Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
79 - 198
مسئلہ۱۷۲: از رامپور بوساطت مولوی بشیر احمد صاحب مدرس اول مدرسہ اہلسنت و جماعت بریلی ۴ ربیع الاول ۱۳۲۳ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ۲۹تاریخ کو کسی شہر میں چاند نظر نہ آئے اور دُوسرے شہر میں وہی چاند ۳۰کا نظر آیا اور وہاں کے لوگ ٹیلی فون یا ٹیلی گراف میں اطلاع دیں تو وہ خبر معتبر ہوگی یا نہیں؟بینو اتوجروا
الجواب:ہر گز معبتر نہیں ہوسکتی، اصلاً قابلِ لحاظ نہیں ہوسکتی، تار کی کی سخت بے اعتباری میں فقیر کا فتوٰی مفصلہ طبع ہوچکا ہے،اُس کی حالت ٹیلی فون درکنار،خط سے بہت گری ہُوئی ہے کہ اس میں مرسل کے ہاتھ کی علامت تک نہیں ہوتی اور اکثر بنگالی بابُووں وغیرہم کفّار کو توسط ہوتا ہے ورنہ مجاہیل ہونا ضروری ہے، اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ خط بھی معتبر نہیں ، ہدایہ میں ہے:
الخط یشبہ الخط۱؎
 ( تحریر ایک دوسرے کے مشابہ ہوسکتی ہے۔ت)
 (۱؎ الہدایہ         فصل مایتحملہ الشاہد         مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳ /۱۵۷)
تو شرعاًتار پر عمل کیونکر ممکن ! یُونہی ٹیلیفون کہ اس میں شاہد و مشہود نہیں ہوتا صرف آواز سنائی دیتی ہے اور علماء تصریح فرماتے ہیں آڑ سے جو آواز مسموع ہو اُس پر احکامِ شرعیہ کی بناء نہیں ہوسکتی کہ آواز آواز سے مشابہ ہوتی ہے۔تبیین الحقائق امام زیلعی پھر فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
لوسمع من وراء الحجاب لایسعہ ان یشہد لا حتمال ان یکون غیرہ اذ ا لنغمۃ تشبہ النغمۃ ۱؎ الخ وصورۃ الثنیا التی ذکرت لا تحقق لھا فیما نحن فیہ کما لایخفی، واﷲتعالٰی اعلم۔
اگر کسی نے پردہ کے پیچھے سے سُنا تو اس کو گواہی دینا جائز نہیں کیونکہ وہ کوئی دوسرا ہوسکتا ہے کیونکہ آواز ایک دوسرے کے مشابہ ہوسکتی ہے الخ اور جو صورت مستثنٰی قرار دی گئی ہے اس کا ہماری ا س بحث میں تحقق نہیں ہے، جیسا کہ مخفی نہیں۔ وا ﷲتعالیٰ اعلم(ت)
 (۱؎ فتاوی ہندیہ     الباب الثانی فی بیان تحمل الشہادۃ الخ     نورانی کتب خانہ پشاور    ۳ /۴۵۲ )
 مسئلہ ۱۷۳: مرسلہ منظور علی علوی کاکوروی :کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک جگہ پہاڑمیں ایسی ہے جہاں بغیر بہت دقت سے اونچی چوٹیوں پر گئے چاند نہیں دیکھا جاسکتا ہے اور جہاں جاکر بھی اکثر بسبب ابر غبار کے چاند نہیں دکھائی دیتا ہے ایسی جگہ میں مسلمانوں کو شوال کی رؤیت ہلال کی اطلاع بذریعہ تار کے پاکے روزہ افطار کردینا اور عید کی نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ تار اگرایک ہو،دوہوں، یا دس  بارہ ہوں، کسی صورت میں ان پراعتبارجائز ہے یا نہیں؟ اگر خبر بذریعہ تار کی نہ مانی جائے تو پہاڑوں میں (مثلاًنینی تال میں ) کبھی رمضان کا مہینہ انتیس کو نہیں ختم ہوسکتا ہے، اس لیے کہ دس بارہ برس کا مشاہدہ ہے کہ ہمیشہ ابر غبار کی وجہ سے شوال کا چاند نہیں دیکھا جاسکتا ہے۔بینو اتوجرو
الجواب:رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
صوموا لرؤیتہ وافطر والرؤیتہ۲؎
چانددیکھ کر روزہ رکھو اورچاند دیکھ کر افطار کرو۔
 (۲؎ صحیح بخاری ،باب اذا رأیتم الہلال فصومواِ قدیمی کتب خانہ کراچی، ۱ /۲۵۶)
اور فرماتے ہیں:
ان اﷲامدہ لرؤیتہ۳؎
اﷲتعالٰی نے اس کا مداررؤیت پر رکھا ہے۔
 (۳؎سنن دار قطنی،کتاب الصیام نمبر ۲۶،نشر السنۃ ملتان،۲ /۱۶۲)
تار اگر چہ دس  بیس ہوں اصلاً شرعاً امورِ دینیہ میں قابلِ التفات نہیں کہ اس کی حالت خط سے بھی بدتر ہے اپنے شناسا کا خط پہچانا جاتا ہے، طرزِ عبارت سے پتا چلتاہے، تار میں یہ کچھ بھی نہیں، پھر ہمارے تمام ائمہ نے عام کتب مذہب میں مثل ہدایہ ودرمختار و اشباہ وخیریہ وعقودالدریہ وفتاوٰی عالمگیری وغیرہا میں تصریح فرمائی کہ خط کا اعتبار نہیں بلکہ صاف فرمایا کہ مُہرکا بھی ان معاملات میں اعتبار نہیں ہوتا، پھر تارکیونکر قابلِ اعتبار ہوسکتا ہے، خصوصاً تر بابوُوں کی عدالت درکنار اسلام کا بھی علم نہیں، بلکہ اکثر ہنود وغیرہ ہوتے ہیں دس بیس جگہ سے آنا کافر یا فاسق مجہول کی خبر کو معتبر شرعی نہ کردے گا، نہ یہاں حدِ تو اتر پہنچنا معقول کہ دس نہیں ہزار جگہ سے تار آئیں ہم کو تو ایک ہی تار گھر سے ملیں گے اور کہیں دوچاربھی ہوئے تو یہ تواتر نہیں، اپنے دنیوی معاملات کو دیکھیے دو۲روپے کا دعوٰی ہو اور گواہ بیس دفعہ تار پر اپنی گواہی بھیجے کیا کچہریوں میں قبول ہوجائیگی، پھر عید کر لینا کیسے حلال ہوجائے گا!رہایہ کہ اس صورت میں کہ انتیس کا چاند ہی وہاں نہ ہوگا، شعبان سے ذی الحجہ تک پانچ ہلالوں کا بغور دیکھنا تلاش کرنا ہرجگہ کے مسلمانوں پر واجب ہے اونچی چوٹیوں پر جانے کی دقت اگر صرف بوجہ تکلیف یا کاہلی ہوتو یہ عذر ہر گز نہ سُنا جائے گا، اور اوپر جاکر دیکھنا واجب ہوگا۔ اگر کوئی نہ جائے گا سب گنہ گار رہیں گے اور اگر واقعی نا قابلِ برداشت تکلیف ہے تو معاف ہے۔ عہ
 (عہ  اصل میں یہاں بیاض ہے ۱۲)
فان غم علیکم فاکملواالعدۃ ثلثین۔۱؎
چاند تم پر پوشیدہ رہے تو تیس کی گنتی پوری کرو۔
(۱؎ سنن دار قطنی، کتاب الصیام نمبر ۲۹،نشر السنۃ ملتان ، ۱ /۱۶۳)
مسلمانوں کو حکم سے غرض ہے۳۰،۲۹ سے کیا کام! اور اگر یہ خیال ہے کہ ۲۹ کے رمضان کی خوشی زیادہ ہوتی ہے، یہ کیونکر ہوگی، تو یہ محض بے معنی خیال ہے، اور غور کریں تو اُس کی کسر ادھر شعبان میں نکل جائیگی کہ وُہ بھی کبھی ۲۹ کانہ ہوگا، تو رمضان کہ ۳۰کا چاند وہاں ۲۹ کو نظر آئے گا، اہتمام کریں تو ۲۹ تاریخ نزدیک کی آبادیوں میں دوچار معتبر مسلمان بھیج کر پہاڑ سے باہر بھی رؤیت کر سکتے ہیں۔واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۱۷۴: از گونڈل کاٹھیاواڑ    مرسلہ محمود میاں ابن قاضی عبد الغنی صاحب  ۸ ذی الحجہ ۱۳۳۲ھ

اس ریاست میں ٹیلیفون ہونے کی وجہ سے بذریعہ ٹیلیفون رؤیت ہلال رمضان یا عید رُوبرو آمنے سامنے دونوں مسلمان ہوں اور ایک جگہ کا مسلمان دوسرے کو خبر دے کہ میں نے چاند دیکھا اور دوسری جگہ والا بھی مسلمان ہو اور اس کی آواز پہچانتا ہوکہ فلاں شخص یہ خبر دے رہا ہے تو اس کی آواز پہچان کر ان کے قول پر عمل کیا جائیگا یانہیں؟ یا ٹیلیفون دینے والا اور لینے دونوں ملازم مسلمان ہیں، ایک نے دوسرے کو بذریعہ ٹیلیفون خبردی رؤیت ہلال کی، اس نے دوسرے سے کہا فلاں جگہ سے مجھ کو فلاں نے کہا کہ وہاں پر رؤیت ہلال ہُوئی تو ایسی خبر پر اعتماد چاہئے یا نہیں؟
الجواب:ٹیلی فون دینے والا اگر سُننے والے کے پیشِ نظر نہ ہوتو امورِ شرعیہ میں اس کا کچھ اعتبار نہیں اگر چہ آواز پہچانی جائے کہ آواز مشابہ آواز ہوتی ہے، اگر وہ کوئی شہادت دے معتبر نہ ہوگی، اور اگر کسی بات کا اقرار کرے سننے والے کو اس پر گواہی دینے کی اجازت نہیں، ہاں اگر وہ اس کے پیش نظر ہے جسے دوبدو آمنے سامنے سے تعبیر کرتے ہیں، یعنی اس کی دونوں آنکھیں اس کی دونوں آنکھوں کے سامنے ہوں، ایک دوسرے کو دیکھ رہا ہو، اور ٹیلی فون کا واسطہ صرف بوجہ آسانی آواز رسانی کے لیے ہو کہ اتنی دُور سے آواز پہنچنا دشوار تھا، تو اس صورت میں اس کی بات جس حد تک شرعاً معتبر ہوتی اب بھی معتبر ہوگی، مثلاً خود اپنی رؤیت کی شہادت ادا کرے تو مانی جائے گی اگر وہ مقبول الشہادۃ ہے ، لیکن اتنی بات کہ فلاں جگہ رؤیت ہُوئی اگر چہ متصل آکر ادا کرے جب بھی معتبر نہیں کہ یہ محض حکایت ہے نہ کہ شہادت ، اور یہ کہ فلاں نے مجھ سے کہا کہ فلاں جگہ ہُوئی، اور زیادہ مہمل کہ حکایت درحکایت ہے۔
تبیین الحقائق پھر فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
ولو سمع من وراء الحجاب لایسعہ ان یشھد لاحتمال ان یکون غیرہ اذ النغمۃ تشبہ النغمۃ الااذاکان فی الداخل وحدہ ودخل وعلم الشاھد انہ لیس فیہ غیرہ ثم جلس علی المسلک ولیس لہ مسلک غیرہ فسمع اقرار الداخل ولایراہ لانہ یحصل بہ العلم وینبغی للقاضی اذا فسرلہ ان لایقبلہ۔۱؎
اگر کسی نے پردے کے پیچھے سے سُنا تو سننے والا گواہی نہیں دے سکتا، ممکن ہے کوئی اور شخص ہو، کیونکہ آواز آواز سے مشابہ ہوسکتی ہے مگر اس صورت میں جب داخل ہونے والا اکیلا ہو اور شاہد جانتا اور علم رکھتا ہو کہ اس کے علاوہ دوسرا نہیں، پھر وُہ گواہ راستہ پر بیٹھتا ہے جبکہ اس راستہ کے علاوہ کوئی اور راستہ بھی نہیں، اور داخل ہونے والے کا اقرار سُنتا ہے اور اسے دیکھتا نہیں(تو اب گواہی قبول ہے)کیونکہ اب اسے یقین حاصل ہے، اور اگر گواہ پردے والے کی بات کی از خود تفسیر کرے تو قاضی کے لیے مناسب ہے کہ وُہ تفسیر قبول نہ کرے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ   الباب الثانی فی بیان تحمل الشہادۃ الخ        نورانی کتب خانہ پشاور       ۳ /۴۵۲ )
ذخیرہ پھر ہندیہ میں ہے:
کان الفقیہ ابو اللیث یقول اذااقرت المرأۃ من وراء الحجاب وشھد عندہ اثنان انھا فلانۃ لا یجوز لمن سمع اقرار ھا ان یشھد علی اقرارھا الا اذارأی شخصا یعنی حال مااقرت فح یجوزلہ ان یشہد علی اقرار ھا،  شر ط رؤیۃ شخصھا لارؤیۃ وجھھا۔۱؎
فقیہ ابوللیث فرمایا کرتے تھے کہ جب پردہ کے پیچھے عورت نے اقرار کیا اور دو آدمیوں نے گواہی دی کہ یہ فلاں عورت ہے تو اقرار سننے والے کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس کے اقرار پر گواہی دے مگر اس صورت میں جب اس نے اس خاتون کو دیکھا ہو یعنی اقرار کرتے وقت تواب اس کے لیے جائز ہے کہ اس کے اقرار پر گواہ بنے باقی شرط شخصیت کو دیکھنا ہے نہ کہ چہرے کو۔(ت)
 (۱؎فتاوٰی ہندیہ    الباب الثانی فی بیان تحمل الشہادۃ الخ    نورانی کتب خانہ پشاور     ۳ /۴۵۳)
درمختار میں ہے:
شہد واانہ شہد عند قاضی مصر کذا شاھد ان برؤیۃ الھلال فی لیلۃ کذاوقضی القاضی بہ ووجد استجماع شرائط الدعوی جازلہذا القاضی ان یحکم بشھادتھما لان قضاء القاضی حجۃ وقد شھد وابہ لا لو شھد وابرؤیۃ غیرھم لانہ حکایۃاھ۲؎وتمام تحقیقہ فی فتاوٰنا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
گواہوں نے گواہی دی کہ قاضیِ مصر کے پاس فلاں رات چاند دیکھنے پر دوگواہوں نے گواہی دی ہے اور قاضی نے اس پر فیصلہ دیا اور شرائطِ دعوٰی پائی جائیں تواس قاضی کے لیے دوگوا ہوں کی شہادت پر فیصلہ دینا جائز ہے کیونکہ قضاء ِقاضی حجّت ہے اور گواہوں نے اس قضاء پر ہی گواہی دی ہے،ہاں اس صورت میں فیصلہ نہیں دے سکتا جب انہوں نے یہ گواہی دی ہو کہ فلاں نے چاند دیکھا ہے کیونکہ یہ حکایت ہے اھ اس کی تمام تحقیق ہمارے فتاوٰی میں ہے،واﷲتعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎ درمختار         کتاب الصیام             مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۱۴۹)
Flag Counter