مسئلہ ۱۸۵تا ۱۹۳ : از رائے پور سی پی محلہ بیجناتھ پارہ مرسلہ بہادر علی خاں سپرنٹنڈنٹ پنشنرمحکمہ بندوبست ۲۴ ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ
(۱)رؤیت ہلال کے بارے میں تار اورخط کی خبریں معتبر ہیں یا نہیں؟
(۲)جہاں چاند ۲۹کو نظر نہ آئے وہاں چاند کی رؤیت امام اعظم رحمہ اﷲتعالیٰ کے نزدیک کن کن ذرائع سے ثابت ہوسکتی ہے؟
(۳)اخباروں کے اندر جو لفظ تاریخ ماہ لکھی ہوتی ہے مثلاً ۸ شعبان یا ۵رمضان یا ۴ ذی الحجہ، اور رؤیت ہلال کا ذکر نہیں ہوتا تو فقط تاریخ لکھ دینے سے وہاں جہاں ۲۹کو رؤیت نہ ہُوئی اُس ماہ کے ہلال کی رؤیت ثابت ہوسکتی ہے۔
(۴)یہ جو فقہاء نے فرمایا کہ ۲۹ کو اگر چاند نظر نہ آئے ۳۰دن پُورے کرنا چاہئیں تو رمضان اور عید الفطر کے ساتھ خاص یا سب ماہ کے لئے ہے۔
(۵) جنتری کے حساب سے روزہ رکھنا یا عید کرنا یا کسی دیگر ماہ کی تاریخ مقرر کرنا درست ہے۔
(۶)شعبان کی ۲۹کوچاند نظر نہ آئے اور افواہ ہوکہ چاند ہوگیا لیکن شہادت دینے والا نہ ملے تو شب کو تراویح مع جماعت کرنا جائز ہے یا نہیں اور صبح کو روزہ رکھنا درست ہے یا نہیں؟
(۷) یہ جو مشہور ہے کہ رجب کی چوتھی جس دن کی ہوتی ہے اُسی دن رمضان کی پہلی ہوتی ہے اور جو شوال کی پہلی ہوتی ہے اُسی روز عاشورہ ہوتا ہے یہ معتبر ہے یا نہیں؟
(۸) اگر کسی جگہ سے ایک یا دو آدمی آکر فقط اتنا کہیں کہ ہمارے شہر فلاں دن عید ہے اور چاند کی رؤیت کا ذکر نہ کریں نہ اپنا نہ دُوسروں کا، توان کی اس خبر پر اس شہر والے عید کرسکتے ہیں یا نہیں؟
(۹)اگر متواتر یا تین ماہ میں رؤیت کے دن ابر ہوجائے تو ایسے موقع پر ایک ماہ ۲۹کا اور ایک ماہ تیس۳۰ کالے کر عید لوگ اپنی رائے سے مقرر کرسکتے ہیں یا نہیں؟اور اگر یُونہیں مقرر کرکے عید کرلی تو نماز ہُوئی یا نہیں؟ اور اگر اکثر شہر کے لوگوں نے یونہی عید کی اور سو پچاس نے خلاف کیا اور دوسرے دن نمازِ عید پڑھی تو حق پر کون ہے، کثیر یا قلیل؟
الجواب:
(۱) رؤیت ہلال میں تار اور خط اصلا معتبر نہیں،تار کی حالت تو خط سے بھی نہایت ردی ہے کہ وہ نہ مرسل کے ہاتھ کا لکھا ہوتا ہے نہ اُس پر اُس کے دستخط ہوتے ہیں نہ اُس کی مُہر ہوسکتی ہے اور ذرائع وصول مجا ہیل بلکہ اکثر کفّار ہوتے ہیں اور ۤخط ان سب وجوہ سے اُس پر فائق ہوسکتا ہے باایں ہمہ تمام کتبِ مذہب میں تصریح ہے کہ خط کا اعتبار نہیں ، نہ اس پر عمل ہوسکے کہ خط خط کے مثل ہوتا ہے اور مُہر مُہر کی مثل بن سکتی ہے۔ اشباہ میں ہے:
لایعتمد علی الخط لایعمل بہ۔۱؎
خط پر نہ تو اعتماد کیا جائے گا اور نہ ہی عمل۔(ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر کتاب القضاء والشہادات والد عاوی ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ /۳۳۸)
ہدایہ میں ہے:
الخط یشبہ الخط فلا یحصل العلم۔۲؎
تحریر تحریر کے مشابہ ہوتی ہے تو اس سے علم یقینی حاصل نہ ہوگا۔(ت)
(۲؎ ہدایہ کتاب الشہادۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۱۵۷)
عالمگیریہ میں ہے:
الکتاب قد یزور ویفتعل والخط یشبہ الخط والخاتم یشبہ الخاتم۔۳؎
تحریر میں جُھوٹ اورجعلسازی ہوسکتی ہے۔ خط خط کے اور مُہر مُہر کے مشابہ ہوسکتی ہے۔(ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ الباب الثالث والعشرون فی کتاب القاضی الی القاضی نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۳۸۱)
اس مسئلہ کی پوری تفصیل ہمارے رسالہ
از کی الھلال بابطال ما احدث الناس فی امرالھلال
میں ہے۔
(۲) ثبوتِ ہلال کے لیے ضرور ہے کہ یا تو رؤیت پر عینی شہادت ہویا عینی شاہدوں نے جن شاہدوں کو حسب شرائطِ شرعیہ اپنی شہادت کا حامل کیا ہو اُن کی شہادت شہادت پر ہو یا حاکم شرعی کے حکم شرعی پر شہادت بروجہ شرعی ہو یا شرائط معتبرہ فقہیہ کے ساتھ کتاب القاضی الی القاضی ہو یا جس شہر میں قاضیِ شرع ہو اور اس کے حکم سے وہاں روزہ عید ہُوا کرتے ہیں وہاں سے لوگ گروہ کے گروہ آئیں اور بالاتفاق اُس حاکمِ شرع کا حکم بیان کریں، اور ان میں سے کُچھ نہ ہو تو اخیردرجہ تیس۳۰کی گنتی پُوری کرنا ہے یعنی جب اگلے مہینہ کی رؤیت ہولی یا کافی ثبوتِ شرعی سے ثابت ہُوئی اور اس مہینے ۲۹ کو رؤیت نہ ہوُئی تو تیس دن پُورے ہوکر ہلال خواہی نخواہی ہوگا کہ شرعی مہینہ تیس ۳۰ سے زائد نہیں ہوسکتا، ان طریقوں اور ان کی شرائط کا مفصّل اور مدلّل بیان ہمارے رسالہ طرق اثباتِ ہلال میں ہے۔
(۳)اخباروں کا صرف تاریخ لکھنا تو کوئی چیز نہیں،اخباروں میں اگر رؤیت کی خبر چھپے تو وہ بھی محض نا معتبر ہے کہ نہ شہادت علی الرؤیۃ ہے، نہ شہادت علی الشہادت ، نہ شہادت علی الحکم، پھر اخبار نہیں مگر ایک خط اور اُوپر گزرا کہ ان امور میں خط اصلاً معتبر نہیں ، خصوصاً اخبار ی دُنیا کہ بے سروپا اُڑانے میں ضرب المثل ہے۔
(۴)یہ حکم بارہ مہینے کے لیے ہے، رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے ایک بار دسوں انگشتانِ مبارک تین دفعہ اٹھاکر فرمایا:
الشھرھکذاوھکذا وھکذا ۱؎
مہینہ اتنا اور اتنا اور اتنا ہوتا ہے، یعنی تیس۳۰ دن کا۔اور ایک بار دسوں انگشت مبارک تین دفعہ اٹھائیں مگر اخیر میں ایک انگشت مبارک بند فرماکر فرمایا:
الشھر ھکذا وھکذا وھکذا ۲؎
مہینہ اتنا اور اتنااور اتنا ہوتا ہے یعنی ۲۹ دن کا۔توکوئی قمری عربی مہینہ کہ یہی شریعتِ مطہرہ میں معتبرہیں نہ ۲۹ دن سے کم ہوسکتا ہے نہ تیس ۳۰ سے زائد، جس مہینے کی رؤیت کافی ثبوتِ شرعی سے ثابت ہو ااور اس کی ۲۹ کو رؤیت نہ ہوتو۳۰ پُورے کرکے خواہی نخواہی دوسرے مہینے کا ہلال ہے۔
(۵)شریعتِ مطہرہ میں جنتری کا حساب اصلاً معتبر نہیں، درمختار میں ہے:
وقول اولی التوقیت لیس بموجب۳؎
(اہل توقیت کا قول سببِ وجوب نہیں بن سکتا۔ت)
(۳؎ درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۸)
رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا امۃ امیۃ لا نکتب ولا نحسب۴؎
(ہم بظاہر اَن پڑھ ہیں نہ لکھتے ہیں نہ حساب کرتے ہیں ۔ت)
(۴ صحیح بخاری باب قول النبی صلی اﷲعلیہ وسلم لانکتب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۵۶)
(سنن ابی داؤد باب الشہر یکون تسع و عشرین آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۷ ۳۱)
یہ ان کے بارے میں ہے جو واقعی ہیئت داں تھے، نہ کہ آج کل کے جنتری والے جنہیں ہیئت کی ہوا بھی نہیں لگی، بڑے بڑے نامی جنتری دانوں کی نہایت واضح تقاویم شمسیہ میں وُہ اغلاط فاحشہ دیکھے ہیں کہ مدہوش کے سوا دوسرے سے متوقع نہیں تابہ حساب ہلال چہ رسد حسابِ ہلال وُہ دشوار چیز ہے جہاں اہلِ ہیئت کے مسلم امام بطلیموس نے گھٹنے ٹیک دئے محبطی میں ظہور و خفائے کواکب و ثوابت تک کے لیے باب وضع کیا اور ظہورِ ہلال کو ہاتھ نہ لگایا۔
(۶) ایسی صورت میں نہ شب کو تراویح پڑھنی جائز ،نہ صبح کو روزہ رمضان رکھنا حلال ،
اما الثانی فللحدیث واما الاول فللتداعی فی النفل
( دوسرا حدیث کی وجہ سے اور پہلا نفل کی طرف تداعی کی وجہ سے منع ہے ۔ت ) بلکہ اگر جماعت نہ کریں اکیلے ہی بیس۲۰ رکعتیں پڑھیں اور تراویح کی نیت کریں جب بھی شرع مطہر پر زیادت کرنے والے ہوں گے کہ تراویح شرع مطہر نے شب ہائے رمضان میں رکھی ہیں اور یہ رات اُن کے لیے شبِ رمضان نہیں۔
(۷)یہ محض بے اصل ہے اور تجربہ بھی اس کے خلاف پر شاہد، اور اس پر اعتماد شرعاًہرگز جائز نہیں،
والمسئلۃ فی البزازیۃ وخزانۃ المفتین وغیرھما
(یہ مسئلہ بزازیہ اور خزانۃ المفتین وغیرہ میں ہے ۔ت) تمام قیاسات وحسابات وقرائن کہ عوام میں مشہور ہیں شرعا باطل ومہجور ہیں صرف انھی طریقوں پر اعتماد جائز ہے جو جوابِ سوال دوم گزرے اور ہمارے رسالہ طرق اثباتِ ہلال میں مفصل مذکور ہیں وبس۔ واﷲتعالیٰ اعلم۔
(۸)فقط اتنی خبر پر عید کرنا حرام ہے۔ فتح القدیر و بحرالرائق و عالمگیری میں ہے:
لو شہد جماعۃ ان اھل بلدۃ قد راؤاھلال رمضان قبلکم بیوم فصامواوھذاالیوم ثلثون بحسابھم ولم یرھٰؤلاء الھلال لایباح فطر غد ولاترک التراویح فی ھذہ اللیلۃ لانھم لم یشھد وابالرؤیۃ ولا شہادۃ غیرھم وانما حکوارؤیۃ غیرھم۔۱؎واﷲتعالٰی اعلم۔
اگر کسی جماعت نے گواہی دی کہ فلاں اہلِ شہر نے تم سے پہلے ایک دن رمضان کا چاند دیکھا، اور انہوں نے روزہ رکھا، ان کے حساب سے آج کا دن تیسواں ہے جبکہ خود ان لوگوں نے چاند نہیں دیکھا تھا تو ان کو آئندہ دن کا روزہ چھوڑ نا جائز نہیں، اور نہ ہی اس رات کی تراویح کو ترک کرنا مباح ہوگا کیونکہ گواہوں کی چاند کی رؤیت پر گواہی نہیں، اور نہ غیر کی شہادت پر گواہی ہے بلکہ اُنہوں نے صرف غیر کی رؤیت حکایت کی ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔(ت)
(۹) جب تک رؤیت نہ ہویا ثبوت صحیح شرعی سے ثابت نہ ہو ہر مہینہ تیس کالیا جائے گا۔ رسول اﷲصلی ا ﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فان غم علیکم فاکملواالعدّۃ ثلاثین۔۲؎
چاند تم پرپوشیدہ رہے توتیس۳۰ کی گنتی پُوری کرو(ت)
(۲؎ سنن دارقطنی کتاب الصیام حدیث ۲۶ نشرالسنۃ ملتان ۲ /۱۶۲)
یہ قاعدہ کہ ایک مہینہ ۳۰ اور ایک ۲۹ کا محض باطل ہے جس کے بطلان پر مشاہدہ شاہد عادل ہے کئی کئی مہینے متواتر ۳۰ کے ہوجاتے ہیں کئی کئی ۲۹ کے ، اور علمِ ہیئت کی رُو سے ۴مہینے پے درپے ۳۰کے ہوسکتے ہیں اور تین ۲۹ کے،
کماھو مصرح بہ فی الزیجات القدیمۃ والجدیدۃ و شروحھا واحالوہ علی التجربۃ والا ستقراء ومنھم من تکلف بیانہ بالاستدلال ولم یتم۔
جیسا کہ قدیم و جدید زائچوں اور ان کی شروح میں اس پر تصریح ہے اور انہوں نے اسے تجربہ اور تتبع کے سپرد کردیا ہے بعض نے استدلال کرنے کی کوشش کی وُہ کامیاب نہ ہوسکے۔(ت)
شریعت مطہرہ میں ہیئت والوں کی اس تحدید استقرائی کا بھی اعتبار نہیں۔ ثبوت شرعی سے اگر ۴ مہینے لگا تار۲۹ کے ہوں تومانے جائیں گے، اور مثلاً چھ مہینے متواتر روزِ ہلال ابر رہے اور ثبوت نہ ہوتو سب مہینے ۳۰ کے لیے جائیں گے
لان الثابت لایزول بالشک
(کیونکہ ثابت شدہ شئے کا زوال شک سے نہیں ہوتا۔ت) جن لوگوں نے ایک مہینہ ۳۰ ایک ۲۹ کا لے کر عید کر لی اُن کی وہ عید اور نماز سب باطل ہُوئی اور ان پر چار گناہ رہے:
اوّل: گناہ عظیم روزہ رمضان کا عمداً ترک کہ وُہ اُن کے لیے رمضان تھا۔
دوم :نفل کا بجماعتِ کثیرہ پڑھنا کہ وُہ نمازِ عید کہ اُنہوں نے پڑھی نمازِ عیدنہ تھی نافلہ محضہ ہُوئی اورنفل کا جماعت کثیر کرکے پڑھنا گناہ ۔
سوم :واجب نماز عید کا ترک کہ دُوسرے دن اُن کے لیے عید تھی اُس دن نماز نہ پڑھی۔
چہارم :شریعت میں دل سے نیا حکم گھڑنے کا وبال شدید سب سے علاوہ، اگر چہ بعد کو تحقیق ہو جائے کہ جس دن انھوں نے نماز پڑھی واقعی اسی دن عید تھی ،اگرچہ وہ سارا شہر ہو اور جنہو ں نے تیس تیس کی گنتی پُوری کرکے عید کی اُن کی عید اور نماز سب صحیح ہُوئی اور وہ ان سب گناہوں سے بچے، اگر چہ بعد کو تحقیق ہو کہ عید ایک دن یا دو۲ دن پہلے تھی اگر چہ صرف یہ دو۲ ہی شخص ہوں۔واﷲتعالیٰ اعلم