مسئلہ ۱۷۱: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں در بارہ رؤیت ہلال تار کی خبر شرعاًمعتبر ہے یا نہیں ؟ اور اگر کچھ لوگ یہ انتظام مقرر کریں کہ درباب رؤیت ہلال رمضان و شوال و ذی الحجہ ومحرم کے پیشتر سے مراسلات مقام دیگر کو جہاں جہاں مناسب خیال کیا جائے اس مضمون سے بھیجے جائیں کہ اگر ان مقاموں میں ۲۹ کی رؤیت ہو تو خبر رؤیت کی بذریعہ تار کے پہنچ جائے اور بعد پہنچنے خبر شہادت کافی کے مشتہر کردیا جائے تو یہ طریقہ شرعاًمقبول یا محض باطل، اور اس کی بنا پر اعلان ہو تو مسلمانوں کو اس پر عمل جائز یا حرام؟ اور اعلان کرنے والوں کے حق میں کیا حکم ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب :الحمدﷲ الذی بشکرہ یصیرھلال النعمۃ بدروالصّلٰوۃ والسلام علی اجل شموس الرسالۃ قدر او علیٰ اٰلہ وصحبہ نجوم الھدی واقمار التقی مااتی البرق بخبر الودق فصدق مرۃ وکذب اخری اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔
سب تعریف اﷲکے لیے جس کے شکر سے نعمتوں کا چاند بدربن جاتا ہے، صلٰوۃ وسلام اس ذات پر جو قدر ومنزلت میں رسالت کا سب سے اعلٰی آفتاب ہیں، آپ کے آل واصحاب پر جو ہدایت کے ستارے اور تقوٰی کے چاند ہیں جب تک بجلی کی چمک بارش کی خبر دے کبھی وُہ سچ ہو اور کبھی غلط، اے اﷲ! حق وصواب کی ہدایت عطا فرما۔(ت)
امورِ شرعیہ میں تار کی خبر محض نامعتبر، اور یہ طریقہ کہ تحقیق ہلال کیلئے تراشا گیا باطل و بے اثر، مسلمانوں کو ایسے علان پر عمل حرام،اور جو اس کی بنا پر مرتکب اعلان ہو سب سے زیادہ مبتلائے آثام۔ اس طریقے میں جو غلطیاں اور احکامِ شرع سے سخت بیگا نگیاں ہیں۔اُن کی تفصیل کو دفتر درکار، لہذا یہاں بقدرضرورت و فہم مخاطب چند آسان تنبیہوں پر اقتصار۔
تنبیہ اول: شریعتِ مطہرہ نے دربارہ ہلال دوسرے شہر کی خبر کو شہادت کافیہ یا تواتر شرعی پر بنا فرمایا اور ان میں بھی کافی و شرعی ہونے کے لیے بہت قیود وشرائط لگائیں جس کے بغیر ہرگز گواہی و شہرت بکار آمد نہیں اور پُر ظاہر کہ تار نہ کوئی شہادتِ شرعیہ ہے نہ خبر متواتر، پھر اس پر اعتماد کیونکر حلال ہوسکتا ہے۔ فتح القدیر ودرمختار وحاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں ہے:
واللفظ للدریلزم اھل المشرق برؤیۃ اھل المغرب اذا ثبت عند ھم رؤیۃ اولٰئک بطریق موجب۔۱؎
در کے الفاظ یہ ہیں اہلِ مشرق پر اہلِ مغرب کی رویت کی وجہ سے لازم ہوجاتا ہے بشرطیکہ جب اس رویت کا ثبوت ان کے ہاں بطریق موجب ہو۔(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۹)
علامہ حلبی وعلامہ طحطاوی وعلامہ شامی حواشیِ در میں فرماتے ہیں:
طریق موجب یہ ہے کہ شہادت لانے والے دو ہوں یا وہ قاضی کے فیصلہ پر گواہ ہوں یا خبر مشہور ہو بخلاف اس صورت کے جب دونوں نے یہ خبردی ہوکہ فلاں اہلِ شہر نے دیکھا ہے کیونکہ یہ تو حکایت ہے۔(ت)
(۲؎ردالمحتار ،باب صدقۃ الفطر،داراحیاء التراث العربی بیروت ،۲ /۹۶)
جو یہاں تار کی خبر پر عمل چاہے اس پر لازم کہ شرعاًاس کا موجب و ملزم ہونا ثابت کرے مگر حاشانہ ثابت ہوگا جب تک ہلال مشرق اور بدر مغرب سے نہ چمکے، پھر شرع مطہر پر بے اصل زیادت اور منصب رفیع فتوٰی پر جرأت کس لیے ۔ والعیاذباﷲ سبحانہ وتعالٰی اور یہ خیال کہ تار میں خبر تو شہادت کافیہ کی آئی ، محض نادانی کہ ہم تک تو نامعتبرہ طریقے سے پہنچی نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے زیادہ معتبر کس کی خبر، پھر جو حدیث نا معتبر راویوں کے ذریعہ سے آتی ہے کیوں پایہ اعتبار سے ساقط ہوجاتی ہے!
تنبیہ دوم: تار کی حالت خط سے زیادہ ردی و سقیم کہ اس میں کاتب کا خط تو پہچانا جاتا ہے، طرز عبارت شناخت میں آتا ہے، واقف کار دیگر قرائن سے اعانت پاتا ہے ۔بایں ہمہ ہمارے علماء نے تصریح فر مائی ہے کہ امور شرعیہ میں ان خطوط و مراسلات کا کچھ اعتبار نہیں کہ خط خط کے مشابہ ہوتا ہے اور بن بھی سکتا ہے تو یقین شرعی نہیں ہوسکتا کہ یہ اُسی شخص کا لکھا ہُواہے۔ ائمہ دین کی عبارتیں لیجئے:
اشباہ(۱) میں ہے:
لایعتمد علی الخط ولا یعمل بہ۱؎
(خط پر نہ اعتماد کیا جائے گا نہ عمل۔ت)
(۱؎اشباہ والنظائر کتاب القضاء والشہادات والد عاوی ادارۃالقرآن وعلوم اسلامیہ کراچی ۱ /۳۳۸ )
ہدایہ(۲)میں ہے:
الخط یشبہ الخط فلم یحصل العلم۲؎
(خط دوسرے خط کے مشابہ ہوتا ہے لہذا اس سے علم حاصل نہ ہوگا۔ت)
(۲؎ ہدایہ کتاب الشہادت فصل مایتحملہ الشاہد مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۱۵۷)
فتح القدیر(۳)میں ہے:
الخط لاینطق وھو متشابہ۳؎
(خط بولتا نہیں اور اس میں مشابہت ہوتی ہے ۔ ت)
(۳؎ فتح القدیر)
درمختار (۴)میں ہے:
لایعمل بالخط الخ۴؎
(خط پر عمل نہیں کیا جاسکتا الخ۔ت)
(۴؎ درمختار کتاب القاضی الی القاضی وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۸۳)
فتاوی قاضیخاں (۵) میں ہے:
القاضی انما یقضی بالجحۃ والحجۃ ھی البینۃ اوالاقرار اماالصک فلا یصلح حجۃ لان الخط یشبہ الخط۔۵؎
قاضی فیصلہ دلیل پر کرے اور دلیل گواہ ہیں یا اقرار پر فیصلہ کرے، اشٹام حجت نہیں کیونکہ خط دوسرے خط کے مشابہ ہوسکتا ہے(ت)
(خط خط کے مشابہ ہوتا ہے اور یہ ان اشیاء میں سے ہے جن سے کسی کی طرف جُھوٹ منسوب کیا جاتا اور جعلسازی کی جاتی ہے۔ت)
(۶؎ کافی شرح وافی)
مختصر ظہیریہ(۷) پھر شرح الاشباہ للعلامۃ البیری(۸) پھر ردالمحتار میں ہے:
لایقضی القاضی بذلک عن المنازعۃ لان الخط مما یزورویفتعل۔۱؎
قاضی جھگڑے کے وقت اس پر فیصلہ نہ کرے کیونکہ خط میں کسی کی طرف جُھوٹ منسوب کیا جاسکتا ہے اور بنالیا جاتا ہے(ت)
(۱ ردالمحتار ، باب کتاب القاضی الی القاضی،داراحیاء التراث العربی بیروت ، ۴ /۳۵۲)
عینی(۱۰) شرح کنز میں ہے:
الخط یشبہ الخط فلا یلزم حجۃ لانہ یحتمل التزویر۔۲؎
خط خط کے مشابہ ہوتا ہے لہذا وہ دلیل نہیں بن سکتا کیونکہ اس میں جعلسازی کا احتمال ہوتا ہے(ت)
( ۲؎ عینی شرح کنز رمزالحقائق شرح کنز الدقائق کتاب الشہادۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۸۰ )
مجمع الانہرشرح ملتقی الابحر (۱۱) میں ہے:
الشہادۃ والقضاء والرؤیۃ لا یحل الاعن علم ولا ھنا لان الخط یشبہ الخط۔۳؎
شہادت اور قضا اور رؤیت یقین کے بغیر حلال نہیں اور یہاں حاصل نہیں کیونکہ خط، خط کے مشابہ ہوتاہے(ت)
(۳؎ مجمع الانہر ،کتاب الشہادت ،داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۱۹۲)
فتاوی عالمگیری(۱۱۲۲)میں ملتقط(۱۳)سے ہے:
الکتاب یفتعل ویزور، الخط یشبہ الخط والخاتم یشبہ الخاتم۔۴؎
خط میں جعل سازی اور من گھڑت بات بھی ہوسکتی ہے اور خط،خط کے مشابہ ہوتاہے۔ اسی طرح مُہر دوسری مُہر کے مشابہ ہوسکتی ہے(ت)
(۴؎ فتاوٰی ہندیہ اسباب الثالث والعشرون فی کتاب القاضی الی القاضی نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۳۸۱ )
غمز العیون (۱۴)میں فتاوٰی امام اجل ظہیر الدین مرغینانی (۱۵) سے ہے:
العلۃ فی عدم العمل بالخط کونہ مما یزور ویفتعل ای من شانہ ذلک وکونہ من شانہ ذلک یقتضی عدم العمل بہ وعدم الاعتماد علیہ، وان لم یکن مزورافی نفس الامر کما ھو ظاھر۔۱؎
خط پر عمل کرنے کی علّت یہ ہے کہ اس کے ذریعے جعلسازی کی جاسکتی ہے یعنی اس کی یہ صفت بن سکتی ہے اور اس صفت کا ہونا تقاضا کرتا ہے کہ اس پر عمل نہ کیا جائے اور نہ اعتماد کیا جائے اگرچہ نفس الامر میں اس میں جعلسازی نہ کی گئی ہو جیسا کہ ظاہر ہے۔(ت)
(۱ ؎ غمزالعیون مع الاشباہ والنظائر کتاب القضاء والشہادات الخ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ /۳۳۹)
دیکھئے کس قدر روشن وواضح تصریحیں ہیں کہ خط پر اعتماد نہیں، نہ اس پر عمل نہ اس کے ذریعہ سے یقین حاصل ہو، نہ اس کی بنا پر حکم و گواہی حلال کہ خط خط کے مشابہ ہوتا ہے اور مُہر مُہر کے مانند ہوسکتی ہے، اور صاف ارشاد فرماتے ہیں کہ خط کا صرف اپنی ذات میں قابلِ تزویر ہونا ہی اس کی بے اعتباری کو کافی ہے اگر چہ یہ خاص خط واقع میں ٹھیک ہو، پھر یہ تار جس میں خبر بھیجنے والے کے دست و زبان کی کوئی علامت تک نام کو بھی نہیں اور اس میں خط کی بہ نسبت کذب و تزویر نہایت آسان کیونکر امورِ دینیہ کی بنا اُس پر حرام قطعی نہ ہوگی۔ سبحان اﷲائمہ دین کی وُہ احتیاط کہ مُہر خط کو صرف گنجائش تزویر کے سبب لغو ٹھہرایا حالانکہ مُہر بنالینا اورخط میں خط ملادینا سہل نہیں شاید ہزار میں دوایک ایسا کرسکتے ہوں اوریہاں تو اصلاً دشواری نہیں جو چاہے تار گھر میں جائے اور جس کے نام سے چاہے تاردے آئے، وہاں نام ونسب کی کوئی تحقیقات نہیں ہوتی ، نہ رجسٹری کی طرح شناخت کے گواہ لیے جاتے ہیں، علاوہ بریں تار والوں کے وجوبِ صدق پر کون سی وحی نازل ہے کہ اُن کی بات خواہی نخواہی واجب القبول ہوگی اور اس پر احکام شرعیہ کی بنا ہونے لگی ہزار افسوس ذلّتِ علم وقلّتِ علماء پر،انّا ﷲوانّاا لیہ راجعون۔