Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
84 - 198
صوتِ مستفسرہ میں شاہد بغدادی میں خصوصیت مذکورہ تو بیشک ہے کہ اگر یہ بیان صحیح ہے تو ایک تو آباد ی سے دور ، دوسرے دریا کہ اُس کی ہواگر دوغبار ودُخان سے صاف تر ہوتی ہے، پھر کلکتہ کا طول بلد نہر سویز سے اتنا زائد کہ کلکتہ میں پہر بھر رات سے زائد گز رلیتی ہے تو وہاں شام ہوتی ہے ، اس مدت میں چاند آفتاب سے اور زیادہ ہٹ آئے گا اور رؤیت آسان تر ہوگی بلکہ یہ وجہ گواہِ امرتسری میں ہے کہ اقل درجہ بہتر۷۲ میل کے تفاوت طول پر ایسا فرق ممکن ہے :
کما اعتمد علیہ التاج التبریزی الشامی عن شرح المنھاج للرملی۔
جیسا کہ اس پر تاج تبریزی شامی نے رملی کی شرح منہاج سے نقل کرتے ہوئے اعتماد کیا ہے(ت)

بس یہ دیکھنا رہا گواہ خود بھی مقبول الشہادۃ ہیں یا نہیں، اگر خصوصیت مذکورہ کے ساتھ ایک گواہ بھی مستور الحال تک ہے یعنی اس کے وضع لباس حرفت معیشت کلا م وغیرہ سے اُس کا مرتکب کبیرہ یا مصر صغیرہ یا خفیف الحرکات ہونا ظاہر نہیں ، نہ کسی دوسرے طریقہ سے اس میں یہ امور معلوم توازنجا کہ ہلال رمضان مبارک میں مستور کی گواہی بھی مقبول ہے،
کما نص علیہ الامام ابو عبداﷲالحاکم الشھید فی الکافی۔
جیسا کہ اس پر امام ابو عبد اﷲالحاکم شہید نے الکافی میں تصریح کی ہے(ت)
اُس کی شہادت مان کر روزہ جمعہ کی قضاء کی جائے گی مگر جبکہ گواہ کی حالت اور پیر مسطور سے اُس کی شدّت عقیدت پر نظر کرنے سے وہ اس کی بات سچّی بنانے پر متہم ٹھہرتا ہو جیسا کہ آجکل بہت لااُبالی لوگوں کا اپنے ساختہ مشائخ کے ساتھ حال ہے تو البتہ اس کی گواہی نہ سُنی جائے گی کہ تہمت بھی اسباب ردِّشہادت سے ہے،
فی الدرالمختار امیر کبیرادعی فشہد لہ عمالہ وتوابعہ ورعایا ھم لاتقبل اھ۲؎
درمختار میں ہے کسی بڑے امیر نے دعوٰی کیا اس کے عمال، نائبین اور رعایا اس پر گواہی دیں تو یہ مقبول نہ ہوگی اھ
 (۲؎درمختار     باب القبول وعدمہ    مطبع مجتبائی دہلی       ۲ /۹۴)
قال العلامۃ الرملی یؤخذ منہ ان شہادۃ خدامہ الملازمین لہ ملازمۃ کملا زمۃ العبد لمولاہ کذٰلک لا تقبل وھو ظاھر لا سیمافی زماننا اھ۱؎ وفیہ ایضا اعنی الدرلا تقبل شہادۃ الا جیرالخاص اوالخادم اوالتابع اوالتلمیذالخاص الذی یعد ضرر استاذہ ضرر نفسہ درر اھ ۲؎ملتقطا
علامہ رملی کہتے ہیں کہ اس سے متفرع ہوجاتا ہے کہ اس کے خدام ملازمین کی گواہی اسی طرح ہے جیسے غلام کی گواہی اس کے مولٰی کے حق میں ہوتو وہ بھی مقبول نہیں اور یہی ظاہر ہے خصوصاًہمارے زمانے میں اھ اور اسی در میں یہ بھی ہے کہ اجیر خاص یا خادم یا تابع یا وہ شاگرد جو استاد کی تکلیف کو اپنی تکلیف محسوس کرے، کی گواہی مقبول نہیں درر اھ اختصاراً،
(۱؎ بحوالہ منحۃ الخالق علی البحرالرائق     باب من تقبل شہادتہ الخ     ایچ ایم سعید کراچی     ۷ /۹۶)

(۲؎ درمختار             باب القبول و عدمہ     مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۹۵)
وانت تعلم ان حال کثیرمن عوام الزمان مع من شیخوہ علیہم ربما یبلغ اشد و اکثر من حال النواب والامیر والمستاجر والاجیرفحیث وجد التھمۃعدم القبول والحکم  ید ور مع علتہ۔
اور آپ جانتے ہیں کہ اس دور میں عوام کے ان لوگوں کے ساتھ جنہیں یہ اپنے شیخ بناتے ہیں بعض اوقات نواب، امیراور مستاجر اور اجیر سے زیادہ شدید ہوتے ہیں تو مقامِ تہمت میں گواہی مقبول نہ ہوگی ، اور حکم کا وَرُود اس کی علّت پر ہوتا ہے۔(ت)

 یُونہی اگر سب گواہ ظاہر الفسق وُہ لوگ کہ جماعت کے پابند نہیں یا ناجائز تماشا دیکھا کرتے یا حرام نوکری یا پیشہ رکھتے یا داڑھی حدِ شرع سے کم رکھواتے یا ریشمیں کپڑے یا سونے چاندی کے ناجائز لباس یا زیور پہنا کرتے  یا ضروریات دین سے غافل بے علم جاہل ہیں کہ نماز، روزہ، وضو،غسل کے فرائض وشرائط و مفسدات سے آگاہ نہیں یا تجارت کرتے ہیں اور بیع وشراء کے ضروری احکام نہ سیکھے وعلٰی ھذاالقیاس جن مسائل کی ضرورت پڑے اُن کی تعلیم سے باز رہنے والے کہ یہ سب فسّاق مردود الشہادۃ ہیں توایسوں کی گواہی توشرع مطہر میں اصلاً معتبر نہیں،
فی الدرالمختار،لاتقبل شہادۃ الجاہل علی العالم لفسقہ بترک مایجب تعلمہ شرعا ومجازف فی کلامہ اویحلف فیہ کثیرا اواعتادشتم اولادہ او غیرھم لانہ معصیۃ کبیرۃ کترک جماعۃ وخروج لفرحۃ قدوم امیرولبس حریر۳؎ اھ بالتقاط،
درمختار میں ہے جاہل شخص جو ضروری علم شرعی کے ترک، گپ بازی، زیادہ قسمیں کھانے کی عادت، اپنی اولاد اور غیر کو گالی دینے کی عادت جیسے گناہ کبیرہ، ترکِ جماعت، کسی حاکم کے آنے کی خوشی منانے اور ریشم پہننے جیسے امور کی وجہ سے فاسق شخص کی شہادت قبول نہ ہوگی اھ اختصارا،
(۳؎ درمختار ، باب القبول و عدمہ     مطبع مجتبائی دہلی ،۲ /۹۵)
وفیہ سئل القاضی عما یجب علیہ من الفرالض فان لم یعرفھا ثبت فسقہ لما فی المجتبٰی من ترک  الاشتغال  بالفقۃ لا تقبل شہادتہ والمرادمایجب علیہ تعلمہ منہ نھر۔۱؎
اور اسی میں ہے کہ قاضی کا ان چیزوں کے بارے میں امتحان لیا جائے گا جن سے اس کا آگاہ ہونا لازم ہے، اگر وُہ ان سے آگاہ نہ ہُوا تو فاسق ہوگا کیونکہ مجتبی میں ہے کہ جس نے فقہ میں دلچسپی نہ لی اس کی گواہی قبول نہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جس فقہ کی تعلیم ضروری تھی اگر اسے ترک کردیا تو پھر گواہی مقبول نہ ہوگی ،نہر۔(ت)
 (۱؎ درمختار             باب القبول و عدمہ     مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۹۵)
پھر جس صُورت میں کہ وُہ گواہی مقبول ہوگی اس کا اثر کلکتہ پر ہوگا، نہ دیگر بلادِ ہند پر جب تک وہاں بھی یہ شہادت وثبوت بروجہ شرعی نہ پہنچے،خالی خط و کتابت سے کچھ نہیں ہوتا،
فی الدرالمختار یلزم اھل المشرق برؤیۃ اھل المغرب اذا ثبت عندھم رؤیۃ اولٰئک بطریق موجب ۲؎وفی ردالمحتار بطریق موجب کان یتحمل اثنان الشہادۃ اویشھدا علی حکم القاضی اویستفیض الخبر بخلاف مااذااخبرا ان اھل بلدۃ کذا رأوہ لانہ حکایۃ اھ ۳؎واﷲتعالٰی اعلم ۔
درمختار میں ہے اہلِ مشرق پر اہلِ مغرب کی رؤیت کی وجہ سے لزوم ہوگا بشرطیکہ ان کی رؤیت بطریق موجب ثابت ہُوئی ہو۔ ردالمحتار میں طریق موجب کا معنی یوں بیان ہُوا ہے کہ دو آدمی گواہی دیں یا قاضی کے فیصلہ پر گواہ ہوں یا خبر خوب مشہور ہوبخلاف اس صورت کے جب وُہ یہ خبردیں کہ فلاں شہر کے لوگوں نے چاند دیکھا، کیونکہ یہ حکایت ہے اھ واﷲتعالیٰ اعلم(ت)
 (۲؎درمختار    کتاب الصوم     مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۴۹)

(۳؎ ردالمحتار   کتاب الصوم    مصطفی البابی مصر    ۲ /۱۰۵)
مسئلہ ۱۹۶: ۳۰رمضان المبارک ۱۳۰۶ھ  :"کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان  شرع متین کہ اخیر تاریخ رمضان شریف کا روزہ چاند دیکھ کر افطار کرلینا جائز ہے یا نہیں یعنی تیسویں کا چاند اکثر تیسرے پہر سے نظر آتا ہے تو آیا اُسی وقت روزہ کھول لیں یا غروبِ آفتاب کے بعد؟ بینواتوجروا
الجواب:کسی تاریخ کا روزہ دن سے افطار کر لینا ہر گزجائز نہیں بلکہ حرام قطعی ہے، اﷲتعالٰی نے فرض کیا کہ روزہ رات تک پُورا کرو یعنی جب آفتاب ڈوبے اور دن ختم اور رات شروع ہواُس وقت کھولو۔
قال اﷲتعالٰی ثم اتموا الصیام الی الّیل۔۴؎
اﷲتعالٰی کا ارشاد ہے: پھر روزہ کو شام تک پورا کرو۔(ت)
 (۴؎ القرآن ۲/۷ ۱۸ )
درمختار میں ہے ف :
 لا عبرۃ برؤیۃ الہلال نھارا مطلقا علی مذھب الامام الصحیح المعتمد، واما علی قول الثانی من انہ ان رأی قبل الزوال فللماضیۃ،۱؎ فلیس الافطار بمعنی ا نھارالصوم بل لثبوت العید عندہ بذاک ولیس ھذا معنی قولہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم صوموا لرؤیتہ وافطر والرؤیتہ والایوجب الصوم بمجرد رؤیۃ الہلال بعد المغرب وھذا واضح جدا، واﷲتعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
امام کے صحیح معتمد مذہب کے مطابق ہرحال میں دن کو چاند دیکھنے کاکوئی اعتبار نہیں، مگر امام ثانی (ابویوسف) کے قول پر ہے کہ اگر زوال سے پہلے دیکھا تو یہ گزشتہ رات کا ہوگا تو اب افطار کا یہ معنٰی نہیں کہ یہ دن کے روزے کا افطار ہے بلکہ اس سے امام ثانی کے نزدیک ثبوت عید ہورہا ہے کیونکہ گزشتہ رات کا چاند ہے تو عید کی وجہ سے افطار ہے اور حضور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے فرمان مبارک ''چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر عید کرو'' کا معنی یہ نہیں کہ جب دیکھو تو افطار کرو ورنہ یہ لازم آئے گا کہ مغرب کے بعد محض چاند دیکھنے سے اُسی وقت روزہ لازم ہوجائے اور یہ نہایت ہی واضح ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔(ت)
ف: درمختار میں جو عبارت ملی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں:''
ورؤیتہ بالنھار للیلۃ الاتیۃ مطلقا علی المذھب ذکرہ الحدادی،واختلاف المطالع ورؤیتہ نھاراً قبل الزوال او بعدہ غیر معتبرعلی ظاھر المذھب۔''
درمختار میں لاعبرۃ الخ کے الفاظ نہیں ہیں ۔ نذیر احمد سعیدی)
 (۱؎ درمختار    کتاب الصوم     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۱۴۹)
Flag Counter