Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
80 - 198
مسئلہ ۱۷۵: از دفتر صحیفہ حیدر آباد دکن مبطوعہ  ۱۶رمضان ۱۳۳۳ھ

تار اور ٹیلیفون زمانہ حال کی ایجاد ہے یعنی فقہائے ماسبق کے زمانہ میں یہ چیزیں ایجاد نہیں ہُوئی تھیں اس لئے قدیم کتبِ فقہ اس تذکرے سے خالی ہیں کہ تار اور ٹیلیفون کے ذریعہ سے جو خبریں آتی ہیں وہ قابل تقسیم ہیں یا نہیں ، اس مسئلہ کی نسبت علماء کے ایک عام اجماع واتفاق کی ضرورت ہے، پس براہِ کرم بیان فرمایا جائے کہ تار اور ٹیلی فون کے ذریعہ سے جو خبر آئے وہ از رُوئے احکامِ شریعت قابلِ تسلیم ہے یا نہیں؟ اور ایسی خبر کی بناء پر احکامِ شرعیہ مثلاً ترک و اختیارِ صوم اور تقرر یوم حج وغیرہ کا تصفیہ ہو سکتا ہے یا نہیں؟بینو اتوجروا
الجواب:تار محض بے اعتبار ، یُونہی ٹیلی فون، اگر خبر دہندہ پیشِ نظر نہ ہو۔ تفصیل فقیر کے فتاوی مرسلہ سے معلوم ہوگی۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۱۷۶تا۱۷۸ : مسئولہ عبدالعزیز تاجر چرم قصبہ ٹکاری محلہ تتایگنج ضلع گیا     ۱۶ذی القعدہ ۱۳۳۳ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسائلِ مفصل ذیل میں بحوالگی کتبِ فقہ وفتاوٰی بینواتوجروا۔

سوال اوّل: نمازِ عید کہ جس کی ادائیگی رؤیتِ ہلال پر موقوف ہے اگر اس کی رؤیت کی خبر ایسی بستی میں جہاں ابر وباد کی وجہ سے چاند نہ دیکھا گیا ہو اور معتبر شخص کی زبانی کہ اُس شخص کو بھی خبر غیر شہر میں بذریعہ تار کے ملی ہو اور وُہ شخص اپنے مکان پر نماز عید کی پڑھ کر آیا ہو اس شخص معتبر کے بیان پر روزہ افطار کرنا اور نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں، اور بعد پڑھنے نماز عید کے جو لوگ کہ سفر میں عید کے روز کلکتہ وغیرہ میں ہیں وہ لوگ یہاں آئے اور بیان کیا کہ ہم نے اور جماعت کثیرہ نے اپنی آنکھ سے چاند دیکھ کر نماز عید روزِ جمعہ کو پڑھی ہے ایسی صورت میں روزِ جمعہ کو افطار کرنا اور نمازِ عید جمعہ کو پڑھنا جائز ہوا یا نہیں ، اور اطراف وجوانب میں بمعائنہ رویتِ ہلال عید روزِ جمعہ کو ہُوئی اس کے لیے شہادت کثیر ہے۔
سوال دوم: ایک بستی کے بعض افراد نے شخص معتبر کے بیان پر کہ جس کو خبر بذریعہ تار کے دوسر شہر میں ملی ہو اُس کے بیان پر جہاں بوجہ ابر وباد رؤیت نہ ہوئی وہاں کے بعض افراد نے روزہ افطار کیا اور نمازِ عید پڑھی اور بعض افراد نے وہیں کے کہ جن کو اشتباہ ماہِ رمضان کی رؤیت میں تیس کا تھا اور اُن کے حساب سے انتیس رمضان پڑتا تھا اور خبر اُن لوگوں کو بھی قبل باقی رہنے پورے وقت نماز کے ملی مگر شخص معتبر کے قول وخبر وتارپر اعتبار نہ کرکے روز جمعہ کو نہ روزہ افطار  کیا اور نہ نمازِعید پڑھی بلکہ سینچر کے روز روزہ افطار کیا اور نماز عیدپڑھی، جمعہ کا روزہ جائز ہولیا یا ناجائز؟

سوال سوم:ایک مسجد میں دو۲روز نمازِ عید پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب:

جواب سوال اول:دربارہ ہلال،خط اور تار  محض  بے اعتبار ، اور دربارہ ہلالِ عید،ایک عادل ثقہ کی خود اپنی رؤیت کی گواہی بھی مقبول نہیں جب تک پُورا نصابِ شہادت نہ ہو، درمختار میں ہے:
شرط للفطر مع العلۃ والعدالۃ نصاب الشہادۃ ولفظ اشھد۔۱؎
عید الفطر میں بادل و عدالت کی موجودگی میں نصاب شہادت اور لفظ شہادت ضروری ہے(ت)
 (۱؎درمختار ، کتاب الصوم ،مطبع مجتبائی دہلی،۱ /۱۴۸)
تو ایک معتبر شخص کی خبر محض اور وُہ بھی اپنی رؤیت کی نہیں دُوسرے کی، اور وُہ بھی تار کی معلوم ہوئی، چاروجہ سے مردود تھی اور اس کی بنا پر عید کرنا حرام، جن لوگوں نے اس بنا پر روزہ توڑاسخت گناہ شدید کے مرتکب ہوئے اور اس دن کی نمازِ عید بھی گناہ و مکروہِ تحریمی و ناجائز ہوئی، اور دوسرے دن نمازِ عید نہ پڑھنے سے بھی ترکِ واجب کے گنہ گار ہُوئے اور بعد کو ثبوت کتنے ہی کثیر ہوجائیں اُن کے اُن گناہوں کو رفع نہیں کرسکتا کہ جس وقت تک انہوں نے یہ افعال کئے ثبوت شرعی نہ تھا ان پر سے مخالفتِ حکمِ شرع کا الزام بے توبہ زائل نہیں۔ واﷲتعالیٰ اعلم
جواب سوال دوم :جن لوگوں نے اُس خبر پرعمل نہ کیا اور روزہ قائم رکھا اور دوسرے دن نمازِ عید پڑھی انہوں نے مطابق حکمِ شرع کیا، ایسا ہی کرنے کا شرعاً حکم تھا اگر چہ جمعہ ضرور روزِ عید تھا مگر وہاں نہ رؤیت نہ ثبوتِ شرعی گزرا تو اُن پر جمعہ کا روزہ ہی فرض تھا اور سینچر کی عید واجب، رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
صوموالرؤیتہ وافطروالرؤیتہ ۱؎
 (چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر عید کرو۔ت)
 (۱؎صحیح بخاری ، باب اذارأیتم الھلال فصوموا،قدیمی کتب خانہ کراچی ،۱ /۲۵۶)
جواب سوال سوم :یہ صورت دوروز نماز عید کی نہ تھی کہ وہاں جمعہ کو عید ناجائز تھی جنہوں نے پڑھی وُہ ایک ناجائز نفل تھا کہ جماعت سے ادا کیا اور گنہگار ہُوئے۔

درمختار میں ہے:
صلٰوۃ العید فی القری تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بما لایصح۔  ۲؎
دیہاتوں میں نمازِ عید مکروہِ تحریمی ہے کیونکہ یہ ایسی چیز میں مشغول ہونا ہے جو درست نہیں(ت)
 (۲؎ درمختار، باب العیدین ،مطبع مجتبائی دہلی ،۱ /۱۱۴)
ردالمحتار میں ہے:
ھو نفل مکروہ لادائہ بالجماعۃ ح۔ ۳؎
یہ نوافل ہیں اور نوافل کی جماعت کے ساتھ ادائیگی مکروہ ہے۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار  ،باب العیدین ، مصطفے البابی مصر   ،۱ /۶۱۱)
نمازِ عید وہی  ہُوئی جو دوسرے گروہ نے روزِ شنبہ پڑھی۔واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ۱۷۹:از ضلع بتیاڈاک خانہ و مقام رتسڑ رحیم اﷲ وعبدالرحمٰن ۱۳صفر المظفر۱۳۳۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں مسلمان باشندوں میں سے ایک شخس حاجی مصدی صاحب ہیں جو کہ احاطہ بنگلہ خطہ آسام ضلع تبرپور رہتے ہیں اور وہیں تجارت کرتے ہیں لہذا انہوں نے خط لکھا کہ یہاں کے لوگوں نے چاند ماہ رمضان المبارک کا روز سہ شنبہ یعنی منگل کے ہُوا، قریب قریب پچاس آدمیوں نے دیکھا اور دوتین آدمی خاص ہمارے آدمیوں میں سے جوکہ کاروبار دُکان کے کرتے ہیں دیکھا مگر جناب حاجی مصدی صاحب انکار کرتے ہیں کہ ہم نے بچشمِ خود نہیں دیکھا اور جتنے اُس اطراف کے ملک آسام میں رہتے ہیں کسی نے چاند  نہیں دیکھا جس  وقت یہ خط آیااُس وقت جناب مولانا مولوی عبدالغفار صاحب ساکن موضع اعظم گڑھی شاگرد مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی سلسلہ مدرسہ دیوبند تشریف لائے تھے انہوں نے خط دیکھ کر فرمایا کہ دوبارہ خط سے دریافت کرو کہ اگر واقعی ان لوگوں نے چاند دیکھا توتم لوگ بھی جمعہ کی عید کرلینا پنجشنبہ کوچاہے چاند ہو یا نہ ہو اور ایک روزہ قضاء کا رکھ لینا، تو پھر  جب دوبارہ لکھا گیا تو اسی مضمون کا جواب آیا کہ چاند کا دیکھنا سچ ہے ۵۰آدمیوں نے باشندہ ملک آسام کے دیکھا لہذا محض ملک آسامیوں کا دیکھنا اور بہ موجب فتوی دینے مولوی عبد الغفار صاحب یہ قابل سند  ہوسکتا ہے کہ نہیں اور جمعہ کو ہم لوگ عید کرسکتے ہیں کہ نہیں، بر تقدیر نہ چاند ہونے پنجشنبہ کے عید جمعہ کو کرسکتے ہیں یا نہیں، اور واقعی ایسا ہُوا کہ پنجشنبہ کو عید کا چاند نہیں نظر پڑا، ہزاروں آدمیوں نے دیکھا اور نہ کہیں چاند دیکھنے کی خبر آئی جو لوگ کہ معتقد مولوی عبدالغفار صاحب کے نہیں تھے جبکہ دیکھا یہ لوگ نہیں مانیں گے تو محض رفع نزاع کے لیے انہی لوگوں کے ساتھ عیدجمعہ کو کرلی بغیر چاند دیکھے تفریق جماعت اور دو فریق ہوجانے کے خیال سے،لہذا ازروئے شرع کے تفصیل بالاکی تحقیق۔بینواتوجروا۔
الجواب:دربارہ ہلال خط اور تار محض بے اعتبار،
قال صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم صوموالرؤیتہ وافطروالرؤیتہ۔ ۱؎
رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: چاند دیکھنے پر روزہ شروع کرو اور چاند دیکھنے پر عید کرو۔(ت)
 ( ۱؎صحیح بخاری     باب اذارأیتم الھلال فصوموا        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۲۵۶)
ہدایہ واشباہ و درمختار وغیرہ عام کتب میں ہے:
الخط لایعمل بہ۲؎
 (خط پر عمل نہیں کیا جاتا۔ت)
  (۲؎ درمختار         باب کتاب القاضی الی القاضی وغیرہ     مطبع مجتبائی دہلی        ۲ /۸۳)

(الاشباہ و النظائر     کتاب القضاء والشہادات الخ        ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۱ /۳۳۸)
دیوبندی کا فتوٰی محض باطل تھا اور بغیر رؤیت یا ثبوت شرعی جمعہ کو عید کرلینا حرام تھا اور تفریق جماعت سے بچنے کا خیال خام تھا اگر کُچھ لوگ بے ثبوتِ شرعی جمعہ کو عید کرلیتے تو نہ وہ عید عید تھی، نہ وہ نماز نماز، نہ وہ جماعت جماعت، تفریق کا ہے کی ہُوئی!اب صورتِ تفریق تو نہ ہُوئی مگر حقیقۃً ابطال ہوگیا، نماز بھی گئی، سب گنہ گار ہوئے، اگر چہ واقعہ میں عید جمعہ کی تھی۔ واﷲتعالیٰ اعلم۔
Flag Counter