مسئلہ ۱۸۰: ازریاست چھتاری ضلع بلند شہر مسئولہ عبدالغفور خاں صاحب محلہ کٹرہ ۱۵صفر۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ ہمارے قصبہ میں ہلال رمضان شب پنجشنبہ میں دیکھا گیا اور پنجشنبہ کاروزہ ہوا، ۲۰روز بعد مولوی ناظر حسن دیوبندی کا ایک خط بنام رئیس پہنچا جس کا مضمون یہ تھا کہ دیوبند میں کچھ آدمی بہرائچ کے آئے اور اُن سے تحقیق ہُوا کہ رؤیت ہلال شب چہار شنبہ میں ہُوئی اور روزہ چہار شنبہ کاہوا، لہذا علمائے دیوبند نے حکم دیا کہ روزہ چہار شنبہ سے رکھا جائے، جن لوگوں نے جمعرات سے رکھا ہے وُہ ایک روزہ قضا رکھیں، اسی بناء پر ۲۳رمضان کے جمعہ کو اعلان کیا گیا کہ لوگ ایک روزہ قضارکھیں اور ہر حال میں عید جمعہ سے متجاوز نہ ہوگی، جمعرات کو ۲۹رمضان تھی باوجود صاف ہونے مطلع کے اور کمال کوشش کے چاند نہیں دکھائی دیا حالانکہ قصبہ نے مولوی صاحب کے خط پر استدلال کرکے جمعہ کو عید کا حکم دے دیا، آیا مولوی صاحب کا خط شرعاًقابلِ پابندی ہے اور اس کی بناء پر باوجود عدمِ رؤیت حکم فطر کا صحیح یا غلط ہے اور ہم لوگوں کو اب کیا کرنا چاہئے؟
بینوارحمکم اﷲتعالیٰ بالکتاب
(اﷲتعالیٰ آپ پر رحم کرے کتاب اﷲسے بیان کیجئے۔ت) جواب تفصیلاً مع عباراتِ کتب مرحمت ہواور حمایت فرمائی جائے۔
الجواب:دربارہ ہلال خط اور تار محض بے اعتبار،
قال صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم صومو الرؤیتہ وافطر والرؤیتہ۔ ۱؎
حضور سرور عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا، چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر عید کرو(ت)
(۲؎درمختار باب کتاب القاضی الی القاضی وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۸۴)
(الاشباہ والنظائر کتاب القضاء والشہادت الخ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ /۳۳۸)
دیوبند والوں کے پاس بہرائچ کے آدمیوں نے اگر یہ بیان کیا وہاں چاند ہُوا یا یہی کہا کہ بہت لوگوں نے دیکھا اور اپنی روایت کی شہادت نہ دی یا دی اور اُن میں کوئی شخص قابل قبول شرع نہ تھا جب تو دیوبندیوں کا وہ حکم ہی سرے سے باطل تھا، اور ایسا نہ بھی ہوتو اس قصبہ والوں کو اس کے خط پر عمل حرام تھا کہ اول تو خط دربارہ ہلال خود ہی مردود،دوسرے وہ بھی ایک ایسے فرقے کا جس کا پیشہ تو ہینِ خدا و رسول جل وعلا وصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم، بہر حال گناہ ہُوا اور تو بہ لازم۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۸۱: از بلند شہر ڈاکخانہ چھتاری مدرسہ احمدیہ مسئولہ محفوظ الحق قادری ۲۹ربیع الآخرشریف ۱۳۳۴ھ
حضرت مولٰنا السلام علیکم و رحمۃاﷲ وبرکاتہ، معروض خدمت شریف ہے کہ جناب والا کا ایک مختصرسا پرچہ جس پر جناب کی مہر لگی ہوتی ہے اور ایک سطر میں یہ عبارت مرقوم ہے(میرے سامنے شہادتیں گزرگئیں کل جمعہ کو عید ہے)خاکسار کو موصول ہُوااس کے متعلق فتوٰی شرعی دریافت طلب ہے کہ جس جگہ یہ پرچہ پہنچے تو وہاں کے لوگوں کو جمعہ کو عید کرنا تھی یا نہیں اور روزے توڑ دینا ضرور تھے یا نہیں اور اس کی عام تشہیر اور دیگر بلاد میں اشاعت سے کیا مفاد تھا؟بینواتوجروا
الجواب:وہ پرچے دیگر بلادمیں نہ بھیجے گئے، تقسیم کرنے والوں نے اسٹیشن پر بھی دئے، ان میں سے کوئی لے گیا ہوگا۔ بعض لوگوں نے پیلی بھیت کے واسطے چاہا اور ان کو جواب دے دیا گیا کہ جب تک دو شاہد عادل لے کر نہ جائیں پرچہ کافی نہ ہوگا اور بلاد بعیدہ کو کیونکر بھیجے جاتے۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۱۸۲تا ۱۸۴:از راجپوتانہ چتوڑگڑھ عبدالکریم ۱۸شوال المکرم۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ان عبارات کی بنا پر
قال فی العیون والفتوی علی قولھما اذاتیقن انہ خطہ سواء کان فی القضاء اوالرؤیۃ او الشہادۃ فی الصک وان لم یکن الصک فی ید الشاھد لان الغلط نادر واثر التغییر یمکن الاطلاع علیہ وقلما یشتبہ الخط من کل وجہ فاذا تیقن ذٰلک جازاالاعتماد علیہ توسعۃ علی الناس۔۱؎
عیون میں ہے فتوی اس وقت صاحبین کے قول پر ہے جب یہ یقین ہو کہ فلاں کا خط ہے خواہ قضاء کا معاملہ ہو یا رؤیت وشہادتِ اشٹام کا، اگر چہ اشٹام گواہ کے ہاتھ میں نہ ہو کیونکہ غلط ہونا نادرالوقوع ہے اور تبدیلی پر اطلاع ممکن ہے اور بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ تحریر دوسری تحریر کے کلیۃً مشابہ ہو تو جب اسے خط کا یقین ہوتو لوگوں پر آسانی کی خاطر اس پر اعتماد جائز ہے(ت)
(۱؎غمز عیون البصائر مع الاشباہ کتاب القضاء والشہادات الخ ادارۃالقرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ /۳۳۸)
(ردالمحتار باب کتاب القاضی الی القاضی الخ مصطفی البابی مصر ۴ /۳۹۳)
اور اما خط البیاع والصراف والسمسار فھو حجۃ وان لم یکن مصدرا معنونایعرف ظاہرابین الناس وکذٰلک مایکتب الناس فیما بینھم یجب ان یکون حجۃ للعرف۔۲ ؎
عام خرید وفروخت کرنے والے، سونے چاندی کا سودا کرنے والے اور دلّال کا خط تمہید، تقریر اور عنوان کے بغیر بھی حجّت ہے جو لوگوں میں واضح طور پر معروف ہیں،اور یُونہی لوگوں کی آپس کی خط وکتابت عرف کی بناء پر حجت ہونا واجب ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب کتاب القاضی الی القاضی الخ مصطفی البابی مصر ۴ /۳۹۲)
فتوٰی دیا جاسکتا ہے کہ رؤیت ہلال کی شہادت کے لیے کسی عزیز کا خط جو اس کی طرز عبارت اور رات دن کی تحریر سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ضرور اسی کا خط ہے معتبر ہوسکتا ہے یا نہیں؟
(۲) اگر کسی دینی معاملہ میں خط معتبر نہ ہوگا جو علماء دُور دراز سے فتوٰی تحریر کرتے ہیں اس پر کیسے اعتماد ہو؟
(۳) بالخصوص رمضان شریف کے چاند کے لیے بجائے شہادت کے صرف خبر ہی کافی ہے اس کے لیے بھی خط معتبر ہے یا نہیں؟بینو اتوجروا
الجواب:حکم اﷲ و رسول کے لیے(جل جلالہ، وصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم) تمام کتب میں تصریح ہے:
الخط لایعمل بہ، الخط یشبہ الخط، الخاتم یشبہ الخاتم۔۱؎
خط پر عمل نہیں کیا جاسکتا ۔ خط، خط کے مشابہ اور مُہر مُہر کے مشابہ ہوتی ہے۔(ت)
(۱؎الاشباہ والنظائر ۱ /۳۳۸ والہدایۃ کتاب الشہادۃ ۳ /۱۵۷ و فتاوٰی ہندیہ ۳ /۳۸۱)
بیاع و صراف و مفتی کے خطوط بالاجماع مستثنٰی ہیں
علی خلاف القیاس لضرورۃ الناس وماکان خلاف القیاس لا یجوز القیاس علیہ، مکاتبات ناس فیما بینھم
(لوگوں کی ضرورت کے پیشِ نظر خلاف قیاس حجت ہیں اور جو خلافِ قیاس ہو اس پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ، لوگوں کی آپس کی خط و کتابت اور چیز ہے۔ت) دوسری چیز ہیں اور
امر حلال فیما بینھم وبین ربھم
(ان کے اور ان کے رب کے درمیان معاملہ ہے۔ت)متون وشروح وفتاوٰی تمام کتب متعمدہ مذہب دیکھ لیے جائیں جہاں یہ گنتی کے استثنا وہ بھی بہت مباحث کے ساتھ کرتے ہیں کہیں بھی ہلال کا استثناہ ہے تو اپنی طرف سے زیادت فی الشرع کیونکر جائز ہُوئی، قاضی الشرق والغرب نے شاہد کے اپنے خط کا استثناء فرمایا جس کے ساتھ سو وجوہ مذکور ہوسکتی ہیں اور اپنے خط کا اشتباہ بغایت بعید ہے انہوں نے بھی کہیں ہلال میں خط کا اعتبار فرمایا، نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲامدہ لرؤیتہ۲؎
(اﷲتعالٰی نے اس کا مداررؤیت پر رکھا ہے۔ت)
(۲؎سنن الدارقطنی کتاب الصیام حدیث۲۶ نشر السنۃ ملتان ۲ /۱۶۲)
اور فرماتے ہیں:
صوموا لرؤیتہ وافطر وا لرؤیتہ۔۳؎
چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر عید کرو۔(ت)
تمام کتب میں تصریح ہے کہ خود رؤیت ہو یا دوسری جگہ کی رؤیت بطریق موجب ثابت ہو اور ان طرق موجبہ کی بھی تفصیل فرماتے ہیں کہ شہادت ہویا شہادۃ علٰی الشھادۃ یا شہادۃ علی الحکم یا استفاضہ مع التحقیق مجرد حکایت اگر چہ متعدد ثقات عدول کریں تصریح ہے کہ مقبول نہیں، حتی کہ ہلال رمضان میں لفظ اشھد کی حاجت نہیں پھر خط کہ حکایت مجردہ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا بلکہ اکثر اوقات اسکے برابر بھی نہیں ہوسکتا جیسے ڈاک کا خط کہ وسائط مجاہیل بلکہ اکثر بذریعہ کفار آتا ہے کیونکر کوئی چیز ہوسکتا ہے