اور جہاں والی شرع نہ ہو جیسے ہمارے بلاد، وہاں یہ لوگ تعزیر سے محفوظی پر خوش نہ ہوں کہ یہ خوشی اُن کے گناہ کو ہزار چند کردے گی،بلکہ اس سے ڈریں جس کی حکومت ہرجگہ ہے اور ہر وقت ہر بات پر قادر ہے اور اسی کی طرف پھرکر جانا ہے۔فوراً صدقِ دل سے تائب ہوں، اورجیسے یہ معصیّت اعلانیہ کی توبہ بھی بالاعلان کریں۔
قال رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اذا عملت سیئۃ فاحدث عند ھاتوبۃ السربالسر والعلانیۃ با لعلانیۃ۴؎اخرجہ الامام احمد فی الزھد والطبرانی فی المعجم الکبیر عن معاذبن جبل رضی اﷲتعالیٰ عنہ باسنادحسن۔
رسول اﷲصلّی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کوئی بُرائی کرو تو اس پر توبہ کرو، اگر گناہ خفیہ ہے تو توبہ بھی خفیہ طور پر کی جائے اور اگر گناہ اعلانیہ ہے توتوبہ بھی اعلانیہ کی جائے۔ اسے امام احمد نے زہد میں اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔(ت)
(۴؎ کنز العمال حدیث۱۰۱۸۰ بحوالہ احمد فی الزہد عن عطابن یسار، باب التعزیر موسسۃالرسالۃ بیروت ۴ /۲۰۹)
(المعجم الکبیر حدیث ۳۳۱ مروی از معاذبن جبل المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۲۰ /۱۵۹)
آئندہ کیلئے عہد واثق ہو کہ کبھی اموردین میں بیبا کی وجرأت نہ کرینگے اور بے ارشادِ علماء اپنی رائے سے قدم نہ رکھیں گے،
ویتوب اﷲعلی من یشاء۱؎، ویھدی الیہ من اناب۔۲؎
اﷲتعالٰی جس کی چاہے توبہ قبول فرمائے۔ اوراپنی طرف اسی کو ہدایت دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع لائے(ت)
(۱؎القرآن ۹ /۱۵، ۲؎القرآن ۱۳ /۲۷)
پھر اگر طرق مقبولہ شرع سے ثابت ہوجائے کہ وہ خبر سچی اور عید واقعی تھی تو ان پر اس روزے کی قضا نہیں کہ تحقیق ہوا وہ دن روزے کا نہ تھا،
ولاقضاء الاعن وجوب وافساد النفل بعد الشروع وان اوجب القضاء لکن ھذا فی غیر صوم الایام الخمسۃ کمافی التنویرو شرحہ للعلائی، علی ان محلہ فی الشروع قصد االا تری ان من شرع فی صلٰوۃ ظاناانہ لم یصلھا ثم تذکر فقطع لا قضاء علیہ۔
وجوب کے سوا کسی کی قضانہیں، نفلی روزہ شروع کرکے توڑدینے سے روزہ واجب ہوجاتا ہے لیکن وہ حکم ان پانچ دنوں کے علاوہ ہے جیسا کہ تنویر اور اس کی شرح للعلائی میں ہے، علاوہ ازیں اس کا محل قصداً شروع ہونا ہے کیا آپ نہیں جانتے کہ جو شخص کسی نماز میں یہ گمان کرتے ہُوئے شروع ہُوا کہ اس نے ادا نہیں کی تھی، پھر اسے یاد آگیا کہ اس نے ادا کرلی ہے تو اس نے نماز توڑدی تو اب اس پر قضا نہیں۔(ت)
نظیر اس کی یہ ہے کہ ابھی غروبِ شمس محقق نہ ہُوا اور کسی شخص نے جزافاً روزہ کھول لیا یہ امراسے روانہ تھا،
کما فی السراج الوھاج والبحر الرائق ووجیزالکردری
(جیساکہ سراج الوہاج، بحر الرائق اور وجیز کردری میں ہے۔ت) لیکن اگر بعد کو ثابت ہو کہ فی الواقع اُس وقت آفتاب ڈوب چکا تھا تو روزے کی قضا نہیں،
کما نص علیہ الامام الزیلعی ثم الطحطاوی ثم الشامی
(جیسا کہ اس پر امام زیلعی نے پھر طحطاوی اور پھر شامی نے تصریح کی ہے۔ت) کہ ظاہر ہُوا کہ وقوعِ افطار اپنے محل میں تھا،اور اگر منکشف ہوکہ خبر غلط تھی اور وہ دن رمضان کا تھا یاکچھ تحقیق نہ ہو تو بے شک اُس روزے کی قضا لازم ہے، تقدیراول پر تو وجہ واضح اور بر تقدیر ثانی رمضان کا آنا یقینی تھا اور اُس کاجانا شرعاً ثابت نہ ہوا
والیقین لایزول بالشک
(یقین شک سے زائل نہیں ہُوا کرتا۔ت)تو وہ دن عندالشرع رمضان ہی کا تھا کہ شرع نے عدم رؤیت میں تیس ۳۰ دن پُورے کامہینہ رکھا ہے،
قال رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فان غم علیکم فاکملو االعدۃ ثلثین۱؎اخرجہ البخاری ونحوہ مسلم عن ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنھما۔
رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم پر چاند (بادل کی وجہ سے) مخفی رہے تو تم تیس دن مکمل کرو۔ اسے امام بخاری نے اور اس کی مثل امام مسلم نے حضرت عبد اﷲبن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کیا ہے(ت)
نظیر اس کی یہ ہے کہ بے تحقیقِ غروب افطار کرلیا پھر ثابت ہُوا کہ آفتاب باقی تھا یا کچھ نہ کُھلا، دونوں حالت میں قضا ہے
کما صرح بہ الزیلعی ومن بعدہ
(جیسا کہ اس پر زیلعی اور ان کے بعد آنے والوں نے تصریح کی ہے۔ت)بایں ہمہ مانحن فیہ میں کفارہ کسی تقدیر پر نہیں کہ آخر انہوں نے اپنے نزدیک عید ہی جان کر روزے توڑے اور وُہ خبریں اگر چہ شرعاًنا مقبول ہیں۔ مگر ان عامیوں کے لیے مورث ظن بلکہ اُن کے گمان میں موجب یقین ہوچکی تھیں تو اُن کی طرف سے جنایت کاملہ نہ پائی گئی
وان تبتنی الکفارۃ علیہا
(اور کفارہ جنایت کاملہ پر ہوتا ہے۔ت) نظیر اس کی وہ شخص ہے جس کے ایک دوست نے اُس سے بیان کیا میں نے عید کا چاند دیکھا اس نے اُسے معتمد سمجھ کر روزہ توڑ ڈالا اگر چہ گنہگار ہُوا کہ ایک کی خبر ہلال عید میں محض نامعتبر، اور اسی وجہ سے قضا بھی آئی مگر کفارہ نہیں، علامہ حسن شرنبلالی نورالایضاح اوراس کی شرح مراقی الفلاح میں فرماتے ہیں:
ان افطر من رأی الھلال وحدہ فی شوال قضی ولا کفارۃ علیہ ولا علی صدیق للرائی شہد عندہ بہلال الفطروصدقہ فافطر لانہ یوم عید فیکون شہبۃ۔۲؎
جس نے شوال کا چاند تنہا دیکھا اور روزہ نہ رکھا تو وُہ قضا کرے اس پر کفارہ نہیں اسی طرح جس نے اس کی گواہی کی تصدیق کی عیدالفطر کے چاند میں، اور روزہ نہ رکھا کیونکہ اس کے نزدیک یہ عید کا دن ہے لہذا یہاں شبہ کا وقوع ہوگیا ہے(لہذا قضا ہوگی کفارہ نہیں۔(ت)
( ۲؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فیما ثبت بہ الہلال نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص،۷ ۳۵)
اسی طرح فتح القدیر و ہندیہ وغیرہا میں ہے، بلکہ علماء تصریح فرماتے ہیں اگر گاؤں والوں نے تیسویں رمضان کو شہر سے نقارے کی آواز سُنی اور وُہ سمجھے کہ نقارہ عید کا ہے روزے توڑدئے، حالانکہ وہ نقارہ کسی اور بات کا تھا کفارہ لازم نہیں، فتاوٰی منہیہ پھر شرح نقایہ پھر مجمع الانہر پھر ردالمحتار میں ہے:
اگر اہل علاقہ نے تیسویں دن ڈھول کی آواز پر یہ گمان کرتے ہُوئے روزہ افطار کرلیا کہ یہ عید کا دن ہے حالانکہ وُہ کسی اور وجہ سے بجایا گیا تھا تو اب ان پر کفارہ نہیں ہوگا۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجداتم احکم۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب مایفسد وما لایفسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۱۰۶)