں فلاں روز چاند ہُوا جیسے بعض خبریں شہر میں مشتہر ہوجاتی ہیں اور اُن کا اشاعت کندہ معلوم نہیں) قابلِ اعتبار ، ہاں اگر کسی شہر جماعات متعددہ آئیں اور ہر ایک بیان کرے کہ فلاں روز وہاں رؤیت ہُوئی توبیشک اس خبر مستفیض پر عمل واجب ہوگا اگر چہ ان دو بقاع میں بعد المشرقین ہو کہ مذہبِ معتمد پر اختلاف مطالع غیر معتبر ہے۔
قال العلامۃ المفتی عمدۃ المتاخرین محمد بن علی بن محمد علاء الدین الحصکفی رحمہ اﷲتعالٰی فی الدرالمختار شرح تنویر الابصار، نعم لو استفاض الخبر فی البلدۃ الاخری لزمھم علی الصحیح من المذھب مجتبٰی وغیرہ انتھی وفیہ ایضا ان اختلاف المطالع غیرمعتبر علی ظاھر المذھب وعلیہ اکثر المشائخ وعلیہ الفتوی بحر عن الخلاصۃ فیلزم اھل المشرق برؤیۃ اھل المغرب اذا ثبت عندھم رؤیۃ اولٰئک بطریق موجب کمامر وقال الزیلعی الاشبہ انہ یعتبر لکن قال الکمال، الاخذبظاھر الروایۃ احوط۱؎انتھی(ملخصا)
عمدۃ المتاخرین علامہ مفتی محمد بن علی بن محمد علاء الدین الحصکفی رحمہ اﷲتعالٰی نے درمختار شرح تنویرالابصار میں فرمایا: ہاں اگر ایک شہر کی رؤیت دوسرے شہر میں خبر مشہور کے طور پر ہوجائے تو ان پرصحیح مذہب کے مطابق روزہ رکھنا لازم ہوجائیگا مجتبٰی وغیرہ انتہی، اور اسی میں ہے کہ اختلافِ مطالع ظاہر مذہب کے مطابق معتبر نہیں ، اسے بحر نے خلاصہ سے نقل کیا ہے، پس اہلِ مشرق پر اہلِ مغرب کی رؤیت سے روزہ یا افطار لازم ہوگا بشرطیکہ اہلِ مشرق کے ہاں یہ بات بطریق موجب ثابت ہوجیسا کہ سابق میں گزرا۔ امام زیلعی نے فرمایا مشابہ بحق یہ ہے کہ (اختلاف مطالع) معتبر ہے لیکن امام کمال کہتے ہیں کہ ظاہر الروایۃ پر عمل احوط ہے انتہی (ملخصاً)
(۱؎ درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۹)
قلت وقد ذکروا ان الفتوی اٰکد من الاشبہ وان الفتوی متی اختلف رجح ظاھر الروایۃ ۲؎کما فی البحر والد رروغیرھما،
قلت فقہاء نے ذکر کیا ہے کہ لفظ فتوٰی لفظ اشبہ سے زیادہ مؤکد ہوتا ہے اور جب فتوٰی میں اختلاف ہوتو ظاہر الروایۃ کو ترجیح حاصل ہوگی جیسا کہ بحر، در وغیرہ میں ہے،
(۲؎ بحر الرائق ،کتاب الرضاع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۲۲۲)
وفی حاشیۃ ردالمحتار للفاضل السیّد محمد امین ابن عابدین الشامی رحمہ اﷲعن الشیخ مصطفی الرحمتی الانصاری رحمہ اﷲ،ان معنی الاستفاضۃ ان تاتی من تلک البلدۃ جماعات متعددون کل منھم یخبر عن اھل تلک البلدۃ انھم صامواعن رؤیۃ ، لا مجرد الشیوع من غیر یتحدث بھا سائراھل البلدۃ ولایعلم من اشاعہ کما قد تشیع اخبار یتحدث بھا سائر اھل البلدۃ ولایعلم من اشاعھا کماورد ان فی اٰخرالزمان یجلس الشیطان بین الجماعۃ فیتکلم بالکلمۃ فیتحدثون بھا ویقولون لاندری من قالھا فمثل ھذالاینبغی ان یسمع فضلا من ان یثبت بہ حکم اھ (قال الشامی ) قلت وھو کلام حسن ویشیر الیہ قول الذخیرۃ اذااستفاض وتحقق فان التحقق لایوجد بمجرد الشیوع انتھی۔۳؎
فاضل سیّد محمد امین ابن عابدین شامی رحمہ اﷲتعالٰی نے شیخ مصطفی رحمتی انصاری رحمہ اﷲتعالٰی سے اپنے حاشیہ ردالمحتار میں نقل کیا ہے، مشہور ہونے کا معنٰی یہ ہے کہ اس شہر سے متعدد جماعتیں آئیں اور وہ تمام اس بات کی اطلاع دیں کہ وہاں لوگوں نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا ہے محض ایسی افواہ سے نہیں جس کے پھیلانے والا معلوم نہ ہو، جیسا کہ کبھی کبھی بعض خبریں شہروں میں پھیل جاتی ہیں اور ان کے پھیلانے والا معلوم نہیں ہوتا، جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ آخری دور میں شیطان جماعت کے درمیان بیٹھ کر کوئی بات کرے گا تو لوگ اسے بیان کریں گے اور کہیں گے ہم نہیں جانتے اس کا قائل کون ہے، تو ایسی باتیں سُننا ہی مناسب نہیں چہ جائیکہ ان سے کوئی حکم ثابت کیا جائے اھ امام شامی کہتے ہیں قلت یہ تمام گفتگو نہایت ہی خوب ہے اور ذخیرہ کی یہ عبارت بھی اسی طرف اشارہ کررہی ہے جب خبر مشہور اور متحقق ہوجائے ، کیونکہ تحقق محض شہرت اور پھیل جانے سے نہیں ہوتا انتہی(ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲ /۱۰۲)
پس ہرشہر میں اپنی رؤیت، خواہ غیر شہر کی شرعاً معتبر خبر پر، جو پہلی رمضان کی قرار پائے اسی پر بنائے کا ررکھیں اور روزہ متروک ہوجانا ثابت ہوتو بعد رمضان قضا کریں اُسی یکم کے اعتبار سے شمار ثلثین کامل کرکے عید کرلیں لیکن اگر اکتیسویں شب کو باوجود صفائیِ مطلع چاند نظر نہ آئے اور ابتدائے صیام صرف ایک شاہد کی شہادت پر کی گئی ہو تو اس صورت میں تیس کے بعد عید حضرت امام اعظم وامام ابویوسف رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہما نا روافرماتے ہیں کہ کذب اُس شاہد واحد کا ظاہر وہیں ہوگیا اور یہی مذہب و مرجح،
ھذا ماتحرر لنا من اقوال متشتۃ وکلمات متشوشۃ، ولنذکرطرفا من کلام الشامی فی ھذا المقام لیستبین لک ما لخصتہ عن المرام،قال العلامۃ الشارح رحمہ اﷲفی الدروبعد صوم ثلثین بقول عدلین حل الفطر وبقول عدل حیث یجوز وغم ھلال الفطر لا یحل علی المذھب خلا فالمحمد کذا ذکرہ المصنف لکن نقل ابن الکمال عن الذخیرۃ ان غم ھلال الفطر حل اتفاقا وفی الزیلعی الاشبہ ان غم حل والا لا۱؎انتہی مختصرا،
یہ وہ تمام گفتگو تھی جو متفرق اقوال اور تشویش میں ڈالنے والے کلمات سے اخذ کی گئی، یہاں امام شامی کی کچھ گفتگو نقل کرنا نہایت ہی مناسب ہے تاکہ وہ مقصد واضح ہوجائے جس کی خاطر میں نے یہ خلاصۃً گفتگو نقل کی ہے، علامہ شارح رحمہ اﷲتعالٰی نے در میں فرمایا جبکہ دو عادلوں کے قول سے روزہ رکھا ہوتو تیس دن کے بعد افطار حلال ہے یعنی جائز ہے اور حال یہ ہو کہ عید کے چاند کے دن ابر ہو، تو افطار حلال نہیں صحیح مذہب پر ،اس میں امام محمد کا اختلاف ہے جیسا کہ مصنّف نے ذکر کیا ہے لیکن ابن کمال نے ذخیرہ سے نقل کیا ہے کہ اگر عید کے چاند کے دن بادل وغیرہ ہوتو بالاتفاق افطار حلال یعنی جائز ہے، زیلعی میں ہے اگر چاند بادل وغیرہ کی وجہ سے دکھائی نہ دے تو عید حلال ہے ورنہ نہیں انتہی اختصاراً۔
(۱؎درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۹)
قال الفاضل المحشی قولہ حل الفطر ای اتفاقا ان کانت لیلۃ الحادی والثلثین متغیمۃ وکذا لومصحیۃ علی ماصححہ فی الدرایۃ والخلاصۃ والبزازیۃ وصححہ عدمہ فی مجموع النوازل والسید الامام الاجل نا صرالدین کما فی الامداد نقل العلامۃ نوح، الاتفاق علی حل الفطرفی الثانیۃ ایضا عن البدائع والسراج والجوھرۃ قال والمراد اتفاق ائمتنا الثلثۃ وما حکی فیہ من الخلاف انما ھو لبعض المشائخ قلت وفی الفیض،الفتوی علی حل الفطرالخ۱؎
فاضل محشی نے کہا قولہ حل الفطر یعنی اگر اکتیسویں رات ابر آلود ہوتو بالاتفاق عید جائز ہوگی، اور درایہ ، خلاصہ اور بزازیہ کی تصحیح کے مطابق اگر مطلع صاف ہوتب بھی یہی حکم ہے، مجموع النوازل میں اور السّید امام اجل ناصرالدین نے اس کے بر خلاف تصحیح کی ہے جیسا کہ امداد میں ہے،اور علامہ نوح نے بدائع، سراج اور جوھرہ سے نقل کیا ہے کہ دُوسری صورت میں بھی بالاتفاق عیدجائز ہوگی، اور کہاکہ یہاں اتفاق سے مراد ہمارے تینوں ائمہ کا اتفاق ہے اور اس سلسلہ میں اختلاف جو منقول ہے تو وُہ بعض مشائخ کا ہے قلت فیض میں ہے فتوٰی عیدکے جواز پر ہے الخ
(۱؎ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲ /۰۳-۱۰۲)
ثم قال قولہ لکن الخ استدراک علی ماذکرہ المصنّف من ان خلاف محمد فیما اذاغم ھلال الفطر بان المصرح بہ فی الذخیرۃ وکذافی المعراج عن المجتبٰی ان حل الفطر ھنا محل وفاق وانما الخلاف فیما اذا لم یغم ولم یرالھلال فعند ھما لایحل الفطروعند محمد یحل قال شمس الائمۃ الحلوانی وحررہ الشرنبلالی فی الامداد قال فی غایۃ البیان وجہ قول محمد وھو الاصح ان الفطر ما ثبت بقول الواحد ابتداء بل بناءً وتبعاً الخ ۲؎
پھر کہا قولہ لکن الخ یہ استدراک ہے اس پر جو مصنف نے کہا کہ جب موسم ابر آلود ہوتو ہلال فطر کے بارے میں امام محمد کا اختلاف ہے۔ اسی طرح ذخیرہ میں اور معراج میں مجتبٰی سے تصریح ہے کہ افطار کی حلت بالاتفاق ہے اور اختلاف اسی صورت میں ہے جب موسم ابر آلود نہ ہو اور چاند دکھائی نہ دے تو اب شیخین کے نزدیک عید جائز نہیں او ر امام محمد کے نزدیک جائز ہے، جیسا کہ شمس الائمہ حلوانی نے بیان کیا اور شرنبلالی نے امداد میں نقل کیا کہ غایۃ البیان میں کہا ہے کہ امام محمد کے قول کی دلیل اوروہی اصح ہے کہ افطار ایک شخص کے قول سے ابتداءً ثابت نہیں ہوتا بلکہ تبعاً اور بناءً ثابت ہوا ہے الخ
(۲؎ ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲ /۱۰۳)
ثم قال قولہ وفی الزیلعی الخ نقلہ لبیان فائدۃ لم تعلم من کلام الذخیرۃ وھی ترجیح عدم الفطر ان لم یغم شوال لظہور غلط الشاھد لانہ الاشبہ من الفاظ الترجیح لکنہ مخالف لما علمتہ من تصحیح غایۃ البیان لقول محمد بالحل،نعم حمل فی الامداد مافی غایۃ البیان علی قول محمد بالحل اذا غم شوال بناء علی تحقق الخلاف الذی نقلہ المصنف وقد علمت عدمہ وح فمافی غایۃ البیان فی غیر محلہ لانہ ترجیح لما ھو متفق علیہ ۱؎تامل انتہی ملتقطا فعلیک بتلطیف القریحۃ فی ھذاالباب کیلا تغفل فیستزلک الاضطراب، واﷲتعالٰی اعلم بالصواب والیہ تعالٰی المرجع والماٰب۔
پھر فرمایا قولہ وفی الزیلعی الخ یہ اس فائدہ کے لیے منقول ہے جو کلامِ ذخیرہ سے نہ جانا گیا اور وُہ یہ ہے کہ اگر شوال ابر آلود نہ ہو تو عدمِ افطار کو ترجیح ہوگی اس لیےکہ اس سے گواہ کا غلط ہونا واضح ہوگا کیونکہ یہ لفظ اشبہ الفاظِ ترجیح میں سے ہے لیکن یہ اس کے مخالف ہے جو آپ غایۃ البیان کی تصحیح میں جان چکے ہیں جو امام محمد کے قول بالحل(جواز) سے متعلق تھی، ہاں امدادیہ میں غایۃ البیان کی عبارت کو امام محمد کے قول بالحل(جواز) پر محمول کیا جائے گا جبکہ شوال کا چاند ابر آلود ہو، اس بنا پر جواختلاف مصنف نے نقل کیا ہے حالانکہ آپ نے جان لیا اختلاف نہیں، اب جو کچھ غایۃ البیان میں ہے وُہ بے محل ہے کیونکہ یہ تو متفق علیہ کو ترجیح دینا ہے، غورکرو انتہی ملتقطا اس معاملہ میں خوب باریک بینی سے کام لو تاکہ غفلت دُور ہو اور اضطراب ختم ہوجائے،