Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
83 - 198
مسئلہ ۱۹۴ :ازکٹرہ     مرسلہ حافظ جضو خاں    ۲۹شعبان ۱۳۰۰ھ

بعد سلام مسنون کے گزارش یہ ہے تراویح اور روزہ کے بارے میں کیا حکم ہے بموجب شرع شریف کے کیفیت یہ ہے مولوی محمد شکر اﷲصاحب کا بیان ہے کہ گر دو نواح بنارس کے حساب سے آج تاریح ۳۰ہے مولوی صاحب تشریف بنارس لائے ہیں۔ مولوی محمد احسان کریم صاحب کا یہ بیان ہے کہ بچشمِ خود چاند شعبان کا دیکھا اُس کے حساب سے آج تیس ہے۔ حافظ حبیب الحسن صاحب کا بیان ہے دو شخصوں معتبر نے چاند شعبان کا بیان کیا دیکھنا ، اس کے حساب سے آج ۳۰ شعبان ہے اور مولوی محمد شکر اﷲصاحب فرماتے ہیں کہ چند صاحبانِ معتبر نے چاند شعبان کا دیکھنا بیان کیا اور میں بنارس میں موجود تھا۔
الجواب:بعد از ما ھو المسنون، مولوی شکر اﷲصاحب کا پہلا بیان کہ گردونواح بنارس کے حساب سے آج تیس۳۰ ہے مجرد حکایت ہے کہ شرعاًمقبول نہیں۔
فی الدرالمختار لا لو شھد وابرؤیۃ غیرھم لانہ حکایۃ۔۱؎
درمختار میں ہے اگر غیر کے دیکھنے پر گواہی دی تو مقبول نہ ہوگی کیونکہ یہ حکایت ہے(ت)
 (۱؎درمختا،کتاب الصوم،مطبع مجتبائی دہلی ،۱ /۱۴۹)
مولوی احسان کریم صاحب تنہا ہیں اور ہلالِ شعبان میں ایک کی گواہی معتبر نہیں۔
فی ردالمحتار، وبقیۃ الاشھر التسعۃ فلا یقبل فیھا الا شہادۃ رجلین اورجل و امرأتین عدول احرار غیر محدودین کما فی سائرالاحکام۔۲؎
ردالمحتار میں ہے باقی نو مہینوں کے ثبوت کے لیے ایک کی گواہی معتبر نہیں بلکہ دومرد یا ایک مرد اور دوخواتین جو عادل، آزاد ہوں اور حدِ قذف ان پر نافذ نہ ہوئی ہو جیسا کہ دیگر احکام میں ہے۔(ت)
(۲؎ردالمحتار   کتاب الصوم ، مصطفی البابی مصر    ۲ /۱۰۳)

ۤ
حافظ حبیب الحسن صاحب کابیان اور مولوی شکر اﷲصاحب کی دوسری تقریر بالفرض اگر شہادت علی الشہادت مانی جائے تو عدد ناقص،
فی ردالمحتار لا تقبل مالم یشھد علی شہادۃ کل رجل رجلان اور جل وامرأتان۔۳؎
ردالمحتار میں ہے اس وقت تک شہادت پر شہادت قبول نہیں کی جائے گی جب تک ہر ایک شخص کی شہادت پر دو مرد یاایک مرد اور دوخواتین شہادت نہ دیں(ت)
 (۳؎ ردالمحتار   کتاب الصوم  ، مصطفی البابی مصر       ۲ /۹۹)
بالجملہ بیانوں میں ایک بھی قابلِ اعتبار شرعی نہیں حکم شرعی قاعدہ شرعیہ ہی کے طور پر ثابت ہوسکتا ، نہ مجرد خیالات پر۔ مطلع شعبان کا نہایت صاف تھا اور بہت آدمی چاند دیکھتے رہے کسی کو نظر نہ آیا، اب اگر چہ عند اﷲآج ۳۰ ہی سہی مگر شرع بے ثبوت شرعی کیونکر حکم دے ۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۹۵: از کلکتہ دھرم تلانمبر۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب    ۲۴ رمضان المبارک ۱۳۱۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں کلکتہ میں ۲۹شعبان روز پنجشنبہ شام کو مطلع بالکل صاف تھا سب لوگوں نے چاند پر غور کیا رؤیت نہ ہوئی مگر ایک پیر صاحب نے پیش گوئی کی تھی کہ جمعہ کو یکم رمضان ہوگی اُن کے معتقدین نے بلارؤیت جمعہ سے روزہ رکھ لیا اب ایک صاحب کہ شاید بغداد شریف کے ہیں یہاں آئے، اُن پیر صاحب نے انہیں پیش کیا اپنی پیشگوئی کی تصدیق کے لیے انہوں نے اپنی رؤیت  نہرسویز میں شام پنجشنبہ کی بیان کی، پھر اُسی جلسہ میں دوسرا شخص کھڑا ہُوا کہ میں نے اور بہت آدمیوں نے امر تسر میں شام پنجشنبہ کو دیکھا،یونہی تیسرے شخص نے کہ وُہ بھی کہیں سے آیا ہے اُس جلسہ سے جُدا اپنی رؤیت بیان کی مگر یہ سب لوگ اُن پیر صاحب کے موافقین ہیں اس صورت میں رمضان شریف کی پہلی بروز جمعہ قرار پائیگی اور روزہ جمعہ کا کلکتہ والوں اور دوسرے ہندوستان پر فرض ہوگا یا نہیں؟بینو اتوجروا
الجواب:صورتِ مستفسرہ میں وُہ پیشگوئی اور بلارؤیت اس پر عمل کرنے والے سب گنہ گار ہُوئے اگر چہ اب کیسے ہی قطعی ثبوت سے یکم جمعہ کی ثابت ہوجائے کہ جس وقت انہوں نے حکم دیا اور عمل کیا تھااُس وقت شرعی نہ تھا، رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
صوموالرؤیتہ وافطر والرؤیتہ۱؎
 (چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چانددیکھ کر ہی عید کرو۔ت)
 (۱؎صحیح بخاری     باب اذا رأئیتم الھلال فصوموا    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۲۵۶)
دوسری حدیث میں ہے:
لا تقدمواالشہر حتی ترواالھلال وتکملوا العدۃ۲؎الحدیث رواہ ابوداؤد والنسائی۔
چاند دیکھنے سے پہلے مہینے کو شروع نہ کرو بلکہ گنتی پوری کرو، الحدیث، اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے(ت)
 (۲؎ سنن ابی داؤد  باب اذا اغمی الشہر  آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۳۱۸)
جب صوم شک کے لیے ہے
قد عصی ابا القاسم محمد ا ۳؂
صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم اُس نے محمد رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔
 (۳؎صحیح البخاری، باب اذارأیتم الہلال فصوموا،قدیمی کتب خانہ کراچی،۱ /۲۵۶)
تو با وصف مطلع رؤیت نہ ہونے پر رمضان بنالینا کیسی سخت بیباکی و نافرمانی تھی، رہا ان گواہیوں کا حال مذہب مشہور و مختار متون و مصحح کبار ائمہ پر، تو یہ شہادت محض مہمل و نامسموع ہیں کہ بحالت صفائیِ مطلع دوچار کی شہادت سے کچھ نہیں ہوتا جمع عظیم چاہئے ، اور جبکہ مسلمین نے تلاشِ ہلال میں تقصیر و تکاسل کو راہ نہ دی جیسا کہ بحمد اﷲتعالٰی اب یہاں مشاہد ہے، تو ایسی جگہ اُس روایت پر عمل کی بھی ضرورت متحقق نہیں کہ دوکافی ہیں۔
فی الدرالمختار قیل بلاعلۃ جمع عظیم لیقع العلم بخبر ھم وھو مفوض الی رأی الامام من غیر تقدیربعددعلی المذھب وعن الامام انہ یکتفی بشاھدین واختارہ فی البحر اھ۱؎ملخصا،
درمختار میں ہے کہ اگر بادل وغیرہ نہ ہوتو ایک بڑی جماعت کی گواہی ضروری ہے تاکہ ان کی خبر سے یقین حاصل ہوجائے اور مذہب کے مطابق یہاں جماعت کی تعداد کا کوئی تعین نہیں بلکہ قاضی کی رائے پر منحصر ہے اور امام سے یہ بھی مروی ہے کہ دو گواہ کافی ہیں، بحر میں اسے اختیار کیا گیا ہے اھ ملخصاً
 (۱؎ درمختار     کتاب الصوم     مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۴۸)
 فی ردالمحتار قولہ وھو مفوض قال فی السراج الصحیح انہ مفوض الی رأی الامام ان وقع فی قلبہ صحۃ ماشھدوابہ و کثرت الشہودامر بالصوم اھ کذاصححہ فی المواھب وتبعہ الشرنبلالی وفی البحر عن الفتح والحق ان العبرۃ بمجئ الخبروتواترہ من کل جانب اھ وفی النھر انہ موفق لما صححہ فی السراج تامل، قولہ واختارہ فی البحر حیث قال وینبغی العمل علٰی ھذہ الروایۃ فی زماننا لان الناس تکاسلت عن ترائی الاھلۃفانتفی قولہم مع توجھھم طالبین لماتوجہ ھو الیہ فکان التفرد غیر ظاھر فی الغلط الخ۲؎اھ ملخصا۔
ردالمحتار میں قولہ مفوض،سراج میں ہے کہ یہی صحیح ہے کہ قاضی کی رائے پر منحصر ہے کہ اگر گواہی اور کثرتِ شہود کی بنا پر اس کے دل میں اس کی صحت کا یقین ہوجائے تو وہ روزے کا حکم دے اھ مواہب میں اسی کی تصحیح کی ہے، اور اسی کی اتباع شرنبلالی نے کی ہے، اور بحر میں فتح سے ہے کہ حق یہ ہے کہ ہر جانب سے خبر کے آنے اور تواتر سے اس کے ثبوت کا اعتبار ہے اھ اور نہر میں ہے کہ یہ اسی کے موافق ہے جس کی تصحیح سراج میں ہے تامل، قولہ بحر نے اسی کو اختیار کیا ہے، عبارتِ بحر یہ ہے ہمارے زمانے میں اس روایت پر عمل ہونا چاہئے، کیونکہ لوگ چاند دیکھنے میں سُستی کرتے ہیں، تو اس سے فقہاء کا ایک شخص کے دیکھنے اور اس کی خبر کو رد کرنے کے متعلق یہ قول کہ کثیر لوگوں کی طلب و تلاش کے باوجود وہاں ایک شخص کو نظر آتا ہے تو اس ایک کی خبر کا غلط ہونا غیر ظاہر ہے، ختم ہوجاتا ہے الخ اھ ملخصا(ت)
 (۲؎ردالمحتار    کتاب الصوم        مصطفی البابی مصر    ۲ /۱۰۱)
مگر راجح یہ ہے کہ جب شاہد میں کوئی خصوصیتِ خالصہ ایسی ہوجس سے اُس کا دیکھنا اور اوروں کو نظر نہ آنا مستبعد نہ رہے، مثلاً عام لوگ شہر میں تھے اس نے جنگل میں دیکھا یا وُہ زمین پر تھے اس نے بلندی پر دیکھا تو دربارہ ہلال رمضان المبارک ایسے ایک کی بھی گواہی مقبول ہوگی جبکہ وُہ شرعاً قابل قبول شہادت ہو،
فی الدرالمختار وصحح فی الاقضیۃ الاکتفاء بواحدان جاء من خارج البلد اوکان علی مکان مرتفع واختارہ ظھیرالدین۔۱؎
درمختار میں ہے اور الاقضیۃ میں صحیح قرار دیا ہے کہ ایک کی گواہی پر اکتفاء کر لیا جائےجب وہ خارج شہر سے آیا ہو یا وُہ کسی بلند جگہ پر ہو اسے ظہیرالدین نے پسند کیا ہے(ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الصوم ،مطبع مجتبائی دہلی،۱ /۱۴۸)
Flag Counter