Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
78 - 198
تنبیہ سوم: قطع نظر اس سے کہ خبر شہادت منگانے کے لیے جنہیں مراسلات بھیجے جائیں گے غالباً ان کا بیان حکایت و اخبار محض سے کتنا جُدا ہوگا جس کی بے اعتباری تمام کتبِ مذہب میں مصرح۔ بالفرض اگر اصل خبر میں کوئی خلل شرعی نہ ہو تا ہم اس کا جامہ اعتبار تار میں آکر یکسر تار تار کہ وُہ بیان ہم تک اصالتاًنہ پہنچا بلکہ نقل در نقل ہو کرآیا، صاحبِ خبر تو وہاں کے تار والے سے کہہ کر الگ ہوگیا اُس نے تار کو جنبش دی اور اس کے کھٹکوں سے جن کے اطوارِ مختلفہ کو اپنی اصطلاحوں میں علامتِ حروف قرار دے رکھا ہے اشاروں میں عبارت بتائی اب وہ بھی جُدا ہوگیا یہاں کے تار والے نے اُن کھٹکوں پر نظر کی، اور ضرباتِ معلومہ سے جو فہمم میں آیا نقوش معرفہ میں لایا اب یہ بھی الگ رہا وہ کاغذ کا پرچہ کسی ہر کارے کے سپرد ہُوا کہ یہاں پہنچا کر چلتا بنا۔ سبحان اﷲاس نفیس روایت کا سلسلہ سند تو دیکھئے مجہول عن مجہول عن مجہول، نامقبول از نامقبول از نامقبول، اس قدر وسائط تولابدی ہیں پھر شاید کبھی نہ ہوتا ہو کہ معزز لوگ بذاتِ خودجاکرتار دیں، اب جس کے ہاتھ کہلابھیجا مانیے وُہ جدا واسطہ ، اس پر فارم کی حاجت ہُوئی تو تحریر کا قدم درمیان، آپ نہ آئے تو کسی انگریزی دان کی وساطت ، اُدھر تار کا بابُو اردو نہ لکھے تو یہاں مترجم کی جُدا ضرورت، اینہمہ فصل زائد ہُوا اور تار وصل نہیں، جب تو نقل در نقل کی گنتی ہی کیا ہے، وائے بے انصافی اس طریقہ تراشیدہ پر عمل کرنے والوں سے پُوچھا جائے ان سب وسائط کی عدالت و ثقاہت سے کہاں تک آگاہ ہیں، حاش ﷲنام بھی نہیں معلوم ہوتا، نام درکنار اصل شمار وسائط بتانا دشوار، سب جانے دیجئے اسلام پر بھی علم نہیں اکثر ہنود وغیرہم کفاران خدمات پر معیّن، غرض کوئی موضوع سی حدیث اس نفیس سلسلے  سے نہ آتی ہوگی، پھر ایسی خبر پر امورِ شرعیہ کی بنا کرنا استغفراﷲ علماء توعلماء میں نہیں جانتا کہ کسی عاقل کا کام ہو۔
تنبیہ چہارم: علماء تصریح فرماتے ہیں کہ دوسرے شہر سے بذریعہ خط خبر شہادت دینا صرف قاضیِ شرع سے خاص جسے سلطان نے مقدمات پر والی فرمایا ہو، یہاں تک کہ حَکم کا خط مقبول نہیں،درمختار میں ہے:
القاضی یکتب الی القاضی وھو نقل الشہادۃ حقیقۃ ولا یقبل من محکم بل من قاض مولی من قبل الامام الخ ملتقطا۔۱؎
قاضی،دوسرے قاضی کی طرف لکھ سکتا ہے اور یہ حقیقۃ نقلِ شہادت ہے اور یہ فیصل سے قبول نہیں بلکہ اس قاضی سے قبول ہے جسے حاکم نے مقرر کیا ہو الخ ملتقطا(ت)
 (۱؎ درمختار ،باب کتاب القاضی الی القاضی،مطبع مجتبائی دہلی، ۲ /۸۳ و ۸۴)
فتح میں ہے:
ھذاالنقل بمنزلۃ القضاء ولھذا لایصح الامن القاضی۔۲؎
یہ نقل بمنزلہ قضاء کے ہے لہذا یہ قاضی کے علاوہ کسی سے صحیح نہیں۔(ت)
 (۲؎ فتح القدیر        باب کتاب القاضی الی القاضی    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر      ۶ /۳۸۹)
غیر قضاۃ تو یہیں سے الگ ہُوئے ، رہے قاضی، ان کی نسبت صریح ارشاد کہ اس بارے میں نامہ قاضی کا قبول بھی اس وجہ سے ہے کہ صحابہ وتابعین رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے برخلاف قیاس اسکی اجازت پر اجماع فرمالیا ورنہ قاعدہ یہی چاہتا تھا کہ اس کا خط بھی اُنہی وجوہ سے جواوپر گزریں مقبول نہ ہو، اور پُر ظاہر کہ جو حکم خلافِ قیاس مانا جاتاہے مورد سے آگے  تجاوز نہیں کر سکتا ،اور دوسری جگہ اس کا اجراء محض باطل و فاحش خطا ،پھر حکم قبول خط سے گزر کر تار تک پہنچنا کیونکر روا۔ ائمہ دین تو یہاں تک تصریح فرماتے ہیں کہ اگر قاضی اپنا آدمی بھیجے بلکہ بذاتِ خود ہی آکر بیان کرے کہ میرے سامنے گواہیاں گزریں ہرگز نہ سُنیں گے کہ اجماع تو صرف دربارہ خط منعقد ہوا ہے، پیامِ ایلچی وخود بیانِ قاضی اس سے جدا ہے۔ امام محقق علی الاطلاق شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں:
الفرق بین رسول القاضی وکتابہ حیث یقبل کتابہ ولا یقبل رسولہ، فلان غایۃ رسولہ ان یکون کنفسہ، وقد مناانہ لوذکر مافی کتابہ لذلک القاضی بنفسہ لا یقبلہ، وکان القیاس فی کتابہ کذلک، الا انہ اجیزباجماع التابعین علی خلاف القیاس فاقتصر علیہ۔۱؎
قاضی کے قاصد اور اس کے خط میں یہ فرق ہے کہ خط قبول کیا جائے گا لیکن قاصد مقبول نہیں، زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ قاصد، قاضی کے قائم مقام ہے جبکہ ہم پہلے بیان کرچکے کہ اگر قاضی خود جاکر دوسرے قاضی کو خط والا مضمون بتائے تو دوسرا قاضی اسے قبول نہیں کرے گا، خط کے بارے میں قیاس کا تقاضا یہی ہے کہ قبول نہ ہو لیکن تابعین حضرات کے اجماع سے اس کو جائز و مقبول قرار دیا گیا جو کہ خلاف قیاس ہے اسی لیے اسی میں اجازت محصور رہے گی۔(ت)
 (۱؎ فتح القدیر شرح ہدایہ    باب القاضی الی القاضی     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر         ۶ /۳۸۶)
سبحان اﷲ! پھر تار بیچارے کی کیا حقیقت کہ اسے کتاب القاضی پر قیاس کریں اور جہاں خود بیان قاضی شرعاً بے اثر وہاں اس کے سر، بنائے احکام دھریں ع
ببیں تفاوت رہ از کجاست تا بکجا
(راستے کا تفاوت  دیکھیں کہ کہاں  سے کہاں تک ہے۔ت)اور جب شرعاً قاضی کا تار یُوں بے اعتبار، تو اوروں کے تار کی جو ہستی ہے وہ ہماری تقریر صدر سے آشکار کہ مقبول الکتاب کا تار، ناچیز ، تو مردود الکتاب کا تار کیا چیز،
ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ الملک العزیز۔
تنبیہ پنجم : قاضی شرع کا نامہ بھی صرف اُسی وقت مقبول جب دو مرد ثقہ یا ایک مرد دو عورتیں عادل دارالقضاء سے یہاں آکر شہادت شرعیہ دیں کہ یہ خط بالیقین اُسی قاضی کا ہے اور اس نے ہمارے سامنے لکھا ہے ورنہ ہرگز قبول نہ ہوگی اگر چہ ہم اس قاضی کا خط پہچانتے ہوں اور اس کی مُہر بھی لگی ہو اور اُس نے خاص اپنے آدمی کے ہاتھ بھیجا ہو۔
ہدایہ میں ہے:
لا یقبل الکتاب الابشہادۃ رجلین اورجل وامرأتین لان الکتاب یشبہ الکتاب فلا یثبت الابحجۃ تامۃ وھذالانہ ملزم فلا بدمن الحجۃ۔ ۲؎
خط نہیں قبول کیا جائے گا مگر دومرد یا ایک مرد اور دوخواتین کی گواہی پر قبول ہوگا کیونکہ خط،خط کے مشابہ ہوسکتا ہے لہذا اس حجتِ کاملہ کے بغیر خط کا ثبوت نہ ہوگا اور یہ اس لیے کہ خط کی وجہ سے حکم لازم ہوتا ہے اور اس لیے حجت کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔(ت)
 (۲؎ ہدایہ، باب القاضی الی القاضی،مطبع یوسفی لکھنؤ، ۳ /۱۳۹)
فتاوٰی ہندیہ میں ملتقط سے ہے:
یجب ان یعلم  ان کتاب القاضی الی القاضی صار حجۃ شرعا فی المعاملات بخلاف القیاس لان الکتاب قد یفتعل ویزور، والخط یشبہ الخط والخاتم یشبہ الخاتم ولکن جعلنہ حجۃ بالاجماع ولکن انما یقبلہ القاضی المکتوب الیہ عند وجو دشرائطہ ومن جملۃ الشرائط البینۃ حتی ان القاضی المکتوب الیہ لایقبل کتاب القاضی مالم یثبت بالبینۃ انہ کتاب القاضی۔ ۱؎
یہ  جان لینا ضروری ہے کہ قاضی کا خط دوسرے قاضی کی طرف معلامات میں شرعاً حجت ہے لیکن خلاف قیاس کیونکہ خط میں جعلسازی اور جھوٹ لکھا جاسکتا ہے، اورخط، خط کے مشابہ، اسی طرح مہر دوسری مُہر کے مشابہ ہو سکتی ہے لیکن ہم نے اسے اجماع کی وجہ سے حجّت مانا ہے لیکن جس قاضی کی طرف لکھا گیا ہو تب قبول کرے جب اسکی شرائط پائی جائیں، اور ان شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ اس پر گواہ ہوں حتی کہ قاضی دوسرے قاضی کے خط کو اس وقت تک قبول نہیں کرسکتا جب تک گواہ گواہی نہ دیں کہ یہ قاضی کا خط ہے(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ   الباب الثالث والعشرون فی کتاب القاضی الی القاضی      نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۳۸۱)
عقودالدریہ میں فتاوٰی علّامہ قاری الہدایہ سے ہے:
اذا شہد واانہ خطہ من غیران یشاھد وا کتابتہ فلا یحکم بذلک۔ ۲
جب وُہ گواہی دیں کہ یہ اس کا خط مگر انہوں نے لکھتے ہوئے نہیں دیکھا تو ایسے خط پر فیصلہ نہ دیا جائے(ت)
 ( ۲؎ عقودالدریہ  الکتابۃ علٰی ثلاثۃ مراتب الخ     ارگ بازار قندھار افغانستان     ۲ /۱۹)
سبحان اﷲ! یہ خطوط یا تار جو یہاں آتے ہیں اُن کے ساتھ کون سے دو گواہ عادل آکر گواہی دیتے ہیں کہ کہ فلاں نے ہمارے سامنے لکھا یا تار دیا مگر ہے یہ کہ ناواقفی کے ساتھ امورِ شرع میں بے جامداخلت سب کچھ کراتی ہے
نسأل اﷲتوفیق الصواب وبہ نستعین فی کل باب
 (ہم اﷲتعالیٰ سے توفیقِ صواب کا سوال کرتے ہیں اور ہر معاملہ میں اسی سے مدد چاہتے ہیں۔ت)
اے عزیز! اس زمانہ فتن میں لوگوں کو احکامِ شرع پر سخت جرأت ہے خصوصاً ان مسائل میں جنہیں حوادثِ جدیدہ سے تعلق و نسبت ہے جیسے تار برقی وغیرہ، سمجھتے ہیں کہ کتبِ ائمہِ دین میں ان کا حکم نہ نکلے گا جو مخالفت شرع کا ہم پر الزام چلے گا مگر نہ جانا کہ علمائے دین
شکر اﷲتعالیٰ مساعیھم الجمیلۃ
 (اﷲتعالیٰ ان کی مساعیِ جمیلہ کو قبول فرمائے۔ت) نے کوئی حرف ان عزیزوں کے اجتہاد کو اٹھانہیں رکھا ہے تصریحاً تلویحاًتفریعاًتاصیلاًسب کچھ فرمادیا ہے زیادہ علم اسے ہے جسے زیادہ فہم ہے اور ان شاء اﷲالعزیز زمانہ بندگانِ خدا سے خالی نہ ہوگا جو مشکل کی تسہیل ،معضل کی تحصیل، صعب کی تذلیل، مجمل کی تفصیل سے ماہر ہوں۔ بحر سے صدف سے ،صدف سے گوہر، بذر سے درخت، درخت سے ثمر نکالنے پر باذن اﷲ تعالیٰ قادر ہوں۔
لاخلاالکون عن افضالھم وکثر اﷲفی بلادنا الراحمین وصلی اﷲتعالٰی علٰی خاتم النبیین سیّدنا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم۔
زمانہ ان فضلاء سے خالی نہیں اور اﷲتعالیٰ ایسے لوگوں کو ہمارے علاقوں میں زیادہ کرے
آمین آمین برحمتک یا ارحم الراحمین وصلی اﷲتعالیٰ علیٰ خاتم النبیین سیّدنا محمد وآلہٖ وصحبہ اجمعین واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم۔(ت)
Flag Counter