Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۰(کتاب الزکٰوۃ، صوم، حج)
75 - 198
مسئلہ۱۶۹: ماہ رمضان المبارک اور غیر رمضان المبارک میں قرآن خوانی یا اور کوئی ختم مثلاًتسبیح و تہلیل کے کوئی شخص پڑھے یا پڑھائے تو دونوں میں ثواب برابر ہے یا کم و بیش ہے،تو کیا وجہ ہے؟ بینو اتوجروا
الجواب:رمضان المبارک میں ہر عمل نیک کا ثواب باقی مہینوں کے عمل سے اکثر و اوفر ہے، رمضان کا نفل اور مہینوں کے فرض اور اس کا فرض اور مہینوں کے ستّر فرض کے برابر ہے۔اور اﷲ عزوجل کا فضل اوسع واکبر ہے۔ سلمان فارسی رضی  اﷲتعالیٰ عنہ سے ہے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے شہر مبارک کی نسبت فرمایا:
من تقرب فیہ بخصلۃ من الخیر کان کمن ادی فریضۃ فیما سواہ، ومن ادی فیہ فریضۃ کان کمن ادی سبعین فریضۃ فیما سواہ،۱؎الحدیث رواہ ابن خزیمۃ والبیہقی، واﷲتعالیٰ اعلم
جس نے رمضان میں کوئی نفلی نیکی کاکام کیا اسے اس شخص جیسا ثواب ملے گا جس نے ر مضان کے علاوہ میں فرض ادا کیا، اور جس نے اس میں فرض ادا کیا وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے رمضان کے علاوہ میں ستّر فرض اداکئے، الحدیث اسے ابن خزیمہ اور بیہقی نے روایت کیا۔ واﷲتعالیٰ اعلم(ت)
 ( ۱؎ صحیح ابن خزیمہ     باب فضائل شھر رمضان         حدیث ۱۸۸۷     المکتب الاسلامی بیروت    ۳ /۹۲-۱۹۱)
مسئلہ ۱۷۰: از مونگیر بہار مرسلہ مولوی محمد عمر صاحب ولایتی مقیم مونگیر مسجد ٹوٹی     ۵ شوال ۱۳۰۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مونگیر میں ۲۹ رمضان روز  یکشنبہ کو باوجود صفائے مطلع چاند نظر نہ آیا مگر کلکتہ سے بذریعہ تاربرقی خبر آئی کہ یہاں ۲۹ رمضان روز یکشنبہ چاند دیکھا گیا بعد اس کے یہاں کے ایک رئیس نے کلکتہ کے امام جامع مسجد سے بذریعہ تار برقی دریافت کیا امام صاحب نے بھی یہی جواب دیا کہ کلکتہ میں بتاریخ ۲۹ رمضان چاند دیکھا گیا اس پر اُس رئیس نے مع اور چند آدمیوں کے روزے توڑ ڈالے مگر کسی ذی علم نے ان کی موافقت نہ کی ان اشخاص مفطرین کی نسبت در صورتِ صحت خبر مذکور کیاحکم ہے، اور درصورت عدمِ صحت صرف اس روزے کی قضا اُن اشخاص پر لازم ہوگی یا کفارہ اور تعزیر بھی کسی قسم کی؟بینو اتوجروا
الجواب :تارکی خبر شرعاًمحض نا معتبر
کما حققناہ فی فتوی مفصلۃ بما لا مزید علیہ
 (جیسا کہ ہم نے اپنے فتوٰی میں اس پر تفصیلی گفتگو کی ہے جس پر اضافہ نہیں ہوسکتا۔ت) اس کی بناء پر افطار محض ناجائز واقع ہُوئی اور اشخاص مذکورین بیشک مرتکب گناہ ہوئے اگر چہ بعد کو تحقیق ہوجائے کہ اس دن واقعی عید ہی تھی کہ جب تک انھوں نے روزے توڑے اصلاً ثبوتِ شرعی نہ تھا اور اُنھوں نے بے اذنِ شرع افطار پر اقدام کیا اور یہ قطعاً گناہ ہے۔ شرع مطہر نے صوم و افطار کورؤیت پر معلق فرمایا۔
قال رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم صوموالرؤیتہ وافطر والرؤیتہ۔۱؎اخرجہ الشیخان عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہ والحدیث مشہور۔
رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر عید کرو۔ اسے بخاری و مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے اور یہ حدیث مشہور ہے۔(ت)
 (۱؎ صحیح بخاری         باب اذا رأیتموا الہلال فصوموا    قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱ /۲۵۶)
انہوں نے بے ثبوتِ رؤیت عید کرلی اور حکم احکم حاکم اعظم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے مخا لفت کی،ہم نے فتویٰ مفصلہ میں ثابت کیا کہ تار کی خبر مجہولین و فسّاق بلکہ بعض کفارکی و ساطت سےآتی ہے اور ایسی خبر میں شرع نے فرض کیا تھا کہ زنہار بے تحقیق عمل نہ کریں۔
قال اﷲتعالیٰ
یاایھا الذین اٰمنواان جاء کم فاسق بنباء فتبیّنواان تصیبو قوما بجھالۃ فتصبحو ا علیٰ مافعلتم نادمین۲؎
اﷲتعالیٰ نے فرمایا اے اہلِ ایمان!اگر تمھارے پاس کوئی فاسق خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لو کہ کہیں تم کسی قوم کو بے جانے ایذانہ دے بیٹھو، پھر اپنے کئے پر پچھتاتے رہو۔(ت)
 ( ۲؎القرآن ۴۹ /۶ )
انہوں نے صرف اُسی کے اعتماد پر کاربندی کرلی، شرع مطہر نے حکم دیا تھا تمھیں علم نہ ہو تو علم والوں سے پوچھو۔
قال اﷲتعالیٰ
فاسئلوااھل الذکران کنتم لاتعلمون۔۳؎
اﷲتعالیٰ کا مبارک فرمان ہے :اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں۔(ت)
 ( ۳؎القرآن ۲۱ /۷)
انہوں نے اہل علم سے بے پوچھے کارروائی کی، قرآن عظیم نے ارشاد کیا تھا جو بات پیش آئے علماء سے عرض کرو وُہ حقیقتِ کار تک پہنچ جائیں گے۔
قال اﷲتعالیٰ واذاجاء ھم امر من الامن اوالخوف اذاعوابہ ج ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامرمنھم لعلمہ الذین یستبطونہ منھم۔۴؎
اﷲتعالیٰ نے فرمایا: اورجب انکے پاس کوئی بات اطمینان یا ڈر کی آتی ہے اس کا چرچا کر بیٹھتے ہیں اور اگر اس میں رسول اور اپنے ذی اختیار لوگوں کی طرف رجوع لاتے تو ضرور اس کی حقیقت جان لیتے ان لوگوں سے جوان میں سے اجتہاد کرتے ہیں (ت)
 ( ۴؎ القرآن ۴ /۸۳)
انہوں نے اپنی رائے مستقل سمجھی فرقانِ حکیم نے فرمایا تھا جب تک شرع اجازت نہ دے آپ کچھ نہ کر بیٹھو
قال اﷲتعالیٰ یٰایھا الذین اٰمنو الاتقدموابین یدی اﷲ ورسولہ واتقوااﷲ ان اﷲ سمیع علیم۱؎
اﷲتعالیٰ نے فرمایا: اے اہلِ ایمان!اﷲاور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اﷲتعالیٰ سے ڈرو یقینا اﷲ سُننے جاننے والا ہے(ت)
 ( ۱؎القرآن ۴۹ /۸۱   )
انہوں نے بے ثبوت شرعی جسارت کی، رمضان شریف بالیقین ثابت تھا، اور مسلمانوں کو شرع مطہر نے بحکم
فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ۲؎
 (جو ماہِ رمضان کو پائے وہ ضرور اس کے روزے رکھے۔ت)
 (  ۲؎القرآن ۲ /۱۸۵)
روزے پر جمع فرمایا تھا واجب تھا کہ جب شرع اِذن دیتی کہ اب وُہ کام ختم ہوا اُس وقت روزہ چھوڑتے،
قال اﷲتعالیٰ انما المؤمنون الذین اٰمنواباﷲ ورسولہ واذا کانوامعہ علی امر جامع لم یذھبوا حتی یستأذنوہ۔۳؎
اﷲتعالیٰ نے فرمایا: بلاشبہ ایمان والے تو وہی ہیں جو اﷲاور اس کے رسول پر یقین لائے اور وہ جب حضور کے پاس کسی معاملہ میں حاضر ہوتے ہوں جس کیلئے جمع کے گئے ہوں تو آپ اجازت کے بغیر وہاں سے نہیں جاتے(ت)
 (۳؎القرآن     ۲۴ /۶۲)
انہوں نے بے اذن شرع کہ ہنوز اس تاریخ رمضان کا ختم ہوجانا دلیل شرعی سے ثابت نہ ہوا تھا اُس امر جامع سے جدائی کی، مانا کہ بعد کو عید ہی ظاہر ہو مگر اُس وقت تک اُن کے شہر میں تو رمضان ہی معلوم تھا، انہوں نے قطعاً امر دین ناواقفا نہ جسارت اور احکامِ شرع سے جاہلانہ مخالفت کی، تو یہ اگر چہ نفس الامر میں مصیب ہوں عندالشرع خطا وار ہوئے،
کما قال رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم من قال فی القراٰن برأیہ فاصاب فقد اخطأ ۔۴؎ اخرجہ ابوداؤدو الترمذی والنسائی عن جندب رضی اﷲتعالٰی عنہ۔
جیسا کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے قرآن پاک کی تفسیر اپنی رائے سے کی وہ درست بھی ہوتو پھر بھی اس نے خطاء کی۔ اسے ابوداؤد، ترمذی اور نسائی نے حضرت جندب رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے بیان کیا۔(ت)
 (۴؎ سنن ابی داؤد     باب الکلام فی کتاب اﷲبلاعلم        آفتاب عالم پریس، لاہور    ۲ /۱۵۸)
اور  یہیں سے ثابت وہ بہر تقدیر اپنی بے باکی وجرأت واستقلال بالرائے ومخالفتِ اہل علم واختراعِ حکم کے باعث مستحقِ تعزیر ہوئے کہ یہ سب گناہ ہیں اور ہر گناہ جس میں حد نہیں اس میں تعزیر ہے،
فی الاشباہ کل معصیۃ لیس فیھا حد مقدر ففیہ التعزیر۔۱؎
اشباہ میں ہے جس معصیت پر کوئی حد متعین نہ ہو اس میں تعزیز ہوگی(ت)
 (۱؎الاشباہ والنظائر     کتاب الحدود والتعزیر        اداراۃ القرآن والعلوم السلامیہ کراچی         ۱ /۲۸۵)
اور اس کی تعیینِ قسم حاکمِ شرع ایّدہ اﷲتعالٰی کی رائے پر ہے، ضرب،حبس، گوشمال، سخت کلام، تیز نگاہ وغیرہا جس طریقہ سے مصلحت جانے زجر فرمائے اختیار کرے توانتالیس کوڑے سے زیادہ نہ ہو۔
فی شرح التنویر، التعزیر لیس فیہ تقدیر بل ھو مفوض الٰی رائ القاضی وعلیہ مشائخنا زیلعی لان المقصود منہ الزجر واحوال الناس فیہ مختلفۃ، بحر۔۲؎
شرح تنویر میں ہے کہ تعزیر مقدر نہیں بلکہ قاضی کی رائے کے مطابق ہوگی، اور ہمارے مشائخ اسی پر ہیں، زیلعی، کیونکہ اس سے مقصود زجر ہے اور اس بارے میں لوگوں کے طبائع مختلف ہوتے ہیں، بحر۔(ت)
 (۲؎ درمختار    باب التعزیر   مطبع مجتبائی دہلی  ۱ /۳۲۶)
اسی میں ہے:
اکثرہ تسعۃ وثلثون سوطالوبالضرب۔۳؎
تعزیر زیادہ سے زیادہ انتالیس کوڑے ہے اگر ضرب کرنی ہو(ت)
 ( ۳؎درمختار   باب التعزیر   مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۲۶)
Flag Counter